New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 10:28 PM

Urdu Section ( 18 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Tool Blasphemy: A User-Friendly توہین رسالت: ایک آسان ہتھکنڈہ

 

 دل نواز قمر

 31 جولائی، 2013

( انگریزی سے ترجمہ۔ نیو ایج اسلام)

میں نے ایسی  تصویریں دیکھیں ہیں جہاں کراس (قرآن کے الفاظ میں ابن مریم، رسول اللہ، عبداللہ اور مسیح کی نشانی) پر زمین پر پھینکا گیا  تھا  اور اس کی بے حرمتی  کی گئی  تھی ۔ کیا یہ  مذہب کی توہین نہیں ہے؟

1947 کے بعد سے 'پاک کی سرزمین' پر زخموں کا ایک سلسلہ جاری ہے۔ تاریخ طویل ہے اور بمشکل ہی کوئی  شخص اس سے بے خبر ہو۔ طویل تاریخ کو  مختصر کرنے کے لئے یہ کہ ، 2012 کا اختتام پاکستان کے کچھ ہندؤں کو جلا وطن کر کے ہوا ۔ اور 2013 کا آغاز  ہمارے شیعہ بھائیوں کے سفاکانہ قتل کے ساتھ ہوا ۔

زخم ابھی بھرا  نہیں تھا  کہ بادامی باغ کے  عیسائیوں کو  مذہب کے نام پر سراسر ظلم کا نشانہ بنایا گیا ۔ معاملہ بڑھ گیا تھا ، دو فرقوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، احتجاج رونما ہوئے ، سیاسی جماعتوں نے آئندہ انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا  اپنا کردار ادا کیا، اور پھر کہانی ختم ہو گئی ۔ حال ہی میں، ایک 29 سالہ عیسائی سجاد مسیح کو  کسی بھی ممکنہ ثبوت کے بغیر مذہبی توہین کے الزامات میں  عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ مسیح پر سب سے پہلے اس کے سابق منگیتر کا موبائل فون چوری کرنے کا الزام لگایا گیا اور وکیلوں نے سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا کہ   اسے  ٹیلیگراف ایکٹ کی دفعہ 25 بی کے تحت سزا دی جانی تھی ۔ ایسا لگا کہ یہ کافی  نہیں تھا ۔ توہین رسالت کا الزام لگایا جانا تھا   جو کہ ایک آسان ہتھکنڈا  ہے ۔ آخر کار وکیلوں نے اس پر توہین کا الزام لگا ہی  دیا۔

ایسی کئی کہانیوں کو بڑی آسانی  کے ساتھ  زندہ دفن کر دیا  گیا ہے ۔ اب تک  274،1سے زائد افراد اس آسان ہتھکنڈے  کا شکار ہو چکے  ہیں۔ خواہ وہ  سجاد مسیح  کا معاملہ  ہو ، گوجرہ سانحہ ہو،یا  رمشا مسیح پر توہین کا الزام لگائے جانے کا معاملہ ہو ، ہلاکتوں کے ذریعے اقلیتوں پر ظلم و ستم یا سلمان تاثیر کے قتل کا معاملہ ہو، عیسائیوں کے گھر جلانے یا دوسرے مذاہب کی خواتین کی عصمت سے کھیلے جانے  کا معاملہ ہو،غریب  کمیونٹیز کی جائداد  کو تباہ کرنے یا انہیں مجبوراً  اسلام قبول کروانے کا معاملہ ہو مجھے  ہمیشہ حیرت ہوتی ہے  کہ ہم کیوں خدا بنتے ہیں ، خدا کو خدا کیوں نہیں رہنے دیتے ۔

جو لوگ خدا کی وحدانیت میں یقین رکھتے ہیں  وہ یہ دیکھ بھی نہیں سکتے کہ کس طرح  خالق بھی انسان کو برداشت کرتا ہے ۔ خدا نے بلا تفریق سب کو اپنی  رحمتیں  عطا کی ۔ صرف ان کی  بات نہیں ہے جو ایمان والے ہیں ، بلکہ اس کی رحمت ان لوگوں پر بھی ہے جو اس پر ایمان نہیں لاتے ۔ میں نے ملحدوں کو  اس کے وجود کو نفی کرنے کے باوجود  اس زمین پر انہیں ان کی  زندگی سے لطف اندوزہوتے ہوئے اور ان  کے کا روباروں کو   پھلتے  پھولتے  ہوئے دیکھا ہے۔ خدا ان  لوگوں کو موت کے گھاٹ نہیں اتارتا جو  گستاخانہ نظریات کے حامل  ہیں ۔ وہ انہیں بھی زندہ رہنے  کی اجازت دیتا ہے جو اس کے  وجود کی نفی کرتے ہیں  ۔ لیکن جب انسانوں کی بات آتی ہے تو  ہم تمام اختیارات  حاصل کرنا چاہتے ہیں اور وہ تمام کام کرنا چاہتے ہیں جو خدا نے ہمیں تفویض نہیں کیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ جو  ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہتا وہ قادر مطلق بننے کا زبردست  خواہش مند ہے۔ معاملات کو اس پر  چھوڑنے کے بجائے  ہم مذہب کے واحد مالک بن جاتے ہیں۔

