New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 11:06 PM

Urdu Section ( 24 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

Muslims Genuine Attitude on Interfaith Dialogues بین المذاہب مکالمے پر مسلمانوں کا رویہّ حقیقی اور معذرت خواہانہ


ڈاکٹرادس ددریجا، نیو ایج اسلام

30مارچ،2012

(انگریزی سے ترجمہ: سہیل ارشد،  نیو ایج اسلام)

اس تحریر کا محرّک پرتھ ، مغربی  ٓاسٹریلیا میں حال ہی میں میری رہائش پر منعقد ہ ایک  بین مذاہب  مکالمہ  میں میری شرکت ہے۔ بین المذاہب مکالمے منعقد کرنے والے اداروں میں سے ایک کا جو چار سال پہلے  وجود میں آیا ہے کمیٹی  ممبر ہونے کی حیثیت سے مجھے یہ ایک خوش آئند بات لگی کہ اماموں کا مقامی گروپ اس پرو گرام کو منعقد کرنے میں سرگرم حصہ لے رہا ہے خاص کر اس بات کہ پیش نظر کہ میرے بین مذاہب انجمن کے ذریعہ منعقدہ پروگراموں میں ان کی حاضری نہ کے برابر  تھی (صرف ایک کے استثنا ء کے ساتھ جو غالباً اماموں کی کونسل کے رکن نہیں تھے۔)۔ ا س کے باوجود ان ‘روایتی ’ اماموں میں سے ایک کے مطابق جن کی گفتگو کو میں بین المذاہب کے مکالمے کے تئیں مسلم روئیے کے تحت چند وسیع تر موضوعات پر بحث کرتے وقت استعمال کروں گا، بین المذاہب مکالمہ اہم سماجی، سیاسی و مذہبی اہمیت کا حامل  موضوع ہے۔

میں اس امام کی تقریر کا جن کے مداحوں کی ایک بڑی  تعداد ہے اور جنہیں نوجوان نسل کے آفرد ترقی پسند سمجھتے ہیں ، بین المذاہب مکالمہ کے سوال پر ایک حقیقی بنام معذرت خواہانہ رویئے کے تنا ظر میں تجزیہ کروں گا۔ میرے نزدیک حقیقی روئیے کی تعریف یہ ہے کہ وہ ایک مذہبی روایت کی پیچیدگی  ، تنوع اور بعض دفعہ باہمی طور پر خارجی دھاگوں سےبحث کرتا ہے اور اس عمل میں اس موضوع پر بھی بحث کرتا ہے کہ اس مذہبی روایت کی تشریح و تفسیر اور مذہبی استثنا دعا کرنے کا اختیار کس کو ہے۔ ایسا رویہ جو مذہبی روایت کو روحانی طور پر ، صحیح تناظر میں اور تاریخی طور پر حساس انداز میں بحث کرتا ہے ۔ دوسری طرف معذرت خواہانہ رویہّ بہت سے معاملوں میں نظریاتی  برتری حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اہم بات یہ  ہے کہ یہ ایک ایک جہتی رویہّ ہے اور روایت کے چنیدہ استعمال پر مبنی  مذہبی روایات کے تفہیم ہے جو اس کے بعض پہلوؤں کو دباتا ہے او ربعض دیگر پہلوؤں کو ترجیح دیتا ہے ۔ یہ ایک  ایسا رویہ   (approach)  ہے جو زیادہ سے زیادہ Semi contextualist ہے اور ان تاریخی  حالات سے مطابقت نہیں  رکھتا جن میں یہ روایت پروان چڑھی۔

اس امام کے مطابق جن کا ذکر میں  نے کیا  ، اسلام اپنے عقیدے کی مدد سے بین مذاہب کے لے لئے ایک ہی    Inclusivist approachرکھتا ہے  اگر چہ خدا دین واحد کو ہی قبول کرتا ہے اور دین سے اس امام کی مراد خفی طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تاریخی  مذہب  ہے (یہاں  وہ ان واضح قرآنی آیات کونظر انداز کرجاتے ہیں  جن شریعت کی طرف رہنمائی کرنے والے ‘مناہج ’ کی تکثریت کا اعتراف کیا گیاہے) دین ہیں۔

اس امام کے مطابق اس   Inclusivism کی تصدیق اسلام کے دینی مؤقف یعنی خدائی پیغام کی وحدانیت سے بھی ہوجاتی ہے جو کہ اسلام اور مسلم کا معنی  ہی ہے ۔ نبوت کی اکائی اور غیر مسلم مذاہب کے تئیں  اسلام کی رواداری قرآنی اصول پر مبنی ہے جس کی رو سے غیر مسلموں کو آزادانہ عبادت کا  حق ہے ۔

