New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 01:09 AM

Urdu Section ( 21 Jul 2020, NewAgeIslam.Com)

Kill Them Wherever You Find Them (2:191)': What Quran Actually Means By This Command? مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو کا حقیقی مفہوم


غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

قرآن کریم میں سورہ بقرہ کی ایک  آیت( ۲۱۹) ہے  جس کا معنی ہے ‘‘مشرکوں کو جہاں پاو قتل کردو ’’۔اس آیت کا کیا سیاق ہے اور در حقیقت اس سے کیا مراد ہے ؟ اس آیت سے کون سے مشرکین مراد ہیں ؟ کیا یہ عرب کے مشرکین کے لیے نازل ہوئی تھی یا سب کے لیے ؟  کچھ لوگ اس کے سیاق وسباق، شان نزول  اور احکام  سے ناواقفیت کی وجہ سے  اکثر اس آیت پر اعتراض کرتے ہیں  اور پھر یہ دعوی کرتے ہیں کہ اسلام قتل وغارت گری کا مذہب ہے جس نے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ کفار ومشرکین کو جہاں پائیں قتل کر دیں ۔اس مضمون میں ہم اسی موضوع کا جائزہ پیش کریں گے ۔

سب سے پہلے ہم  اس آیت کریمہ  کی اگلی اور پچھلی آیتوں پر غور کر تے ہوئے اس کے مکمل سیاق پر نظر کر لیں تاکہ ہمارے لیے اس موضوع کو سمجھنا آسان ہو جائے ۔

قرآن مجید میں ہے : ترجمہ ، ‘‘اور اللہ کی راہ میں ان سے (دفاعاً) جنگ کرو جو تم پر جنگ مسلط کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا (۲:۱۹۰) اور (دورانِ جنگ) ان (جارح اور محارب کافروں) کو جہاں بھی پاؤ مار ڈالو اور (ریاستی اقدام کے ذریعے) انہیں وہاں سے باہر نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی زیادہ سخت (جرم) ہے اور ان سے مسجدِ حرام (خانہ کعبہ) کے پاس جنگ نہ کرو جب تک وہ خود تم سے وہاں جنگ نہ کریں، پھر اگر وہ تم سے قتال کریں تو (جواباً) تم بھی انہیں قتل کرو، (ایسے جارح اور محارب) کافروں کی یہی سزا ہے (۲:۱۹۱). پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ نہایت بخشنے والا مہربان ہے (۲:۱۹۲) اور ان سے جنگ کرتے رہو حتیٰ کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے تابع ہو جائے (یعنی امن و سلامتی اور انسانی تکریم کے تحفظ کا نظام عملاً قائم ہوجائے)، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پرزیادتی روا نہیں (۲:۱۹۳) حرمت والے مہینے کے بدلے حرمت والا مہینہ ہے اور (دیگر) حرمت والی چیزیں ایک دوسرے کا بدل ہیں، پس اگر تم پر کوئی زیادتی کرے تم بھی اس پر زیادتی کرو مگر اسی قدر جتنی اس نے تم پر کی، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے (۲:۱۹۴) اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بیشک اللہ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے (۲:۱۹۵) (ترجمہ قرآن ، از عرفان القرآن )

