New Age Islam
Mon Apr 13 2026, 04:44 PM

Urdu Section ( 2 Jun 2025, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Restoring Bayt al-Maqdis (Jerusalem) as a Common Heritage for Global Peace: A Call for Reflection بیت المقدس (یروشلم) کی عالمی امن کے مشترکہ ورثے کی حیثیت سے بحالی: ایک دعوت فکر

غلام رسول دہلوی، نیو ایج اسلام

 19 مئی 2025

 اس مضمون میں یہودیوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کو بیت المقدس سے متعلق تاریخ، فقہ اور سیاست پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس مقدس مقام کے حوالے سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے، علمی اور فکری مکالمہ بہت ضروری ہے۔

 اہم نکات:

 1. اہم نکات:

 1. یروشلم — جسے اسلام میں بیت المقدس، عربی میں القدس، اور عبرانی میں یروشلم کہا جاتا ہے — مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے ایک عظیم مذہبی اہمیت کا شہر ہے۔ اس کے مقدس مقامات اور تاریخی واقعات تینوں ابراہیمی مذاہب کے عقائد اور معمولات سے جڑے ہوئے ہیں، جس کے سبب یہ دنیا کا ایک منفرد اور قابل احترام شہر بن جاتا ہے۔

 2.  سری لنکا کے صوفی باوا محی الدین، یروشلم کو امن کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کہ اس کا نام لفظی طور پر "سلام" سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب امن ہے۔ وہ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں، کہ یہ شہر جو کہ امن و اتحاد کا گہوار ہونا تھا، اپنے ہی باشندوں کے درمیان تنازعات کی وجہ سے میدان جنگ بنا ہوا ہے۔

 3. ایک مشہور اسلامی اسکالر، مولانا عمار خان ناصر، نے یروشلم کے مذہبی اور سیاسی جہتوں پر وسیع مطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے اسلام میں اس شہر کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، خاص طور پر مسجد اقصیٰ کی اہمیت کو، جو کہ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ وہ مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان مکالمے اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے، مذہبی اور سیاسی تفریق سے بالاتر ہو کر ایک محتاط افہام و تفہیم کی بات کرتے ہیں۔

 4.  مذہبی باتوں سے ہٹ کر، مولانا ناصر بیت المقدس کے تنازعہ کے سیاسی پہلوؤں پر بات کرتے ہیں۔ وہ مذہبی اور سیاسی تفریق سے بالاتر ہو کر مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان مکالمے اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے، اور ایک محتاط افہام و تفہیم کی بات کرتے ہیں۔

------------

بیت المقدس جسے عربی میں القدس اور عبرانی میں یروشلم بھی کہا جاتا ہے، مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے یکساں طور پر، عظیم مذہبی اور روحانی اہمیت رکھتا ہے۔ ان ابراہیمی مذاہب میں سے ہر ایک اپنی مقدس تاریخوں اور عقائد سے گہرے تعلق کی وجہ سے، اس شہر کی تعظیم کرتے ہیں۔ یہ مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے ایک عظیم مذہبی اہمیت کا حامل شہر ہے، کیونکہ اس کے مقدس مقامات اور تاریخی واقعات ان تمام مذاہب کے عقائد اور معمولات سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، جو اسے دنیا کا ایک منفرد اور قابل احترام شہر بناتا ہے۔

 اسرائیل فلسطین تنازعہ کو اکثر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مذہبی جنگ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس میں مذہب کا ایک اہم کردار ہے، لیکن اس تنازعہ کی اصل وجوہات سیاسی، علاقائی اور تاریخی ہیں۔ اگرچہ ان جہتوں کو سمجھنا ایک جامع نقطہ نظر کے لیے بہت ضروری ہے، لیکن یروشلم کی تاریخ اور اس کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے، امن اور ہم آہنگی پر مبنی، ایک بین مذہبی تھیولوجی کی درکار ایک لمبے عرصے سے رہی ہے۔

