New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 08:33 PM

Urdu Section ( 30 May 2012, NewAgeIslam.Com)

Diversity and Shariat تنوع اور شریعت

 

ڈاکٹرعدیس  ددریجا، نیو ایج اسلام

میلبورن یونیورسٹی اسلامک اسٹڈیز

(انگریزی سے ترجمہ‑ مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

اسلام میں شریعت کا  تصور نہایت ہی  اہم اور  کلیدی تصورات میں سے ایک ہے۔

 شریعت اسلامیہ کی تعریف مختلف طریقوں سے کثیر  تعداد میں   پیش کی جا سکتی ہے: جیسا کہ اسکی لغوی، قرآنی یا فقہی  اصطلاح اسلامی فقہ میں استعمال کی جارہی ہے یا  کی جا چکی ہے ،لیکن اس کا سب سے بنیادی معنی جواس کی مندرجہ بالا تعریفوں میں سے ہر ایک کے نقطۂ نظر  میں پایا جاتا ہو ، توحید کے ایسے تصور سے منسلک ہے جو  خالق اور مخلوق کے درمیان عمودی اور وجودی تعلقات کی توضیح پیش کرتا ہے۔ خدا بادشاہ ، منصف اعظم ، کائنات کی  تمام اشیاء کاپیدا فرمانے والا  اور فیصلے کے دن  کا مالک ہے (قرآن 1:3)۔ قرآن اس جملے کو بار ہا   دہراتا ہے کہ مخلوق اس کی طرف جو بھی منسوب کرے  پرور دگا ر عالم  کی ذات ان تمام چیزوں سے بر تر وبالا ہے، قرآن کی مختلف آیات میں  بارہا اس بات کا ذکر آیا ہےکہ خدا نے  مختلف قوموں ، قبیلوں اور طبقوں کے لئے  مختلف راستے( قرآنی نظریہ کے مطابق   شریعت) بنائے ہیں تاکہ وہ  ایک دوسرے کی شناخت کر  سکیں اور اعمال صالحہ میں  ایک دوسرے سے سبقت حا صل  کرنے کی کوشش  کر  سکیں۔  ان تمام راستوں کا منبع  و سر چشمہ ایک  سچا خدا ہے، جس کی طرف یہ تمام راستے (شریعت کا لغوی معنی) لے جاتے ہیں۔  پروفیسر رمضان کے مطابق ، جو لوگ اللّہ  کے محتاج ہیں اور مسلسل اس کی تلاش میں رہتے ہیں  ان کے لئےپوری کائنات میں اسکی طرف   لے جا نے والی واضح نشانیا ں ہیں ، ۔ جیسا کہ پروفیسر الفضل پورے وثوق کےساتھ کہتے  ہیں کہ شریعت خود میں خدا کے تخیلاتی عنصر کا جا مع ہے جس کے لئے انسان جد و جہد کرتاہے لیکن کبھی اسے حاصل نہیں کر سکتا۔ دوسرے الفاظ میں انسان کبھی بھی  منبع  تک رسائی نہیں حاصل کر سکتا ، لیکن اس کے باوجود  انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے راستے پر چلےجو  اسے  اس منبع سے  قریب تر  کر  سکے۔  انسان اس بات کا  دعویٰ کبھی نہیں کر سکتا کہ اس نے  خدا کی مرضی اور اسکے ارادے سے  مکمل آگاہی  حاصل کر لی ہے، اورانسان کےشرعی (یعنی فقہی) فہم وفراست کا موازنہ  اسکے ساتھ نہیں کیاجا سکتا ۔  انسانی فہم و فراست  کا اس طرح علیحدہ کرنا   سطحی طور  پر اگرچہ تعجب خیز  اور غیر مفید لگتا ہےلیکن   گہرائی سے غور و فکر کرنے پر  یہ نتیجہ ظاہر ہوتا ہے کہ  انسانی شعور ، فہم اور علم  کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ  انسانوں کے ظالمانہ طرظ عمل کے جواز کے لئے اسے خود  خدا کی جانب سے عطا ء کردہ طرز عمل نہ قرار دیا جائے ، ۔ اسی طرح شریعت کی تعریف بینکوں میں استعمال ہونے والے تعبیری  الفاظ کے ذریعہ  پیش کی جا سکتی ہے مثلاً انسان کے غیر صالح  طرز عمل اور عادات و اطوار  کے خلاف خدا کی مختلف انشورینس پالیسی وغیرہ۔