خیر ، یہ ساری باتیں  اس مابعد جدید دنیا میں  بہت اچھی اور خوش گوار لگتی ہیں ۔ مگر مجھے امام کی  ان باتوں سےشکایت نہیں جو اس نے کہیں بلکہ ان باتوں سے ہے جو اس نے نہیں کہیں  او روہی اصل مسئلہ ہے  اوّل انہوں نے اس بات کا ذکر نہیں  کیا کہ سُنّی  عقیدے کا ایک جُز نبوت کا تسلسل ہے جس کا نقطہ تکمیل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور جس عقیدے کی رو سے تمام گذشتہ  مذہبی  روایات  ‘نامکمل’  Corruptedاور deviant قرار پاتی ہیں ۔ لہٰذا  مسلمان ہونے کی حیثیت  سے ہم ‘ ان ’ سے کچھ نہیں سیکھ سکتے ۔ ( اس سلسلے میں اس بات کا ذکر کرتا چلوں کہ  اس امام کی تقریر سے پہلے ایک عیسائی  کو بین  مذاہب مکالمے پر کیتھولک نقطۂ نظر سے تقریر کرنا تھی لیکن ایک دیگر نوجوان امام کے طور پر طریقوں (وہ ایک ِشخص سے گفتگو میں مشغول تھے) یا وہ امام جس کا ذکر میں کررہا ہوں وہ دیر سے آئے اور جلد چلے گئے ان دونو ں کے رویہّ سے یہ واضح تھا کہ وہ اسے سننا نہیں چاہتے تھے یا پھر یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ اس عیسائی نمائندے کے پاس کہنے کے لئے  کوئی اہم بات نہیں تھی ۔

دوئم ، جس انداز سے دوسروں کے ساتھ سلوک کے اسلامی تاریخی  تجربے کو پیش کیا گیا اس سے یہ تاثر  ملا کہ اسلامی  تاریخی  تجربہ رواداری او تحمل  کا نقطہ عروج تھا ( یہ پیشکش   toxicology )میں مستعمل اصطلاحات پر مبنی  تھی جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ کون سی دوا  کتنی مقدار تک قابل برداشت ہے اور اس حد سے زیادہ دوا کا استعمال نقصان دہ اثرات کا حامل ہوگا) ۔ اس پیش کش یا تقریر میں سعودی عرب  یا دوسرے ممالک (افغانستان وغیرہ) یا پھر ان سے بھی زیادہ ‘سیکولر’ مغربی عرب ممالک میں موجودہ گرجا گھر وں کے رکھ رکھا ؤ او رمرّمت او رنئے گرجا گھر وں کی تعمیر کی عدم اجازت، یا غیر مسلم مذاہب  کی اعلانیہ پیروی او رتبلیغ یا پھر اسلام سےکفارہ کشی کی عدم اجازت  (اور اگر کسی نے اس کا ارتکاب کرہی لیا تو اس کی سزا موت ہے، البتہ  اس پر بہت کم عمل در آمد ہوتا ہے) کے سنگین شواہد کونظر انداز کردیا گیا ۔ یہ  تمام قوانین اور رواج قبل جدید اسلامی قانون کا ایک لازمی جز و اور  mainstream   حصہ ہیں۔ بہر حال اس امام نے اس میں سے کسی کا بھی ذکر نہیں کیا اور مجھے اس بات پر بجا حد تک شبہ ہے کے اسے اسلامی روایت کے اس پہلو کا علم نہیں تھا۔

سوئم ۔ اس ا مام نے اسلامی روایت کے دیگر متنازعہ فیہ اجزاء  بالمقابل دیگر مذاہب خصوصاً حدیث لٹریچر کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے ظاہری وضع قطع خصوصاً اس کی مٹھی بھر داڑھی  اور  مونچھوں کے پیش نظروہ اس سے ضرور واقف ہوگا ۔ مثال کے طور پر متعدد احادیث کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو درج بالا اور دوسرے طریقوں سے خود کو  یہودیوں ( اور عیسائیوں ) سے ممیّز کرنے کی ہدایت دی ہے( اس موضوع پر میں نے ایک دوسرے  paper  میں بحث کی ہے)

اس اصول (commandment)کی اگر حقیقی ہے ساتویں  صدی کے مدینے کے مسلمانوں  (جن کا وجود یہی  خطرے میں تھا)  اور چند یہودی قبائل کے درمیان  چلنے والی دشمنی  کے سیاسی  تناظر میں ترجمانی نہیں  کی جاتی ہے بلکہ اس کی ترجمانی  ایک پرہیز گار او ر سچے مسلمان کی آفاقی  اصول کے طور پر کی  ہے جو اپنے پیغمبر  کی سنت پر قائم رہتا ہے ۔( میں نے سنت کی تعریف و تفسیر پر کئی علمی  مقالے پیش کئے ہیں)

یہاں پر میں اپنے  ایک مقالے سےایک حصّہ پیش کررہاہوں جس میں اس بین المذاہب مکالمے  پر ایک اسلامی گروپ کے   exclusivist approach  جسے میں Neo- tradition salafis (NTS) کہتاہوں جو ‘روایتی’ اور نوقدامت پسند دونوں رویوں کا احاطہ کرتا ہے۔

قرآن او رسنّت کی تفہیم و تفسیر کے  NTS approach  پر مبنی دیگر مذاہب  کے متعلق نظرئیے کےمتعلق قرآن و حدیث کے اقتباسات  ۔

قرآنی آیات

2:120

‘‘ اور ہر گز راضی نہ ہونگے تجھ سے  یہود او رنہ نصاریٰ جب تک تو تابع نہ ہو ان کے دین کا ۔ تو کہ دے جو راہ اللہ بتلادے وہی سیدھی راہ ہے او راگر بالغرض  تو تا بعداری کرے اُن کی خواہشوں کی بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچا  تو تیرا  کوئی نہیں اللہ کے ہاتھ سے حمایت کرنے والا او رنہ مددگار ’’

