New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 09:07 PM

Urdu Section ( 6 March 2013, NewAgeIslam.Com)

God Has Bestowed Man With Brain To Judge Between Good And Evil انصاف کا خوگر ہے تو محشر کو پرکھ مت

 

حروف کو چھوٹا یا بڑا کرنے کیلئے او پر  A A A پر کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عزیز بلگامی

فروری، 2013

مادہ پر ستانہ زندگی  کی خوگر دنیا آج  اپنی عقل  کے استعمال کے بارے میں  سمجھتی  ہے کہ اُس نے اِس کا Optimum  استعمال کرلیا ہے اور نتیجتاً زندگی  او ر کائنا ت کے بارے میں  جو مختلف آراء  و نظریات اُس سے قائم  کرلئے  ہیں وہ حتمی  ہیں اور اس سے آگے سوچ کے لئے کوئی Avenues  باقی نہیں  رہ گئے ہیں۔ یہی  غلط فہمی  ہے جو اُسے اس زندگی  کی فلاح  سے آگے دیکھنے  کا موقع فراہم نہیں  کرتی نہ اُسے کوئی اور راستہ یا منزل دکھائی پاتی ہے۔ یہ صورتحال اس حقیقت  کے باوجود بھی ہے کہ اس نے اپنی  عقل کو استعمال کرتے ہوئے انسان کی دنیاوی فلاح کا جو بھی تجربہ  کیا ہے وہ نامکمل ،غیر تسلی بخش یا ناکام ثابت ہوتا رہا ہے اور فلاح کی اِس کی ہر کوشش  ایک ایسی  کامیابی  پر منتج ہونے میں  ناکا م رہی ہے جو اُسے حقیقی دنیاوی آسودگی کا احساس  عطا کرسکے۔ وہ ظلم  کو مٹانا چاہتا  ہے، ظلم  کی کہانیاں  بڑھتی  جاتی ہیں اور انصاف کی سمت جانے والے سارے راستے مسدور ہوکر رہ جاتے ہیں ۔ سکون و چین کے حصوں کی کوشش کرتا ہے، لیکن اضطراب کےطوفان آتےہیں اور اس کے چین کےسارے اثاثوں کو آن کے آن میں بہا  لےجاتے ہیں ۔ ایسے میں ہم قرآنی آیات میں غوطہ زن ہوکر حقائق کا پتہ لگاتے ہیں تو یوں  محسوس ہوتا ہے جیسے انسان نے ابھی  اپنی عقل  کو کام میں لیا ہی نہیں  ہے۔ قرآن الحکیم کی آیت  ( 56۔11) میں موجود ربانی ہدایات  کے حوالے سے آئیے ہم ہدایت کی جستجو  کریں اور اپنی  زندگی کو رب کے احکامات کے تابع فرمان بنالیں ۔ آخری رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے سانچے میں  اپنی زندگی کےشب و روز کو ڈھالنے کی کوشش کاسلسلہ جاری کریں، آمین۔ ‘‘وقت کے نبی علیہ السلام نے اپنی قوم سےکہا ! بے شک میں نے اللہ پر توکل کیا جو رب ہے میرا بھی  اور رب ہے تمہارا بھی ، کائنات میں کوئی جاندار ایسا نہیں  جس کو اُس نے اس کی پیشانی سےجکڑ نہ رکھا ہو ۔بے شک صراط مستقیم ہی میرے رب  کا سیدھا راستہ  ہے، جو توکل علی اللہ کی منزل کی سمت رہنمائی کرتا ہے۔’’

