New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 08:26 PM

Urdu Section ( 30 Jul 2013, NewAgeIslam.Com)

Human Rights in Islam حقوق انسانی اور اسلام

 

 روز نامہ قومی سلامتی

21 جون، 2013

اسلام نے اپنے ماننے والوں کو انسانی حقوق کی رعایت کی صرف ترغیب ہی نہیں دی  بلکہ ان پر انسانی حقوق متعین بھی کردیئے  ۔ حقو ق  انسانی سے متعلق  اسلامی تعلیمات  بتاتی ہیں کہ والدین کے اولاد پر ،اولاد  کے والدین پر،  شوہر کے بیوی پر ، بیو ی کے شوہر پر ، پڑوسیوں کے پڑوسیوں پر حقوق متعین  ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ مسلمانوں پر غیر مسلموں  کے بہت سے حقوق متعین  کیے گئے ہیں ۔ اب جو شخص ان حقوق کی تکمیل  کرے گا وہ  اللہ کے یہاں  زبردست  اجر کا مستحق ہوگا ا ور جو حقوق کی تکمیل میں کوتاہی سے کام لے گا اس کی روز قیامت سخت  پکڑ ہوگی۔

اسلا م نے  ہر سطح پر حقوق کے تحفظ  کے لیے معمولی  معمولی  باتوں پر توجہ  دی ہے تاکہ آگے چل  کر وہ باتیں  خطرناک رخ اختیار  نہ کرلیں اور کسی کے ساتھ زیادتی  و نا انصافی کا سبب نہ بن جائیں ۔ مثلاً انسان کے اندر جو او صاف رکھے ہیں،  ان میں  ایک و صف  ‘‘ احساس ’’ ہے۔ یعنی انسان کے اندر احساس کا مادہ پورے طور پر رکھا گیا ہے۔ جس کی بنیاد پر اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ گالی گلوچ  کرتاہے، تو دوسرے شخص  کو اس سے بڑی تکلیف  پہنچتی ہے یا کوئی ایسی  بات کبھی کبھی انسان کو انتہائی  دکھ کےمیں مبتلا کردیتی ہے ، جو اس کے جذبات و احساسات  کو ٹھیس پہنچانے والی ہوتی ہے۔ مثل مشہور  ہے کہ ‘‘ تلوار کا زخم بھر جاتا ہے ،مگر بات کا زخم نہیں بھرتا’’ ۔چنانچہ  لعنت  و ملامت کرنے ، حقیر و ذلیل  سمجھنے ، کسی پر عیب لگانے ، الزام تراشی  کرنے ، بدگمانی و آبرو ریزی کرنے اور غیبت و چغل خوری کرنے سے پر ہیز  کرنا لازمی ہے۔ کیونکہ یہ سب باتیں انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔

اسلام نے تہمت  و الزام تراشی  کو ناپسندیدہ  قرار دیا ہے،  اس سے انسان کی شخصیت مجروح  ہوتی ہے اور سماج میں اس کے لیے جینا  دو بھر ہوجاتا ہے ۔ اگر ایک بار  کسی عورت کی بد نامی ہوجاتی ہے ، تو زندگی بھر اسے  پریشانیوں  و مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ‘‘ جو لوگ پاک دامن  بھولی بھالی  بے خبر مومن عورتوں پر تہمت  لگاتے ہیں۔ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا  زبردست عذاب ہے ، جس  دن ان کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ  پاؤں  ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے ’’( النور ۔24۔23) اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے، اس پر جھوٹی تہمت لگانا، اس کےمقام کے خلاف کام کرنا ہے۔ عورت کی تذلیل کرنے کے لیے  الزام تراشی پر روز قیامت سخت پکڑ ہوگی ۔

بد گمانی سے بھی  اسلام نے روکا ہے۔ کیونکہ بعض مرتبہ یہ بد گمانی اپنے نتائج  کے اعتبار  سے بڑی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ اس کےمشاہدات  ہم آئے دن سماج میں کرتے رہتے ہیں۔ اگر میاں بیوی  کے درمیان شکوک و شبہات یا بد گمانیاں  ہوتی ہیں، تو ان کی ازدواجی زندگی  تلخ  ہوجاتی ہے اور نوبت کافی آگے  تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح کی بدگمانیاں کبھی شوہر کی طرف سے ہوتی ہیں او رکبھی بیوی  کی طر ف سے ۔ بنا تحقیق  و ثبوت دوسرے کے بارے میں بدگمانی کرنا، اس کی حق تلفی ہے۔

