New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 10:43 AM

Urdu Section ( 17 Sept 2012, NewAgeIslam.Com)

Why Converts Wear Hijab? نومسلم حجاب کیوں پہنتے ہیں


ڈاکٹر ادس ددریجا، نیو ایج اسلام

اسلامک اسٹڈیز، یونیورسٹی آف میلبورن

(انگریزی سے ترجمہ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

سیلی نیبر  اپنے مضمون  "سکریٹ انویلڈ ( بے پردہ راز )" ("دی آسٹریلین" میں شائع مضمون)  میں ہمیں ایک نوجوان کی کہانی بتاتی ہیں جس نے اسلام قبول کیا ہے اس کا نام امّ زینب  (اسکے ذریعہ  اپنایا گیا نیا نام) ہے ، جو نقاب پہنتی ہیں  اور  نقاب پہننا امّ  زینب کے لئے کیوں "آزادی کا تجربہ" ہے۔ وہ روز مرہ  کی زندگی کے تجربات بیان کرتی ہیں، جس میں جب ام زینب کی طرح عورتیں ( سڈنی کے لاکیمبا نامی مضافات کی رہنے والی، جہاں بڑی تعداد میں مسلم طبقہ رہتا ہے) گھر سے باہر جانے کا فیصلہ کرتی ہیں تو اکثر زبانی طور  پر  بدسلوکی اور کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔

مصنفہ اور انٹرویو کرنے والے دونوں نےکئی تشریحی مفروضات کی بنیاد پر  کئی  متنازع بیان اسلامی روایات میں حجاب کے معنی اور حیثیت کے بار میں دئے اور شاید جن سے وہ واقف بھی نہیں ہیں۔  جو ان مسائل کا مطالعہ تعلیمی اعتبار سے اور  بڑی دلچسپی کے ساتھ کرتا ہے، بطور اس شخص کے میں ان بیانات کو  وسیع تر اسلامی روایت کی روشنی میں پیش کرنا چاہوں گا۔ اس سے پہلے کہ میں ایسا کروں میں حال ہی میں مغربی مسلم خواتین، خاص طور سے نوجوان مسلم خواتین، نو مسلموں کے ذریعہ حجاب اور نقاب پہننے کے عمل اور اس کی موجودگی کے سیاق و سباق کو بتانا چاہوں گا۔

میری تحقیق کا حصہ ہونے کے ناطے میں نے بڑی تعداد میں ثبوت دیکھے ہیں جو  اشارہ کرتے ہیں کہ مغربی نژاد نوجوان مسلمان عورتیں تیزی سے حجاب اور نقاب سمیت واضح طور پر اسلامی لباس  کو اپنا رہی ہیں۔ یہ بات آسٹریلیا میں رہنے والی مسلم خواتین کے لئے بھی صحیح ہے۔ مطالعہ بھی اشارہ کرتے ہیں کہ مغربی نژاد نوجوان مسلم خواتین کے لیے حجاب پہننا نئے مغربی مسلم تشخص کی تعمیر میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ ان رجحانات کو  مغربی مسلمانوں کی نئے تارکین وطن کی مذہبی اقلیت کی حیثیت اور وسیع تر جغرافیائی و سیاسی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے جو  زیادہ تر مذہبی بنیادوں پر ان کی شناخت کی تعمیر  کرتی ہے۔ مغربی مسلم خواتین پر مشاہدے پر مبنی تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ مسلم خواتین حجاب  یا نقاب کیوں  اپناتی ہیں اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں موروثی نسلی ثقافت کی مخالفت سے لے کر اخراج کی نسلی گفتگو تک، اسے سیاسی احتجاج / مزاحمت (عام طور پر سیاسی اسلام کی صورت میں) کے طور پر پہننے سے لے کر اخلاقی طہارت کی علامت تک، مذہبی تشخص کے لئے مضبوط عزم کے اشارے سے لے کر  بیگانے، ممکنہ طور ہر دھمکانے والے ماحول میں حفاظت کے ایک آلے کے طور پر اور ساتھ ہی ساتھ کئی اور دوسری وجوہات ہیں۔