اللہ کی مخلوق میں بہت سوں سے اشرف ظاہر  ہے انسان ہی ہے اور اس کا وجہ ءِ شرف اولاً وہ دماغ ہے جواس کے سر میں موجود ہے جس میں موجود عقل نام کی شے اس کی بے پناہ قابلیتوں اور صلاحیتوں کےمظاہروں میں جھلکتی  رہتی ہے، جس کی مثال کسی دوسری  مخلوق میں کہیں نہیں  پائی جاتی ۔ یہی عقل انسانیت کا اصل جوہر بھی ہے اور وجہ فضیلت بھی۔ اپنی عقل  و ذہانت کے بل پر وہ نت نئے تجربات میں دلچسپی  لیتا ہے اور ایک ترقی  پذیر مخلوق بن کر زندگی  گزارتا ہے ۔ زمین  پر موجود قدرتی وسائل اس کی ذہانت  کو مہمیز عطا کرتےہیں  اور وہ ان وسائل کو مختلف انداز سے اپنے کام میں لاتاہے ۔اِن ہی قدرتی وسائل  کی خصوصیات  اس کے ذہن  کو زرخیز بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں  اور اسی زرخیزی  کو بروئے  کار لاتے ہوئے ایک شے سے ایک بالکل  ہی نئی شے کو وہ عالمِ وجود میں لے آتا ہے ۔ گو کہ چند کلو گوشت او رکچھ ہڈیوں  او چند لیٹر خون سے  بنا ہوا یہ ابنِ آدم بہ  ظاہر کس قدر کمزور دکھائی دیتا ہے لیکن اپنی  عقل کے بل بوتے پر یہ نہایت ہی محدود و جسمانی قوت کا مالک انسان ایسی ایسی  غیر محدود قوتوں کی حامل مشینوں  کو معرضِ وجود میں لاتاہے کہ جنہیں   دیکھ کر خود عقل ہی حیران  رہ جاتی ہے۔ اس کی زندگی  کی رفتار میں یک بہ یک حیرت انگیز اضافہ ہوجاتاہے۔ اس کے ایجاد  کردہ تیزی سے گھومنے  والے پہیے  اُسے پلک جھپکتے ہی ایک مقام سےدوسرے مقام پر لے جاتے ہیں ،پرندوں کی طرح  وہ فضاؤں میں اُڑنے لگتا ہے، آبی مخلو          ق کی طرح ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کے سینے کو چیر تے ہوئے  یہ بہ عافیت گزرجاتا ہے۔ یعنی  تیز رفتار سواریاں  اس کے دو پیروں کے کچھ ایسے  معاون و مددگار  بن جاتے ہیں  کہ پھر ان دوپیروں  کے لئے سوائے  آرام کے کچھ او رکام باقی  نہیں  رہ جاتا، کیونکہ  اس کی نقل و حرکت کا سارا کام اس کی ایجاد  کردہ سواریاں  انجام  دینے لگی ہیں۔ پھر اس کی تیز رفتاریوں  کا یہ سفر یہیں  رُک نہیں جاتا ۔ یہ برقی لہر وں پر سوار  ہوکر اپنے  پیغامات کو آن کی آن  میں جہاں چاہے پہنچانے لگتا ہے ، جیسے اِس کے ذہن کو پرَ لگ گئے ہوں۔ اِس کا حیرت  انگیز  مواصلاتی  نظام اِس  کی دنیا کو ایک دیہات  کی شکل دے دیتا ہے اور پھر کرُہ ارض  پر فاصلہ نام کی کوئی شے باقی نہیں  رہتی، کیونکہ  اس کے فاصلے برقی سگنلز کے ذریعہ پل بھر میں  سمٹ جاتے ہیں ۔ یہ سب  انسانی دماغ کے کرشمے  ہیں، جہاں  اس کی عقل  کی حکمرانی ہوتی ہے۔

