New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 09:09 PM

Urdu Section ( 26 Feb 2018, NewAgeIslam.Com)

Quran's Lessons of Brotherhood and Tolerance قرآن کا بھائی چارے و رواداری کا درس

 

 

باسل حجازی، نیو ایج اسلام

اسلام اقوامِ عالم کے ساتھ اچھے تعلقات کا درس دیتا ہے اور رواداری اس کی اہم خصوصیات میں شامل ہے، اسلامی احکامات اور اس کے معاشرتی تعلیمات میں یہ چیزیں با آسانی نوٹ کی جاسکتی ہیں، یوں اسلامی شریعت نہ صرف مسلمانوں کے باہمی تعلقات کو منظم کرتی ہے بلکہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ بھی اسی سطح کے روادارانہ تعلق پر زور دیتی ہے۔

اللہ تعالی نے انسانوں کے باہمی تعلق کو الفت وبھائی چارے پر مبنی قرار دیا ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ (مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں) الحجرات 10، اور اس تعلق کو تعصب، غصے اور نفرت سے پاک قرار دیا ہے: إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاء ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ (اللہ انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو خرچ سے مدد دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے) النحل 90، سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اسی پر مبنی تھی۔

قرآن مسلمانوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ آپسی معاملات کے حل کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں: وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (اور دیکھو نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔ اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں کسی کے ساتھ تعاون نہ کرو) المائدہ 2، بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الجمل، صفین اور النہروان کی تینوں جنگوں کے اپنے دشمنوں پر کوئی الزام دھرنے کے بجائے فرماتے تھے کانوا اخوانا لنا فظلمونا (وہ ہمارے بھائی تھے مگر انہوں نے ہمارے ساتھ زیادتی کی) اور ان کے ساتھ دیگر مسلمانوں کی طرح اچھا سلوک روا رکھتے تھے.

قرآن اپنے ماننے والوں کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے مشرک دشمنوں کے ساتھ ظلم نہ کریں حتی کہ گالی دینے سے بھی گریز کریں: وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ فَيَسُبُّواْ اللّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ (اور جن لوگوں کو یہ مشرک اللہ کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں اللہ کو بے ادبی سے بے سمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں) الانعام 108، کیونکہ اللہ تعالی نے ہر زمان ومکان کے لیے آدابِ معاشرت کی پابندی لازمی قرار دی ہے لہذا کسی کے عقائد کی تضحیک کی سخت ممانعت ہے، اور اگر کفار مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچائیں تو ان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے جاسکتے ہیں: لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ (جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تمکو تمہارے گھروں سے نکالا انکے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے اللہ تمکو منع نہیں کرتا) الممتحنہ 8، تاہم کفار کی جانب سے حملہ کرنے کی صورت میں اس کا جواب دیا جائے گا: وَقَاتِلُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ (اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں تم بھی اللہ کی راہ میں ان سے لڑو۔ مگر زیادتی نہ کرنا) البقرہ 190، اور اس بات پر تو شاید تمام اقوام متفق ہیں کہ حملہ آور کو جواب دیا جانا چاہیے، تاہم اگر کفار صلح پر آمادہ ہوں تو اسلام حکم دیتا ہے کہ صلح کی ایسی آفر فوراً قبول کر لینی چاہیے: وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ (اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو) الانفال 61، صلح اور جنگ میں بھی اسلام کے اپنے خصوصی احکامات واصول ہیں جن کے مطابق بوڑھوں، عورتوں، بچوں اور قیدیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور دشمنوں کا پانی بند نہیں کیا جائے گا مزید برآں قران حکم دیتا ہے کہ جس قدر ممکن ہو دشمنوں کے ساتھ تحمل، رواداری اور تساہل سے کام لیا جائے اور ان کے اعمال کو نظر انداز کرتے ہوئے معافی اور صلح کو مقدم رکھا جائے: وَلاَ تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىَ خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ إِلاَّ قَلِيلًا مِّنْهُمُ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم ان کی ایک نہ ایک خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو۔ سو انہیں معاف رکھو اور ان سے درگذر کرو اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔) المائدہ 13، ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ وصیت بھی کی جاتی ہے کہ کفار کے معاشرتی اور معاشی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے جس سے متاثر ہو کر شاید ان کے دل اسلام کی طرف متوجہ ہوں۔

کچھ آیات کے ظاہر سے لگتا ہے کہ یہ مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ دوستی سے منع کرتی ہیں: لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء (مومنوں کو چاہیے کے مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں) آل عمران 28، تاہم دیگر آیات کے سیاق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کا حکم ان غیر مسلموں تک محدود یا مخصوص ہے جو اسلام کو نقصان پہنچانے کی غرض سے کسی فتنے کی تیاری میں ہیں: ياأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لاَ يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّواْ مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الآيَاتِ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ (مومنو! کسی غیر مذہب کے آدمی کو اپنا رازدار نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ جس طرح ہو تمہیں تکلیف پہنچے۔ ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہو ہی چکی ہے۔ اور جو کینے ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں۔ اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں۔) آل عمران 118، ایسے لوگوں سے قطع نظر دیگران کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں کوئی حرج نہیں: عَسَى اللَّهُ أَن يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ عَادَيْتُم مِّنْهُم مَّوَدَّةً (عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم دشمنی رکھتے ہو دوستی پیدا کر دے) الممتحنہ 7۔

کچھ احکامات ایسے بھی ہیں جن سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ یہ آیات غیر مسلموں کے ساتھ رواداری کے خلاف ہیں یا اس سے منع کرتی ہیں جیسے اگر غیر مسلم اسلام کے زیرِ سایہ رہتے ہوں تو ان پر جزیہ فرض کر دیا گیا ہے تاہم اگر تفصیل میں جایا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس حکم کا مقصد اسلامی مملکت کے اقتصادی ڈھانچے کو تقویت بخشنا ہے، دوسری طرف دیکھا جائے تو خود مسلمان بھی ایسی چیزوں سے مبرا نہیں ہے بلکہ اسے بھی خمس اور زکات ادا کرنی ہے جو مالیاتی اعتبار سے جزیہ سے زیادہ بڑا بوجھ ہے، سورہ توبہ کی آیت نمبر 29 جس میں جزیہ کا حکم دیا گیا ہے (حَتَّى يُعْطُواْ الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ) اکثر مفسرین کے نزدیک غیر مسلموں کی کوئی تذلیل نہیں کر رہی بلکہ اکثر فقہاء ومفسرین کا خیال ہے کہ آیت میں لفظ صاغرون کا مطلب غیر مسلموں کی اسلامی حکومت کی اطاعت ہے، اور اگر اس مفہوم کا دیگر آیات سے موازنہ کیا جائے جن میں غیر مسلموں کے ساتھ بھائی چارے اور رواداری روا رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تو یہی تفسیر اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے اور قرآن کی ثقافت سے میل کھاتی ہے، اس میں سیرتِ نبوی کی ان روایات کا جمِ غفیر بھی شامل کیا جاسکتا ہے جو غیر مسلموں کے ساتھ الفت وبھائی چارے کا درس دیتی ہیں۔

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..