مذکورہ آیت  ‘‘واقتلو المشرکین الخ ’’ کا شان نزول

ان آیات میں ان مظلوموں اور ستم رسیدوں کو اپنے دفاع میں طاقت کا جواب طاقت سے دینے کی اجازت دی جارہی ہے جن پر بارہ تیرہ برس مسلسل ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اور تسلیم ورضا کے یہ مجسمے خاموشی سے برداشت کرتے رہے، پھر کفار مکہ نے انہیں مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا۔ پھر نبی  کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٦ ہجری میں مدینہ شریف سے  اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ مکرمہ عمرہ کرنے کے لیے روانہ  ہوئے ۔ جب آپ حدیبہ کے قریب پہنچے تو مشرکین نے آپ کو مکہ مکرمہ جانے سے منع کردیا، آپ ایک ماہ تک حدیبہ میں ٹھہرے اور مشرکین سے اس بات پر صلح ہوئی کہ آپ اگلے سال عمرہ کرنے کے لیے آئیں اور اگلے سال تین دن آپ مکہ مکرمہ میں ٹھہرسکیں گے، اور اس بات پر صلح ہوئی کہ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی، پھر آپ مدینہ لوٹ گئے اور جب آپ اگلے سال ٧ ہجری میں اس عمرہ کو ادا کرنے کے لیے آئے تو مسلمانوں کو کفار کی عہد شکنی کا خطرہ ہوا، اور وہ حرمت والے مہینہ میں حرم میں جنگ کرنے کو برا جانتے تھے، کیوں کہ  پوری مکی زندگی میں جو مسلمانوں کو کفار کے ساتھ جنگ سے  روکا ہوا تھا اور ہمیشہ عفو و درگذر کی تلقین ہوتی رہی تھی اس لئے صحابہ کرام کو اس آیت کے نازل ہونے سے یہی خیال تھا کہ کسی کافر کو قتل کرنا برا اور ممنوع ہے اس خیال کے ازالہ کے لئے فرمایا والْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ یعنی یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ کسی کو قتل کرنا سخت برا کام ہے مگر کفار مکہ کا مسلسل ظلم وستم کرنا ،  فتنہ برپا کرنا ، معاہدہ توڑنا  اور مسلمانوں کو ادائے عبادت حج وعمرہ سے روکنا اس سے زیادہ سخت وشدید ہے ، لہذا اس سے بچنے کے لیے  اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر کفار تم سے حرم میں جنگ کریں تو تمہارے لیے بھی حرم میں جنگ کرنا جائز ہے، یعنی اگر وہ تم پر حملہ کریں تو تم بھی انہیں جہاں پاو قتل کرو ۔(الجامع الاحکام القرآن ج  ص مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران)

ان آیتوں میں قرآن کریم نے   جنگ کے  جن  تین امور کی وضاحت کی، وہ یہ ہیں  (۱) کس مقصد کے لیے (۲) کس کے ساتھ (۳) اور کن شرائط وقیود کے ساتھ ۔مقصد جنگ کے تعلق سے فرمایا  ‘‘فی سبیل اللہ’’ یعنی اللہ کی راہ میں  جنگ لڑی جائے ، اللہ کی راہ کا مطلب ہے کہ امن وشانتی کو بحال کیا جائے ، عدل وانصاف کا قیام کیا جائے ،  لا اکراہ فی الدین (یعنی دین میں کوئی زبردستی نہیں ) کی صدا بلند کی جائے ، حقوق انسانی کا خیال رکھا جائے ، مظلوموں  پر ہو رہے ظلم وستم کو مٹایا جائے، یعنی حق کی سر بلندی ہو ، لوٹ مار ، کرپشن ، تجارتی وصنعتی غلامی ، وطنی یا نسلی عداوت وتعصب  مومن کے جنگ کا مقصد نہیں ہونا چاہیے ۔صرف ان لوگوں کے ساتھ ، (الذین یقاتلونکم ) یعنی جو تمہارے ساتھ جنگ  کر رہے ہیں ، جو تم پر بارہ تیرہ برس  تک مسلسل مکہ میں ظلم کرتے رہے ۔جہاں تک جنگی شرائط کی بات ہے تو قرآن مجید نے یہ فرمان جاری کر دیا   کہ (لا تعتدوا) یعنی حد سے زیادہ نہ بڑھو ، مطلب یہ ہے کہ جب جذبات پر قابو نہیں رہتا ، آتش انتقام بھڑک رہی ہوتی ہے ، تو خبردار اس وقت بھی کسی پر زیادتی مت کرو ، کیونکہ زیادتی کرنے والوں کو اللہ تعالی پسند نہیں فرماتا ۔عورتوں ، بچوں ، اپاہجوں ، بوڑھوں ، کسانوں ، مزدوروں اور راہبوں پر ہاتھ اٹھانے سے اسلام نے سختی کے ساتھ منع فرمایا۔