درج بالا میں بیان کئے گئے شریعت  کے تصور  سے یہ بات  سمجھی  جا سکتی  ہے کہ شریعت نے کچھ ایسی باتوں کی طرف رہنمائی کی ہے  جو افضل ،  جدااور الٰہی  ہیں اوروہ  انسانوں کی رسائی  سے دورہیں  لیکن کچھ  چیزیں ایسی  ہیں  جنکی انہیں آرزو کرنی چاہئے  ۔ انسانی معاملات میں  شریعت کے  نفاذ کی بالادستی کو  تمام مسلمان نسلوں نے تسلیم کیا ہے،  اگرچہ انہوں نے اسے یقیناً مختلف شکل میں پیش کیاہے۔ "کیتھولک" اصول کو  ماہرین قانون(فقہ) کے ذریعہ ترقی اور استحکام  دیکرجلد ہی  شریعت کوقانونی اصولوں کے طور پر پیش کیا  گیا ، اور اس  بنیاد پر  مثبت قوانین کا قیام عمل میں آیا ۔ شریعت اور اس کی فقہ کے درمیا ن تعلقات کے نتیجے میں  یہ حقیقت سامنےآئی ہےکہ  شریعت مسلمان کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کا بھی خصوصی خیال رکھتی ہے ۔ جیسا کہ قانون الٰہی کے علاوہ  کچھ صوفی نظریات کےحامل  اسکالروں اور  فقہ اسلامی پر موجود  بے شمار کتابوں میں پایا جاتا تھا، صوفی اسکالروں نے پیمانے پر  شریعت کو انسانی فہم و فراست  سےسخت  مختلف ہونے تصور کو قائم رکھا ،اور اسکا  نام فقہ رکھا ۔رحمٰن، سوروش، الفضل، موسیٰ، اسحاق اور بارلاس جیسے  جدید مسلم اسکالر  اس اصول کی بنیادی اہمیت سے باخبر تھے اور انہوں نے  قواعد و ضوابط،تاریخ، مذہب اور مذہبی علوم  کے درمیان واضح  امتیاز کو  قائم  رکھا، اس طرح انہوں  نے شریعت اور فقہ کی تشکیل کی ،اور  گزشتہ اور موجودہ نسلوں کی طرح  جال میں نہیں گھرے، جنہوں نے بڑے پیمانے پر  شریعت اور فقہ  کے درمیان  فرق کو مٹا کر دیا اور الفضل کے مطابق  انہوں نے  خدا کے احکا م  پر اپنی جارہ داری قائم کر لی ۔

مندرجہ بالا وضاحت ایک  شاندار  نقطہ تک کی گئی ہے ، کیونکہ  حقیقت  یہی ہے کہ جب تنوع اور شریعت کے بارے   میں  غورو فکر کی  جا رہی ہو تو   ضروری ہے کہ ابتدائی بیانات کو بنیاد بنا کر شریعت الٰہی  اور اس کے متعدد انسانی بندشوں  کے درمیان فرق  کو واضح کر دیا جائے۔