ثانیاًخالقِ انسان نے اُسے ایک اور بیش قیمت نعمت  بھی بخشی  ہے، یعنی  استدلال  اور منطق  Logic & Reason  کی قوت اس کےشعور کی بیداری  کا راز اسی  قوت میں  پنہا  ہوتا ہے۔ احساسات کا سار ا سسٹم  اسی قوت کےبل پر جاری رہتا  ہے۔ بھلے  اور برُے کی تمیز  ، خطرات و عافیت  کا احساس  ، خاندان کی ادارہ  سازی ، معاشرے کی تشکیل  ، شہروں  ، علاقوں ، ملکوں کی اساس پر اپنی  نسلوں  کی مثبت  خطوط  پر تربیت  و بقاء  کی سبلییں ، اپنی  دینی، علمی، اخلاقی و مادی وراثت  کی آنے والی  نسلوں تک بہ حفاظت  منتقلی  وغیرہ اسی قوت  کی مرہونِ منت ہوتے ہیں۔ دیگر مخلوقات  کےمقابلے  میں یہی اِس کے شرف  ، امتیاز  اور فوقیت کا سبب ثابت ہوتے ہیں۔ اِن  ہی سب خصوصیات نے اسے اکثر مخلوقات کے مقابلے میں یہی اِس کےشرف ، امتیاز اور فوقیت کا سبب ثابت ہوتے ہیں۔ اِن ہی  سب خصوصیات نےا سے اکثر مخلوقات سےکہیں زیادہ  ممتاز بھی بنایا ہے  اور فائق تر بھی ۔ اپنی اور اپنے جیسے انسانوں  کی دماغی ، جسمانی و نفسیاتی صحت  کے لئے بھی ہر دور  میں اس نے ایسی سائنسی  ایجادات  کیں، جن کے ذریعے جسم کی راحت میں اضافہ ، صحت میں بہتر ی علم میں بڑھو تری ہوتی رہے جس کا سلسلہ  ہنوز جاری ہے۔ چنانچہ خالق  و مالک کائنات نےالکتاب کے (17۔17) میں ارشاد فرمایا : ‘‘ درحقیقت ہم نے بنی آدم کی بڑی تکریم کی او رہم برّوبحر  میں (اِس کے نقل و حمل  میں معاون و مددگار سواریوں پر) سوار کرو ادیا اور طیبا ت پر مشتمل  رزق بخشا اور جن مخلوقات کو ہم نے فضیلت کے ساتھ خلق کیا، اُن سےبھی اکثریت پر (بنی آدم ہی کو) فضیلت دی۔’’ آئیے، ‘‘دماغ’’ کے حوالے سے مزید کچھ حقائق پر غور کیا جائے : انسانی تاریخ گواہ ہے کہ اِس کی  حیرت انگیز  او رکبھی  نہ رُکنے والی ترقی  میں اس کے دماغ اور اس کی فکر  و نظر ( عقل ) کا انتہا ئی اہم رول رہا ہے۔ کلام اللہ میں انسانوں  کو باربار یہ دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنی عقل استعمال کرتے رہیں ۔ سچ پوچھا جائے تو عقل کے استعمال  میں انسان کے دماغ اور اس کی کارگزار یوں  کا بڑی حصہ رہا ہے۔

میڈیکل سائنس کے ماہرین انسانی دماغ کی متنوع کار گرزاریوں  کی مزید  دریافت میں مسلسل لگے ہوئے ہیں۔ Neurology  کے ماہرین اپنی تمام تر بے مثال  کامیابیوں  کے باوصف اس اعتراف پر مجبور ہیں کہ انسانی دماغ اور اس کے جملہ کاموں کی جتنی اور جیسی کچھ تفصیل ان کے ہاتھ  آئی ہے، وہ بہ مشکل  دو فیصد  سے زیادہ  نہیں، یعنی اِس  علم کی 98 فیصد  تفصیلات  راز ہائے  سربستہ  ہیں اورد بیز پردوں تلے دبے پڑے ہیں۔ ساڑھے چودہ سوسال پہلے نازل ہونے والی کتاب ہدایت کی (53۔41) آیت میں کتنی بلیغ باتیں  ارشاد فرمائی گئی ہیں : ‘‘ (انسانوں کو) آفاق النفس Space and Innerself میں  ہم عنقریب ہماری نشانیاں   Signs and Symbols  دکھائیں گے، یہاں  تک کہ وہ (نہایت واضح الفاظ میں یہ حقیقت) واشگاف کردے گا کہ وہی الحق ہے (سچائی کی وہی لازوال معراج ہے، اسی  کی تخلیق شدہ ہر شے برحق ہے، اسی  کے کمالات بے مثال  سچائی پر مبنی ہیں) ۔ کیا یہ کافی نہیں کہ (خود ) تیرارب ہی ہر شے (کی تخلیقی و قوع پزیر ی او رکمال و مائیت ) کا ( برموقع و برمحل) گواہ ہے’’۔

