New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 12:41 AM

Urdu Section ( 29 Dec 2014, NewAgeIslam.Com)

Islam Spread By Sword: A Wrong Impression !اسلام کا فروغ بزور تلوار ..... غلط تعبیر

 

ڈاکٹر عبدالحمید سیف الازہری

28 دسمبر، 2014

بہت سے  لوگ ابھی تک اسلام کے فروغ سے متعلق غلط تعبیر و تفسیر پیش کرتےنظر آتے ہیں ،اسلام دشمن ببانگ دہل یہ کہتے ہیں کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا جب کہ باعث حیرت  امر یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مصدر اساسی قرآن پاک میں تلوار کاکہیں ذکر نہیں ملتا ۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ لوگ کیوں مصر ہیں کہ اسلام نے جبر و زبردستی اور تلوار کے زور پر غلبہ حاصل کیا اور دنیابھر میں پھیلا ۔ درحقیقت اس امر سے اسلام کی صحیح تصویر کو مجروح کرنے کی مشتبہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جب کہ اسلام کے فروغ سےمتعلق امر ما قبل تفسیر کے بالکل برعکس ہے۔ بہت سے مسلمانوں کو کفار مکہ  و مشرکین کے ہاتھوں مصائب و مشکلات او رسزاؤں کا صرف اس لئے سامنا کرنا پڑا کیوں کہ انہوں نے برضا ورغبت اسلام کے دامن عافیت میں پناہ حاصل  کی۔ بتایا جائے ان پہلے مسلمانوں پر تلوار کس نےاٹھائی جن میں ابو بکر و عمر، عثمان و علی؟ ان کو کس بات نے مجبور کیا کہ وہ اسلام قبول کریں؟ جب کہ دوسری جانب کمزور مسلمانوں کو جنہوں نے اسلام قبول کیا مشرکین  مکہ نے زیر عتاب  کرکے ان پر ظلم و جور کی انتہائی حدوں کو پار کیا، ان مظلوم  صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ ، خاندان یا سر او ران کی اہلیہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہ پر کس قدر مظالم ڈھائے گئے ۔ جب کہ تصویر کا ایک اور رخ دیکھتےہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد عرب  قبائل اپنے  شوق و رغبت سے اسلا م میں جوق در جوق داخل ہوئے جب کہ ان پر تو  کوئی قوت جبر کرنے والی یا ان پر تلوار اٹھانے والی نہ تھی ۔ اسی طرح مدینہ کے گرد عرب قبائل نے بھی اسلام کو اپنا اوڑھنا پچھونا بنا نا شروع کیا ۔

اسی سبب 9 ہجری کو عام الوفود کہتےہیں کہ عرب قبائل  پے در پے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دست حق پر بیعت کرنے حاضر ہوتے تھے ۔ اسلام نے       تلوار اٹھانے کی اجازت مشروط دی ہے کہ جب کوئی دین اسلام کی دعوت جو عین فطرت ہے کہ راستے میں رخنہ ڈالے یا پھر مسلمانوں پر کوئی دست درازی  کرے۔ اس کے سوا اسلام نے تلوار کو اختیار کرنے کی کوئی اجازت نہیں دی۔ قرآن پاک کی سورة الحج میں ‘‘أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ، الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ ’’ ...... جنگ کی اجازت سے متعلق امر ثابت ہے لیکن اس میں جس سبب کو بیان کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اجازت دی جانی ہے کہ وہ قتال کریں ان لوگوں سے جو ان کے اوپر ظلم  ڈھاتے ہیں، قتال کا حکم ا س لئے دیا جاتاہے کیونکہ مسلمانوں کو ان  کے گھروں سے صرف اس لیے نکال دیا گیا کہ وہ اللہ کو اپنا رب مانتے ہیں .....! اس آیت میں قتال یا جنگ کا حکم دیا گیا ہے اگر ہم اس کو دیکھیں تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نےمسلمانوں کو قتال کی اجازت دی گئی ہے کیونکہ مسلمانوں کو ان کے گھروں سے ، ان کے مال و متاع سے، ان کو اپنے وطن سے محروم کردیا گیا اس کے ساتھ مسلمانوں پر گاہے بگاہے متعدد طریقے سے مظالم ڈھائے جاتے تھے اور دعوت اسلام کے راستے کو مسدور کیا جاتا تھا تو ایسے میں اجازت قتال صرف نقصان و ضرر کو دور کرنے کے لئے اجازت دی گئی اور یہ نقصان و ضرر دور کرنے کا سوائے قتال و جنگ کے کوئی راستہ موجود نہ تھا ۔ ہم کیسے مان لیں کہ اسلام بزور تلوار فروغ پایا قرآن پاک کی سورۃ بقرہ میں ارشاد ہے کہ  ‘‘لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ’’کہ ‘‘ دین میں اجبار نہیں تحقیق ہدایت کو بیان کیا جاتا ہے کہ گمراہی کے مقابل ’’ ہم کہنے میں حق بجانب ہیں اسلام صرف درست و غلط، حق و  باطل کے درمیان فرق کو واضح کر تاہے اس کے بعد انسان کے سامنے اختیار چھوڑ دیتا ہے کہ چاہے تو وہ حق کو اختیار کرے اور اگر چاہے تو گمراہی کااپنائے۔

