New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 04:39 AM

Urdu Section ( 2 Oct 2012, NewAgeIslam.Com)

Muslim Responses to Interreligious Dialogue مذاہب مذاکرات پرمسلمانوں کا ردعمل

 

ڈاکٹر عدیس ددریجا، نیو ایج اسلام

انگریزی سے ترجمہ‑ مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام

1 ۔ (بین مذاہب) مکالمہ کی ماہیت

لغوی اعتبار سے  لفظ 'ڈائلاگ، یونانی زبان “dia”سے آیا ہے جس کا  معنیٰ  گفتگو یا مکالمہ کے ذ ریعہ  ایک دوسرے کو  سمجھنا ہے ۔  جیسا کہ اس  لفظ “dialogue” ٰ کا مصدراس بات کی طرف  اشارہ کرتا ہے کہ  اس کا معنیٰ  ایک معنیٰ خیز گفتگو کے ذریعے کسی دوسرے کے متعلق  گہری معلومات حاصل کرنا ہے ۔ مکالمہ  کی ما ہیت  کی بنیا د ایسےمتعدد اصول پر  ہے،جو  اسے اسکی دوسری قسموں  مثلاًبحث ومباحثہ مذاکرہ اور تردید  سے  منفرد بناتی ہے ۔

جب دو افراد باہمی مکالمے  میں مشغول  ہوتے ہیں تو وہ مشترکہ منشاء کی تلاش کا آغاز کرتے ہیں اگر چہ وہ باہمی تعاون کے اس  عمل کے ذریعہ دوسرے کے بارے میں پہلے سے قائم کسی بھی مفروضات کی تردید  کرتے ہیں۔ مکالمہ  اپنی  نوعیت  کا ،شرکاء کے اس خیالات کے ساتھ کہ یہ   عارضی ہے  اور ان میں ترمیم کی ہو  سکتی ہے ،ہمیشہ ترقی پذیر ، تخلیقی اور جاری رہنے والا عمل ہے ۔ مکالمے کے ذریعےانسانیت کے لئے ہمدردی اور خلوص پیدا کرنے کیلئے  اپنے اور دوسروں کی فہم وادراک  کو گہرا ئی سے سمجھتے وقت اس کے شرکاء شعوری طور پر حساس ہو جاتے ہیں۔

  یہ با ہمی مکالمے کے شرکاء دل (اور ضروری نہیں کہ دماغ) کو قریب   لانے کا ایک عمل ہے۔ جیسا کہ مارٹن بیوبر اس کی تعریف  یوں  کرتے ہیں،"حقیقی مکالمے انسانی زندگی   کے  ایک اہم پہلو کا اظہار کرتے ہیں،تحقیق   کے ساتھ جب ہم ایک دوسرے کو سنتے اور جواب دیتے ہیں تو اس سے   آپس میں  ایک تعلق پیدا ہو جا تا ہے"۔ مکالمے میں شرکت کرنے والوں کے لئے  خود احتسابی اور   تنقیدنفسی بنیادی  اجزاء ہیں ۔ کامیاب  مکالمے کے لیے اس کے شرکاء کے درمیان  باہمی اعتماد ،ا ایمانداری اور دیانت داری پیدا کرنا ضروری ہے  ۔ مکالمے  کی اس ماہیت  کا اجراء بین مذاہب  مکالمہ  پر بھی ہو تا ہے ۔

ایک  خاص بات بین مذاہب مکالمے  میں یہ ہے کہ  یہ اصولوں کی  رضامندی یا  تبدیلی کی تجسس نہیں رکھتا،  لیکن یہ  دوسروں کے بارے میں بہتر سوجھ بوجھ حاصل کرنے ،اور مختلف مذہبی روایت سے تعلق رکھنے والوں کے لئے احترام  کے قیام  اوراپنے ایمان کی اصلاح  کا ایک عمل ہے۔ نتیجہ خیز  بین مذاہب مکالمے میں  بھی ہر ایک شرکاء کی مذہبی روایت کے کثیر جہتی، پیچیدہ اور اختلافی  نوعیت کا اظہار ہو تا  ہے اور رنگا رنگ بے آہنگی اور مظلوموں کی  ایسی آوازوں کو  بھی جو کسی  مذہبی روایت کی اپنی پہچان ہوتی ہیں،نظر انداز نہیں کیا جا تا  ہے۔