3:118

‘‘ اے ایمان والوں بتاؤ بھیدی  کسی کو اپنو کے سوا وہ کمی نہیں کرتے تمہاری خرابی  میں ان کی خوشی ہے تم جس قدر تکلیف میں رہو  نکلی  پڑتی ہے دشمنی  ان کی زبان سے اور جو کچھ مخفی  ہے ان کے جی میں وہ اس سے بہت زیادہ ہے ۔ ہم نے بتادیئے تم کو پتے اگر تم کو عقل ہے’’۔

5.51

‘‘ اے ایمان والو مت بناؤ یہود و نصاریٰ کو دوست وہ آپس میں دوست ہیں ایک دوسرے کے اور جوکوئی تم میں  سے دوستی کرے ان سے تو وہ انہی میں ہے ۔ اللہ ہدایت نہیں کرتا ظالم لوگوں کو ۔’’

9:5

‘‘ پھر جب گذر جائیں مہینے  پناہ کے مارو مشرکوں کو جہاں  پاؤ اور پکڑو اور گھیر و اور بیٹھو ہر جگہ ان کی تاک میں پھر اگر وہ توجہ کریں  او رقائم  رکھیں  نماز او ر دیا کریں زکوٰۃ تو چھوڑ دو ان کا رستہ ، بیشک اللہ ہے بخشنے  والا مہربان ۔’’

3:85

‘‘اور جو کوئی چاہے سوا دین اسلام کے ا ور کوئی دین سوا س سے ہرگز قبول نہ ہوگا او روہ آخرت میں خراب ہے۔’’

قرآن کی تفسیروں میں ان آیتوں او رسورتوں کے تناظر کو درج کردیا گیا ہے۔

وسیع تر مفہوم میں ان  آیتوں کے نزول کے وقت ،مدینہ کی چھوٹی سی مسلم آبادی  مستقل خطرےکی حالت میں تھی ۔ یہ ان کے وجود کو یہ خطرہ اندرونی  او ربیرونی دونوں سطح پر تھا ۔ اندرونی خطرہ ان لوگوں سے تھا جنہیں  قرآن منافقین کہہ کر پکارتا ہے جو خطرے کے خارجی ذرائع کے ساتھ تعاون کرتے تھے او رمسلم سماج کو اندر سے نقصان پہنچانے کی سعی کرتے تھے۔ بیرونی خطرہ ،مکہّ کے قبیلہ قریش کے علاوہ خاص طور سے مدینہ   کے اطراف  میں  بسے ہوئے یہودی قبائل کی طرف سے روز افزوں محسوس کیا جارہا تھا ۔ پہلے تو ان قبائل نے ایک معاہدے پر دستخط کئے جو ‘‘ مدینہ کا دستور’’ کہا گیا او ر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت کا حلف لیا ۔ اس  دستاویز کی روسے شہر کے تمام باشندگان ایک قومیت (امت) قرار  پائے اور ان کی مذہبی اختلافات  کااحترام کیا گیا تھا  جس کی قرآن میں تصدیق اور تائید کی گئی ہے۔ مزید برآں ، اس دستاویز کے مطابق یہ توقع بھی کی گئی تھی کہ یہودیوں اور مسلمانوں  کے درمیان مکر وفریب سے پاک دوستی  او رباہمی حسن سلوک ہوگی دغا و فریب نہیں ۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے تمام فریقین  وشرب  ( مدینے ) پر کسی بھی اچانک بیرونی حملے کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کرینگے ۔

بہرحال جیسے جیسے  مسلم آبادی  میں اضافہ ہوتا گیا اور ان کی طاقت بڑھتی گئی اور وہ خود کفیل او رخود شناس ہوتے گئے ۔ ان یہودی  قبائل نےاپنی حمایت اُٹھالی اور مسلمانوں کے خلاف مکّہ والوں سے تعاون اور ان کے ساتھ مل کر سازشیں  کرنے لگے۔ اس طرح انہوں نے ‘‘دستور مدینہ ’’ کی خلاف ورزی کی ۔ ناگریز پر طو  ر پر اس سلسلے میں قرآن اور پیغمبر کی طرف سے ردّعمل  ظاہر ہوا کہ کس طرح مسلمان اس طرح کےقبیلوں او رافراد سے نپٹیں۔ اس تناظر میں  ایک یہودی قبیلے  کا قلع قمع اور دوسرے  کا مدینے سے اخراج کو اکثر قرآن او رمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پالیسی کی  exclusivist فطرت کی مثال کی حیثیت سے  پیش کیا جاتا ہے ۔ قرآن کی مندرجہ بالا آیتیں  ایک خاص تناظر میں پیش کی گئی ہیں اور فطری  طور پر آفاقی  نہیں  ہیں  یہ اس بات سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہودیوں او رعیسائیوں سے متعلق قرآن کے بیانات نہ صرف آیتوں کی ایک بڑی تعدادپرمشتمل ہیں جن میں ان سے متعلق  مفاہمتی  لہجہ استعمال کیاگیا ہےاور  جس کا ذکر بعد میں آئے گا جیسا کہ Miraly  کی دلیل یہ ہے کہ یہودیوں کے خلاف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے اقدامات کسی مذہبی  احساس برتری (علیحدگی پسندی ) کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ ناقابل حل کشیدگی کا نتیجہ  تھے  جن کا مذہبی تکثیریت پر قرآن کے مؤقف سےکوئی واسطہ نہیں تھا ۔ مزید برآں ، ایک غیر مسلم کیتھولک راہبہ ارم اسٹرانگ  اعتراف کرتی ہیں کہ دو یہودی قبائل کے قلع قمع اور اخراج کے بعد بھی  قرآن یہودی پیغمبروں کا احترام کرتا رہا  اور مسلمانوں کو اہل کتاب  کااحترام کرنے کی تاکید کرتا رہا ہے ۔ چھوٹے چھوٹے یہودی  گروہ مدینے میں آباد رہے اور بعد میں  عیسائیوں کی طرح  یہویوں کو بھی اسلامی  حکومت میں پوری مذہبی  آزادی حاصل رہی ۔