سیلی نیبر نے اپنے مضمون میں ہمیں کئی واقعات سے جوڑتی ہیں جس میں لاکیمبا کی سڑکوں پر ام زینب اور غیر مسلم لوگوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے۔  یہ اس مضمون کے مصنف کے لئے کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، کیونکہ یہ  بہت سے مغربی ممالک میں ہو چکی تحقیقی کی ہی تصدیق کرتی ہیں (مثلاً امریکہ، کینیڈا اور مغربی یورپ)  جو بعض مغربی مسلمانوں کے درمیان کئی مذہبی طریقوں کے جواز کے طور پر مانی  جاتی ہے  اور جو  مسلم طبقے کے کچھ لوگوں اور  غیر مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کے احساس کے لئے ذمہ دار ہے اور جو کچھ مسلمانوں خاص طور پر  کچھ مسلم خواتین کے وسیع تر مغربی معاشرے میں  شراکت اور مسلمانوں اور غیر مسلمان طبقوں کے درمیان صحت مندانہ مکالمے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے (میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ کوئی بھی مغربی عمل ایسا نہیں ہے جو ایسا ہی کرتا ہو، لیکن یہاں میری توجہ مسلم طریقے نہیں ہیں)۔ حجاب یا نقاب پہننے کے عمل کے علاوہ بعض مسلم طبقے میں پہلے سے ہی موجود عمل جیسے کے متوازی تعلیمی نظام کے طور پر کم وقت میں  تیزی سے پنپ آئے مسلم نجی اسکول، جلدی شادی کے ذریعہ خواتین کی جنسی ریگو لیشن اور مسلم خواتین پر مخلوط ملازموں والے مقامات پر کام کرنے کی حوصلہ شکنی کا دبائو  (اس کے نتیجے میں ان کا اپنے خاندان کے مرد اراکین جیسے باپ، شوہر یا بھائیوں پر مکمل انحصار ہوتا ہے) کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ ام زینب کا دعوی ہے کہ  ان کا حجاب پہننا سلف کے عمل (یا مسلمانوں کی پہلی تین نسلوں) پر مبنی ہے اور یہ کہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے اس عمل کو اپنایا تھا اور جیسا کہ اس کی خواہش ہے کہ  وہ بطور  رول ماڈل ان کی تقلید کرنا چاہتی ہے۔ سیلی نیبر مذید کہتی ہیں کہ  یہ خواتین "قرآن پاک کے خالص اور لغوی معنی کو  مانتی ہیں اور جو اعلان کرتا ہے کہ، 'اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ جیوبہنّ کو ڈھنکے رہا کریں، یہ ایک ایسی اصطلاح ہے جس سے مراد جسم، چہرہ، گردن اور پستان ہے۔

 آئیے ان  دعووں کی موزوئیت کی جانچ پڑتال کریں۔  مسلم تاریخ میں حال فی الحال  تک  مختلف مسلم سیاسی و مذہبی گروپوں کی ایک بڑی تعداد نے  سلف یا السلف الصالح ("صالح پیش رو")  کے پیروکاروں نے اس جملے کا استعمال دوسرے مسلمانوں کے دعوے کو ناجائز قرار دینے اور اپنے نظریات کو ذہن نشین کرانے اور  اسلامی تعلیمات، یعنی قرآن اور سنت کے بنیادی ذرائع کی "خالص" اور  بے میل تعلیمات کے واحد نگراں ہونے کے ان کے دعوی پر مبنی قانونی جواز  پیش کرنا تھا۔ان میں سے اولین،  نام نہاد،  خود ساختہ سلفی یا اہل حدیث مسلمان ہیں۔ قرآن اور سنت  کی تشریح کا ان کا نقطہ نظر ،  جسے میں نے اپنی ایک  اشاعت میں شامل کیا ہے، ان میں طریقیاتی خامیوں اور  علمیات سے متعلق کمزور دلائل میں ظاہر  کئے گئے ہیں، ان دونوں ذرائع کی مکمل طور پر لفظی اور  بغیر کسی سیاق و سباق کی تفہیم کی بنیاد پر  تشریح کی جاتی ہے۔ مزید برآں، جیسا کہ میں نے اپنے آنرس کے مقالہ میں بتایا  ہے کہ، اہل حدیث یا سلفی ' کس طرح سنت کے تصور (یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر  یا قرآنی تعلیمات کے عملی اظہار)  اور اس کی نوعیت اور اسے سمجھنے  کے سلسلے میں اپنے کو  السلف الصالح کے پیروکار ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور جیسا کہ ام زینب اور جن لوگوں کی کلاس میں  وہ حاضر رہتی ہے، وی خیالی تعبیر سے زیا دہ کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ وہ سنت کے تصور کے مسخ شدہ اور غلط تفہیم  کے ساتھ چپکے ہوئے ہیں، جیسا کہ ( جس کا امکان سب سے زیادہ)  پہلی تین نسلوں کے مسلمانوں نے سمجھا تھا۔ قرآن کا وہ متن  ( جس کا ذکر مضمون میں نہیں ہے) جو  نبی  کریم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو نقاب پہننے کی دلیل کے طور پر  استعمال کیا  جاتا ہے وہ سورۃ نمبر 33 اور آیت نمبر 53 میں پایا جاتا ہے۔ یہ آیت مردوں کو ہدایت دیتی ہے جب  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے بات کرنا چاہتے ہیں تو (حجاب) پردے کے پیچھے سے ایسا کریں کیونکہ یہ ان کے دلوں کے لئےاور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خواتین کے لئے پاک صاف ہے۔ اول یہ کہ اس آیت میں  لفظ نقاب نہیں بلکہ حجاب استعمال کیا گیا ہے جس کا اس تناظر میں مطلب ایک پردے سے ہے۔