اسی بات کو دوسری آیت میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ‘‘وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ ’’ کہ ‘‘ کہہ دیجئے کہ حق اللہ کہ پا س ہے چاہو تو ایمان لاؤ اور چاہو تو انکار کردو’’ مذکورہ بالا آیات کی روشنی میں یہ واضح ہوجاتا  کہ مسلمان صرف دعوت اسلام کو بیان کرنے ظاہر و واضح طور پر بیان کرنے کا فریضہ انجام دیتےہیں اس کےبعد انسان کو اختیار دے دیا جاتاہے وہ چاہے تو اسلام کے پیغام کو قبول کرے اور چاہے تو انکار کرے۔ چلیں اگر مان لیا جائے کہ اسلام جزیرۃ العرب اور اس کے اطراف میں تلوار کے زور پر پھیلاتو بتائیں کہ مشرق و مغرب ، ایشاء و افریقہ میں اسلام کیسے پھیل گیا یہاں تو عرب  تاجر تجارت کرنے آتے تھے تو یہاں  اسلام تاجر وں کے ذریعہ پھیلا کیوں کہ ان کے اخلاق وکردار ان کے حسن معاملہ و امانت و دیانت جو ان کو اسلام کے  صدقے ملے تھی کو دیکھ کر ایشاء و افریقہ کے لوگوں نے اسلام کو اپنی زندگی کامقصد بنالیا۔ اس کی دوسری مثال سےسمجھیں کہ حضرت عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ نے جب مصر کو فتح کیا تو انہوں نے وہا ں کے باشندوں کی اکثریت جو عیسائی مذہب کے پیروکار تھے ان کو اسلام میں داخل ہونے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا بلکہ جن لوگوں نے مصر میں اسلام قبول کیا وہ ان کی ذاتی رغبت و خواہش تھی او ریہ ان جزیرۃ العرب سے آنےوالے داعیوں کی عملی دعوت سےمتاثر ہوکر مسلمان ہوئے ۔

اگر ایسا  نہ ہوا ہوتا تو آج مصر میں ایک بھی عیسائی  قبطی موجود نہ ہوتا اس سے واضح درس پیغام ملتا ہے کہ اسلام نے مصر میں کسی پر جبراً اپنے پیغام کو مسلط نہیں کیا ۔ اسی طرح مسلمانوں  نے جب عالم پر قیادت کی تو کیسے مان لیں کہ وہ لوگوں پر قبول اسلام فرض یا لازم کرتے تھے کہ آپ اسلام کو قبول کریں جب کہ ان سے اسلام ان کی خدمت و حفاظت کی مد میں جزیہ یعنی ٹیکس وصول کیا جاتا تھا اس سے ثابت ہوتاہے کہ وہ لوگ اپنے ادیان پر قائم تھے مسلمانوں  کی مملکت کے رہنے کی وجہ سے جزیہ بھی دیتے تھے ان کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا ۔ مندرجہ ذیل بالا حقائق سےیہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اسلام نہ تو تلوار کے زور پر پھیلا  او رنہ ہی اسلام کسی کے  خون ناحق کےبہانے کو جائز سمجھتا بلکہ اسلام تو امن و سلامتی  اور دائمی  کامیابی و کامرانی  کی طرف دعوت دیتا ہے اور اسلام کے پیغام سے فطرت سلیم اتفاق کرتی ہے،  اسلام سوچنے و سمجھنے ، غور و فکر کرنے والے ذہنوں کو دعوت دیتا ہے، انسانیت  کے مقام کو بلند کرتا ہے اور اللہ پاک نے جو قانون  دنیا ترتیب دیا ہے اس کی جان صرف اسلام ہی ندا  دیتا ہے ۔

28 دسمبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ صحافت، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/dr-abdul-hameed-saif-al-azhari/islam-spread-by-sword--a-wrong-impression--!اسلام-کا-فروغ-بزور-تلوار--غلط-تعبیر/d/100751

 

Loading..

Loading..