ایک اہم سوال تنوع کے متعلق  شریعت کے ذرائع اور  وسعت کی نوعیت  کے بارے میں ہے ، ۔ شریعت کا پیش کردہ   خاکہ جو کہ اسلامی روایت  کے ذریعہ منظور کیا  گیاہے  وہ  عقیدہ ، ایمان، قانون، اخلاقیات ، اور تصوف  پرمشتمل ہے۔ مذکورہ اسلامی نظم و ضبط   کی بنیاد شریعت کے دو منبع و سر چشمہ قرآن اور سنت   پر ہے ۔ قدیم زمانے(200 ھ اور اس کے بعد) کے بعد  اسلامی اقدارو روایت کے کچھ مروجہ  عملیات کی  بنیاد پر  شریعت کی تدوین کی  گئی ،اور اس کا  معیار قرآن اور سنت جیسے  خاص ذرائع سے لیا گیا  ہے ۔  جس کا  نتیجہ یہ ہوکہ ایک ایسی   شریعت (جسے فقہ  کہنا بہتر ہو گا ) تدوین پائی جو  ایک مومن کی ذاتی  یا مشترکہ  زندگی کی تمام تفصیلا کااس طرح احاطہ کر تی تھی ،کہ بہت سارے غیر مسلم ،  مسلم  خواہ وہ  عالم ہو یا نہ ہو ، لوگوں نے  قرآن کی اس جامعیت  اور  نوعیت کے تعلق  سے گفتگو کی   جس مین   نئے حالات کی روشنی میں  انسانی تجربے‑  ثقافت، سماج، سیاست،  اقتصادیات اور ٹیکنالوجی  سے موافقت کی  گنجائش کم ہی تھی ۔  ان  دعوں میں کتنی  سچائی ہے  ؟

 اس سوال کا جواب قرآن اور سنت کی نوعیت  اور انکی تعریف اور ان پر مبنی اصول اخذکرنے کے تشریحی کے طریقہ کار کے علم پر منحصر ہے ۔

اس تحریری گفتگومیں اتنی  وسعت نہیں  کہ  مختصر طور پرہی سہی  اس  کا تجزیہ کیا جائے  ، اور یہاں تک کہ ،  اسلام کا   قانونی نظریہ ،اس  کی بنیاد قرآن کے نزول ،اور سنت کے تصور ،اور اس کی نوعیت کو سمجھنے کے لئے اصولوں کے  ارتقاء کا بھی جائزہ لیا جائے۔ قدیم زمانے  میں  عام طور پر  قرآن و سنت کی تشریح کے لئے علمی گنجائش اور  نظریاتی  آزادی دی گئی تھی جو انتہائی  سرعت  کے ساتھ  جدید  معیار کے مطابق یکسانیت کے  تقاضے کے ساتھ ہی ساتھ  کھوتی چلی گئی۔ قدیم سے  کلاسیکی زمانے تک   قانونی اصول کے تئیں رویہ میں آئی  تبدیلی کو  قانون سازوں  نے مثال  بنایا (حنفی متن میں یاکوو کے ارتقائی افکارو نطریات پائے گئے ) جو  اس رجحان کی طرف واضح  اشارہ کرتے ہیں ۔  یاسین نے واضح کیا ہے کہ کس طرح(امام) مالک  کا دوسری ہجری کے دوسرے حصہ میں  انتقال ہواجو ایک قدیم  (فقہی)مکتب قانون کے بانی تھےانہوں نے   تعریف، فطرت اور قرآن و سنّت کا نظریاتی  استعمال ان سے منفرد  انداز میں  کیا تھا جوان کے بعد تیسری اور چوتھی ہجری میں انتقال کر گئے،   ،مثلاً ابتدائی دور میں  مالکی اور حنفی نے سنت کا تصور حدیث سے الگ کیا ، امام شافعی کے ذریعہ پیش کردہ روایتی قانونی اصولوں پر سخت  تنقید کرنے سے پہلے مقامی رواج (عرف) کی زیادہ سے زیادہ گنجائش رکھی  اور رائے،  عوامی دلچسپی، مقاصد  یا شریعت کے مقاصد اور شعور ( عقل) کے جیسے غیر تحریری ذرائع میں قانون کے  اصول بننے کی گنجائش رکھی ۔  چونکہ ابتدائی  زمانے میں موافقت اور تنوع  کا   کردار اسلامی فقہ مین  غالب تھا، اس  لئے اسے برقرار رکھا گیا  ،لیکن قدیم زمانے کے بعد قانونی طرز فکر کو   علمی اعتبارسے نمایاں طور پر  کمزور کر دیا  گیا، لیکن  اس نے روایتی طاقتوں کے سامنے مکمل طور پر دم  نہیں توڑ ا۔

