New Age Islam
Sat Jan 24 2026, 05:21 PM

Urdu Section ( 20 Nov 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Concept of Wisdom in the Qur'an قرآن میں حکمت کا تصور

ادیس دودیریجا، نیو ایج اسلام

13 نومبر 2025

(یہ مضمون ثاقب حسین کے پی ایچ ڈی مقالے پر مبنی ہے)

-----

حکمت کے تصور، یا حکمت کو قرآن کی تعلیمات میں ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، جو ایک ایسا زاویہ نظر پیش کرتا ہے، جس کے ذریعے ہدایت الہٰیہ کو محض قانون کے طور پر نہیں، بلکہ حقیقت اور اخلاقیات کی اصل پر، گہری بصیرت کے طور پر دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ علم کا ایک محض مترادف ہونے کے بجائے، قرآن میں حکمت ایک کثیر جہتی اصطلاح کے طور پر واقع ہوا ہے، جس میں صدیوں سے علماء غور و خوض کرتے چلے آئے ہیں، جس کے نتیجے میں نت نئی تشریحات سامنے آتی رہی ہیں، جن سے اس کی پیچیدگی اور دین کے اندر اس کی مرکزیت ظاہر ہوتی ہے۔ اس تصور پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے، کہ قرآن کس طرح پرانی حکمت کا امین ہے، اور ایسا روحانی اور اخلاقی شعور پیش کرتا ہے، جس کی اہمیت و افادیت کسی زمانے میں کم نہیں ہوتی۔

قرآن کی ابتدائی تفسیروں سے ہی علماء نے، حکمت کی تعریف کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ کچھ ابتدائی مفسرین نے حکمت کو نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے تشبیہ دی، اور ان کی زندگی اور اعمال (سنت) کو قرآن کے ساتھ ہی نازل ہونے والی، الہی حکمت کا مجسمہ مانا۔ اگرچہ اس نقطہ نظر کی بنیاد، حکمت کو اسلامی روایت سے جوڑنے کی خواہش پر ہے، لیکن اس کے سامنے چیلنج یہ تھا، کہ قرآن خود حکمت کو واضح طور پر سنت کے ساتھ نہیں جوڑتا ہے۔ دیگر ابتدائی تعریفوں میں حکمت کو مذہب کی گہری تفہیم سے جوڑ دیا گیا ہے، یا مفید علم اور صالح عمل دونوں کو شامل ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی طور پر حکمت، فکری گرفت اور عملی اقدام دونوں کو شامل تھی۔

ان بحثوں میں ایک سوال ہمیشہ سے موجود رہا: کیا حکمت خود آسمانی صحیفے کا ایک لازمی حصہ ہے، یا اس سے کچھ الگ ہے اور شاید اضافی ہے؟ کچھ علما نے حکمت کے معنی کو صحیفہ کے دائرے تک محدود رکھنے کی کوشش کی، اور اسے مذہبی قوانین اور ان کے مضمر رازوں کا علم قرار دیا۔ اس کا مقصد، بیرونی فلسفیانہ یا دنیاوی حکمتوں کو، وحی الہی کے منفرد اختیار کو کمزور کرنے سے روکنا تھا۔ اس کے باوجود، دیگر نقطہ ہائے نظر میں، خاص طور پر بعد کے ادوار میں، یہ تسلیم کیا گیا کہ حکمت سے مراد عقل اور غور و فکر کے ذریعے حاصل کی گئی حکمت بھی ہو سکتی ہے، جس کا مطلب یہ تھا کہ انسانی شعور حقیقت کے مکمل دائرہ کار کو سمجھنے میں، وحی الہی کی تکمیل کر سکتی ہے۔ اس نظریہ کی بنا پر ہی، بسا اوقات ایک ایسے ذہنی شعور کی ترقی کو بھی حکمت قرار دیا گیا، جس سے اچھے اور برے میں تمیز کی جا سکے، یا مذہبی قانون کی مخصوص تفصیلات کے برعکس، مذہب کی حقیقت، جو ایمان اور اخلاقیات کو گھیرے ہوئے ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ، قرآن اکثر حکمت کو الکتاب (صحیفہ) کے ساتھ جوڑتا ہے، خاص طور پر جب نبی اکرم محمد صلی للہ علیہ وسلم کے مشن کو بیان کرتا ہے۔ اور یہ ترکیب ان آیات میں دیکھی گئی ہے، جن میں بتایا گیا ہے کہ نبی کو آسمانی نشانات کی تلاوت کرنے، مومنوں کو پاک کرنے اور انہیں صحیفے اور حکمت کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ یہ بار بار وارد ہونے والا امتزاج ایک قریبی تعلق کی نشاندہی کرتا ہے، جس کی وجہ سے کچھ تشریحات سے یہ معلوم ہوتا ہے، کہ حکمت صحیفے کی ایک وضاحت یا مخصوص پہلو کے طور پر کام کرتی ہے۔ اگر اس معنی کو لیا جائے، تو الکتاب سے مراد وحی کے قانونی یا رسمی پہلو مراد ہو سکتے ہیں، جب کہ حکمت سے اشارہ ان اخلاقی اور معنوی اصول، گہری بصیرت، یا فطری اخلاقی تحفظات کی طرف ہو سکتا ہے، جن پر خدائی قانون کی بنیاد ہے۔

