New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 12:49 PM

Urdu Section ( 16 Sept 2012, NewAgeIslam.Com)

Anti-Islam Film: A Complicated Problem for the Country and the World اسلام مخالف فلم: ملک اور دنیا کےلئے ایک پیچیدہ مشکل


سی ادے بھاسكر

16ستمبر ، 2012

(ہندی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

اسلام مخالف فلم کے خلاف دنیا بھر میں ہو رہے مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ افریقہ اور ایشیا کے ساتھ یورپ کے کئی حصوں میں امریکہ مخالف لہر پھیل رہی ہے۔ اس طرح کے حملے امریکی سفارت خانوں اور سفارتی اہمیت کے دیگر ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کئے جا رہے ہیں۔ بھارت سمیت کم سے کم 15 ممالک میں اس طرح کے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ چنئی اور کشمیر میں بھی ایک دن پہلے ہی لوگوں نے دھرنا دیا ہے۔ تشدد کا آغاز لیبیا کے بن غازی  سے ہوا، جہاں منگل کو امریکی سفیر جے. کرسٹوفر کو قتل کر دیا گیا۔  اس طرح کے تشدد کا پھیلنا افسوسناک ہے۔ اس کے بعد جمعہ کو ہی تین اور امریکی سفارت کاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور طالبان نے افغانستان کے ہیلمند صوبے میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ کیا۔ اس میں دو امریکی فوجی ہلاک ہو گئے، تاہم اس تعداد کے بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ سوڈان، ٹيونيشيا اور مصر میں مظاہروں میں سات افراد کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ اس تشدد کے اور پھیلنے کا خوف مسلسل بنا ہوا ہے۔ ان میں سے کچھ ممالک میں اس تشدد کے پیچھے بنیاد پرستوں  کا ہاتھ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اسلام مخالف اس چھوٹے سے ویڈیو کو دیکھنے والے زیادہ تر لوگ متفق ہیں کہ یہ نفرت اور اشتعال انگیز ہے، لیکن اس کی وجہ سے پھیلا تشدد اور بد امنی  سے فوری اور دوررس، دونوں طرح کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ یہ سچ ہے کہ اس تشدد کی آگ پاکستان، بنگلہ دیش اور یہاں تک کہ اپنے ہی ملک کے دو شہروں میں بھی محسوس کی گئی۔ یعنی اس نے جنوبی ایشیا کو بھی اپنے  اثر میں لے لیا۔ بھلے ہی اس پر اختلاف بنا ہوا ہے کہ اس فلم کا مقصد ہی لوگوں کے جذبات کو  بھڑكانا تھا، پھر بھی اس طرح کے تشدد کو صحیح نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس کی مذمت کی جانی چاہئے اور ذمہ داروں کے خلاف جلد سے جلد کارروائی کی جانی چاہئے۔ حالانکہ ایسا کہنا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ مصر کے صدر محمد مرسی نے قاہرہ  میں سخت کارروائی کی ہے، لیکن پھر بھی اگلے کچھ دن عرب دنیا کے لئے مشکل  بھرے ہیں۔ کچھ باتیں غور کرنے والی ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر امریکہ مخالف تشدد کا بھڑكنا اور پھر 9/11 کی 11 ویں برسی کے ایک دن بعد اس کا وسیع شکل اختیار کر لینا یہ خدشہ پیدا کرتا ہے کہ گزشتہ پانچ دنوں سے جاری اس تشدد کے پیچھے کسی کی سوچی سمجھی سازش کام کر رہی تھی۔ حالانکہ اس چیلنج کی وجوہات کا پتہ لگانا مشکل ہے اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے غور و فکر  کر قدم اٹھانے ہوں گے۔