آیت نمبر 85:3 کے سلسلے میں  : ‘مومن ’ اور ‘مسلم ’ کے لغوی  معنی میں تبدیلی  کے سلسلے میں جو کچھ کیا گیا  Esack  کی دلیل یہ ہے کہ کلاسیکی  یا اسلامی  فکر کے ابتدائی مرحلے میں اس آیت کا مفہوم مسلم جماعت کے  باہر کی جماعتوں کی نجات لیا گیا تھا  مگر بعد میں جب  مفسرین نے مزید پیچیدہ اور ترقی  یافتہ تکنیکوں جیسے نظریۂ نسخ کی مد د لی تو اسے دیگر کی نجات سے اخراج کے لئے استعمال کیاگیا ۔

اس کےعلاوہ ،آیت نمبر 5:9 کے معاملے میں ، اس کا خصوصی نہ  کہ عموعی  nature نہ صرف تناظر  غور وفکر کا متقاضی  ہے بلکہ گرامر (قواعد) بھی۔ مثلاً اس آیت میں مشرکوں کا استعمال اس کے متن کو بعض  مخصوص قبائل کے لئے محدود کرتا  ہے اور اس لئے اسے آفاقی اصول کی حیثیت سےنہیں  دیکھا جانا چاہئے ۔

احادیث :

مندرجہ بالا  حوالے کا عکس بہت سی  احادیث جو میں پیغمبر صلی اللہ علیہ  وسلم سے منسوب ہیں پایا جاتا ہے  جس میں ایک طرف مسلمانوں اور دوسری طرف یہودیوں اور عیسائیوں میں فرق پر زور دیا گیا ہے اور اس طرح ایک  reactionary  نمایاں شناخت محسوس کی جاسکتی ہے۔ کچھ مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت  ہےکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘‘ یہودی  اور عیسائی اپنے بالوں میں dye  نہیں لگاتے اسلئے  تمہیں ان کے برعکس کرنا چاہئے ’’(بخاری  صحیح  7.785)

حضرت عبداللہ ابن  امر ابن العاص سے روایت ہے ‘‘اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  ‘‘ جو دوسروں کی نقل کرتے ہیں وہ ہم میں سے نہیں ۔ یہودیوں او رعیسائیوں کی نقل مت کرو کیونکہ یہودیوں  کے لئے سلام انگلیوں کے اشارے سے ہے او رعیسائیوں کے لئے سلام ہاتھ کی ہتھیلیوں سے ہے ’’ ۔(ترمذی : 4648 کمزور حدیث کے زمرے میں )

ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  سہیل  ابن ابو صالح نے فرمایا میں  اپنے والد کے ساتھ سیریا (شام ) گیا لوگ خانقاہوں سے  گذرتے تھے جہا ں عیسائی  رہتے تھے او رانہیں سلام کرتے تھے ۔ میرے والد نے کہا انہیں سلام میں پہل نہ کرو کیونکہ  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نےروایت کی ہےکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں  (یہودیوں اور عیسائیوں ) کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور جب تم ان سےراستے میں ملو تو انہیں راستے کے تنگ تگرین گوشے میں چلے  جانے پر مجبور کرو۔’’ (ابو داؤد :5186)ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘‘ دین غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ افطار کرنے میں جلدی کرینگے کیو نکہ یہودی  اور عیسائی اس میں تاخیر کرتے ہیں ۔’’ (ابوداؤد :2346)

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا او رلوگوں کو اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ۔ لوگوں نے کیا  ‘‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دن ایسا ہے کہ یہودی اور عیسائی اس کا احترام کرتے ہیں ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگلے سال انشاء اللہ ہم لوگ 9 تاریخ کو روزہ رکھیں گے ’’ اگلے سال سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا ۔ اس حدیث کو مسلم اور ابوداؤد نے محفوظ کیا ۔ ایک دوسری حدیث میں الفاظ یہ ہیں ۔‘‘ اگر میں اگلے برس تک زندہ رہوں ، ہم لوگ 9 ویں کا روزہ رکھیں گے ۔ یہ مسلم اور  ابوداؤد سے مروی ہے۔

یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ مندرجہ بالا  آیتیں  اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کو اگر ان کے ظاہری  تناظر  میں دیکھیں اور ان آیتوں کے نزول کے پس منظر  اور احادیث کے تاریخی  پس منظر پر غور نہ کریں تو نتیجے  میں مذہبی  دیگر ایک بہت ہی منفی تصویر  سامنے آئےگی  جسے معیاری اور آفاقی  تصور کیا جائے گا ۔ اور ٹھیک بالکل ایسا ہی ان مسلمانوں کا نظر میں  ہے جو قرآن اور سنت کی تعلیمات کی تفسیر و ترجمانی کے  NTS ماڈل کا اتباع کرتےہیں جس کی  خصوصیت یہ  ہے کہ یہ قرآنی  احکامات اور احادیث کے متن کے نوع، متن ، تفہیم  تفسیر اور مقصد کے پس  منظر کو حاشئے پر ڈال دیتا ہے ۔ اس کےعلاوہ قرآن اور سنت کی تعلیمات کو عمو می آنے اور آفاقی جہت عطاکرنے کے اس تفسیری  رجحان سے  جو NTS روئیے کی خصوصیت ہے جو نتیجہ  نکلے گا کہ اس کا اطلاق پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیات کے دوران اور ان کے وفات کے بعد کے تمام مسلمانوں، یہودیوں او رعیسائیوں پرکیا جائے گا ۔متنی شواہد کے تئیں   NTS segmentalist  رویہّ جو کسی خاص موضوع پر تمام متنی شواہد پر منظم طور پر غور کرکے  اور ساتھ ہی ساتھ کاسیکل اسلامی قانونی  نظریہ کے ذریعہ اپنائے گئے اصولِ نسخ کا استعمال کر کے ایک منضبط اور کلیت پر ستانہ نظریہ اخذ کرنے کی سعی نہیں کرتا ہے، اس نقطہ نظر  کے نشو و نما کے لئے ذمہ دار ہے ۔ اس کے علاوہ ،  NTS حدیث پر منحصر سنت حدیث کی تنقید کے متعلق تفیسری  اور ان  کے اہل حدیث مینہاج   مندرجہ بالا احادیث کو معیاری یا آفاقی  قرار دیتے ہیں   اور اس لئے سب کے لئے قابل  تقلید قرار دیتے ہیں  ۔ لہٰذا  ،  NTSمینہاج کی خصوصیات کی بنیاد پر  قرآن کے پیغام عات جس میں سے ایک رواداری  (  tolerance) مفلوب کرنے کے لئے قرآن کی ان آیتوں کی جن سے  بظاہر عدم رواداری ( intolerance ) کی تحریک ملتی ہے، شعوری  طور پر غلط ترجمانی کی گئی ۔

مندرجہ بالا آیتوں او رحدیثوں کے علاوہ  متعدد قرآنی آیات او رحدیثیں ہیں جنہیں اگر ان کے اصلی تناظر سے  ہٹا کر اطلاق کیا جائے تو وہ مذہبی دیگر سے متعلق نقطۂ نظر پر منفی طو رپر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس طرح مذہبی دیگر کے بالمقابل ایک مخصوص مذہبی امیج  پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ وہ اس کشیدگی  اور دشمنی پر زور ڈالتے  ہیں جو مسلمانوں او ریہود ونصاریٰ کے درمیان پیغمبر اسلام کے مدینہ کے ابتدائی  سماج میں موجود تھی  خاص کر اللہ سے ان کے لئے بد دعاؤں کی صورت میں ۔ ذیل میں ہم ان سے چند پر بحث کریں گے۔

قرآنی آیات

5:82

‘‘ تو  پاوے گا سب لوگوں سے زیادہ دشمن  مسلمانوں کا یہودیوں کو اور مشرکوں کو ۔’’

9:29

‘‘لڑو ان لوگوں سےجو ایمان  نہیں  لاتے اللہ پر اور نہ آخرت کے دن پر اور نہ حرام جانتے ہیں اس کو جس کو حرام کیا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہ قبول کرتے ہیں دین سچا ان لوگوں سے جو کہ اہل کتاب ہیں ۔ یہاں  تک کہ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے ذلیل ہوکر ۔’’

احادیث

حضرت عبداللہ ابن عمر سے مروی ہے ، اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا   ‘‘تم (مسلمانو) تم یہودیوں سے اس وقت تک لڑوگے  کہ وہ چٹانوں کے پیچھے چھپ جائیں گے ۔ چٹان بھی ان  سے بے وفائی کریں گے او رکہیں گے اے عبداللہ  (اللہ کے بندے ) میرے عقب  میں ایک یہودی چھپا ہوا ہے اسے مار ڈالو۔’’ (بخاری 4/176) حضرت عبداللہ بن ملائکہ  سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی  اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے  او ربولے ‘‘السّام و علیکم’’  عائشہ رضی للہ عنہ نے ان سے کہا ‘‘تمہیں  موت آئے او رتم پر اللہ کا غضب ہو او راس کا عذاب  نازل ہو ۔’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  ‘‘ اے عائشہ رضی اللہ عنہ صبر کرو ۔ تمہیں  صلہ رحمی کرنا چاہئے او رسخت بات سے احتراز کرنا چاہئے ۔’’ انہوں نے کہا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ہے ) ‘‘ کیا آپ نے نہیں سنا کہ ان لوگوں نے ( یہودیوں نے آپ سےکیا کہا ’’  اور کیا آپ نے نہیں سنا کے  میں نے  کیا کہا۔ میں نے ان سے وہی  کہا  او ران کے لئے میری  بددعا قبول ہوگی  او رمیرے لیے ان کی بد دعا رد ہوگی اللہ کے حضور میں ’’ ۔( بخاری  8.57)

ان آیتوں اور احادیث کی تصادمی نوعیت پر اگر NTS تفسیری پس منظر میں غور کیا جائے تو اس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے اور مذہبی دیگر کے بالمقابل ایک خالص شدت پسند اور علیحدگی پسند مسلم شناخت کی تشکیل کے لئے ایک مذہبی  بنیاد  مہیا کرے گی ۔ یہ بات الفادی کے بیان سے واضح ظاہر ہوتی ہے جو اس سلسلے میں کہتا ہے۔