مٹی سے انسانی تخلیق کی ابتداء، والدہ کے شکم میں اِس کے ارتقاء کے مختلف  منہاج و مدارج ، ایک مقررہ مدت  کے بعد نحیف و ناتواں  بچے کی شکل میں  حضرتِ انسان کا دنیا میں  وردو ، پھر اس کے کاسۂ سر میں موجود  دماغ کاحیرت  انگیز  استعمال  نتیجتاً حیرت انگیز کارناموں کی ایک ناختم ہونے والی  قطار، پھر بڑھاپے کے مراحل میں اس کا داخلہ  او رموت کےدروازے سے ہوتے ہوئے اس کا اس دنیا کو خیر باد کہنا، کیا یہ سب حقائق  ایسے ہیں کہ جن کے انکار کی کسی  کی بھی جرأت ہو؟ زندگی  کی اس ساری  رنگا رنگی  میں دماغ کے  Optimum  استعمال کے ذریعے  دنیاوی  نعمتوں  کی دریافت  ، تزئین اور ان سے متمتع ہونا،کیا  اس بات  کا واضح  ثبوت  نہیں کہ انسانی دماغ ایسا  آلہ مگر پیچیدہ  ترین مشین  ہے جسے خود انسان کے پیدا کرنے والے  نے ڈیزائن  کیا ہے!! نہایت  بے ساختگی کے ساتھ ایک باشعور انسانی ضمیر  کے پکارا ٹھنے  کے لئے کہ  ‘‘میرا خالقِ  واحد بے  مثال ہے لاشریک ہے’’ کیا یہ حقائق  کافی نہیں؟

