New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 08:05 PM

Urdu Section ( 19 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Saudi Women Victims of ‘Restriction for Protection’ 'تحفظ کے لئے پابندی' کا شکار سعودی خواتین

 

بدریہ البشر

27 اپریل 2013

(انگریزی سے ترجمہ  ،  نیو ایج اسلام)

میں اپنی بیٹی کے ساتھ گزشتہ ہفتے دبئی ہوائی اڈے پر پہنچی ۔ اس وقت تقریباً آدھی رات تھی  اور میں قطار میں ایک ٹیکسی کا انتظار کر رہی تھی جیسا کہ کسی بھی دوسرے ملک میں کرتی ہوں  ۔ جب میری  باری آئی تو ٹیکسی کے قریب کھڑی ایک عورت کو دیکھ کر مجھے  حیرانی ہوئی جو ایئر ہوسٹس کی طرح لباس میں تھی  جس پر دبئی روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا نشان لگا ہوا تھا ۔ یہ جانچ کر لینے کے بعد کہ میں نے اپنا سامان ٹرنک میں رکھ دیا ہے، وہ وہیل کے پیچھے بیٹھ گئی  اور گاڑی چلائی ۔

ایسا پہلی مرتبہ  نہیں تھا جب میں نے  کسی خاتون ٹیکسی ڈرائیور کو  دیکھا ہو تا ہم  میں حیرت زدہ تھی،   اس لئے کہ میں ریاض سے واپس آ رہی تھی جہاں میں نے یہ تسلیم کرتے ہوئے  شیخ کا یہ  بیان یہ پڑھا تھا کہ   سعودی عرب میں خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندی کا مقصد " ان کی عفت و عصمت، اخلاق اور حفاظت کو محفوظ کرنا  ہے  ۔ "

بیان میں مزید یہ تھا کہ خواتین کو گاڑی چلاتے وقت کی غلطیوں اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے امکانات  زیادہ ہیں، لیکن شیخ نے کہا ہے کہ سب سے زیادہ یہ کہ  " مرد زبانی طور پر گلیوں اور بازاروں میں  خواتین کو ہراساں کرتے ہیں  یہاں تکہ کہ جب وہ اپنے سرپرستوں کے ہمراہ ہوتی ہیں جب بھی ۔" پھر انہوں نے پوچھا: "جب وہ ایک کار چلائیں گی تو  کیا ہو گا؟"

میں نے اپنے آپ  میں سوچا کہ اگر شیخ اب ہم تینوں کو  گھر جاتے  ہوئے  کار میں دیکھ سکتے جو کہ  ہوئی اڈے سے آدھے گھنٹے کی دوری پر ہے ، جہاں نہ ہی ہمیں کوئی کار  پریشان کر رہاہے اور نہ ہی کوئی نا عاقبت اندیش انسان سڑک کو جام کر رہا ہے ،ہم صحیح معنوں میں محفوظ تھے۔ میں نے دبئی میں اپنے قیام کے دوران ان پرامن لمحات کو گذارا، اور میں نے  اپنے ارد گرد خواتین کو  اپنی کاریں چلاتی ہوئی  دیکھی- ان کے درمیان بے پردہ غیر ملکی خواتین تھیں ، پردے میں خلیج کی خواتین تھیں اور کچھ ایسی بھی خواتین تھیں جنہوں  نے  ایک سیاہ پردے سے اپنا ب پورا چہرہ چھپا رکھا تھا  اور کسی کے اندر ان کے ساتھ  برا سلوک کرنے اور ان کے ساتھ تشدد  کرنے کی ہمت نہیں تھی ۔ لوگ سڑکوں پر اسلامی قانون کی پاکدامنی کے ساتھ پیش آتے ہیں جو  مردوں اور عورتوں دونوں پر کسی بھی تشدد کی ممانعت کرتی ہے ۔ سعودی عرب میں خواتین اس وقت بھی محفوظ  نہیں ہیں جب وہ اپنے  سرپرستوں کے ساتھ ہوتی ہیں  تو دبئی میں دیر رات کو عورتیں کیسے محفوظ ہو سکتی ہیں ؟