‘‘ قدامت پسند نقطۂ نظر دو قطبی ہے ۔ ایک سرے پر اسلام ہے جو خالص نیکی کا دعویدار ہے اور دوسرے سرے پر غیر مسلم جو بدی کی علامت ہیں ، کلاسیکی   jurists کی تحریروں پر یقین کیا جائے تو  قدامت پسند ایک ایسے مذہبی  نظریئے  پر یقین رکھتے ہیں جسے الولاء البراء جس کا تقاضہ ہے کہ مسلمان صرف مسلمان ہے تعلقات رکھیں  صرف مسلمانوں کی فکر کریں اور صرف مسلمانوں سے دوستی  کریں۔ اس کے مطابق مسلمان غیر مسلموں سے صرف محدود مقاصد کے لئے ہی تعلقات قائم کریں اور ان کی مدد طلب کریں ۔ مسلمان ان سے صرف اسی وقت تعلقات رکھیں جب وہ کمزور اور ضرورت مندہوں ۔ اور جیسے  ہی وہ اپنی طاقت اور اقتدار واپس حاصل کرنے کی پوزیشن  میں ہوں وہ اپنا برتر مقام حاصل کریں ۔ غیر مسلموں کا مسلمان نہ ہونا ایک  اخلاقی خامی تصور کیا جاتا ہے۔

یہودیوں اور عیسائیوں کے تئیں اس نوع کی ذہنیت اور روئیے کو فروغ دینے والوں میں ایک  NTSعالم البانی (1999) ہیں جو سمجھتے ہیں کہ پیغمبر  اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو عیسائیوں اور یہودیوں کو سلام و آداب بجالانے میں پہل کرنے سے منع فرمایا ہے اور یہ کہ مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ خلوص پر مبنی انسانی رشتہ استو ار نہیں کرنا چاہئے ۔ ان کا یہ فیصلہ چند استثنائی  احادیث جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں کے متعلق ان کے اسی روئیے پر مبنی ہے۔

اس طرح یہ NTS مینہاج  ایک مذہبی طو رپر خارجی وجود بالمقابل مذہبی  دیگر کی تشکیل کرتا ہے ۔( اقتباس کا حصہ تمام ) یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہا امام صاحب نے اسلامی روایت کے اس پہلو کاذکر کیوں نہیں کیا کہ مسلمان کی حیثیت سے  ہمیں ایک مربوط منظم اور تاریخی طو ر پر حساس اور ایماندارانہ وطیرہ اپنانا چاہئے خاص طور سے جب ہم بین المذاہب  افہام و تفہیم  کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں  حقائق کو پس پردہ ڈالنا اور تجاہل عارفانہ سے کام لے کر یہ ظاہر کرنا کہ ان حقائق کا وجود ہی نہیں  ہے نہ صرف ایک معذرت خواہانہ طرز عمل ہے بلکہ سیاسی اور اخلاقی طو  رپر غلط ہے۔ خود اس امام کی تنقید کہ بین المذاہب  مکالمے کی سمت حالیہ کو شش اور تکثریت کا اعتراف و توصیف جو مغرب کی طرف شروع کی گئی ہے محض  ایک سیاسی شعبدہ بازی ہے جب کہ اسلام پر غور کیا جائے تو یہ بات اس میں فطری طو ر پر ابتدائی سےموجود ہے۔

آئندہ سطور میں  اسی موضوع پر اپنی دوسری تحریروں کے چند اقتباس پیش کررہا ہوں جن میں اسلامی تناظر میں مذہبی  تنوع او رمفاہمت پسندی پس منظر کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

مذہبی وجود اور ‘دیگر’ قرآن او رسنت میں : تناظر کی اہمیت

قرآن او رسنت میں مذہبی وجود اور ‘دیگر’ کے سوال کا تجزیہ کرنے سے قبل آیتوں کے نزول کے پس منظر او ررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کے پس منظر کےمتعلق بہت کچھ کہنے کی ضرورت ہے کیونکہ نزول کا پس منظر مسلم وجود اور ‘دیگر’ کے سوال سے  جڑُا ہوا ہے ۔ خاص کر مدینے کے دور میں ۔ نہ صرف یہ کہ ابتدائی طور پر مدینے میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اور اس طرح مسلم شناخت اور زیادہ خود شناس ہوگیا بلکہ بیشتر مسلمانوں کی نگاہ میں پیغمبر  کا ابتدائی مسلم سماج کامدینہ ماڈل  ہی کئی لحاظ سے قابل تقلید ہے بشمول مذہبی ‘دیگر’ کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کی نوعیت ۔ مزید برآں ، قرآنی متن اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت  بنیادی طور پراسی تناظر سے جڑی ہوئی تھی خاص کر مسلمانوں او رمذہبی ‘دیگر’ کے درمیان تعلقات پر قرآن کے متن کی جہات۔

مسلم وجود اور ‘دیگر ’ تصور کو جیسا کہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں سمجھا گیا ، مذہبی نقطہ نظر سے قرآن اور رسول کی تفسیر کی روشنی میں سمجھنے کے لئے کئی عام نکتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلے  ساتویں صدی  کے حجاز میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کے طلوع ہونے کا پس منظر ایسا تھا کہ یہ پہلے  سے قائم شدہ مذہبی قومیتوں کے درمیان وجود میں آیا جن میں بت پرستی کے علاوہ یہودیت ، عیسائیت اور حنفیت اہم تھیں قرآن متعدد موقعوں پر غیر مسلم ‘دیگر ’ کے تئیں مسلمانوں او رمسلمانوں کے تئیں  ‘دیگر ’ کے روئیے کو بیان کرتا ہے۔

