New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 04:52 AM

Urdu Section ( 12 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Do Not Intertwine Science and Religion سائنس اور مذہب کو مخلوط نہ کریں

 

دانش  شاہ

19 مارچ، 2012

( انگری سے ترجمہ۔ نیو ایج اسلام)

گفتگو اس سوال سے شروع ہوتی ہے کہ: سائنس اور مذہب کو الگ الگ کیوں رکھا جانا چاہئے؟ جواب کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کیا یقین رکھتے ہیں، تاہم، مجھے سائنس اور مذہب کی علیحدگی کے حق میں میرا مقدمہ  پیش کرنے دیں ۔

سائنس فطرت اور اس  چیز کا مطالعہ ہے کہ یہ کس طرح کام کرتی ہے۔ سائنس کی خوبصورتی یہ ہے کہ جب کوئی نظریہ پیش کیا جاتا  ہے تو اس میدان کے سائنسداں فوری طور پر نظریاتی دعوے سے اتفاق نہیں کرتے ۔ بلکہ، وہ اس نظریہ کی  عمیق تنقید اور جانچ کرتے ہیں۔ بہت سے معاملات میں، نظریات کو علامات  کے بر عکس ہونے یا  غلطیوں کی بنیاد پر مسترد کر دیا جاتا ہے  جنہیں اخذ کیا گیا ہے ۔ اگر سائنسداں نظریہ میں دلائل سے متضاد  کوئی چیز  تلاش کرنے یا کافی خامیاں پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتے ، تو حامی دلائل کا  تجزیہ کیا جاتا ہے، اس بات کو ذہن میں رکھ کر کہ کسی بھی تھیوری کا احتمال محققین کی طرف سے فراہم کردہ بے شمار مجرب حامی دلائل  پر منحصر ہے ۔

اس کے برعکس، مذہب مکمل طور پر اصول و عقائد پر مبنی ہے ، جن کا زیادہ تر حالات میں انکار،  ان کی تحقیق  اور  ان کا ابطال  نہیں کیا جا سکتا  ۔

اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مذہبی علماء نئے سائنسی دریافتوں کے بارے میں  ایسے  دعوے شروع کر دیتے ہیں گو کہ ان پر  ہزاروں سال پہلے ہی یہ منکشف کر دئےگئے ہوں  ۔ تاہم اس طرح کے  دعوے صرف اس وقت کئے جاتے ہیں جب  سائنسی دریافت ان کے ذریعہ اختیا ر کئے گئے عقائد کے ساتھ ہم آہنگ ہوں ۔ جب نئے انکشافات، ان کی اہمیت سے قطع نظر ، ان کے عقائد کے متضاد ہوں، تو نظریہ کو  رد کر دیا جاتا  ہےاور  بجا طور پر اس کی  مخالفت کی جاتی ہے اور اکثر اس کے محققین پر  ظلم کیا جاتا ہے ، جلا وطن کیا جاتا ہے اور انہیں الگ کر دیا جاتا ہے  ۔ مثال کے طور پر، جب گیلیلیو نے اپنی تحقیق اور مطالعہ کے ذریعے کوپرنیکس نظریہ کی حمایت کی تو ان پر الحاد  کا الزام عائد کیا گیا تھا اور ظلم کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے  بعد انہیں  کم سخت قید کی سزا کے بدلے اس اصول کے لئے اپنی حمایت واپس لینے پر مجبور کیا گیا۔

1641 میں گیلیلیو کی وفات کے وقت سے 1992 تک کیتھولک چرچ کو تقریبا ً 350 سال  یہ تسلیم کرنے میں لگ گئے کہ   گیلیلیو یقینا کوپرنیکس نظریہ کی حمایت میں حق پر تھے۔ ان لوگوں کے لئے  350 سال، کئی نسلوں کو  جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کی گئی اور گیلیلیو کی  دریافت پر تحقیق اور اسے فروغ دینے کے امکانات بہت متاثر ہوئے ۔

تاہم، اس معاملے میں ایسا نہیں لگتا کہ اسلام اعلانیہ طور پر  سائنس کی مزاحمت کرتا ہو ،جیسا کہ  قرون وسطی کے عرب میں سائنسی فروغ  کی تاریخ اس بات کا ثبوت ہے ۔ ایک زمانے میں وہ  علماء مذہبی پیروکار اور رہنما ہی   تھے ، جو  سائنسی اور منطقی سوچ کے زیادہ خلاف تھے ۔ اس تصور کو ای جی برون ، جارج سر ٹان ، سیلی جیسے جدید تاریخ دانوں اور  ڈاکٹر نیل دی گراس  ٹائیسن جیسے سائنسدانو کی حمایت بھی حاصل ہے۔ انہوں نے عرب میں منطقی سوچ کی زوال کا باعث بننے  کے لئے قرون وسطی کے  امام غزالی اور امام اشعری جیسے  مشہور مسلم مذہبی علماء پر الزام لگاتے ہوئے اس  معاملے کو بیان کیا ہے ۔

