New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 09:56 AM

Urdu Section ( 20 Nov 2019, NewAgeIslam.Com)

Practicing the Teachings of Quran is the Key to Success- Part-2 قرآن مجید کی نصیحت پر عمل انسانی زندگی کی کامیابی کا راز ہے


ڈاکٹر ابوالحسن الازہری

8نومبر،2019

تصور اطاعت اور اتباع کا باہمی تعلق: اطاعت میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا غلبہ ہوتاہے اور اتباع میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا غلبہ و تفوق ہوتا ہے۔ اطاعت میں اپنی شخصیت کا احساس رہتا ہے اور اتباع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہی باقی رہ جاتی ہے۔اطاعت میں اپنے وجود کا خیال رہتا ہے۔اتباع میں اپنا وجود بھی وجود مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں فنا کردیا جاتا ہے۔ اس لئے ارشاد فرمایا:

”اس رسول کی اتباع میں ڈھل جاؤ تاکہ تم ہدایت یافتہ ہوجاؤ۔“

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی انسان کو ”لعلکم تھتدون“ کا اعزاز بھی دیتی ہے اور ”یحیکم اللہ“ کامقام رفیع اور اس دنیا کی سب سے بڑی نعمت اور سب سے بڑا انعام، سب سے بڑا اکرام اور شان بندگی کا سب سے بڑا مقام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی عطا کرتی ہے۔ اس لئے ارشاد فرمایا:

”(اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم) آپ فرمادیں:اگر تم سے محبت کرتے ہوتو میری پیروی کروتب اللہ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا او رتمہارے لئے تمہارے گناہ معاف فرمادے گا۔“ (آل عمران:13)

واضح طور پر فرما دیا گیا ہے کہ اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوتم کوئی معمولی چیز نہ سمجھو یہی وہ اتباع ہے جو تم کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کابھی مقرب بناسکتی ہے اور رب کا بھی محبوب بناسکتی ہے۔ اگر تم رب کی محبوبیت چاہتے ہواوراس کی محبت چاہتے ہو،اس کی بندگی کی معرفت چاہتے ہو اور اس کا ہونا چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی صورت ہے کہ خود کواتباع مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈھال لو۔اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی زندگیوں میں اختیار کرلو، تمہیں مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مل جائیں گے، خدا بھی مل جائے اور ہدایت بھی مل جائے گی اور خدا کے محبوب بھی ہوجاؤ گے۔

قرآن اپنی ہدایت عظمیٰ پر خود شہادت ہے: قرآن ہمارے اندر اللہ کی وحدانیت اوراس کی توحید کی ایک ابدی شہادت بن کر موجود ہے۔ قرآن ہمارے اندر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی ایک روشن علامت بن کر موجود ہے اور دین اسلام کی صداقت و حقانیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ یہ کلام الہٰی ہے جو مردہ دلوں کو زندگی دیتا ہے اور انسانی اعمال کی اصلاح کرتا ہے۔ یہ انسانی رویوں کو درست کرتاہے حتیٰ کہ ان کاموضوع ہی ”ھدی للناس“ ہے۔ یہ ”وبینٰت من الھدی والفرقان“ ہدایت کی نشانیوں سے مملو ہے اور حق و باطل کے امتیاز ات سے بھرپور ہے۔ کل عالم انسانیت میں ہر دور میں ہر زمانے میں اور آج تک کوئی کتاب یہ د عویٰ کرسکی ہے اورنہ کرسکے گی اوریہ قرآن کا کھلا چیلنج ہے۔

قرآن اپنے اس چیلنج کو ہر زمانے کے لوگوں سے مخاطب ہوکر یوں کہتا ہے:

”بے شک یہ قرآن اس (منزل) کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے درست ہے۔“(بنی اسرائیل:9)

قرآن ہی سب سے زیادہ مضبوط اورمستحکم ہدایت کی طرف راہنمائی کرتاہے۔ قرآن کی ہدایت سے بڑھ کر کوئی ہدایت نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں اگر تم انہیں تھامے رکھوگے تو کبھی بھی گمراہ نہ ہوگے ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے تمہارے نبی کی سنت“۔ (امام مالک، الموطا کتاب القدر باب النہی عن القول بالقدر)

قرآن سے مسلمانوں کاتعلق: قرآن سے تعلق کمزور کرناہدایت الہٰی سے تعلق کمزور کرنا ہے۔ قرآن سے تعلق توڑنا ہدایت ربانی سے تعلق توڑنا ہے۔ قرآن کو چھوڑنا اسلام کو عملاً چھوڑ نا ہے، مسلمانوں نے قرآن کو قلباً اور ذہناً نہیں چھوڑا ہے بلکہ عملاً چھوڑا ہے۔ اسی کاشکوہ قیامت کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امت کی بابت اللہ رب العزت کی بارگاہ میں یوں کریں گے۔

