New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 08:51 PM

Urdu Section ( 26 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Rationality in Islam اسلام میں عقلیت پسندی

 

 

 

 

 

ڈاکٹر اے کیو خان

24 مارچ2014

مغرب میں اسلام کے تعلق سے ایک غلط تاثریہ پایا جاتا ہے کہ اسلام نفرت، جنگ اور بھید بھاؤ (خاص طور پر خواتین کے خلاف) پیدا کرتا ہے جب کہ حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ یہ فیصلے ان گمراہ مسلمانوں کے اعمال پر مبنی ہیں جو ایسے کاموں میں ملوث ہیں جو اسلام کے لیے ذلت و رسوائی کا باعث ہے۔

حال ہی میں میرے ایک قابل دوست سابق سفیر اور سابق وزیر خارجہ ریاض ایم خان نے اس جانب میری توجہ مبذول کرائی۔ پھر اس کے بعد میں نےاس موضوع پر اپنے ایک اور اچھےدوست اور مذہبی عالم پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جس کے نتائج مندرجہ ذیل ہیں۔

سب سے پہلے ہم یہ متعین کرتے ہیں کہ اسلام میں عقلیت پسندی اور سمجھ داری کا کیا مطلب ہے۔ لغت کے مطابق عقلیت پسندی وہ سوچ یا نظریہ ہے جس کی بنیاد کسی تسبیب و توجیہ یا منطق پر ہو؛ عقلیت پسندی کسی خاص عقیدے یا عمل کے لیے تسبیب و توجیہ کا جامع اور منطقی وجہ ہے؛ عقلیت پسندی عقل سے ماخوذ ہے اور اسی کے مشابہ معنی کا احاطہ کرتا ہے۔

اسلام میں تمام معمولات عقلیت پسندی اور منطق پر مبنی ہیں جنہیں دوسروں کے جذبات کو نظر میں رکھ کر انجام دیا جاتا ہے۔ اور اس کا ماخذ قرآن میں موجود واضح اور زوردار ہدایات (17:89) ہیں۔ مغرب میں عقلیت پسندی کو مذہبی استحکام میں بڑے پیمانے پر سماجی اور ثقافتی تحریک کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے، لہٰذا عقلیت پسندی کو مغرب میں مذہبی احکام و ہدایات کا متبادل مانا جاتا ہے۔ عقلیت پسندی کا جنم اس لیے ہوا کہ چرچ نے معاشرے پر مکمل تسلط قائم کر لیا تھا اور انسانی سوچ اور عادات اطوار کو خدا کے نام پر مذہبی علماء کی مطلق العنان اتھارٹی کی زنجیروں میں جکڑ دیا تھا۔

اس کے برعکس قرآن مجید (57:27) میں واضح طور پر اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لئے کسی بھی قسم کی دعوتی ذمہ داری کو ضروری نہیں قرار دیا ہے اس کے بجائے قرآن میں (9:34) ایسے مبلغین کی مذمت کی گئی ہے جو اپنے مادی فوائد کے لئے لوگوں کے مذہبی جذبات کا استحصال کرتے ہیں۔ اسلامی تاریخ کے کسی بھی حصے میں مبلغین کا کوئی بھی طبقہ کبھی بھی مسلم معاشرے کوئی مقام حاصل نہ کر سکا جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان کوئی کوئی تیسرا نہیں ہو سکتا۔ ہر انسان کسی دوسرے انسان کے بغیر ہی خدا تک پہنچ سکتا ہے۔ بلکہ قرآن میں اللہ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ "اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں" (50:16)۔

مسلمان ہمیشہ معقول سوالات کرنے کے لئے آزاد تھے۔ قرآن پر ان کا عقیدہ اور ایمان انہیں ایسا کرنے سے نہیں روکتا ہے اور اس کی وجہ واضح طور پر یہ ہے کہ خود قرآن نے اکثر مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ حقیقت کی جستجو میں اپنی ذہانت اور عقل و خرد کا استعمال کریں۔ قرآن نے اندھی تقلید کے تصور کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور ذہنوں کو توہمات سے آزادی بھی بخشی ہے۔ اور قرآن نے حقیقت کا ہر پہلو سے مطالعہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ قرآن نے ایسے لوگوں کی مذمت کی ہے جو غور و فکر نہیں کرتے "ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں" (7:179)۔

کم و بیش لوگوں میں استعداد پیدا کرنے کے لیے قرآن لوگوں کو ایسی ابدی سچائیوں کو دریافت کرنے کے لئے اپنے ارد گرد کے ماحول پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ جس کی روشنی میں انسان دونوں جہانوں میں کامیابی اور خوشیوں سے بھری ایک بہتر زندگی کی طرف پیش رفت کر سکے۔ اسلام کا عالمی نقطہ نظر دونوں جہانوں کی حقیقت پر مبنی ہے۔ موجودہ دنیا کو ایک عارضی آرام گاہ مانا جاتا ہے۔ یہاں جو کچھ بھی نعمتیں فضل الہی کی صورت میں فراہم کی گئی ہیں وہ انسانوں کے لیے ہیں تاکہ وہ اس کے فوائد سے لطف اندوز ہوں اور انہیں دریافت کریں۔

