New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 11:04 PM

Urdu Section ( 25 March 2018, NewAgeIslam.Com)

ISIS In Africa -A Threat to African Peace افریقہ میں داعش کا وجود افریقی امن کے لیے خطرہ ہے

 

 

 

باسل حجازی، نیوایج اسلام

بطور تنظیم "داعش" افریقہ کی مٹی میں پیدا نہیں ہوئی، غربت کے مارے افریقہ کی اپنی کمزوریاں ہیں، وہاں غربت ٹوٹ کر ہے، بنیادی ڈھانچہ ندارد ہے، لیڈر وڈکٹیٹر آپس میں دست وگریباں ہیں، اور خواندگی کی شرح پر تو ماتم ہی کیا جاسکتا ہے، چھوٹی موٹی "قاعدی" و "اخوانی" ٹائپ کی پُر تشدد تنظیموں کے وجود سے انکار نہیں جو "داعش" کے اپنے وجود سے بھی پہلے کی ہیں، ایسی ہی کمزوریوں کے سبب داعش کو ریکارڈ وقت میں افریقہ میں پھیلنے کا موقع مل گیا، یوں یہ پہلے افریقہ کے عربی شمال میں پھیلنا شروع ہوئی جیسے لیبیا، تیونس اور الجزائر، مصریوں اور مراکشیوں کو بھی اس میں دلچسپی پیدا ہوئی جہاں سے بہت سے لوگ تو واقعی داعش میں شامل ہونے کے لیے شام تک گئے، پھر یہ پھیلاؤ سوڈان اور وسطی افریقہ کی طرف جاتا ہے اور مغرب کی طرف چاڈ، نائجر اور مالی سے ہوتا ہوا نائجیریا کی طرف گھوم جاتا ہے جہاں "بوکو حرام" کی دہشت کا راج چلتا ہے جس کے سرغنہ "ابو بکر شیکاؤ" نے ایک آڈیو ریکارڈنگ میں داعش سے بیعت کا اعلان کیا تھا اور اس "بیعت" نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

اس برِ اعظمِ سیاہ میں پھیلاؤ کے لیے داعش تین بنیادی عناصر پر انحصار کرتا ہے جنہیں اس طرح سے بیان کیا جاسکتا ہے:

1- القاعدہ کی وراثت: 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد القاعدہ نے کامیابی کے ساتھ افریقہ کے متعدد ممالک میں اپنا نیٹ ورک قائم کر لیا تھا، بالخصوص ان ممالک میں جہاں مسلم اکثریتی آبادی موجود ہے یا جہاں مسلمان پہلی یا دوسری بڑی اقلیت ہیں، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ القاعدہ نے اپنی شاخوں پر کنٹرول کھو دیا اور ایک اتار چڑھاؤ والی متحرک تنظیم سے فرضی دنیا میں قائم ایک تصور کے طور پر باقی رہ گئی، انتہاء پسندوں میں اس کی چمک جاتی رہی اور ساتھ ہی دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی اس کی صلاحیت بھی، پھر جب داعش پہلی بار منظرِ عام پر آئی اور ایک ایسی مسلح مذہبی تنظیم کا نمونہ پیش کیا جو ایک بڑے جغرافیائی علاقے میں اپنی حکومت قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو اس نے افریقہ سمیت دنیا بھر کے متشدد دہشت گرد تنظیموں کی توجہ حاصل کر لی اور انہوں نے اپنی بیعت القاعدہ سے داعش کی طرف منتقل کردی۔

2- فکر کی ترویج: داعش کی فکر جس نے بیشتر افریقی انتہاء پسند تنظیموں کو اپنی طرف متوجہ کیا، اپنا آپ میں کوئی عمیق فکری نظریات کی حامل فکر نہیں ہے، یہ محض ایک عملی قدم سے زیادہ کچھ نہیں ہے، داعش نے جہاد الطلب، الولاء والبراء اور خلافت جیسے تاریخی نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہی چنانچہ افریقہ میں سرگرم ایسی تنظیموں میں ان عملی کارگزاریوں کی مارکیٹنگ بڑی آسانی سے کی جاسکتی ہے اور انہیں اپنا تابع بنایا جاسکتا ہے، سلفی نظریات کے حامل افراد بھی اس سے بڑی حد تک متاثر ہوسکتے ہیں۔

3- ناکامیوں سے فائدہ اٹھانا: کرپشن، سیاسی بحران اور اقتدار کی رسہ کشی کے شکار ناکام ممالک میں دہشت گرد تنظیموں کو مناسب اور ہموار ماحول میسر ہوتا ہے جہاں سے وہ نہ صرف اپنے حامی پیدا کر کے انہیں اپنی صفوں میں بھرتی کر سکتے ہیں بلکہ جاری سیاسی بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملکی ایوانوں کو مزید کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ انارکی پھیلے اور اقتدار تک پہنچنے کے راستے ان کے لیے ہموار ہوتے چلے جائیں، اس ضمن میں داعش کو بھی کوئی استثناء حاصل نہیں ہے، دیگران کی طرح یہ تنظیم بھی اسی تاڑ میں رہتی ہے۔