یہ تفہیم ان اقتباسات کے ساتھ زبردست طریقے سے ہم آہنگ ہے، جہاں اخلاقی رہنمائی اور فطری قانون پر مرکوز سیاق و سباق میں، حکمت کا واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک اقتباس کو اکثر احکام عشرہ (قرآن 17:22-39) کے قرآنی نسخے سے تشبیہ دی جاتی ہے، جس میں بنیادی اخلاقی اصولوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے، جیسے صرف خدا کی عبادت، والدین کا احترام، اور مختلف باہمی اخلاقیات، ان تعلیمات کو تمہارے رب کی طرف سے نازل کردہ حکمت قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح، سورہ لقمان (قرآن 31:12-19) میں، جنہیں ماقبل اسلام عرب میں ایک قابل احترام شخصیت مانا جاتا تھا، اپنے بیٹے کو دی جانے والی دانشمندانہ نصیحتوں کا تذکرہ ہے، جس میں توحید اور والدین کی شکر گزاری، اپنے اعمال کی جوابدہی اور مناسب سماجی طرز عمل کے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ لقمان کو حکمت عطا کی گئی تھی، اور اس کی نصیحتیں اس خدائی تحفہ کی مثال ہیں۔ ان اقتباسات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمت بنیادی اخلاقی اصولوں اور صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنے سے عبارت ہے، جس کی جگہ انسانی عقل اور ضمیر ہے، یہاں تک کہ واضح وحی نازل ہونے سے پہلے بھی۔

حکمت اور فطری اخلاقیات کے درمیان تعلق کو ایسی تشریحات کے ذریعے مزید واضح کیا گیا ہے، جن میں قرآنی حکمت کے اقتباسات کو، سنہرے اصول کے تصور سے جوڑا گیا ہے۔ وہ آیت جو کہتی ہے کہ خدا جسے چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور یہ کہ جس کو حکمت دی گئی اسے بہت زیادہ بھلائی دی گئی (قرآن 2:269)، مالی انصاف اور خیرات کے ضمن میں وارد ہوئی ہے۔ پہلے کی مذہبی روایات کے اندر، خاص طور پر پادری عیسائی تحریروں میں، سنہرے اصول حکمت اور فطری قانون سے وابستہ تھے۔ اس آیت میں سخاوت اور منصفانہ رویہ پر قرآن کے زور، اور باہمی تعاون کے اخلاقی اصول کے درمیان ہم آہنگی، جس کے ساتھ ساتھ حکمت کو "بڑی بھلائی" قرار دیا گیا ہے، اس بات نشاندہی کرتی ہے کہ یہ آیت، اور اس جیسی دوسری آیتیں، حکمت کو فطری اخلاقی شعور پر محیط قرار دیتی ہیں۔ قانونِ فطرت یا اخلاقیات کا نظریہ، جو تخلیق اور ضمیر کے ذریعے معلوم ہوتا ہے، قدیم زمانہ کے اواخر میں گفتگو کا ایک اہم موضوع تھا، جس سے قرآن کی حکمت کو سمجھنے میں ایک پس منظر میسر ہوتا ہے۔