دوم، معروف مسلم سماجیات و ماہر تعلیم  فاطمہ مرنسّی نے اپنی کتاب "دی ویل اینڈ دی میل الیٹ (نقاب اور اشراف مرد) " (پرسیوس بک 1991) میں   واضح طور پر  بتایا ہے کہ اس قرآنی آیات کا نزول ایک مرد اور ایک عورت نہیں بلکہ دو مردوں کے درمیان رکاوٹ ڈالنے کے لئے ہوا ہے۔ مثال کے طور پر  روایتی متن کے مطابق  اس وحی کے نزول کے پیچھے پس منظر، شادی شدہ جوڑے کی خواب گاہ ہے (یعنی نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنہ)  جو  اپنی گہری بے تکلفی کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں اور تیسرے شخص  (ایک شخص جن کا نام حضرت انس ابن ملک ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں) کو خارج کرنا چاہتے ہیں۔ مختصراً  روایتی سرگزشت (حدیث کی شکل میں کئی ورژن کے ساتھ) کے مطابق اس وحی کے نازل ہونے کے پیچھے موقع یہ ہے کہ شادی کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود کو  کئی بے عقل  مہمانوں جو شادی کی رات کھانے کے دوران بات چیت میں کھو ئے ہوئے تھے  جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شادی کی پہلی رات حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ  اکیلے رہنا چاہتے تھے۔ بالواسطہ طور پر مردوں کو ظاہر کرنے کے لئے کئی کوششوں کے بعد  کہ یہ وقت ہے کہ وہ ان کے گھرسے   چل کر آنگن میں چلے جائیں، اس واقعہ کے گواہ حضرت انس ابن ملک کے مطابق،  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کے طور پر  اس آیت  کو پڑھا۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس آیت  کے پڑھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے  (اور اپنی بیوی) اور حضرت انس رضی اللہ عنہاکے درمیان پردہ کھینچ  دیا (حدیث اس  لفظ کے متبادل حجاب کا استعمال کرتا ہے جس کا مطلب پردہ ہے)۔  یہ واضح نہیں ہے کہ کس طرح اس آیت کا مطلب خواتین کو نقاب پہننے کی ضرورت کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

قاری کا بھی یہ تاثر ہے کہ قرانی آیت جس کا ذکر درج بالا میں کیا گیا وہ نقاب اور حجاب کو اپنانے کے لئے مسلمان عورتوں کے لئے دلیل کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں اور مومن عورتوں کو  نہ صرف حجاب (سر کو ڈھکنے) بلکہ نقاب (چہرے کا پردہ)  کرنے کی  بھی ضرورت ہے۔  یہ اس تمہید پر   مبنی ہے کہ   "قرآن کے   خالص اور  لفظی مطالعہ   مئوثر لفظ   " جیوبہنّ " جیسا کہ نیبر اسے پیش کرتی ہیں (بلاشبہ اس کے اور شاید  امّ زینب  کے ذریعہ نہ صرف   قرآنی عربی بلکہ  فقہی بحث کی پیچیدگی اور  گزشہ طبقات کے ذریعہ اس آیت اور  متعلقہ لفظ پر  پیش کی گئی رائے کے بارے میں  ذہنی طور پر عمیق جہالت پر مبنی ہے)  جس کا  نہ صرف عورت کے بالوں بلکہ جسم ،  چہرہ، گردن ، پستان کو  مکمل طور پر  ڈھانپنے سے کم کوئی مطلب نہیں ہے۔  وہ لوگ جو اسلامی روایت کا بہتر علم رکھتے ہیں جیسے  پروفیسر خالد ابوالفضل، جو ایک  معروف معاصر اسلامی قانون داں ہیں، انہوں نے  سعودی عرب سے آنے والی بہت سے قرآن کے ترجمہ میں دانشورانہ بے ایمانی کو اجاگر کیا ہے، جنہیں  پیٹرو ڈالی کی مالی مدد حاصل ہوئی ہے، مثال کے طور پر جیسے  مدینہ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے  شریک مصنف والے ترجمہ کو    مرحوم  عبد العزیز  بن باز  کی طرف سے توثیق اور منظوری  حاصل ہوئی ہے جو کہ   وزارت  برائے اسلامک ریسرچ ، قانونی رائے،  تبلیغ اور ہدایت کے سربراہ ہیں اور جبکہ انہیں انگریزی کا ایک بھی  لفظ  نہیں آتا تھا۔

