New Age Islam
Tue Nov 30 2021, 12:28 AM

Urdu Section ( 10 Nov 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Maulana Abul Kalam Azad- Social and Political Contribution مولانا ابوالکلام آزاد - سیاسی و سماجی خدمات

بلال احمد پرے، نیو ایج اسلام

11 نومبر 2021

ذاتی تعارف

مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد جب کہ تاریخی نام فیروز بخت تھا - آپ کی کنیت ابو الکلام اور تخلص آزاد تھا - اسی کنیت و تخلص سے آپ زیادہ مشہور و معروف ہوگئے - آپ کے والد گرامی کا نام مولانا محمد خیر الدین اور والدہ محترمہ کا نام عالیہ بنت محمد تھا - آپ کی ولادت جزیرۃ العرب کے مشہور و معروف مقدس شہر مکۃ المکرمہ میں ۱۱ نومبر ۱۸۸۸ ء بمطابق ذوالحجہ ۱۳۰۵ ھ میں ہوئی - آپ کے والد نے آپ کی پیدائش کے تقریباً دو سال بعد ملک ہندوستان کی طرف ہجرت کی اور یہاں شہر کلکتہ کے شہر میں سکونت اختیار کی- آپ کا مادری وطن عرب ہونے کے ساتھ آپ کی مادری زبان عربی تھی - آپ کا سلسلہ نسب مشہور و معروف اسلامی تاریخ کے فلاسفر شیخ جمال الدین افغانی ؒ سے ملتا ہے -

آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے اپنے ہی دینی و اخلاقی گھر میں اپنے شفیق والد بزرگوار کے پاس ہوئی - جس نے آپ کی تعلیم و تربیت میں اپنا خاص کردار ادا کیا - اُن کے علاوہ آپ نے مولوی ابراہیم، مولوی محمد عمر اور مولوی سعادت حسن سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد آپ جامعہ الازھر مصر چلے گئے -

مولانا ابو الکلام آزاد کی سماجی خدمات

مولانا ابو الکلام آزاد مسلمانوں کے لئے تعمیری سوچ و فکر رکھنے والے جید عالم دین، مصلح، محقق، مصنف، مقرر و بے باک خطیب تھے - آپ اپنی قوم کو تہذیب، تمدن اور ثقافت کے علاوہ موجودہ وقت کے حالات کے متعلق روشناس کرانے والے مورخ تھے - مولانا ابو الکلام آزاد ایک ایسی بصیرت افروز شخصیت کا نام تھا جو کسی تعارف کی محتاج نہیں - آپ کی شخصیت زندگی کے مختلف پہلوؤں پر محیط تھی اور جس کا کوئی بھی پہلو پوشیدہ نہیں تھا - آپ تخلیقی صلاحیت کے حامل کار شخصیت تھی - آپ بیک وقت عالمِ دین، سیرت نگار، مُفسر، محقق، ادیب، مفکر، فلاسفر، مصنف، صحافی، شیرین بیان خطیب، آزادی ہند کے نڈر مجاہد اور عظیم قائد کے علاوہ سیاست کے بے مثال مایہ ناز ماہر سیاست دان تھے - الغرض آپ اپنے وقت کے ہر فن میں ماہر تھے - آپ نے تقریباً زندگی کے ہر میدان میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں خواہ وہ تقریر و خطابت ہو یا تصنیف و تالیف، شعر گوئی ہو یا نثر نویسی، سیاسی میدان ہو یا علمی میدان - آپ نے مصنف کا پیشہ اختیار کیا اور اردو زبان کو اپنی پیشہ وارانہ زبان بنا دی -