اقلیتوں کےساتھ  برا برتاؤ کرنے کا  سب  سے آسان طریقہ 'توہین رسالت' کے الزام کی انگلی کسی  کی طرف اٹھانا ہے۔ اس طرح ایک نام نہاد جہاد شروع ہوتی ہے اور پھر کسی کی نظر میں ہر کسی کو  وحشیانہ سلوک  کرنے کا جواز  مل جا تا ہے۔ اس طرح  ہم پاکستان میں اپنے  خالق کو خوش کرتے ہیں ۔

مذہب کے مالکان یہ  نہیں جانتے کہ جب  وہ اس طرح کے اشتعال انگیز کارناموں  میں ملوث ہوتے  ہیں تو در اصل وہ اپنے دین سے دور جا رہے  ہوتے ہیں ۔ پچھلے رسولوں پر ایمان کے بغیر اسلام پر ایمان مکمل نہیں ہے۔ مسلمانوں کا یہ ایمان ہے کہ  حضرت عیسی علیہ السلام خدا کے عظیم پیغمبروں میں سے ایک تھے ۔ مسیح کو 'خدا کا کلام'، 'خدا کی روح' اور  'خدا کی نشانی’ کہا جاتا  ہے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ جب کسی پر مذہب کی توہین کا الزام لگا یا جاتا ہے ، تو میں نے ایسی  تصویریں دیکھیں  ہیں کہ کراس (قرآن کے الفاظ میں ابن مریم، رسول اللہ، عبداللہ اور مسیح کی نشانی) کو زمین پر پھینک دیا گیا تھا اورا س کی  بے حرمتی کی گئی  تھی ۔ کیا یہ  مذہب کی توہین نہیں ہے؟ بات صرف عیسائیت کی نہیں ہے، ایک ایسےنبی کی توہین  کرنا  جسے قرآن مجید میں ایک اعلی مقام حاصل ہے   اسلام کے بھی خلاف  ہے۔ کیوں مذہب بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا ایک آلہ بن گیا ہے؟ جب  عیسائیوں کو  ان کے طریقہ پر ستایا جاتا ہے، توہین کرنے والے ایک ایسے پیغمبر کی توہین کرتے ہیں جسے   خدا کی روح مانا جاتا ہے ۔

جیسا کہ اس سے پہلے بتا یا جا چکا ہے ، سجاد مسیح کے معاملہ کو چند دنوں میں بھلا    دیا جائے گا ۔ مذہبی رہنما جذباتی تقریر کریں گے ، پر جوش  ٹاک شو مختلف چینلوں پر مباحثے کا آغاز کریں گے  لیکن اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ جب وہاں سکون اور امن ہے تو مذہبی رہنما، دانشوروان اور علماء کرام وہاں کے حالات کو بہتر بنانے میں خود کو مشغول کیوں نہیں کرتے ؟ صرف اس طرح کے واقعات رونماہونے پر ہی کیوں رہنما سامنے آتے ہیں ؟ اب وہ  وقت آ  چکا ہے جب مختلف اخلاقی جماعتوں سے  مذہبی رہنما قدم آگے بڑھائیں اور مذہب میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور عدم رواداری کا حل پیش کریں۔

ماخذ:  http://www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2013\07\31\story_31-7-2013_pg3_6

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-sectarianism/dilnawaz-qamar/blasphemy--a-‘user-friendly-tool’/d/12843

RL for this article: 

http://www.newageislam.com/urdu-section/dilnawaz-qamar,-tr-new-age-islam/tool-blasphemy--a-user-friendly-توہین-رسالت--ایک-آسان--ہتھکنڈہ/d/13097

 

Loading..

Loading..