دوئم ۔ غیر مسلم ‘دیگر ’ کے تئیں قرآن کا موقف ( او رپیغمبر کا طرز سلوک)کی نوعیت بے حد عصری ہے اور اسی لئے دوموقف بھی نیزمدینے کے مسلمانوں کے تشکیل دور میں، ایک طرف مسلمانوں او ردوسری طرف یہود ونصاریٰ و منافقین کے درمیان نزاع اور کشیدگی کا ماحول تھا جس کے تحت مسلمان اپنی  بقا کے لئے فکر مند تھے او ریہ فکر مندی  اکثر مذہبی  ‘‘دیگر ’’ (حریف) کے خلاف ایک انتہا پسندانہ موقف کو راہ دیتی تھی Watt مسلمانوں اور غیرمسلموں خاص کر پیغمبر اسلام او رمدینہ کے یہودیوں کے درمیان تعلقات کے محرکات اور حالات بیان کرتاہے ‘‘مدینے  میں محمد  کے ابتدائی دوسال یہودی ان کے پیغمبر  ہونے کے  دعوی کے سب سے خطرناک ناقداور مخالف تھے۔ اور ان کے مذہبی  پیروکار وں کا مذہبی  جوش جس پر بہت کچھ کادار ومدار تھا بہت حد کت سرد پڑسکتا تھا  اگر یہودیوں کی تنقیدوں کو خاموش او ربیکار نہیں کردیا جاتا ۔ یہودیوں نے اپنا رویہّ تبدیل کر کے جار حانہ رویہّ  کو ترک کردیا تو انہیں ضرر نہیں  پہنچا یا گیا ۔’’

اس بات کی تصدیق خود قرآن کرتا ہے ۔مذہبی ‘دیگر’ کے تئیں صحیفوں کے تناظر پر انحصار  Waardenburg  کو تحریک عطا کرتا ہے کہ وہ اس بات کا اعتراف کرے کہ ‘‘دوسری مذہبی قوموں کے ساتھ نئی اسلامی تحریک کے اختلاط پر جب ہم پیچھے مُڑ کر نظر ڈالتے ہیں تو ہم سماجی و سیاسی  عوامل کی اہمیت پر حیران رہ جاتےہیں ۔’’

 سیاسی و سماجی عوامل کے علاوہ مذہبی افکار بھی اہمیت کے حامل تھے کیونکہ اسلامی مذہبی  شناخت کا درجہ بدرجہ استحکام مذہبی  ‘دیگر ’ خصوصاً یہود ونصاریٰ کی مذہبی شناخت سے باہمی طور پر مربوط ہے ۔ قرآن میں دوسرے مذاہب کے ساتھ مذہبی شناخت کے تسلسل اور عمومیت کے پہلو مسلم شناخت کے نمود اور انفرادیت سے باہم مربوط ہیں۔


لہٰذا ،قرآنی پس منظر میں مختلف قومیتوں کے درمیان اختلاط اور مذہبی جہات نے مسلمانوں کو مذہبی شناخت کی تشکیل کوبنیاد عطا کی اور اس کی تشکیل میں بہت ہی ہم کردار ادا کرریا ۔

ڈونر (Donner) پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے اقبالیہ انفرادیت کے مطالعے  کے دوران  یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ اسلام کے آغاز اور اسلامی  صحیفے میں مومنوں کی جماعت کا تصور آزادانہ طور پر اقبالیہ شناخت  (confessional identity) پر قائم کیا گیا تھا۔ اور یہ کہ صرف پہلی  صدی ہجری  کے اواخر تک ہی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی تشکیل  کی ایک پوری نسل کے بعد ) مومنوں کی جماعت کی رکنیت  کو خود ہی اقبالیہ شناخت کی حیثیت سے دیکھا جانے لگا  جب بعد میں مذہبی  اصطلاح کی تشکیل کے استعمال کےمطابق ، مسلمان یا ایمان والا ہونے کامطلب یہ تھا کہ وہ مثال کے طور پر عیسائی  یا یہودی نہیں تھا۔

Donner اس دلیل  کی حمایت میں قابل قدر شواہد پیش کرتاہے کے قرآن کے مطابق (بعض ) یہودی  اور عیسائی بھی مومنوں کے زمرے میں آسکتے ہیں  ۔ مسلمانوں کی مذہبی وجود کے ارتقاء کی تاریخی حیثیت کے متعلق ایک اور اہم رحجان پیغمبر  اسلام اور ان کی ابتدائی سماج کی تبدریج مگر روز افروں خود شناسی تھا ۔ جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی  کے ابتدائی سال میں مشترکہ اقدار کی تلاش کی سعی  اور فریقوں کے مابین خلیج  کو پاٹنے کی کوشش ملتی ہے وہیں  بعد کے مرحلے میں خصوصی شناخت کی تشکیل پر زور دیا گیا تاکہ ایک (مسلمان ) کو دوسروں سے بنیادی  طور پر ممیز کیا جاسکے’’۔