 پروفیسر الفضل اسے ' ٹروجن ہارس  (Trojan Horse)' ترجمہ کہتے ہیں۔  یہ بہت سے مسلم کتب خانوں  میں  اور انگریزی بولنے والے بہت سے  اسلامی مراکز پر  بھی دستیاب ہیں۔  ترجمہ کا عنوان ہے:

"Interpretation of the Meanings of the Noble Qur'an in the English Language: A Summarised Version of At-Tabari, al-Qurtubi and Ibn Kathir With Comments from Sahih al-Bukhari in One Volume.”

ایسے بہت سے مسلمان ہے، لیکن خاص طور پر صرف وہ لوگ نہیں جو اسلام میں نئے داخل ہوئے ہیں   جوقرآن کی عربی سے  ناواقفیت کے سبب قرآن کے مطلب کو سمجھنے کے لئے ان پر اور ان جیسے دوسرے ترجمے پر انحصار اور بھروسہ کرتے ہیں۔

  اپنی کتاب ""The Conference of the Books" The Search for Beauty in Islam"(University of America Press, 2001) " میں پروفیسر  الفضل نےقرآنی عربی متن کے معنی کے ساتھ اوپر بیان کئے گئے قرآن کے ترجمے میں جملہ معترضہ  کے ذریعہ دخل اندازی کو  اجاگر کیاجس کا  مقصد  قرآنی متن / آیات کی تفصیل اور  معنی کی وضاحت  کے لئے استعمال  تھا۔ مضمون میں حوالے کے طور پر دی گئی آیت  سورۃ الا حزاب (33) آیت 59 میں پائی جاتی ہے۔ مندرجہ بالا میں ذکر کئے گئے اور سعودی عرب میں ترتیب پایا ترجمہ درج ذیل ہے: اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں (پردے)  اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں (یعنی خود کو مکمل طور سوائے راستہ دیکھنے کے  آنکھوں یا ایک آنکھ کو ڈھنک  لینا چاہئے)   یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔ " اس ترجمہ پر الفضل کی تفسیر  مندرجہ ذیل ہے؛  "مصنفین کا دعوی ہے کہ خدا کا حکم ہے کہ خواتین خود کو ایک بڑے پردہ میں اور ایک یا دونوں آنکھوں کے علاوہ ہر چیز کو ڈھنک لینا چاہئے۔ مصنفین نے جان بوجھ کر ایک چادر کو  پردہ کے برابر بتایا ہے، اور ان کے مطابق، خدا نے واضح طور حکم دیا ہے کہ  عورت کے پورے جسم پر  چادر یا پردہ ہونا چاہئے۔ " پروفیسر الفضل  کا مزید کہنا ہے کہ آیات کی لغوی اور قدامت پسندانہ معنی آیت کو اسطرح پیش کرے گا، "اے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم،  اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دو وہ اپنے لباس کو نیچا کر لیں (یا ممکن ہے، خود پر ڈال لیں)۔  یہ بہتر ہےکہ وہ  نہ پہچانی جائیں گی یا ایزا دی جائیں گی۔ اور خدا بخشنے والا اور مہربان ہے۔  اس آیت میں  مئوثر لفظ  'ید نین  علیھن  من جلٰبیبھن  'ہے۔  پروفیسر الفضل کے مطابق اس کا  یا تو   "اپنے لباس کو نیچا کر لیں"  یا " اپنے جسم کو لباس سے ڈھنک لیں"   مطلب  ہوسکتا ہے ۔ جلٰبیبھن کے  لغوی معنی ' ان کے لباس' کے ہیں، اس کے معنی پردہ کے نہیں ہیں۔   جلباب  ایک لباس ہے جو عرب  کے لوگوں کی پوشاک  ہے۔   چادر (ایران اور عراق میں بہت سی خواتین اسے پہنتی ہیں) یا عبایہ  (سعودی عرب میں پہنا جاتا ہے) کپڑے کا ایک ٹکڑا ہے، اور الفضل کےمطابق جلباب  کے طور پر نہیں مانا جائے گا۔