بین مذاہب مکالمے  کے چیلنجز میں سے ایک مذہب سے متاثر تشدد، تنازعات اورمصائب کی  تاریخ کو تسلیم کرنا اور ان دوسرے مذہبی لو گوں کو شامل کرنا ہے جنہوں نے تکلیف محسوس  کئے ہیں ۔ اور اتنی ہی اہم بات یہ بھی ہے کہ بین مذاہب مذاکرہ ماضی سے وراثت میں ملی ہم آہنگی کی مثبت مثالوں  پربھی روشنی ڈالتا ہے۔

 اہم بات یہ ہے کہ  بین مذاہب  مذاکرہ  ایک ایسی سرگرمی  اور معاشرے  پر مبنی ایک ایسی گفتگو ہے جو صرف  مذہبی یا علماء کرام کے  طبقہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد  پورے مذہبی طبقے کو  شامل کر نا ہے ۔ یہ بات آج کے عالمی سطح  پر باہم مربوط اور کثیر ثقافتی دنیا میں  بھی مناسب ہے،  جس میں ایک بڑی تعداد میں مختلف مذہبی روایات کے ماننے والےمختلف ترتیب کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔

۔ بین المذاہب مذاکرہ پر مسلمانوں کا رد عمل

یہ سمجھنے کے لئے کہ  مسلمان بین المذاہب مکا  لمے  کو کیا اہمیت دیتے (اور اب تک دے رہے  ہیں ) ہیں ،مقدس  کتابوں کے مصادر و منبع  کی تحقیقات اور ان  حالات کے ادراک کرنے ،اور ان حالا ت کے بارے میں بہت کچھ کہے جا نے کی  سخت ضرورت ہے جن میں اسلام  کا ظہور ہوا ۔ جیسا  کہ 7ویں صدی عیسوی کے عرب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کے ظہور  کے حالا ت کا واضح طور پر قرآن میں بیان ہے۔  اور وہ یہ ہیکہ  پہلے سے ہی اچھی طرح سے قائم دیگر  مذہبی طبقات کے ساتھ اس کا ظہور ہوا، اور ان میں  سب سے زیادہ اہم  نزول قرآن سے پہلے  عرب کے دیگر عقائد کے علاوہ  یہودیت، حنیفیت (حضرت ابراہیم علیہ السلام  کے عقیدے  پرمبنی  عرب کا  توحیدی مذہب) اور عیسائیت تھے۔