سچی بات تو یہ ہے کہ ایک حساس دل  نہ صرف اپنے معبودِ برحق  کی معرفت  سے سرشار  ہوجائے گا اور ربِ جلیل کی رحمتوں  کےحصول کی خواہش  اس کے دل کو اپنی آماجگاہ  بنالے گی بلکہ  وہ ساتھ ہی  اپنے رب  کی کسی پہلو  سےناراضگی  پرکبھی راضی نہیں  ہوگا۔ سائنس کا سفر جاری  ہے، خلاء اور خود انسانی  اندروں کے رازوں کو آشکار ا کرنے کا سلسلہ  جاری ہے،  ہر دریافت  یہ کہنے پر مجبور کرتی ہے کہ اس قدر کامل  نظام   سوائے رب بزرگ  و برتر کے کسی کا ہو ہی نہیں  سکتا ۔ انسانی  دماغ  کو دیکھئے  شاید  اس پیچیدہ  مشین کی ہمہ جہت کار کردگیوں  کے پیش نظر  اس کے تحفظ  کا خصوصی  انتظام  ضروری تھا۔ چنانچہ  ہم دیکھتے  ہیں کہ خالق  دماغ نے اسے ایک مضبوط  Cover فراہم کردیا ہے، جسے  ہم کا سۂ سر Skull  کہتے ہیں۔ سرکا یہ کا سہ کس  قدر خوبصورت  گولائی  لئےہوئے  ہے اور کس قدر مضبوط  ہے۔ اس کی مضبوط ہڈی انسان کے لاش بن  جانے کے بعد  بھی برسوں  حیرت انگیز  طور پر محفوظ رہتی ہے۔ گیند نما کاسۂ سر میں انسان کا نازک دماغ تمام بیرونی  خطرات سےمحفوظ  رہتا ہے۔ اس کو ذہن  میں رکھتے  ہوئے ابتدا ء میں حوالہ دی  گئیں آیات کو ذرا  ایک بار  اور  ملاحظہ فرمالیں ، جن میں انسانی چہرے کی ‘‘پیشانی ’’ (یا جبیں)  کا بطور  خاص ذکر موجود ہے۔ یہی پیشانی  ہے، جس کے پیچھے   Pre Frontal Corle  ہوتا ہے۔ جو میڈیکل  سائنس  ایک اصطلاح  ہے۔ PCF  دماغ کے با لکل  سامنے  کاحصہ ہوتا ہے جسے دماغ  کا قائد  ہو۔ اس کی یہ قائدانہ  پوزیشن  حقیقت  میں فیصلہ  کن پوزیشن  ہوتی ہے او رجسم کے دیگر اعضاء  کے لئے یہیں  سے حتمی  فیصلوں  کا اجراء  ہوتا ہے۔ تجربات سے بھی یہ بات ثابت ہےکہ پیشانی  کے فوری پیچھے  دماغ  کے ابتدائی  حصے  ہی سے صحیح  اور غلط ، اچھے او ربرُے سارے فیصلے  صادر  ہوتے ہیں۔ دور اندیشی   ،معاشرتی رویہ،  سماجی رکھ رکھاؤ کے سارے امور یہیں سے طے  ہوتے ہیں۔ کسی کی پسند  کے فیصلے ، جذباتی  ہوں کہ نفسیاتی  ، عام ذہانت  والے ہوں کہ جنسی  ، الغرض سارے امور پر کنٹرول  کا معاملہ ، دماغ کے اسی حصے  سے ہوتا ہے ۔شخصیت  کا عکس  ہو کہ انسانی کردار  کا کوئی اور Dimension ،اسی  PCF کے ذریعے حتمی شکل اختیار  کرلیتا ہے ۔ پی سی  ایف کو جسم  کے ہر حصے  سے اطلاع  فراہم  ہوتی رہتی ہیں اور اسی  میں زیر  استعمال  یا د داشت  مستقلاً کام کرتی رہتی ہے۔ انسان اپنے  اہداف  او رمنزلیں  یہیں سے طے کرلیتا ہے ۔ انسانی ضمیر  کی روح  اور انتر آتما  کی دماغی بنیادیں   Neurological Basis  بھی پیشانی کے پیچھے اسی دماغ  میں موجود ہوتے ہیں۔ انتہائی حیرت  کی بات ہے کہ ، مجرمانہ  ذہنیت رکھنے والے افراد، نشہ باز لوگ او ر شر پسند عناصر کے دماغ کے ابتدائی حصے اور بقیہ حصوں میں  بہت کمزور Interconnection  پائے  جانے کی تحقیق  بھی سامنے آئی ہے۔ تحقیق  نے یہ حیرت ناک حقیقت بھی دنیا  کے سامنے پیش کی ہے کہ  جن افراد کے دیگر حصے  PCF  سے مضبوط طور پر مربوط نہیں ہوتے، وہ مجرمانہ  ذہنیت  ، نشہ بازی  اور شر پسندی  جیسے مکر وہات کا سبب  بنتے ہیں۔