 یروشلم روحانی اتحاد کی گہری علامت ہے، اور مسلمانوں یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے یکساں طور پر ایک مشترکہ تاریخ ہے۔ اس کی اہمیت مذہبی حدود سے بالاتر ہے، اور ایک مشترکہ ورثے کی نمائندگی کرتی ہے، جسے اگر اجتماعی طور پر اپنا لیا جائے، تو نہ صرف خطے میں بلکہ پوری دنیا میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اسرائیل-فلسطین تنازعہ میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان موجود گہرے تنازعہ کو دیکھتے ہوئے، جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت غیر جنگجو شہریوں کی نسل کشی ہوئی ہے، عالمی امن کی بحالی کے لیے بیت المقدس (یروشلم) کو مشترکہ ورثے کے طور پر بحال کرنا ضروری ہے۔

 میں نے کہیں اور لکھا ہے، کہ کس طرح سری لنکا کے ایک عظیم صوفی باوا محی الدین نے یروشلم کی عظیم روحانی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، اور اس کے اندر یہودی-مسیحی-مسلم امن اور ہم آہنگی کے امکانات پر بات کی ہے۔ اپنی تحریروں میں، انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ "یروشلم" کا نام لفظی طور پر "سلام" سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب امن ہے، جس سے اس شہر کے امن اور اتحاد کا داخلی تعلق واضح ہوتا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یروشلم مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے یکساں طور پر ایک مقدس شہر ہے، اور کہا ہے کہ "خدا یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو یکساں طور پر قبول کرتا ہے۔ سبھی یروشلم میں پائے جاتے ہیں۔ پھر بھی، جو لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے، وہ اس سرزمین کے لیے لڑتے رہتے ہیں، حالانکہ اس کا نتیجہ صرف تباہی کی صورت میں ہی برآمد ہوتا ہے۔" انہوں نے یروشلم پر تنازعات کے تاریخی حقائق پر مزید غور کرتے ہوئے کہا، "یروشلم آج اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح عبادت گاہیں، جہاں سب کو اتحاد کے ساتھ جانا چاہیے، میدان جنگ میں تبدیل ہو گئے ہیں۔"

قیام امن کے لیے غور و فکر کی دعوت

 فروری 1980 کے ایک خط میں، باوا محی الدین نے عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے، ان سے کہا کہ وہ جاری تنازعات کی تباہ کاریوں اور اتحاد کی اہمیت پر غور کریں۔ انہوں نے زمینوں پر لڑائی اور فتح کرنے کے مقصد پر سوال اٹھایا، اور پرزور انداز میں یہ کہا کہ کوئی بھی فاتح ہمیشہ زندہ نہیں رہتا، اور مسلسل جنگ صرف تباہی کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے التجا کی، "ہمیں ماضی میں جو کچھ ہوا ہے اس کا تجزیہ کرنا چاہیے، اور یروشلم میں قیام امن کا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔"

 درحقیقت، یروشلم پر اس طرح کے روحانی تبصرے، اس مقدس شہر کی امن کی تلاش میں انسانیت کو متحد کرنے کی صلاحیت کی ایک لازوال یاد دہانی ہیں، اور اس عظیم مقصد کے حصول میں عام انسانوں اور رہنماؤں کو یکساں طور پر اپنے کردار پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس کے لیے اجتماعی طور پر، یروشلم کے مشترکہ روحانی ورثے کو اپناتے ہوئے، امن اور افہام و تفہیم کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے، مذہبی اور نظریاتی تقسیم سے بالاتر ہونے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس جذبے کے تحت، آئیے اس بات پر ایک نظر ڈالتے ہیں، کہ بیت المقدس (یروشلم) کو یہودی-مسیحی اور مسلم تناظر میں کس طرح اور کیوں اہمیت حاصل ہے:

 مسلمان یروشلم کو مقدس اس لیے مانتے ہیں کیونکہ وہاں مسجد اقصیٰ ہے، جو اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، اور پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں یہیں سے اپنے آسمانی سفر کا آغاز کیا تھا۔ یہودی تاریخی طور پر یہاں فرسٹ اور سیکنڈ ٹیمپل کی موجودگی کی وجہ سے اس شہر کو مقدس سمجھتے ہیں، جہاں مغربی دیوار ان کی عبادت کی ایک مرکزی جگہ ہے۔ عیسائی یروشلم کو یہاں یسوع مسیح کے مصلوب کیے جانے اور دوبارہ جی اٹھنے کی جگہ ہونے کی وجہ سے مقدس مانتے ہیں، چرچ آف ہولی سیپلچر ان اہم واقعات کی علامت ہے۔ اس طرح، یہ مشترکہ مذہبی وراثتیں یروشلم کو، تینوں ابراہیمی مذاہب میں مقدس مرکزی حیثیت کا حامل مقام بناتی ہیں۔ اپنی مذہبی اہمیت سے ہٹ کر، یروشلم ثقافتی اور تاریخی ہم آہنگی کا زندہ ثبوت ہے۔ شہر کا فن تعمیر، روایات اور روزمرہ کی زندگی صدیوں کی متنوع روایت و ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔ یونیسکو نے یروشلم کے پرانے شہر کو عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر تسلیم کیا ہے، جس سے انسانیت کے لیے اس کی عالمی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

اسلامی نقطہ نظر

 یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ قرآن میں اس کا تذکرہ ایک بابرکت جگہ کے طور پر کیا گیا ہے: "پاک ہے وہ ذات جو لے گئی راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک، جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی ہے..." سورۃ الاسراء۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج میں مکہ سے یروشلم لے جایا گیا، اور یہاں سے آپ آسمانوں پر تشریف لے گئے۔ نماز کا قبلہ کعبہ قرار دیے جانے سے پہلے، مسلمانوں کا قبلہ یروشلم ہی تھا۔ یہ مانا جاتا ہے کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام سابقہ ​​انبیاء کی مسجد اقصیٰ میں امامت کی، جو کہ تمام ابراہیمی مذاہب کے درمیان اتحاد کی علامت ہے۔

 یہودی نقطہ نظر

 یروشلم میں ٹمپل ماؤنٹ کو یہودیت میں مقدس ترین مقام سمجھا جاتا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ فرسٹ اور سیکنڈ ٹیمپل یہیں ہے، جو یہودیوں کی عبادت اور تاریخ کا مرکز ہے۔ یہودی روایت میں یہ بھی مانا جاتا ہے کہ ٹیمپل ماؤنٹ پر واقع "صخرہ مقدسہ" وہ جگہ ہے جہاں سے دنیا کی تخلیق ہوئی تھی۔ بہت سے یہودیوں کا خیال ہے کہ ہیکل ثالث، جب مسیح کا ظہور ہوگا تو ٹمپل ماؤنٹ پر بنایا جائے گا۔

 عیسائی نقطہ نظر

 عیسائیوں کے لیے، یروشلم یسوع مسیح کی زندگی کا مرکزی مقام ہے، بشمول ان کی مصلوبیت اور دوبارہ زندہ کیے جانے کے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ یروشلم کا چرچ آف دی ہولی سیپلچر ہی وہ جگہ ہے۔ یروشلم کے مختلف مقامات عیسائی روایت میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں، جیسے کہ ڈولوروسا کے راستے، جس کے ذریعے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کیے جانے کے لیے لے جایا گیا تھا۔ مزید برآں، یروشلم صدیوں سے عیسائیوں کے لیے ایک اہم زیارت گاہ رہا ہے، جو ان کے مذہب کی اصل اور تاریخ کی علامت ہے۔

 پرامن بقائے باہمی کے لیے اقدامات

 یروشلم کی متنوع برادریوں کے درمیان، امن اور باہمی احترام کو فروغ دینے کے لیے مختلف کوششیں کی گئی ہیں:

 Neve Shalom/What al-Salam: اسرائیل میں ایک تعاون پر مبنی گاؤں، جسے یہودی اور عرب شہریوں نے قائم کیا تھا، جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ پرامن بقائے باہمی ممکن ہے۔

 ٹالرینس مونیومنٹ: یروشلم میں ایک بیرونی مجسمہ، جو اس کے باشندوں کے درمیان امن اور رواداری کے لیے، اس شہر کے عزم کی علامت ہے۔

بین المذاہب مکالمہ: پروگرام اور اقدامات جن کا مقصد شہر کی مذہبی برادریوں کے درمیان افہام و تفہیم اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔

تاہم، یروشلم کو مشترکہ ورثے کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے، اس کے تحفظ اور سب کے لیے مساوی مواقع کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ اردن کی ہاشمی سلطنت نے تاریخی طور پر، یروشلم میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات پر ایک حفاظتی کردار ادا کیا ہے، اس ذمہ داری کی تصدیق بین الاقوامی معاہدوں میں کی گئی ہے۔

امن کے راستے

 یروشلم کو امن کے مشترکہ ورثے کے طور پر بحال کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:

 بین الاقوامی شناخت: یروشلم کے مذہبی مقامات کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ، اسے تمام مذاہب کے لوگوں لیے کھلے شہر کے طور پر بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

 جامع نظام حکومت: ایسے طریقہ کار کا قیام جو اس بات کو یقینی بنائے کہ شہر کی انتظامیہ میں سب کا عمل دخل ہو۔

 ثقافتی تبادلہ: ایسے پروگراموں کو فروغ دینا جن میں یروشلم کے متنوع ورثے اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔

 تنازعات کا حل: شہر کے ارد گرد سیاسی اور علاقائی تنازعات کو حل کرنے کے لیے بات چیت اور مذاکرات میں شامل ہونا۔

امن و سلامتی کے علمبردار کے طور پر یروشلم کی صلاحیت، ایک مشترکہ ورثہ کے طور پر اسے تسلیم کیے جانے میں مضمر ہے، جو مذہبی اور سیاسی تقسیم سے بالاتر ہو۔ اس راستے کو اپناتے ہوئے، یہ شہر بین المذاہب اتحاد اور دنیا کے لیے امید کی علامت کے طور پر، اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

 معروف اسلامی اسکالر اور محقق مولانا عمار خان ناصر نے یروشلم (بیت المقدس) کے مذہبی اور سیاسی جہتوں کا، خاص طور پر اسلامی فقہ اور بین المذاہب تعلقات کے تناظر میں وسیع مطالعہ کیا ہے۔ ان کی قابل ذکر تصنیف، مسجد اقصیٰ کی تاریخ اور حق تولیت میں، اس مقدس مقام کے تاریخی، مذہبی اور سیاسی پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

مولانا ناصر اپنی تحقیق میں اس بات پر زور دیتے ہیں، کہ بیت المقدس کی اسلام میں زبردست اہمیت ہے، مسجد اقصیٰ ہی مکہ اور مدینہ کے بعد اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ وہ اس کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کعبہ کے قبلہ بنائے جانے سے پہلے، یہی مسلمانوں کا قبلہ اول تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر معراج بھی اسی مقدس مقام سے شروع ہوا تھا۔

 مذہبی باتوں سے ہٹ کر، مولانا ناصر بیت المقدس کے تنازعہ کے سیاسی پہلوؤں پر بات کرتے ہیں۔ وہ مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان مکالمے اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے، مذہبی اور سیاسی تفریق سے بالاتر ہو کر، ایک محتاط افہام و تفہیم کی بات کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے، کہ یہ تنازعہ صرف مذہبی نہیں ہے، بلکہ تاریخی رسہ کشی اور سیاسی جدوجہد سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا تجزیہ حنفی مکتبہ فکر سے جڑا ہوا ہے جس سے ان کے علمی پس منظر کی عکاسی ہوتی ہے۔

 بیت المقدس کے بارے میں مولانا ناصر کے نقطہ نظر کی جامع تفہیم میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے، ان کی اردو کتاب مسجد اقصیٰ کی تاریخ اور حق تولیت کافی اہم ہے۔ یہ بیت المقدس سے متعلق مذہب، تاریخ اور سیاست کے پیچیدہ تعامل پر، قیمتی بصیرت فراہم کرتی ہے، اور اس مقدس مقام سے متعلق مسائل کو سمجھنے، اور ان سے نمٹنے کے لیے ایک متوازن اور بصیرت افروز نقطہ نظر کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

 -----

English Article: Restoring Bayt al-Maqdis (Jerusalem) as a Common Heritage for Global Peace: A Call for Reflection

 URL: https://newageislam.com/urdu-section/bayt-al-maqdis-jerusalem-heritage-global-peace/d/135747

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..