اس ضمن  میں  اس بات پر غور کرنا اہمیت کا حامل ہیکہ نزول وحی  کے دوران  مسلموں اورغیر مسلموں کے درمیان تعلقات کی نوعیت اور کئی  واقعات کو  قرآن نے  واضح طور پر بیان کیا ہے۔  یہاں یہ ذکر کرنا   ضروری ہے کہ دیگر مذہب کے پیرو کا روں کے تئیں قرآن کا رویہ (اور اسی وجہ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کا کردار بھی ) نوعیت کے اعتبار سے انتہائی مو زوں  رہا ہے اور اسی لئے  اگر وہ  متضاد  نہیں تھے تو کم از کم  حالات کے مطابق ضرور تھے۔ دیگر مذاہب  خاص  کر یہودیت اور عیسائیت  (جس کے پیرو کا روں  کا حوالہ قرآن  نے اہل کتاب کے طور پر دیا ہے) کے مذہبی تشخص اور یکسانیت  کے پہلو مسلم تشخص ،اصلیت اور  امتیاز سے مشا بہ ہیں ۔ مزید برآں  قرآن میں ایسی مختلف   آیات(مثلاً  22:17;5:69;2:62)  ہیں  جن میں اہل کتاب کی مثبت تصویر کشی کی گئی ہے ، اور بعض ایسی آیات ہیں جن میں اہل کتاب کے کچھ عقائد  اور ظالم طرظ عمل مثلاً، حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کی ماہیت  (جسے مسلمان شرک مانتے ہیں یا شرک کی ایک قسم)، سابقہ وحی  کے متن  کے معنیٰ کی  تنسیخ  (جسے تحریف کہا جاتا ہے)یا  پچھلے پیغمبروں  کے قتل  پر ان کی سخت تنقید کی گئی ہے۔جسکا بیان ادب حدیث میں ہے اور جسکی عکاسی قرآن کے  سیاق و سباق سے ہوتی ہیکہ  نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  دیگر مذہبی لوگوں کے تئیں  دوہرے نظریات کے حامل تھے ۔ تاہم،دیگر مذہبی لوگوں کے ساتھ انصاف پسنداور  ایماندارانہ مکالمے کی اہمیت سے متعلق  قرآنی بیانات غیر مبہم  ہیں ، جو  مندرجہ ذیل آیات سے واضح ہیں:

"آپ فرما دیں: اے اہلِ کتاب! تم اس بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، (وہ یہ) کہ ہم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اﷲ کے سوا رب نہیں بنائے گا، پھر اگر وہ روگردانی کریں تو کہہ دو کہ گواہ ہو جاؤ کہ ہم تو اﷲ کے تابع فرمان (مسلمان) ہیں" (3:64)۔

"(اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجئے جو نہایت حسین ہو، بیشک آپ کا رب اس شخص کو (بھی) خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو (بھی) خوب جانتا ہے"(16:125)۔

"اور (اے مومنو!) اہلِ کتاب سے نہ جھگڑا کرو مگر ایسے طریقہ سے جو بہتر ہو سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا، اور (ان سے) کہہ دو کہ ہم اس (کتاب) پر ایمان لائے (ہیں) جو ہماری طرف اتاری گئی (ہے) اور جو تمہاری طرف اتاری گئی تھی، اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں" (29:46)۔