وہ اسلامی ذمہ داری کہاں ہے جو اسلام  کے الفاظ میں نازل کی گئی تھی جب عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرما یا  کہ: "اگر ایک خچر کو ٹھوکر لگتی ہے تو مجھے اس بات کا خوف ہو گا کہ اللہ مجھ سے پوچھ گا کہ تم نے اس کے لئے سڑک کو  ہموار کیوں نہیں کیا" کیا وہ خچر کے لئے راہ ہموار کرتے  اور خواتین کے لئے نہیں ؟ اگر کوئی ان معاشروں میں باہر آئے اور یہ کہے کہ  خواتین کو گھر پر بیٹھنا چاہئے اور باہر سڑکوں پر نہیں جانا چاہیئے تاکہ  ان کی عفت و عصمت اور آداب محفوظ رہ  سکیں  تو کیا ہو ؟ اگر کوئی یہ کہےکہ جب عورت باہر جاتی ہے اور زبانی یا جسمانی طور پر اذیت کا  شکار ہوتی  ہے تو یہ   گھرسے باہر نکلنے کی ا سکی سزا ہے تو کیا ہو گا  ؟ کس انسانی تہذیب یا مذہب میں اس منطق کو درست پایا جاتا ہے؟

مسلمان کس طرح اس منطق کا دفاع کر سکتے ہیں؟ چودہ سو سال  پہلے خواتین کس طرح کسی رکاوٹ یا تقسیم کے بغیر  ایک دن میں پانچ مرتبہ مردوں کے ساتھ نماز ادا کرنے مسجد میں جا یا کرتی تھیں وہ صرف نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اس قول کے ذریعہ محفوظ تھیں کہ  : " اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد میں جانے سے مت روکو ۔ "آج، خواتین مساجد میں نہیں جاتی ہیں، اس کے بجائے انہیں اس  بات کی تنبیہ کی جاتی ہے کہ  اگر وہ اپنے  سرپرستوں کے ساتھ بھی ہوں تو انہیں ہراساں کیا جا سکتا ہے ۔ لہٰذا  ان کی عفت و عصمت کے تحفظ کا حل انہیں باہر  جانے سے منع کرنا ہے ایک منطق کے مطابق یہ صحرا کی منطق کے قریب ہے یہ ملک، شہری سوسائٹی اور مذہب کی منطق نہیں ہے ۔

خواتین کا اپنے گھروں کے اندر رہنا  خستہ ٹریفک کے بنیادی ڈھانچے کو ٹھیک نہیں کرے گا، اس کے بجائے ہم اس فساد کے زیادہ سے زیادہ روادار ہو جائں گے ، یہ نازک اخلاقیات کے  تعلیمی نظام کو ٹھیک نہیں کرے گا ۔ اگر خلل پیدا کرنے والے  سڑکوں پر ہراساں کرنے کے لئے عورتوں کو نہیں پائیں گے  تو وہ دوسرے غیر محفوظ ملازمین اور جانوروں کے ساتھ  برا سلوک کریں گے، وہ عوامی مقامات کو  برباد کر دیں گے  اور گمراہ ہو جائیں گے ۔ عورتوں کو ان کے   گھروں کے اندر محبوس رکھنے سے   ایک اچھی  کمیونٹی کی تعمیر  نہیں ہو  سکتی، بلکہ اس کے بجائے یہ اپنی غلطیوں کو  معصومیت کا رنگ دے گا ،اسے قالین کے نیچے چھپا کر  عارضی طور پر اس کے ساتھ  پیش آئے گا ۔ العربیہ

ڈاکٹر بدریہ البشر سعودی عرب کی ایک کالم نگار اور ناول نگار ہیں ۔

ماخذ: http://www.saudigazette.com.sa/index.cfm?method=home.regcon&contentid=20130427163179

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/badria-al-bishr/saudi-women-victims-of-‘restriction-for-protection’/d/11384

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/badria-al-bishr,-tr-new-age-islam/saudi-women-victims-of-‘restriction-for-protection’--تحفظ-کے-لئے-پابندی--کا---شکار-سعودی-خواتین/d/13116

 

Loading..

Loading..