”اور رسول (اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) عرض کریں گے: اے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑرکھا تھا۔“ (فرقان:30)

نزول بالقرآن کی نعمت ہم کو اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو مھجور بالقرآن (قرآن سے جدا) ہونے سے کیسے بچائیں۔ ہم قرآن سے اپنے کمزور تعلق کو کیسے مضبوط کریں، ہم اتحاد بالقرآن کی کیا کیا صورتیں اختیار کریں تاکہ ہمارا قلبی اور عملی تعلق قرآنی ہدایت کے ساتھ مضبوط ترہوتا جائے۔

قرآن کی تلاوت اورمطالعہ: قرآن اس حوالے سے بھی اپنے ماننے والوں کی راہنمائی کرتا ہے۔ سورہ الکہف میں ارشاد فرمایا: ”قرآن کی تلاوت کیا کرو۔“ یہ پڑھنا کبھی کبھار نہ ہوبلکہ یہ پڑھنا کثرت کے ساتھ ہو اس لئے کہ قرآن کا معنی ہی یہ ہے: القرآن الکتاب الذی قرا مرۃ بعدمرۃ۔“وہ اس کتاب جس کو باربار پڑھا جائے یعنی وہ کتاب جس کو بہت زیادہ پڑھا جائے۔“

اس لئے باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: واتل یعنی اس قرآن کی تلاوت کیا کرو اور تلاوت اپنے اندر خود کثرت کا معنی رکھتی ہے۔ آیت کے اگلے حصے میں اس کی بھی تخصیص کردی اور ارشاد فرمایا:

”جو آپ کے رب کی کتاب میں سے آپ کی طرف وحی کیاگیا ہے۔“(الکہف:27)

اب سوال یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کیونکر ضروری ہے؟ ا س لئے کہ قرآن کی تلاوت انسان کو ہدایت تک لے جاتی ہے، انسان کو اللہ کی اطاعت او ربندگی پر گامزن رکھتی ہے، اللہ کی فرمانبردار ی پر قائم رکھتی ہے اور قرآن کی تلاوت انسان کو اللہ کی بارگاہ سے،اس کے انعامات کامستحق بناتی ہے اس لئے سورہ النمل میں ارشاد فرمایا:

”اور مجھے (یہ) حکم دیا گیا ہے کہ میں (اللہ کے) فرمانبرداروں میں رہوں۔ نیز یہ کہ میں قرآن پڑھ کر سناتا رہوں سو جس شخص نے ہدایت قبول کی تو اس نے اپنے فائدہ کے لیے راہ راست اختیار کی۔“ (النمل:91۔92)

روزانہ قرآن مجید پڑھنا اورسمجھنا:یہ تلاوت قرآن ایسی ہو جس میں تسلسل ہوجو اگر چہ تھوڑی ہو مگر مسلسل ہو۔ کبھی بھی اس میں انقطاع نہ آئے،کبھی بھی یہ عمل تلاوت چھوٹنے نہ پائے، یہ تلاوت بالقرآن آسانی کے ساتھ سارا سال ہمیشہ جاری رہے۔ اس لئے فرمایا:

”پس جتنا آسانی سے ہوسکے قرآن پڑھ لیا کرو۔“ (المزمل:20)

قرآن کی تلاوت کرنا اپنے اندر یہ معنی بھی رکھتا ہے کہ قرآن کا نزول اس لئے ہوا کہ ”بے شک ہم نے اس کتاب کو قرآن کی صورت میں بزبان عربی اتارا تاکہ تم (اسے براہ راست) سمجھ سکو۔“ (یوسف:2)

قرآن مجید کی تلاوت اور قرآن کا مقصد بھی یہی ہے کہ قرآن کوسمجھا جائے،دوسرے مقام پر فرمایا یہ قرآن اس لئے ہے تاکہ اس کے ذریعے علم حاصل کیا جائے۔ (لفصلت)قرآن پاک کے ذریعے نئے نئے حقائق جانے جائیں، یہ اس لئے عطا کیا گیا تاکہ اسے ماننے والے ایک مؤثر ذریعہ علم جانیں اورتلاوت ا س طرح کی جائے تاکہ اسی قرآن کے ذریعے دیگر اقوام و ملل کے احوال جان کر نصیحت لی جائے۔

قرآن تمام انسانوں کے لئے ہدایت ونصیحت ہے: قرآن کی نصیحت ہی انسانی زندگی کی کامیابی کا راز ہے اس بناء پر فرمایا:

”اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“ (البقرۃ:221)

ا س لئے حکم دیا کہ ان پر قرآن کی تلاوت ا س طرح کریں کہ قرآن کے ذریعے اس شخص کو نصیحت فرمائیں۔(سورہ ق) مزید برآں فرمایا:

جو لوگ کثرت کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں ہم نے ان لوگوں کے لئے قرآن سے اخذ نصیحت کو آسان کردیا ہے۔ ارشاد فرمایا:

”اور بے شک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔“ (القمر:22)

قرآن مجید ہماری انفرادی اجتماعی اور بین الاقوامی زندگی کے لئے بھی تذکرہ و نصیحت ہے۔ قرآن پاک کی تلاوت اس لئے بھی ہے کہ ہر مسلمان تفکر فی القرآن کرے، ہر اہل ایمان قرآن میں غور و فکر کرے۔ ہر مومن سوچنے کو اپنی عادت بنا ئے، اعلیٰ فکر کو اختیار کرنا اپنا شعار بنائے، ارفع افکار کو اپنا نااپنا وطیرہ حیات بنائے، اپنی زندگی کو مسلمہ افکار پر ڈھالنا اپنی شناخت بنائے، اپنی سوچ اور فکر کو عمدہ بنا کر اپنی سیرت بنائے، اس لئے کہ فکر،عمل کی بنیاد بنتی ہے، سوچ کسی بھی فعل کی اساس ثابت ہوتی ہے، فکر ایک بیج ہے اور عمل ا س کا پھل ہے۔ اس لئے فرمایا ہر اعلیٰ فکر، قرآن کے دامن میں ہے۔

آیات میں تفکر و تدجر کا لازمی حکم: ارفع فکر قرآن سے تفکر اور تدبیر کے ذریعے ہی میسر آسکتی ہے اس لئے فرمایا کہ قرآن کی تلاوت ا س طرح کرو کہ آیات قرآن میں تفکر کرتے چلے جاؤ۔ آیا ت الہٰیہ میں غور و فکر کو اپنا تے جاؤ، ا س لئے کہ قرآن کے نزول اور قرآن کی تلاوت کا ایک مقصدتفکر فی القرآن ہے، اس لئے تلاوت قرآن حکیم کے دوران تفکر فی القرآن اور تفکر فی آیات القرآن کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

”بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانی ہے۔“(النحل:69) (الروم:21) (الرعد:3) (الجاشیۃ:13)

سورہ یونس، آیت نمبر24میں ارشاد فرمایا: ”اسی طرح ہم ان لوگوں کے لئے نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں جو تفکر سے کام لیتے ہیں“۔

”کیا انہوں نے اپنے من میں کبھی غور نہیں کیا؟“ (الروم:8)

معرفت قرآن کے لئے تدبرفی القرآن ضروری ہے۔ تدبر فی القرآن اور تفکر فی القرآن کی اس سے بڑھ کر کوئی ترغیب نہیں ہوسکتی۔ قرآن مجید میں تفکر اور تدبر کرنا یہ عمل کس قدر اہمیت کا حامل ہے، اس پر قرآن کے یہ الفاظ شاہد ہیں، افلا یتدبرون القرآن۔ قرآن اپنے ماننے والوں کو جھنجھوڑ تاہے کہ قرآن کو سمجھنا ہے تو تفکر فی القرآن کا عمل اختیار کرو۔ قرآن کو جاننا ہے تو تدبر فی القرآن کا وظیفہ اپناؤ، قرآن میں فہم حاصل کرنا ہے تو تذکیر بالقرآن پر عمل کرو، قرآن سے ہدایت لینی ہے تو تمسک بالقرآن پر کار بند ہوجاؤ۔ قرآن سے قول و فعل اور خلق و سیرت کی خیرات اور روشنی لینی ہے تو تلاوت بالقرآن کو اپنا معمول بناؤ۔

قرآن مجید کی اس آفاقی ہدایت کو اپنانا اور اسے اپنی زندگی میں داخل کرنا اوراپنی شخصیت سے عمل اور کردار کے ذریعے ظاہر کرنا ہی دنیوی زندگی کی ابتلاء اور آز مائش ہے۔ (ختم شد)

8نومبر،2019 بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-abul-hasan-al-azhari/the-purpose-the-revelation-of-the-quran-is-guidance--part-1--قرآن-مجید-کے-نزول-کا-مقصد-حصول-ہدایت-ہے/d/120307

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-abul-hasan-al-azhari/practicing-the-teachings-of-quran-is-the-key-to-success--part-2--قرآن-مجید-کی-نصیحت-پر-عمل-انسانی-زندگی-کی-کامیابی-کا-راز-ہے/d/120319

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..