بین مذاہب مذاکرات پر  اسلامی نقطہ نظر کی تاریخ، خاص طور پر عیسائیت کے ساتھ نمایاں طور پر  درج بالا میں ذکر کئے گئے مقدس کتاب کے سیاق و سباق والی ماہیت  اورمقدس کتاب سے خارج عناصر   دونوں سے مشروط رہا ہے۔ مؤخر الذکر کے تعلق سے  اس بات کو  ذہن نشیں کرنا  ضروری ہے کہ قرون وسطی کی پوری مدت میں  اسلامی اور لاطینی (اور بازنطینی) عیسائی تہذیبوں کے درمیان تعلقات  سیاسی اور فوجی دو  طاقتوں  کے تناظرمیں تھے   جو  مستقل طور پر سیاسی تنازعات اور جنگ  میں الجھے  ہوئے تھے۔ جیسا کہ  وارڈین برگ(2003)نے بر ملا کہا ہے کہ دونوں تہذیبیں اپنے  علم کی روشنی میں اندھی تھی، اوردیگر ادیان و مذاہب کے ماننے والوں کےتعلق سے   اپنے سب سے بڑے دشمن  ہو نے کےفرسودہ  خیالات قائم کئے۔ انہوں  نے مقدس کتاب کے مسلمانوں سے   کم موافقت رکھنے اوران کے تعلق سے  شدید تنقیدی عناصر کا تذکرہ  کیا اور اس کے اس حصے کوحاشیہ پر ڈال دیا جس میں ان  سے مصالحت کرنے  اوردوستانہ تعلقات قائم کرنے کا بیان تھا  ،  خاص کر ان ایام میں اسلامی ادب میں عیسائیت اور بائبل  کے تعلق سے   نزاعی معاملات  پرمعاہدوں کا غلبہ تھا ،جو بعض اوقات ان میں سے کچھ عیسائیوں اور  ان کے عقائد میں   تحریف اور شرک  کے الزامات (Erdmann, 1930; Waardenburg, 1999) کی سخت تردید میں لکھے گئے تھے۔  یہ معاملات تقریباً حالیہ تاریخ (20ویں صدی کے دوسرے نصف)  تک برقرار رہے ، لیکن  جب مذاکرات پر زور دینےوالی  قرآن کی آیتوں کوایم ایوب، ابراہیم کالین اور فرید  اسحاق جیسے  مسلم علماء نے سنجیدگی سے لیا تو ایک پیش رفت کی شروعات ہوئی۔  اس سلسلہ میں مسلم علماء  کی ایک اہم پیش رفت ' اے کامن ورڈ  (Common Word)' (Volf, bin Ghazi and Yerington 2010 A)  نام سےتھی۔جس کی بنیاد  مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مقدس کتاب کے مطابق  خدا سے محبت اور پر امن بقائے باہم کے لئے اپنے پڑوسی  اور اس جیسے دیگر مذاہب والوں سے محبت  کرنے  پر تھی ۔ ان کی اس کوشش  کو بڑے پیمانے پر  مقبولیت حاصل ہوئی، اور اس کے بعد شروع  ہونے والے متعدد بین المذاہب  مکالموں  کی سرگرمیوں  کے لئے ایک حوالہ کے طور پر اس نے خدمات انجام دیں۔

کتابوں کے حوالے :

Ayoub, Mahmoud A Muslim View of Christianity: Essays on Dialogue. Edited by Irfan A. Omar Faith Meets Faith Series. (Maryknoll, NY: Orbis Books, 2007).

Accad, Martin, “The Gospels in the Muslim Discourse from the Ninth to the Fourteenth Centuries: An Exegetical Inventorial Table “, Islam and Christian-Muslim Relations, 14, (2003): 67-91.

  El-Ansary, Waleed and David K.Linnan (ed.), Muslim and Christian understanding: theory and application of "A Common Word”, (Palgrave Macmillan, 2010).

Erdmann, Fritsch Islam und Christentum im Mittelalter :Beitraege zur Geschichte der muslimischen Polemik gegan das Christentum in der arabischen Sprache, ( Berslau: Mueller und Seiffert, 1930)

Esack, Farid. Qur’an, Liberation and Pluralism: An Islamic perspective of interreligious Solidarity Against Oppression, (Oneworld: Oxford, 1997).

Lazarus-Yafeh, Hava “Some Neglected Aspects of Medieval Muslim Polemics against Christianity”, The Harvard Theological Review, 89 (1996): 61-84.

Thomas, David, “The Bible in Early Muslim Anti-Christian Polemic”, Islam and Christian Muslim Relations, 7 (1996): 29-38.

Volf, Miroslav, Ghazi bin Muhammad, and Melissa Yerington, eds., A Common Word: Muslims and Christians on Loving God and Neighbor, 2010.

Waardenburg , Jaque (ed.) ,Muslim Perceptions of Other Religions: A Historical Survey, (Oxford: Oxford  University Press,1999), Muslims and Others – Relations in Context ,( Berlin: Walter de Gruyter, 2003).

ڈاکٹر ادس ددریجا  میلبورن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں اور وہ نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدہ کالم لکھتے ہیں۔

 

URL for English article:

http://www.newageislam.com/interfaith-dialogue/adis-duderija,-new-age-islam/muslim-responses-to-interreligious-dialogue/d/8844

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/muslim-responses-to-interreligious-dialogue--مذاہب-مذاکرات-پرمسلمانوں-کا-ردعمل/d/8868

 

Loading..

Loading..