آپ نے کم عمری سے ہی لکھنا شروع کیا - آپ نے سنہ ۱۸۹۹ ء میں محض گیارہ سال کی عمر میں پہلی بار ماہنامہ "نیرنگِ عالم" جاری کیا - اس کے بعد سنہ ۱۹۰۶ ء میں ہفتہ روزہ اخبار "الہلال" شائع کیا - جس کا اہم مقصد یہی تھا کہ ہندو مسلم اتحاد برقرار رکھا جائے - اس اخبار میں علمی، ادبی، سیاسی، سماجی، تہذیبی،  تمدنی و تواریخی مضامین شائع ہوا کرتے تھے - الہلال کی اشاعت پر برطانوی حکومت نے پابندی عائد کردی تو مولانا نے البلاغ جاری کیا - جس میں علم و ادب، تاریخ و مذہب، سماجیات و معاشرت کے متعلق مضامین شائع ہوتے تھے - مولانا نے سنہ ۱۹۰۹ ء میں ماہوار جریدہ "لسان الصدق" جاری کیا جس سے دیکھ کر مولانا الطاف حسین حالی نے بڑی تعریفیں کی ہے - اس جریدے کا مقصد اصلاحِ معاشرہ، سماج کی ترقی اور زوقِ علم تھا - آپ نے زندگی کے مختلف پہلوؤں پر دو درجن سے زیادہ کتابیں رقم کر ڈالی ہے -

مولانا کا خواب تھا کہ ملکِ ہندوستان کو سائنس اور فنی دنیا میں اپنا ایک منفرد مقام حاصل ہو جس کے لئے آپ نے کئی اہم ٹھوس قدم اٹھائے تاکہ اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا جائے - اسی لئے آپ نے کئی اہم اداروں کا قیام عمل میں لایا - جن میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC)، انڈین کونسل فار اگریکلچر اینڈ سائنٹیفک ریسرچ، انڈیا کونسل فار میڈیکل ریسرچ (ICMR)، انڈین کونسل فار سائنس ریسرچ (ICSR)، سینٹرل کونسل فار انڈسٹریل ریسرچ (CCIR) وغیرہ شامل ہیں - اسی طرح انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلور (IIS) کی توسیع و ترقی عمل میں لائی - نیشنل کونسل فار ٹکنیکل ایجوکیشن کے توسط سے ٹیکنکی تعلیم کو کافی وسعت دی - جس سے ملک کے اندر روزگار کے اور زیادہ مواقع فراہم ہو پائے ہیں - آپ نے سنہ ۱۹۵۱ ء میں ایک اور ایسا کارہائے نمایاں انجام دیا جب آپ نے فنی تعلیم و تربیت کے لئے کھڑک پور انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ٹیکنالوجی کا قیام عمل میں لایا ۔ آپ نے اپنی آخری سانس تک ملک کی اعلٰی اور فنی تعلیم کے لئے بے مثال جدوجہد کی ہے - الغرض مولانا نے جدید ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا ایک اہم اور خاص کردار ادا کیا - 

مولانا ابو الکلام آزاد کی سیاسی خدمات

مولانا نے تحریک آزادئ ہند میں بڑے ہی جوش و جذبہ اور شوق سے حصہ لینا شروع کیا - آپ تحریک آزادئ ہند کے ہیرو ہی نہیں بلکہ انگریزی کے خلاف لڑنے والے صفہ اول کے سپہ سالار تھے - آپ تحریک آزادئ کے اہم ستون مانے جاتے تھے - آپ کے اندر حب الوطنی کا جذبہ بے مثال تھا - آپ قلیل وقت میں سرگرم کارکن کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں - سنہ ۱۹۱۲ ء میں آپ نے مشہور رسائل "الہلال" نکالنا شروع کیا جس سے سیاسی میدان میں کافی تیزی دیکھنے کو ملی - یہی وجہ تھا کہ برطانوی حکومت نے ۱۹۱۴ ء میں پریس ایکٹ کے تحت اس کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی تھی - مولانا کا سیاسی سفر یہی نہیں رکا بلکہ آپ نے اس کے فوراً بعد "البلاغ" نکالنا شروع کیا - اسی طرح سے اپ نے قومی، سیادی، مذہبی اور سماجی اصلاحات کو قوت بخشی - جب پورے ملک میں آپ کی مقبولیت میں اضافہ دیکھنے کو ملا، تو برطانوی حکومت کی طرف سے آپ کو جیل میں قید و بند کی صعوبتیں جھلینی پڑی- ان تمام حالات کے باوجود آپ کبھی دلبرداشتہ نی ہوئے - آپ نے ہمیشہ قوم کو ملک کی سالمیت اور آپسی اتحاد و بھائی چارگی کے برقرار رکھنے پہ زور دے کر اس سے کامیابی کا راز ٹھیرایا ہے -