ید نین کا مطلب لباس کو نیچے کرنے سے  ہے۔  الفضل کے مطابق اس آیت کی تشریح اس طرح کی جا سکتی ہے جس میں  پیروں کے پردے اور دھڑ کے پردے اور  یا صرف شرم و حياء ہو سکتا ہے،  لیکن  اس ترجمہ کی حمایت نہیں کی جا سکتی ہے جسے مدینہ کے پروفیسر نے کیا ہے اور جس میں    ایک یا دو آنکھوں اور ہاتھوں کے علاوہ  ہر چیز  کو ڈھاکنے کی ضرورت  بتائی جاتی ہے۔  اس آیت کی معنی  پر مختلف خیالات ہیں اور جسے ابتدائی دور کے مسلم فقہا کی پائی جانے والی آرا  میں دیکھا جا سکتا  ہے۔   کچھ لوگوں کا دعوہ ہے کہ یہ آیت  پیروں اور پستان کا پردہ کرنے  کا حکم دیتی ہے۔  جبکہ اکثریت  کا کہنا ہے کہ  چہرے، ہاتھ اور پیروں کے سوا  پورے جسم کا پردہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔ ایک اقلیت کی رائے یہ ہے کہ خواتین کو چہرہ کا بھی پردہ کرنا چاہئے۔ تاہم، وہ   حدیث  جس پر ان  خیالات کی بنیاد ہے ان میں  تسلسل نہیں ہیں۔  اہم بات یہ ہے، تقریبا تمام مبصرین اس بات پر اتفاق رکھتے  ہیں  کہ اس آیت کا نزول خواتین کی زبانی / جسمانی استحصال سے حفاظت کرنی تھی  کیونکہ  مدینہ منورہ میں نوجوان اور بدعنوان مردوں کا ایک طبقہ تھا جو  رات کے وقت خواتین کو ہراساں  اور ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے۔ یہ لوگ  بظاہر صرف غلام عورتوں کو اپنا نشانہ بنانا چاہتے تھے نہ کہ  آزاد عورتوں کو۔ جلباب پہنے  ہوئی خواتین آزاد خواتین تصور  کی جاتی تھیں جبکہ بغیر جلباب پہنے  غلام عورتوں کو  یہ لوگ اپنا جائز نشانہ مانتے تھے۔ لہذا،  مفسرین کی ایک اقلیت کی رائے ہے کہ  اس وحی کے  نزول کے پیچھے کی وجہ آزاد اور غلام عورتوں کے درمیان فرق کرنے کے لئے تھا  (7ویں صدی کا عرب معاشرہ   اور معیشت غلاموں کے مالکوں   کی تھی)۔  لہذا آیت کی اس پر کوئی   مذہبی تعبیر نہیں  اور  کسی مذہبی ذمہ داری کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔

 ایک اور آیت  (سورۃ 24 آیت 31) جس کا ذکر  مضمون میں نہیں کیا گیا ہے، اس کے معنی   کے ترجمہ میں بھی  ان ہی مصنف کے ذریعہ مداخلت کی  جا چکی ہے۔  گزشتہ آیت کی ہی طرح اس میں بھی اسی  تکنیک (یعنی جملہ معترضہ )  کا استعمال کرتے ہوئے، مترجمین نے مندرجہ ذیل طریقے سے آیت کا ترجمہ کیا ہے: ... اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی (حرام چیزوں  پر نظر رکھنے سے)  رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں (ناجائز جنسی تعلقات وغیر سے)  اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے ( ہتھیلیاں ، راستہ  دیکھنے کے لئے ضروری  ایک یا دونوں آنکھ  اور باہری  کپڑے جیسے پردہ، دستانے،   ایپرن) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور پردہ کو   وہ  پورے جیو بھن (جسم،  چہرہ، گردن اور پستان وغیرہ) پر ڈالے رکھیں اور اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہر کے یا اپنے باپ دادا  کے..... لیکن الفضل کے مطابق آیت کا لغوی اور زیادہ ایماندارانہ  ترجمہ مندرجہ ذیل ہوگا: اور مومن عورتوں سے کہہ دیں کہ اپنی نظریں نیچی  رکھا کریں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، اور جو خود سے  ظاہر ہوتا ہے  سوائے اس کے  اپنے  زیب وزینت کو ظاہر نہیں  کرنا چاہئے۔   اور ان لوگوں کو اپنے پستان پر پردہ ڈالنا چاہئے اور ان لوگوں کو اپنے شوہر کے علاوہ   حسن وجمال کو ظاہر نہیں کرنا چاہئے ....