Miraly  کہتا ہے کہ جہاں تکثریت اسلام کی لازمی بنیاد تھی ، خارجیت بعد کے دور کا اضافہ تھی ۔                    نزول وحی کے بعد کی صدیوں میں ، اصل تکثیر ی جذبہ کو جس نے دستور مدینہ ( Constitution of Madina) کی بنیاد ڈالی، سیاست سے مغلوب طبقوں نے غصب کرلیا جنگجوئی  او رعلاقائی توسیع پسندی کو جائز ثابت کرنے کے لئے قرآن کی خارجی تفسیر پیش کرتے تھے ’’۔ اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں باز نطینیوں کے متعلق مسلم نقطہ نظر کے تناظر پر لکھتے ہوئے  Shboul  اس کی مشاہدے کی تائید کرتا ہے کہ مسلمانوں کا رویہ ہمدردی اور اخوت جو قرآنی آیتوں میں منعکس ہے ، سے باز نطینی  فوجی طاقت کے رعب او راندیشے  ،  باز نطینی دولت او رعیش و عشرت سے نفرت اور حتمی  طور پر کھلی مخالفت او ر طول جنگوں کے اندیشے میں تبدیل ہوگئی ۔

یہود ونصاریٰ کو اسلام نے اہل کتاب کا درجہ دیا ہے اور انہیں  محفوظ اقلیتوں (ذمیّ) کا درجہ عطا کیا ہے۔

اس سوال سے جڑا ہوا نکتہ جس کا تجزیہ یہاں  مقصود ہے وہ حنیف /ملت ابراہیم کا قرآنی تصور ہے ۔ قرآن کے مطابق یہ تصور ایک حقیقی خدا میں عقیدے پر مبنی  قدیمی مذہب کا تصور کہلا سکتا ہے جو ملّت ابراہیم قرار پایا جسے آفاقی نظام عقیدہ تصور کیا جاتا ہے اور جس کا حتمی ارتقائی مرحلہ مسلم اور مذہبی  ‘دیگر’ کے تئیں  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ تھا ۔ بہر حال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پیغمبر اسلام خود تاریخی اسلام کو زمین پر قدیمی مذہب حنیفیہ کی ایک ممکن  شکل یا واحد شکل کی حیثیت سے پیش کرتے تھے ۔

اخیر میں ، مذہبی دیگر کے تئیں اسلامی نقطہ نظر قرآن او رسنت کی ایک خاص ترجمانی  کی رہین ہے ۔ یہ نظریہ اس یقین پر مبنی  ہے کہ قرآن مذہبی ‘دیگر’ کے بارے میں تجرباتی علم کا مبنع ہے  جس کا اطلاق آفاقی  اور تاریخی طور پر اور بلا لحاظ تناظر ہوتا ہے ۔( دوسرے اقتبا س کے حصہ کااحتتام )  یہ بات ذہن میں رکھنی  ضروری ہے کہ یہ معذرت خواہانہ رویہّ صرف بین المذاہب مکالمے کے موضوع تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اسلام میں عورت کے کردار اور مقام کے سوال پر بھی خصوصی طور سے نمایا ہے۔

مثال کے  طور پر  اسی معذرت خواہانہ رویہّ کی بنیا د پر جو قبل جدید اسلام میں عورتوں کو 14 سوسال پہلے دیئے گئے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتا  ہے ، عورتوں کو سیاسی اور قانونی حقوق نیز عام آزادی سے محروم رکھا ہے ۔( سیاسی حقوق جیسے  ووٹ دینے کاحق ، اعلیٰ سیاسی عہدے پر منتخب ہونے کاحق ، جج بننے کا حق ۔ قانونی حقوق جیسے بچوں کی   Custody  ،شادی اور طلاق کے قوانین ۔عام آزادی جیسے آمدورفت کی آزادی ۔ شوہر بیوی کو والدین کے گھر جانے یا ان کی تدفین میں شرکت سے روک سکتا ہے)

اب اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن اور سنت نےاور کسی حد تک قبل  جدید اسلامی فقہ نے جو قوانین وضع لئے وہ ان تاریخی حالات اور تاریخی  پس منظر کے لحاظ سے  وترقی پسندانہ  تھے، یہ حقوق جو اسلام نے عورتوں کو دیئے اخلاقی کائنات  میں  اور extreme gender role differentiation  کی منطق کی روسے  مردوں کے غلبہ والے سماج میں فطری طو رپر موجود او رمربوط نہیں تھے ۔ اس منطق کے ایک پہلو کی روسے عورتوں میں کچھ صنفی خصوصیات اور جذباتی  کمزوریاں ہوتی ہیں  جنہیں  ان کے مندرجہ بلا حقوق کو سلب کرنے کےلئے جواز میں پیش کیا جاتا ہے ۔اگر ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے معذرت خواہانہ طریقے سے نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں بین  المذاہب مکالمے کا حصّہ بننا چاہتے ہیں تو یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم اپنے روایتی  ورثے کے تمام اچھے ، بُرے او رکریہہ پہلوؤں پر غور وخوص کریں اگر ہم اپنی  او ردوسروں کی روایت  کی اپنی تفہیم کو مزید استحکام اور قدر عطا کرنا چاہتے ہیں ۔ صرف اور صرف اسی صورت میں ہم بامعنی طور پر اپنے آپ میں بہتر تبدیلی لاسکتے ہیں ۔

ڈاکٹر ادس ددریجا  میلبورن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں اور نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدہ کالم لکھتے ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-society/murtaza-haider/who-gets-to-be-a-muslim-in-pakistan?/d/6952

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/muslims-genuine-attitude-on-interfaith-dialogues--بین-المذاہب-مکالمے-پر-مسلمانوں-کا-رویہّ-حقیقی-اور-معذرت-خواہانہ/d/8427

 

Loading..

Loading..