مجاہد اور طاؤس نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور مکہ مکرمہ میں ابتداء کسی سے جنگ کرنا جائز نہیں ہے ‘ ہاں ! اگر کافر اور مشرک مسلمانوں پر حرم میں حملہ کریں تو ان کے خلاف مدافعانہ جنگ کرنا جائز ہے۔ (امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی  ھ جامع البیان ج ص ‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ ‘ بیروت ‘ھ) اور یہی صحیح قول ہے ‘ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا یہی مذہب ہے۔ اس قول کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو شریح (رضی اللہ عنہ ) بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : مکہ کو اللہ نے حرم بنایا ہے ‘ اس کو لوگوں نے حرم نہیں بنایا ‘ سو جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مکہ میں خون بہائے اور نہ اس کے کسی درخت کو کاٹے ‘ اگر کوئی شخص مکہ میں قتال کے جواز پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتال سے استدلال کرے تو اس سے کہو : اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی اور تمہیں اجازت نہیں دی ‘ اور میرے لیے دن کی ایک ساعت میں اجازت دی گئی تھی ‘ پھر آج اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی ہے جس طرح اس کی کل حرمت تھی اور جو شخص (یہاں) حاضر ہے وہ غائب کو (یہ حدیث) پہنچا دے۔ (صحیح بخاری ج ص ‘مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ھ)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :{ وَ اقْتُلُوْهُمْ  : اور انہیں قتل کرو۔} آیت مبارکہ میں اوپر بیان کئے گئے سِیاق و سِباق میں فرمایا گیا کہ چونکہ کافروں نے تمہیں مکہ مکرمہ سے بے دخل کیا تھا اور اب بھی تمہارے ساتھ آمادۂ قتال ہیں تو تمہیں دورانِ جہاد ان سے لڑنے ، انہیں قتل کرنے اور انہیں مکہ مکرمہ سے نکالنے کی اجازت ہے جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول نہ کرنے والوں کو مکہ مکرمہ سے نکال دیا گیا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے قتل کا حکم ان کے جرم سے زیادہ بڑا نہیں کیونکہ وہ لوگ فتنہ برپا کرنے والے ہیں اور ان کا فتنہ مسلمانوں کو مکہ مکرمہ سے نکالنا  (  تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ:   ۱۹۱  ، ص  ۸۱  )   

مستشرقین حضرات جو اسلام کے نظریہ جنگ  پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں وہی انصاف سے بتائیں کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی گزری ہے یا آج کی مہذب ومتمدن دنیا میں کوئی قوم ایسی موجود ہے جس کے جنگی قانون میں عدل و انصاف کا یوں لحاظ رکھا گیا ہو ۔آج تو جنگ شروع ہوتی ہے تو پر امن شہریوں اور آباد بستیوں کے ایٹم بموں سے اڑاکر رکھ دیا جاتا ہے ، عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں ، بیماروں ، کسی  سے در گزر نہیں کی جاتی ، ہسپتالوں ، درسگاہوں ، عبادت خانوں تک کا احترام بھی پس پشت ڈال دیا  جاتا ہے ۔ (ضیاء القرآن ج ۱ ص ۱۳۲)

لہذا ، یہ بات بالکل واضح ہے کہ آیت کریمہ "انہیں مارو جہاں کہیں بھی تم انہیں پاو’’ میں وہ تمام مشرکین مراد نہیں ہے جو آج امن وشانتی کے معاہدہ سے دنیا بھر میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ اس میں صرف وہی کفار ومشرکین مراد ہیں جنہو ں نے تقریبا بارہ سالوں تک مکہ میں ظلم وستم کے پہاڑ توڑے تھے ، مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالا تھا اور جب امن کا معاہدہ ہوا تو اسے توڑنے میں پہل کیا ۔آج کی تاریخ میں بھی ہم دیکھتے ہیں جو کوئی ملک کے امن وامان کے لیے خطرہ بن جائے یا بغاوت پر آمادہ ہو جائے تو اس کے خلاف جنگ کا جواز ہے اور یہ قانون دنیا کے تقریبا ہر ملک میں موجود ہے ، خواہ باغی مسلم ہو غیر مسلم۔ مثال کے طور پر ، صلاح الدین ایوبی رحمۃ  اللہ علیہ  نے  فلسطین کی آزادی کی خاطر  جن ظالم حکمرانوں کے جنگ لڑی تھی ان میں بعض لوگ  کلمہ پڑھنے والے مسلم حکمران تھے ۔ لہذا جنگ لڑنے کا جواز اسلام  میں ان کے خلاف ہے جو ظلم وبغاوت کرتے ہیں ۔آج ہمارے ملک میں قانون میں ظلم وبغاوت کی سزا متعین ہے ۔

لہذا مذکورہ آیت کریمہ میں یہ حکم نہیں دیا جارہا ہے کہ کافروں کو قتل کرنے میں لگے  رہو، امن ہو یا جنگ، صلح ہو یا لڑائی ہر حال میں انہیں قتل کرو بلکہ یہاں صرف دورانِ جنگ   ان سے لڑنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ بہت سے اسلام دشمن  اور انتہا پسند لوگ  اس طرح کی آیات سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے لوگوں کی مَکاریوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔    

URL for English Article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/ghulam-ghaus,-new-age-islam/-kill-them-wherever-you-find-them-(2-191)---what-quran-actually-means-by-this-command?/d/102604

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/by-ghulam-ghaus-siddiqi-new-age-islam/kill-them-wherever-you-find-them-2-191--what-quran-actually-means-by-this-command-مشرکوں-کو-جہاں-پاؤ-قتل-کرو-کا-حقیقی-مفہوم/d/122432


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndians Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..