موئثر لفظ  خمار اور جیوب  ہیں۔   قرآن  خواتین کو ہدایت دیتا ہے 'ولیضربن بخمرھن علی جیوبہن'  جس کے معنی   ان لوگوں کو اپنا خمار لینا چاہئے اور  اسے اپنے پستان پر رکھنا چاہئے۔    لسان العرب کی مستند لغت کے مطابق  خمار  کپڑے کا وہ ٹکڑا ہے  جسے پگڑی کے طور پر  مرد یا عورتیں سر پر پہنتی ہیں۔   جیوب  کسی انسان کی چھاتی ہوتی ہے۔  اسلامی فقہا کے مطابق  خمار قبل از اسلام کے زمانے میں خواتین پہنتی تھیں اور اس کے حصے کو پیچھے کی طرف (پیٹھ)  روایتی طور پر رکھتی تھیں  جس سے سر اور سینا ظاہر ہوتا تھا۔ اس طرح الفضل کی دلیل ہے کہ آیت   ہدایت دیتی ہے کہ  سر اور گردن میں عام طور پر  پہنے جانے والے ایک کپڑے کے ٹکڑے (خمار) کو پستان   کو ڈھپنے کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے۔

اہم بات یہ ہے قرآن کے مفسرین نے بار بار  مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں خواتین  کے یہاں تک کہ اگر ان کے بال  ڈھنکے ہیں تب بھی   اپنے  سینے کے تمام یا زیادہ تر حصے کو  بے پردہ کرنے کی عادت پر روشنی ڈالی ہے۔   اس کی بنیاد پر اس  آیت کی تشریح  کی جا سکتی ہے کہ  آیت میں خواتین کو اپنے سینے  کو پردہ سے ڈھکنے  کو کہا  گیاہے۔  تاہم لفظ خمار  کی تشریح  کبھی بھی   چہرہ اور / یا  ہاتھوں کےپرد ے کا  مطالبہ کرنے کے لئے نہیں کیا جا سکتا ہے۔   قرآنی آیت کسی بھی طرح چہرے  کا حوالہ نہیں دیتی ہیں۔  مترجمین نے حکایت  (حدیث ) کی شکل میں  بھی اضافی قرآنی  ثبوت   کا سہارا لیا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ   نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے تعلق رکھتی تھیں جو حدیث کے  معروف موئلف   بخاری  کے مجموعہ  میں پایا  جاتا ہے (والیوم  6، نمبر 282)  جس میں پیغمبر  محمد صلی اللہ علیہ وسلم   کی زوجہ   حضرت  عائشہ  رضی اللہ عنہ کو غلطی سے  یہ ترجمہ کیا گیا ہے کہ  قرآنی آیت 24:31 کے نزول کے بعد  خواتین نے اپنے لباس میں سے ایک ٹکٹا پھاڑ لیا اور اسے خمار کے طور پر پہنا تھا۔ اسی حدیث  کے دوسرے  ورژن میں  بتایا گیا ہے کہ  صرف  مکہ مکرمہ کی مہاجر خواتین  (جو مذہبی طور پر ستائے جانے کے بعد  مدینہ منورہ میں  پناہ حاصل کرنے  کے لئے آئیں تھیں) اس پر فوری طور پر عمل کیا  جبکہ دوسرے    ورژن  کے مطابق  مدینہ کی خواتین نے اس پر فوری طور پر عمل کیا تھا۔ بہر حال جو بھی  معاملہ  رہا ہو، زیادہ تر لوگ اس حکایت سے جو نتیجہ اخز کر سکتے ہیں وہ یہ کہ  خواتین نے  اپنے سروں کو ڈھانکا تھا نہ کہ چہروں کو۔ جیسا کہ ام زینب  نقاب نہ پہننے کو  " مذہب کے ساتھ سمجھوتہ"  مراد لیتی ہیں جبکہ  اس کا  اس سے  کوئی لینا دینا نہیں ہے۔  نقاب  نے اسلامی روایت کے ساتھ  کبھی سمجھوتا ​​نہیں کیا  ہے کیونکہ یہ اس کا لازمی حصہ کبھی نہیں رہا ہے!