آپ کو تحریک خلافت اور سول نافرمانی ( Civil Disobedience ) کے بنیادی ممبران میں سے شمار کیا جاتا ہے - آپ نے مہاتما گاندھی جی کی نگرانی میں تحریک عدم تعاون ( Non Cooperation Movement) میں بھی بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا - سنہ ۱۹۴۰ ء میں آپ کانگریس پارٹی کے صدر منتخب ہوئے تو آپ نے دو ٹوک الفاظ میں محمد علی جناح کے دو قومی نظریے (Two Nation Theory) کی سخت مخالفت کی ہے -  آپ نے مذہبی تفریق کے خلاف زور دار آواز اٹھائی اور مسلمانوں کو دشمن عناصر قوتوں سے ہوشیار رہنے کی مؤثر اپیل کی ہے - آپ نے تادمِ حیات ہندو مسلم یکجہتی کے عقیدے کو من و عن قائم رکھا - آپ کا قول " مجھے ہندوستانی ہونے پر فخر ہے " اس بات کی خوب عکاسی کرتا ہے - 

ملک ہندوستان کو ۱۹۴۷ ء میں آزادی حاصل ہونے کے بعد مولانا ابو الکلام آزاد پہلے وزیر تعلیم تھے - وزیر تعلیم کی حیثیت سے آپ نے جو کارہائے نمایاں انجام دئے وہ تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف میں درج ہیں - یہی وجہ ہے کہ ملک آج آپ کی یوم پیدائش کو قومی یومِ تعلیم مناتی ہے - بھارت کو آزادی حاصل ہونے کے بعد آپ نے شہرہ آفاق کتاب "India Wins Freedom " کے نام سے لکھ ڈالی جو آپ کی فکرِ جدوجہدِ آزادی، علمی و فہمی بصیرت، سیاسی و سماجی بلوغیت، تدبرِ قومی سالمیت اور دیگر ایسے بے مثال کارناموں کو عیاں کرتی ہے جو نئی نسل کے لئے ہمیشہ ایک متاثر کن متحرک طاقت کے طور پر رہے گی -

آج کل کے جدید ہندوستان میں مولانا ابو الکلام آزاد کے نام پر کئیں اہم ادارے منسوب کئے گئے ہیں جن میں مشہور و معروف جامع مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU) حیدرآباد، مولانا آزاد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MANIT) بھوپال، مولانا ابو الکلام آزاد انسٹی ٹیوٹ آف ایشین اسٹیدیز (MAIAS) کلکتہ، مولانا آزاد میڈیکل کالج (MAMC) نئی دہلی، مولانا ابو الکلام آزاد عربیک پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، راجستھان، مولانا ابو الکلام آزاد اسلامک اویکنگ سینٹر، نئی دہلی، مولانا آزاد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈینٹل سائنسز، نئی دہلی جیسے اہم ادارے قابل ذکر ہیں-

باالآخر آزاد ہندوستان کا یہ آزاد سچا سپوت ۲۲ فروری ۱۹۵۸ ء کو دہلی میں اس دنیا سے رحلت کر گیا - آپ دلی کی جامع مسجد کے قریب مدفون ہے - الغرض آپ کی سیاسی و سماجی خدمات کا میدان وسیع تر ہے - قوم ہمیشہ آپ کی محسن ہوگی اور ملک کو ہمیشہ ناز رہے گا –

(ہاری پاری گام ترال -رابطہ- 9858109109)

--------

بلال احمد پرے کا تعلق ترال، پلوامہ، جموں و کشمیر سے ہےانہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا ہے۔ مصنف جموں و کشمیر کے مقامی روزناموں میں خاص طور پر اسلامی سماجی مسائل پر دو لسانی (انگریزی اور اردو) زبان میں لکھتے ہیں۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-abul-kalam-azad-social-political/d/125747

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..