بہر حال تاریخ  اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ  اسلام خود کو ایشیا، افریقہ اور یورپ کے کچھ حصوں میں اور  مختلف ثقافتوں میں کو تبدیل کرنے میں کامیاب رہا ، اس کے با وجود وہ آج بھی اپنی بنیادی خصوصیات کو برقرار رکھےہوئے ہے ۔

نو سلفی تحریک کی طرح چلنے والی حال ہی میں دیگر  تحریکوں میں جن کی نظریاتی جڑیں قرآن اور سنت کے طریقۂ کار  اور علمیات کی محدود تشریح  کرنے والی ہیں، جو مختلف وجوہات کی بنیاد پر نمایاں طور پر جہاں مسلمان رہتے ہیں مسلم اور غیر مسلم معاشرے میں ان کو  متاثر کر رہے ہیں۔ یہ شرعی نقطہ نظر تنوع کے لئے حوصلہ  بخش  نہیں ہے  اور بنیادی طور پر غیر عرب مسلمانوں پر عربی ثقافت اور رسوم و رواج، (غلطی سے) قرآن یا سنت کے پیغام کے طور پر نافذ کرتا ہے۔

تاہم، جیسا کہ پروفیسر رمضان  نے بجا طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ شریعت کو  اگر صحیح تناظر میں سمجھا جائے اور  بہتر طریقہ کار کی بنیاد پر نظام قائم کیا جائے جو نہ صرف مسلمانوں کے حوالے سے  بلکہ دیگر قوموں  کے حوالے سے بھی تنوع  کی اجازت دیتا  ہو  ، جیسا کہ مضمون کی ابتدا میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔

بلآخر  تنوع   کا سوال خواہ مذہب، ثقافت، سماجی ،سیاست اور شریعت سے متعلق ہو وہ  یا دوسرے بہت سے  مسائل  سے متعلق ہو جو آج مسلمانوں کو در پیش ہیں مثلاً ( صنفی مساوات، طرز حکومت،  انسانوں اور اقلیتوں کے حقوق، بین الاقوامی تعاون، تکثرتیت،  کثیر ثقافتی نظریہ اور تہذیبی یا  ثقافتی تبادلے) جن کا انحصار ان کے منبع (قرآن و سنت )کی تشریح،  اور بنیادی مفروضات، انکے ذرائع کی نوعیت اور مسلمانوں کی  تاریخی وراثت یا  تاریخی مطالعہ   کے نقطہ نظر پر  ہے۔

حوالہ جات:

الفضل، اسپیکنگ ان گاڈس نیم، ون ورلڈ 2001

بارلاس اے، بلیونگ وومن ان اسلام، یونیورسٹی آف ٹکساس پریس، 2002

ڈٹن وائی، دی اوریجن آف اسلامک لاء‑ دی قرآن، دی موتّہ اینڈ مدینین عمل، رائوٹ لیگ کرزن، لندن، 2002

سوروش اے۔ کے۔ ریزن، فیتھ اینڈ ڈیموکریسی ان اسلام، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس 2000

رمضان ٹی۔ ٹو بی اے یوروپین مسلم،  دی اسلامک فاؤنڈیشن،لیسسٹر 1999

ویسٹرن مسلم اینڈ فیوچر آف اسلام

ڈاکٹر ادس ددریجا  میلبورن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں اور نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدہ کالم لکھتے ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/diversity-and-sharia/d/6997

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/diversity-and-shariat--تنوع-اور-شریعت/d/7493

 

Loading..

Loading..