یہ سمجھنا انتہائی اہم ہے، جیسا کہ میں نے  کہیں اور بتایا ہے  کہ  کسی بھی چیز کو قرآن اور سنت  کی تعلیم کے مطابق ماننے کے لئے  سیاق و سباق کے علاوہ بہت سی دوسری  تشریحی   باتوں پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے، مثال کے طور پر : تشریح کرنے والا   کس طرح   تشریح میں شعور کےکردار اور امکانات کو  دیکھتا ہے، معنی اخز کرنے میں  تشریحی طریقہ کار،   ان تعلیمات کے سماجی، ثقافتی پہلوؤں  اور  آفاقی پہلوؤں کے درمیان امتیاز  ہے یا نہیں،  اخلاقیات اور قانون اور بہت سے دیگر  نقطہ نظر کے درمیان  تحرک کی نوعیت کے بارے میں  مترجم  کامفروضہ کیا ہے!  یہ بھی قابل غور ہے  جو لوگ نقاب پہننے  کو  اسلامی عمل  ہونے   کی وکالت کرتے ہیں ، وہ لوگ   صنفی بنیاد پر  علیحدہ  رہنے،   خواتین کو عوامی زندگی سے مکمل طور پر  الگ تھلگ  رکھنا   (بشمول اس  مضحکہ خیز قاعدہ کے جو  صنفی طور پر مخلوط  مجمع میں  عورتوں کی آواز نہ پہنچنے کی دلیل  دیتا ہے اور  جسے  مسلم مردوں  کے جنسی طور پر ترغیب دینے والی  مانا جاتا ہے) اور   یا خواتین  کی اپنے شوہر کی مرضی پر مکمل انحصار جو بیوی کو اس  کے  اپنے والدین کی آخری رسومات میں بھی شرکت کرنے سے منع کر سکتا ہے۔   مثلا، جیسا کہ میں نے کہیں اور  یہ دلیل دی ہے  کہ ان طریقوں کے حامیان مسلم خواتین کی  معیاری شبیح  کو مشخ کر دیتے ہیں اور  اور جسے کئی بار بغیر کسی اعتراض کے  اسلامی ہونے کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔

 ح کو نقاب پر  ام زینب اور  اس کے جیسے ہی  خیالات کو ماننے والوں سے  کوئی بھی جائز طور پریہ سوال پوچھ سکتا ہے کہ وہ لوگ کیوں ان احکامات کو بھی نہیں مانتی ہیں۔   تاہم ،   یہ ہمیں  ہمارے مضمون کے مرکزی نقطہ  سے بہت دور لے جائے گا۔  ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ  یہ تمام خیالات  ایک مخصوص طرز کی  خواتین کی جنسی   نظریہ  پر مبنی ہیں جو  کچھ احادیث  (جن میں سے بیشتر کو مرکزی دھارے میں شامل روایتی حدیث تنقیدی علوم سائنس  ضعیف کے درجے میں  مانتا ہے لیکن اس کے باوجود اخلاقیات اور فقہہ  کے معاملات پر  نہ صرف  ام زینب  کے جیسے سلفی ذہن  رکھنے والے  مسلمانوں  بلکہ دیگر  مسلما بھی اسے ثبوت کے طور پر مانتے ہیں) میں ملتی ہیں ، جو  خواتین کو اخلاقی اور سماجی افراتفری کے ذرائع مانتے ہیں، ا گر وہ عوامی  مقامات پر  نظر آ جاتی ہیں، کیونکہ  ان کے جسم  بنیادی طور پر جنسی معاملات میں بگاڑ پیدا کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ خیالات  قرآن اور سنت کی تعلیمات کی بنیاد پر نہیں ہیں۔ یہ گہرائی تک پدرانہ سوچ   اور عورتوں سے نفرت کرنے والے  معاشرے کے باقیات ہیں جو  وحی کے نزول کے وقت رائج تھے اور جس کے پرفریب عناصر  کو جزوی طور پر ختم اور  عورتوں سے نفرت کی شدت کو  قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے کم کیا گیا۔ یہ  اس معنی میں  المیہ ہے کہ ام زینب مسلمان تارکین وطن خواتین پر الزام لگاتے ہوئے کہتی ہیں کہ اصل وجہ یہ ہے کہ  وہ اس لئے حجاب  نہیں پہنتی ہیں کیونکہ  ان لوگوں کو  "خوفزدہ" کیا جا تاہے اور  یہ کہ تارکین وطن مسلمان عورتوں کے برعکس نو مسلم  کے  لئے  ایسا  "ثقافتی  طور پر  ضروری " نہیں ہوتا ہے۔  لیکن ام زینب کو اس کا بالکل بھی  احساس  نہیں ہے کہ نقاب پہننے کو منتخب کر کے  وہ خود فارس میں 8ویں  اور 9ویں  صدی میں مقبول ژقافتی عمل کو زندہ کر رہی ہیں، کیونکہ یہی وہ زمانہ تھا جب اعلی سماجی طبقے  کی مسلمان خواتین نے  نقاب پہننے کی روایت کو اپنایا تھا!