درحقیقت، حکمت پر قرآن کی گفتگو، دوسرے بہت سے عقائد اور معمولات کی طرح، خلاء میں پیدا نہیں ہوئی، بلکہ قدیم زمانے میں رائج حکمت کی روایات کا مجموعہ ہے۔ یہ بائبل کی حکمت سے ماخوذ تھی، جو امثال، سیراچ (ایکلیسیاسٹکس) اور سلیمان کی حکمت جیسی تحریروں میں پائی جاتی ہیں۔ ان نصوص میں اخلاقی طرزِ عمل، خوفِ خدا، اور علم کے حصول کے موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے، اور اسلام کی آمد سے پہلے کی صدیوں میں، ان کا اثر یہودی اور عیسائی دونوں برادریوں پر تھا۔ لقمان جیسی ہستی کا تصور، جو کہ الہٰی حکمت سے مالا مال ایک غیر نبی شخصیت تھی، قدیم حکمت کی روایات میں پائی جانے والی شخصیات کی بازگشت ہے، اور اس وسیع تر ثقافتی اور مذہبی ماحول کے ساتھ قرآن کے تعلق کو نمایاں کرتا ہے۔

مزید برآں، قرآن میں حکمت کا تصور اس وقت کے عیسائی مذاکروں سے ممکنہ تعلق کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر شامی عیسائیت کے اندر۔ قانونِ فطرت سے وابستہ حکمت کا خیال، اور عقل و دانائی اور اخلاقی شعور پر زور، حب الوطنی کی تحریروں میں پائے جانے والے موضوعات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ کچھ علما نے یہاں تک کہا ہے، کہ قرآن کا صحیفہ اور حکمت کو یکجا کرنا، اور سخت قانون پسندی سے بالاتر ہو کر، قرآن کا حکمت کو مرضی الہٰی کو سمجھنے کا ایک ذریعہ قرار دینا، خدائی قانون اور فطری اخلاقی شعور کے درمیان تعلق کے بارے میں، عیسائیت کے اندر جاری مذہبی بحثوں کی عکاسی یا جواب ہو سکتا ہے۔

حتیٰ کہ بعض ابتدائی قرآنی آیات میں بھی، جن میں حکمت کی بات کی گئی ہے، جیسا کہ قیامت سے متعلق آیات (قرآن 54:1-5)، حکمت مجرد علم کے طور پر نہیں، بلکہ الہی نشانیوں اور حشر و نشر سے متعلق انتباہات کا جواب دینے کے لیے، ایک اہم بصیرت کے طور پر وارد ہوئی ہے۔ یہاں، حکمت سے مراد ایک دور رس حکمت ہے، جس کا مقصد لوگوں کو انتباہات پر توجہ دلانا اور گناہ سے بچنے کے لیے رہنمائی کرنا ہے، جس سے اس کی عملی اور اخلاقی تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیت واضح ہوتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ، قرآن میں حکمت ایک متحرک اور معنوی گہرائی پر مشتمل، ایک تصور کے طور پر وارد ہوا ہے۔ یہ محض فکری صلاحیت یا ایک گہری اور اکثر موروثی، الہی حقیقت اور فطری اخلاقیات کی تفہیم کی نشاندہی کرنے کے لیے، حاصل کردہ علم سے ماورا ہے۔ یہ ایک تحفہ الہٰی کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس کا صحیفے کے ساتھ ایک مضبوط تعلق ہے، لیکن اس میں وہ اخلاقی تعلیمات بھی شامل ہیں، جو قانون کو قابل فہم اور قابل عمل بناتی ہیں۔ قدیم حکمت کی روایات کا امین بن کر، اور اخلاقی جوابدہی، الٰہی وحدت، اور عمل صالح کے موضوعات پر زور دے کر، حکمت پر قرآن کی تعلیم حکمت کی ایک جامع شکل پیش کرتی ہے، جس کی بنیادیں آسمانی وحی پر ہیں، اور انسانی ضمیر اور غور و فکر کی مدد سے اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قرآن اہل ایمان کو نہ صرف قوانین کی پیروی کرنے کی دعوت دیتا ہے، بلکہ ایک باطنی شعور بھی پیدا کرنے کی دعوت دیتا ہے، تاکہ انسان کائنات کے نظام سے عیاں، اور آسمانی ہدایت سے ظاہر، بنیادی حکمت کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل بن سکے۔ یہ فطری حکمت، جس کی مثال اکثر لقمان جیسی شخصیات سے ملتی ہے، یا جو بنیادی اخلاقی اصولوں کو بیان کرنے والی آیات میں پائی جاتی ہے، قرآن کے ایک ایسے مذہب کے نظریہ کا ثبوت ہے، جس کی بنیاد آسمانی ہدایت اور عالمی سطح پر قابل رسائی اخلاقی بصیرت، دونوں پر ہے۔

-----

English Article: The Concept of Wisdom in the Qur'an

URL: https://newageislam.com/urdu-section/concept-wisdom-quran/d/137705

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..