اسی طرح کسی شخص کو حقیر و ذلیل  سمجھنا  بھی انسانی حقوق کو پامال کرنے کے برابر ہے۔ کیونکہ اللہ  کے نزدیک تو تمام  انسان عزت کے لائق ہیں۔ پیدائش کے لحاظ  سے کوئی کسی  سے چھو ٹا  یا بڑا نہیں ۔ رنگ و نسل  اور ذات کی بنیاد پر کسی کو کسی پر کوئی فضیلت  حاصل نہیں  ۔ جہاں تک افضیلت  کی بات ہے تو اللہ کے نزدیک انسانوں  میں افضل وہ ہے،  جو متقی  و پرہیز گار ہے ۔ ارشاد باری ‘‘ بلاشبہ  تم میں اللہ کے نزدیک زیادہ مکرم وہ ہے، جو زیادہ متقی ہے’’ مگر حیران کن بات ہے کہ آج عام طور سے چھوٹے بڑے ہونے کا پیمانہ اسلام کےمتعین کردہ پیمانہ سے الگ سمجھا جاتاہے۔ مال و دولت ،برداری، ذات کو افضیلت کامعیار خیال کیا جاتا ہے،  جو کہ غلط  ہے دینی لحاظ سے بھی اور انسانی لحاظ سے بھی ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بھی معلوم ہوتا  کہ نسب  ، ذات ، برادری ، مال  و دولت ، رنگ وغیرہ  پر کوئی فضیلت  نہیں ۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ اگر کوئی شخص ذات و برادری کی بنیاد پر کسی کو ذلیل و حقیر سمجھ رہا ہے ، جب کہ وہ اپنے اعمال  و کردار کے اعتبار سےاس سے بہتر ہوسکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جسے حقیر  و ذلیل سمجھا جارہا ہے ، اسے یہ بات تکلیف  پہنچانے والی ہوسکتی ہے ۔ اللہ رب العزت نے کسی بھی بندے  کو ہر گز ہرگز  اس بات کا حق نہیں دیا ہے کہ وہ دوسرے کو حقیر سمجھے اور اپنے  اوپر تکبر  وغرور کرے۔ اللہ کا ارشاد ہے کہ ‘‘( غرور میں ) لوگوں  سے گال نہ پھلاؤ’’ ( لقمن  18)

کسی پر عیب  لگانا اور طرح طرح  کے نام رکھنا  بھی باعث  تکلیف عمل ہے اور انسانی حقوق  کے خلاف ہے ، اور اس لیے  اسلام نے ایسا کرنے سےبھی منع کیا ہے، اگر وہ عیب  اس کے اندر موجود ہوتب بھی اس کو اس عیب  کے ساتھ  پکار نا نا مناسب عمل ہے۔ کیونکہ چاہے وہ بات بھلے ہی صحیح  ہو ، مگر اس سے اس شخص کو تکلیف  پہنچتی ہے ۔ مثلا ً کوئی  آنکھوں  سے نا بینا ہے  ، اسے  اندھا کہنا ، اسے  اور زیادہ تکلیف  میں مبتلا کرنا ہے ۔ ایسے ہی اگر کسی کے پاؤ ں نہیں  ہیں، اسے لنگڑا کہہ کر پکارنا بھی غلط ہے ۔ کیونکہ یہ بات  بھی باعث  تکلیف ہے اور اگر کسی میں عیب نہ ہو ، پھر اس پر عیب لگانا بہتان تراشی ہے، جو بالکل  ناجائز ہے۔ چنانچہ  اس طرح کی باتوں سے اسلام نے اپنے ماننے والوں کو سختی  سےروکا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے ‘‘ مومنو! کچھ  لوگ دوسرے لوگوں کا مذاق نہ اڑائیں ہوسکتا ہے کہ وہ ان سےبہتر ہو ں ’’ ( الحجرات 11)

انسانی حقوق  کی جس طرح بھی پامالی ہو، اسلام کے خلاف ہے۔ قیامت  کےدن اس کی سخت باز پرس ہوگی ۔ بعض باتیں  ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر  نظر نہیں آتی ہیں،  مگر وہ بھی  حق تلفی  و دل آزاری کا سبب بنتی  ہیں ۔ جیسے  کسی  کی ٹوہ  میں لگ جانا ۔ ارشاد باری ہے ‘‘ اور کسی کی ٹوہ میں  نہ لگے ہو ’’ (الحجرات 12) ایک اور جگہ مزید وضاحت  کے ساتھ فرمایا گیا ‘‘ اور کسی ایسی  بات کے پیچھے نہ لگ جاؤ جس کا تمہیں  پورا علم نہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ کان ، آنکھ  اور قلب  سبھی کی باز پرس ہونی ہے’’( بنی اسرائیل 36) کسی  کی پیٹھ  پیچھے برائی کرنا شریعت  کی نگاہ میں  انتہائی قبیح عمل ہے اور اس پر سخت و عید  یں  بیان  کی گئی ہیں۔ اللہ کا ارشاد ہے ‘‘ اور  ایک دوسرے  کو پیٹھ پیچھے  بر ا نہ کہو،  کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ، اس سے تم  ضرور نفرت کروگے ’’ ( الحجرات 12)

اسلام نے ‘‘ آدمیت ’’ کے احترام کا جو تصور پیش کیا ہے وہ عالمی سطح پر انسانی حقوق  کی حفاظت  کرنے والا ہے۔ چونکہ آدمیت میں تمام انسان آجاتے ہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب  سے تعلق رکھتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے  ‘‘ اور تحقیق  ہم نے اولاد  آدم کو مکرم بنایا ’’ (القرآن) اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام پوری انسانیت  کے لیے کس قدر ہمدردی رکھتا ہے اور وہ  نہیں چاہتا  کہ کسی پر ظلم  ہو اور کوئی کسی کی حق تلفی کرے۔

21 جون ، 2013  بشکریہ : روز نامہ قومی سلامتی ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/daily-qaumi-salamati--روز-نامہ-قومی-سلامتی/human-rights-in-islam--حقوق-انسانی-اور-اسلام/d/12823

 

Loading..

Loading..