انسان کو ان نعمتوں کا سرپرست بنایا گیا ہے اور انہیں دنیا کے وسیع ترین وسائل اور ان کے اپنے زبردست صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ انسان گناہوں کے بوجھ کے ساتھ پیدا نہیں ہوا ہے اور نہ ہی یہ دنیا کوئی شیطانی سازش ہے جو کہ روحانی نشو نما کی راہ میں حائل ہوتی ہو۔

99 صفات الہی میں سے ایک الحکیم بھی ہے (معنیٰ حکیم و دانا ہے)۔ اگر خدا بڑی حکمتوں والا ہے تو اس نے تمام چیزوں کو ایک خاص مقصد کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے۔ کوئی بھی چیز بیکار نہیں پیدا کی گئی ہے (3:191)۔ تخلیق انسانیت کا مقصد قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے اور اس کی مزید وضاحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں کر دی گئی ہے۔

انسانی دماغ تمام چیزوں کا مقصد تخلیق تجربات و مشاہدات اور استدلال کو بروئے کار لاتے ہوئے دریافت کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ثقافت اور تاریخ کی نشو نما بیک وقت عقلی استدلال اور سائنس کی نشو نما کے ساتھ ساتھ ہوئی ہے۔ اس حقیقت گبّن اور ایچ جی ویلز سے آرنلڈ ٹوئنبی تک کے تمام مورخین نے تسلیم کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک انتہائی واضح بیان رابرٹ برفاؤلٹ کی کتاب ‘‘The Making of Humanity’’ میں پایا جا سکتا ہے۔

بدقسمتی کی بات ہے کہ صرف کچھ گمراہ بنیاد پرستوں کی سرگرمیوں کی روشنی میں مغرب مسلمانوں کو تقریباً دہشت گرد، نسل پرست، مذہبی متشدد اور قدامت پسند وغیرہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اگر ان کے پاس قرآن کا زیادہ علم ہوتا تو انہیں اس بات کا احساس ہوتا کہ قرآن اللہ کے سنہرے احکام و ہدایات پر مشتمل ہے جو پورے طور پر نظام زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔

لوگوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ عاجزی و انکساری کے ساتھ زندگی گزاریں اور وہ عاجزی و انکساری سے لوگوں کے ساتھ معاملات کریں، دوسروں کے تئیں رواداری کا مظاہرہ کریں، تمام لوگوں کے حقوق کی حفاظت کریں اور پاکدامنی اور شرم و حیا کے ساتھ رہیں۔ یہ تمام ہدایات واضح اور غیر مبہم الفاظ میں دئے گئے ہیں۔ ان تمام سورتوں کا حوالہ پیش کرنا ناممکن ہے جن میں استدلال، منطق، فلسفہ، لوگوں کی نفسیات، روایات، عادات و اطوار کی بنیاد پر واضح ہدایات اور احکام بیان کئے گئے ہیں جن میں صدقہ، صبر، کائنات کے راز، قانون فطرت، نفسیات اور انسانی فطرت، علم، سماجی اور خاندانی اصول، عام طور پر لوگوں کے حقوق، غیر مسلموں کے حقوق، اخلاق، آداب، اخلاقیات، سماجی برائیاں، معاشیات، ایمانداری، ظلم اور جبر سے احتراز، امن اور افہام و تفہیم، باہمی معاہدے، عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ تعلقات اور جدید علوم کا حصول وغیرہ وغیرہ سب شامل ہیں۔

انسانی نفسیات کی روشنی میں اخلاقیات، اعتدال پسندی اور عقلیت پسندی پرکافی زور دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو قتل کر دیا جاتا ہے تو اس کے رشتہ داروں کو انتقام کا مطالبہ کرنے کاپورا حق ہے (جو کہ خالصتا ایک انسانی رد عمل ہے)، لیکن ایک اور زندگی کے نقصان سے گریز کرتے ہوئے معاف کرنے کو بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مغرور ہونے، چلّانے اور اور بہ آواز بلند بات کرنے کو سخت ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

زندگی کے تمام پہلوؤں پر ایسے واضح ہدایات کے باوجود مسلمانوں کو عام طور پر بہت برا تصور کیا جاتا ہے۔ اور ہ خود ہمارے اپنے معمولات اور کارناموں کی وجہ سے ہے جو ہم نے پیش کئے ہیں۔ کسی بھی چیز پر اس طرح عمل نہیں کیا جا رہا ہے جس طرح اس پر عمل کیا جانا چاہیے تھا یا اس طرح عمل نہیں کیا جا رہا ہے جو طریقہ اللہ نے ہمیں دیا ہے۔ ہم نے مکمل طور پر الہی احکامات کو نظر انداز کیا ہے اور ہم تمام قسم کے گناہوں میں ملوث ہو گئے ہیں۔ ہمیں ان سخت عذاب کو نہیں بھولنا چاہیے جو اللہ تعالی نے ظالموں کے لئے تیار کر رکھا ہے!

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

ماخذ: http://www.thenews.com.pk/Todays-News-9-239962-Rationality-in-Islam

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/dr-a-q-khan/rationality-in-islam/d/66242

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-a-q-khan,-tr-new-age-islam/rationality-in-islam-اسلام-میں-عقلیت-پسندی/d/66291

 

Loading..

Loading..