بہرحال جہاں دیگر بر اعظموں سے مختلف چھوٹی بڑی تنظیمیں داعش سے وفاداری کا اعلان کر رہی ہیں وہاں افریقہ بھی کسی طور پیچھے نہیں ہے جہاں بہت سی چھوٹی بڑی تنظیموں نے داعش سے بیعت کا اعلان کیا ہے، مصر کے جزیرہ نما سیناء کی بات کریں تو انصار بیت المقدس داعش سے بیعت کا اعلان کر چکی ہے، اس تنظیم کا ایک حصہ غزہ کی پٹی سے آیا ہے جس نے مقامی تنظیم التوحید والجہاد میں ضم ہوکر یہ تنظیم تشکیل دی ہے۔

الجزائر میں جند الخلیفہ نامی تنظیم ہے جو دراصل القاعدہ کی ہی شاخ تھی تاہم اس کے علاقائی امیر خالد ابو سلیمان نے القاعدہ سے گویا غداری کرتے ہوئے داعش سے بیعت کا اعلان کر دیا جس کے بعد یہ تنظیم حکومت کے خلاف بر سرِ پیکار ہوگئی اور اس ٹکراؤ میں اس کے کئی اہم قائدین مارے گئے جیسے قوری عبد المالک جو جزائری فوج کے ساتھ ایک سخت مسلح تصادم میں مارا گیا، یہ تنظیم غیر ملکیوں کے اغوا وقتل میں بھی ملوث رہی ہے۔

تیونس میں انصار الشریعہ موجود ہے جس نے فوج کے خلاف کئی دہشت گرد حملے کیے، اس تنظیم کے نمایاں حملوں میں بارڈو نیشنل میوزم پر حملہ تھا جس میں 23 لوگ مارے گئے اور 50 زخمی ہوئے، اس کے علاوہ کتیبہ عقبہ بن نافع نامی تنظیم بھی ہے، مذکورہ دونوں تنظیمیں داعش سے بیعت کر چکی ہیں۔

لیبیا میں داعش بہت طاقتور ہے، اس کی صفوں میں شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے ہزاروں جنگجو شامل ہیں، داعش لیبیا کی کوشش ہے کہ وہ مشرق میں مصر اور مغرب کی طرف تیونس اور الجزائر کی طرف پیش قدمی کرے۔

اگرچہ داعش کی پوری کوشش ہے کہ صومال کی حرکۃ الشباب کو اپنے ساتھ شامل کر لیا جائے تاہم وہ نائیجیریا کی بوکو حرام سے بیعت لینے میں کامیاب رہی، انسانیت سوز جرائم میں ملوث بوکو حرام کی بیعت سے افریقہ میں داعش کو تقویت حاصل ہوگی، تنظیم کو ٹریننگ، اسلحہ ذخیرہ کرنے اور بھرتی کے لیے مناسب سہولیات میسر آجائیں گی جس سے مشرق میں سوڈان کی طرف پیش قدمی ممکن ہوسکے گی، اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دارفور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن سکتا ہے۔

اس سے قبل داعش یہ اعلان کر چکی ہے کہ سوڈان سمیت شمالی افریقہ کے تمام ممالک اس کے صوبے ہیں، اگرچہ یہ اعلان محض نظریاتی تھا تاہم یہ اعلان تنظیم کے عزائم ضرور واضح کرتا ہے، افریقہ میں داعش کا پھیلاؤ اس برِ اعظم کے لیے شدید حفاظتی، سیاسی اور معاشی ابتری کا باعث بنے گا، کمزور ممالک کے لیے اس کا سامنا مشکل ہوگا، کچھ دیگر ممالک میں فوج اور سیکورٹی فورسز کے مسائل میں اضافہ ہوجائے گا جبکہ سیاسی سطح پر یہ ایک درد سر بن جائے گی، اگر داعش کا وجود رہا تو لیبیا شاید ہی کبھی ایک ہوپائے، تیونس میں بھی داعش کی پوری کوشش ہے کہ لڑائی کو دار الحکومت کی سڑکوں تک پھیلا دیا جائے۔

الجزائر جو ماضی میں ایک خونریز دہائی میں ایک لاکھ سے زائد لاشیں اٹھا چکا ہے ان تنظیموں پر سخت نظریں رکھے ہوئے ہے جنہوں نے ابھی تک ہتھیار نہیں ڈالے اور قومی دھارے میں شامل نہیں ہوئیں جن میں سے کچھ داعش سے بیعت بھی کر چکی ہیں جبکہ مصر کی حالت بری ہے جہاں تقریباً روزانہ کی بنیادوں پر سیناء سمیت ملک کے مختلف حصوں میں حملے کیے جا رہے ہیں۔

اگر داعش مغربی افریقہ میں قدم جمانے میں کامیاب ہوگئی تو وہاں سے یورپ اور امریکہ کو تیل کی ترسیل خطرے میں پڑجائے گی جس سے بین الاقوامی مداخلت کا ایک نیا باب کھلنے کا امکان ہے، طویل عدم توجہی کے بعد امریکہ کو اچانک مغربی افریقہ کے ممالک میں دلچسپی پیدا ہوگئی ہے، تازہ ترین جیولاجیکل سروے بتاتے ہیں کہ یہ ممالک تیل کے ذخائر سے مالا مال ہیں۔

عراق اور شام کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر کے اور اسے بلیک مارکیٹ میں فروخت کر کے داعش نے اسے اپنی آمدنی کا ذریعہ بنا لیا تھا، کمزور افریقہ میں داعش یہ کوشش پھر سے دہرا سکتی ہے اور افریقہ کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر سکتی ہے یا انہیں تباہ کر سکتی ہے، الغرض افریقہ میں داعش کا وجود افریقی امن کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتا ہے اور اس کے معاشی وسائل پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..