تاہم، ان علماء پر مورخین کا 'الزام ناجائز نہیں ہے، امام غزالی نے اپنی کتاب" کفر خفی سے  اسلام کو ممتاز کرنے کا فیصلہ کن معیار"  میں ذکر کیا ہے کہ  منطق اور وحی  کے درمیان تنازعہ کی صورت میں ترجیح سابق الذکر کو مؤخر الذکر پر دی جائے گی(الغزالی 195 ،1961= 112،2002) ۔ مزید برآں، اپنی ایک دوسری کتاب‘‘فلسفیوں کا انتشار ’’ کے اخیر  میں، انہوں نے ابن سینا کی کچھ تعلیمات کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے ایک فتوی شامل کیا  ہے ، یہ حکم لگاتے ہوئے کہ  جو کوئی  ابن سینا کے انتہائی متنازعہ موضوعات کی تعلیم دیتا ہے  وہ مرتد ہے اور اسے موت کی سزا سنائی جا سکتی ہے (الغزالی230 ،1997) ۔

اگرچہ یہ سہی ہے کہ  صرف  امام غزالی کا فتوی قرون وسطی کے عرب میں سائنسی تنزلی کی  واحد وجہ نہیں تھا ، بلکہ اس کے  سیاسی اور اقتصادی عوامل بھی تھے۔ تاہم، جب کسی  چیزپر عمل کرنے کی بات آتی ہے ، تو اس پر عمل کرنے والے فتویٰ کو سنجیدگی سے لیتے ہیں خاص  طور پر جب فتویٰ امام غزالی جیسی ایک مستند شخصیت کی ہو ۔

اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ یہ آج کے زمانے اور  دنوں میں نہیں ہوتے تو وہ غلط ہو گا، جیسا کہ  حال ہی میں ایک برطانوی امام کے ذریعہ ارتقاء کے اصول کو اسلام کے ساتھ ہم آہنگ  کرنے  کی کوشش کا معاملہ پیش آیا تھا ۔ ان کی اس کوشش کا نتیجہ ان کے لئے تباہ کن تھا۔ انہیں ان کی امامت سے  ہٹا دیا گیا ، موت کی دھمکیاں موصول ہوئیں، کمیونٹی سے  بر طرف کر دیا گیا اور سب سے برا یہ کہ  انہیں مرتد کہا  گیا تھا۔ اور یہ سب صرف اس لئے ہوا کہ انہوں نےیہ  دعوی کیا کہ ارتقاء کا اصول دین کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتا ہے ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ انہیں  اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں، قوی  دلائل  ارتقاء کے اصول کی حمایت کرتے ہیں، چونکہ  اسے  مذہبی عقائد کے متضاد تصور کیا جاتا ہے اس کی  یکسر مخالفت کی گئی ہے۔ ایک دوسری مثال اسٹیم  سیل کی تحقیق کی مخالفت ہوگی، ان چیزوں کی تفصیلات جن کی وضاحت اس چھوٹی سی جگہ میں نہیں کی جا سکتی ۔

میں نے  صرف چند مثالیں یہ ظاہر کرنے کے لئے پیش کی ہیں کہ کس طرح مذہبی مباحث  نے  سائنسی پیش قدمی میں مداخلت کی ہے ۔  تاہم، تاریخ ایسی مثالوں سے بھری ہوئی  ہے جو عقل اور  معقولیت  کی ترقی کے لئے ضرر رساں  ہیں ۔

کیا  آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر سائنسی ترقی میں کوئی مذہبی مداخلت نہیں ہوتی  تو ہم کس مقام پر ہوتے  ؟

یہ ہمارے لئے مناسب وقت ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ   تشکیل دیں  جو سائنس اور مذہب کو  خلط ملط نہ کرے اس لئے کہ ان دونوں مضامین کا  تعلق زندگی کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ہے اور اس سے علیحدہ طریقے سے ربط بنانا ضروری ہے ۔

ماخذ:  ایکسپریس ٹریبیون، لاہور

URL for English article

 http://www.newageislam.com/islam-and-science/danish-shah/do-not-intertwine-science-and-religion/d/6896

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/danish-shah,-tr-new-age-islam/do-not-intertwine-science-and-religion-سائنس-اور-مذہب-کو-مخلوط-نہ-کریں/d/13012

 

Loading..

Loading..