18 دسمبر، 2010 کو ٹيونيشيا سے شروع ہوئے  'عرب انقلاب' کی دوسری سالگرہ منا رہے عرب دنیا میں ابھی بھی غصہ  باقی ہے اور مصر میں  کچھ داخلی  پریشانیاں اور بے اطمینانی ہے، جو مسلسل سامنے آ رہی ہے۔  آمریت کو عوام نے مسترد کر  دیا ہے اور مصر کے سابق لیڈر حسنی مبارک اس کی مثال ہیں، جہاں امریکہ عوامی مفادات کو  نظر انداز کرتے ہوئے جابر حکومت کے ساتھ کھڑا تھا۔ یعنی عرب میں امریکہ مخالف جزبات پہلے سے ہی موجود تھے۔ القاعدہ کی مختلف شاخوں سے وابستہ انتہا پسندوں نے اسی کا فائدہ اٹھایا ہے۔  احتجاجی مظاہروں کی یہ لہر اسی بے اطمینانی کے خلاف ابھرے جوش پر پنپ رہی ہے اور بعض معاملوں میں مقامی انتہا پسند  گروپ نے اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے کے لئے اس موقع کا استعمال کیا ہے۔  لیبیا میں جس تیزی کے  ساتھ  قذافی  کا خاتمہ کیا گیا اس سے وہاں امریکہ مخالف جزبات کو تقویت حاصل ہوئی۔  لیبیا میں ہوا  امریکی سفیر کا قتل اسی خیال کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جسے انتہا پسندوں نے انجام دیا ہے۔  ہیلمند صوبے میں ہوا حملہ بھی اسی طرز پر کیا گیا ہو سکتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں ابھی اس طرح کے حملے اور کئے جائیں۔ بھارت میں خاص طور پر اس پر غور و فکر  کی ضرورت ہے۔ چنئی میں جس طرح مقامی تنظیم کے تقریبا 1500 مظاہرین نے امریکی قونصل خانے پر مظاہرہ کیا وہ تشویشناک  ہے۔ حالانکہ جمہوریت میں پرامن مظاہرے ہوتے رہتے ہیں، لیکن اس معاملے میں کئی طرح کے سوال اٹھتے ہیں۔ مثلا، کیا اس کارکردگی کے پیچھے حال ہی میں کرناٹک اور آندھرا پردیش میں جہادی دہشت گردوں کی گرفتاریاں تھی؟ کیا بھارت میں بھی مسلمانوں   کے جذبات کو غلط سمت میں موڑا جا رہا ہے؟ یا دوسرے الفاظ میں کہیں تو کیا یہاں بھی کچھ  ایسی جہادی تنظیمیں کام کر رہی ہیں جو ملک مخالف  مذہبی تشدد  کو پھیلانے کے لئے وقتاً فوقتاً فعال ہوتی رہتی ہیں؟ بھارت کے لئے یہ سوال بے چین کرنے والے ہیں، لیکن عوام کے درمیان ان کا اٹھنا ضروری ہے۔

آج کی مواصلاتی ٹیکنالوجی کے ذریعہ کسی بھی طرح کی اشتعال انگیز معلومات، تصویر یا پھر افواہ کو آسانی سے پھیلایا جا سکتا ہے۔ بنگلور سے شمال مشرق کے لوگوں کی نقل مکانی ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں۔ بھارت کی ترجیحات  کی فہرست میں اس طرح کے واقعات پر روک لگانا سب سے اوپر شامل ہونا چاہئے اور اس کے لئے پیشہ ورانہ صلاحیت اور ادارتی  اتحاد کی ضرورت ہے۔ فی الحال ہم کہیں نہ کہیں دونوں کی ہی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمارا ملک پہلے ہی دو طرح کے كینسر‑  بدعنوانی اور انتخابی  فائدہ کے لئے ذات برادری کی جوڑ توڑ سے لڑ رہا ہے۔ اگر یہ فرقہ واریت اداروں میں  داخل ہو گئی تو  ہمیں ایک بار پھر تاریخ کے برے دور کو دوبارہ     بر داشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس بار یہ سانحہ مزید بری   شکل لئے ہو سکتا ہے۔ اسلام مخالف ویڈیو جاری ہونے کے بعد پھیلا تشدد ایک انتباہ ہے۔ مذہب کے نام پر سوچی سمجھی سازش سماج کے تانے بانے میں تیزی سے زہر گھول سکتی ہے اور اس سے ہونے والے نقصان کی کبھی تلافی نہیں ہو سکتی۔ تازہ واقعات کے حوالے سے مرکز‑ ریاست اور سول سوسائٹی کو پرامن اور مثبت طریقے سے حالات کو سنبھالنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔

 سی ادے بھاسكر، اسٹریٹجک معاملات کے ماہر ہیں۔

بشکریہ‑ دینک جاگرن، دہلی

URL for English article:

http://www.newageislam.com/current-affairs/c-uday-bhaskar-for-new-age-islam/anti-islam-film-sparks-violence-and-killings--complex-challenge/d/8696

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/anti-islam-film--a-complicated-problem-for-the-country-and-the-world--اسلام-مخالف-فلم--ملک-اور-دنیا-کےلئے-ایک-پیچیدہ-مشکل/d/8699

 

Loading..

Loading..