ام زینب یہ بھی کہتی ہیں کہ  نقاب پہننے سے "آزادی کا  تجربہ" ہوتا ہے کیونکہ اس کو پہننے کے بعد  لوگ آپ کو آپ کے جسم  یا آپ کی خوبصورتی کے بجائے  ویسے ہی لینے لگتے ہیں جیسے کہ آپ ہیں۔" لیکن اس پر کوئی بھی حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے کہ   کس طرح وہ  خیالات جو خواتین کی  مکمل گمنامی ، ان کی آواز کی کمی  اور تمام عوامی زندگی اور فیصلہ سازی کے کام   میں موجودگی سے مکمل طور پر ہٹانے کی وکالت کرتا ہو وہ کیسے آزادی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ حالانکہ میں یہ تجویز نہیں دے رہا ہوں  کہ ام زینب نے جس مادہ پرست  ثقافت کا حوالہ دیا ہے وہ کسی بھی طرح  بہتر ہے۔ درحقیقت، دونوں خواتین  کا نظریہ  جسم کی تجسیم اور ان کی جنسیت کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنے  اور ان جنسی صلاحیت کی تمہید پر  مبنی ہیں.

تاہم، ام زینب اور رپورٹر سیلی نیبر  کی طرف سے پیش کئے گئے خیالات  یوں ہی نہیں ہیں! اس طرح کے تنگ نظر خیالات کا منبع اور  تبلیغ کا عمل  ان لوگوں میں پایا جاتا ہے جن کے اسلامی کلاس  میں  ام زینب اور بہت سے دوسرے  لوگ شرکت کرتے ہیں۔ حالانکہ  اسلامی روایت نے   ہمیشہ ایک خاص موضوع پر مختلف اقوال اور آراء کی ایک بڑی تعداد کو اپنے میں شامل کیا ہے،   مسئلہ یہ ہے کہ وہ لوگ جوام زینب کے جیسے   نو مسلموں کو  تعلیم دیتے ہیں ، وہ اپنے خیالات کو  حقیقی معنوں میں  صحیح اسلامی تعلیمات کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ لوگ اسلامی  روایت  کے طول و عرض کو  سامنے نہیں رکھتے ہیں تاکہ وہ لوگ  بہتر طور پر فیصلہ کرنے کی پو زیشن میں ہوں۔   یہ ہٹ دھرمی سے کم کچھ بھی نہیں ہے! یہ ہر  ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ   مسلمانوں کے مسائل پر ہونے والی گفتگو اور بحث میں اپنی آوازوں کوشامل کرے تاکہ اسلامی روایت  کے تنوع اور  اخلاقی خوبصورتی  باہر آ سکے۔   مغربی اور غیر مغربی مسلم دانشوروں کی ایک بڑی تعداد   پہلے ہی ایسا  کر چکی ہے، تاہم  کچھ مسلمانوں اس سے آگاہ ہوتے ہیں  (مثال کے طور پر ملاحظہ کریں، او صفی کی پروگریسو مسلمان،   ون ورلڈ، 2003) یہ بھی ہر ایک مسلمان  کی ذمہ داری ہے کہ وہ  مسلمانوں  کے درمیان  موجود کشیدگی  کو کم کرنے کے لئے جو بھی بہتر ہو سکتا ہے وہ کرے  اور   اپنے مذہبی  تشخص  کو کھونے یا سمجھوتہ کئے بغیر  با معنی طور پر بات چیت  اور وسیع  تر معاشرے میں  حصہ لے تاکہ  اسلامی اخلاقیات کی خوبصورتی کو  ظاہر کر سکیں۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا، جبکہ  اس میں  کوئی مذہبی رکاوٹ نہیں ہے!

ڈاکٹر ادس ددریجا  میلبورن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں اور وہ نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدہ کالم لکھتے ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/why-muslim-converts-wear-hijab/d/7044

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/why-converts-wear-hijab?--نومسلم-حجاب-کیوں-پہنتے-ہیں/d/8717

 

Loading..

Loading..