تحقیق یہ بھی کہتی ہے کہ PCF اپنے دیگر  حصوں سے غیر مربوط  رہ کر انسان سےشر پسندی ہی کےکام جیسے جھوٹ بولنا، بات کو مکاری  کی روپ دینا، حقائق  کو توڑ نا مروڑ نا ، سیاسی  داؤ پیچ  ، بہتان تراشی، غرض کہ ایسے سارے منفی کاموں کی بھر پور ذمہ داری بن جاتی ہے۔ یہ خالقِ کائنات کے کمالات نہیں تو اور کیا ہیں کہ اس نے سائنسی سوچ کو ایک رُخ عطا کرنے کے اشارے صدیوں قبل انسان کو عطا کردیئے تھے ۔ سائنس کو خبر بھی نہیں کہ آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے کتاب اللہ نے جب یہ خبردی  تھی کہ انسان کے کرتوتوں کا حساب اس کی پیشانی  کو پکڑ لیا جائے گا ، تو اس کےمفہوم  کے  Dimensions  کیا تھے ؟ دراصل  پیشانی ہی وہ مقام ہے جس سے متصل  PCF میں انسانی اعمال اور احساسات ، نیتوں اور ارادوں کے سارے، راز اور منصوبوں  اور سازشو ں کے تمام نقشہ جات کےڈیٹا جمع رہتے ہیں  ۔ کسی  کی مجال کہ کوئی اپنے  رب کسے کچھ  چھپاسکے۔ جھوٹ بولتے بنے گی نہ بات بناتے ۔ کوئی  ڈپلومیسی  کی بات  خود کو قابل قبول بنانے کی صلاحیت کھو چکی ہوگی۔ کلام اللہ کی آیت  16/15۔96) ہم سے کہتی ہے ‘‘ ہرگز نہیں ( کہ چھوڑ دیا جائے گا کاذب اور خاطی کو)۔ اگر وہ (کذب و خطا سے) باز نہ آئے تو ہم ضرور اس کی پیشانی  ( کو پکڑ کر) اسے گھسیٹیں گے۔ ( ہاں یہی ) کاذب او رخطا کار پیشانی  ’’ ۔ برسبیل تذکرہ یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ PCF کےعلاوہ دماغ کےدو اور حصے ہوتے ہیں ۔ ایک  Right Hemisphere  اور دوسرا Left Hemisphere  ۔ دایاں  حصہ تصورات و تصویری مواد، جذبات و احساسات جیسے امور کی نگرانی کرتا ہے  جبکہ  بایاں  حصہ الفاظ ، نطق و بیان ، منطق و معقولیت جیسے امور سےمنسلک رہتا ہے۔ چونکہ دماغ کے یہ سارے حصے باہمی طور پر ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں ، چنانچہ  مختلف مقامات سے آنے والے عیر مربوط فیصلے PCF کے ذریعہ حتمی شکل  اختیار کر کے دماغ کے مختلف حصوں کا ایک مشترکہ فیصلہ بن جاتے ہیں اور برقی لہروں کی شکل میں  انسانی سراپا سے ظاہر ہونے لگتے ہیں ۔ انہیں  Voltage  کے پیمانے سے بھی ناپا جاسکتا ہے ۔ انسان کی پیدائش سے لےکر اس کی موت تک اس کادماغ ہر لمحہ مصروف کا ر رہتا ہے ۔ حالتِ بیہوشی دماغ بہر حال کام کرتا رہتا ہے ، لیکن یہ بات ضرور ہے کہ اس کی رفتار میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ انسانی مخلوق کی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ ہمہ وقت انسان کو کچھ نہ کچھ سیکھنے کے عمل میں مصروف  رکھتی ہے۔ یہ شرف صرف اور صرف انسان کو حاصل ہے کہ زندگی کا ایک ایک لمحہ  سیکھنے میں گزارتاہے ۔ کمپیوٹر کی زبان میں اگر کہا جائے تو انسان ذہن و ہ میموری  کارڈ ہے،جو واقعات ، حالات، تجربات اور وار دات سے جڑے انفارمیشن کے ڈیٹا  کو اپنے اندر اسٹور کرکے کسی  فائل یا فولڈ ر میں جمع کرتا رہتا ہے اور جب ضرورت در پیش ہوتی ہے تو کسی بھی معلومات کو اس ذخیرے سے طلب کرسکتا ہے۔ ایک انتہائی اہم نکتہ نوٹ کیا جائے کہ سیکھنے کا عمل ایک مسلسل  عمل ہے او رعمل کے اس تسلسل میں انسان کوئی نیا کام سیکھتے ہوئے جس رد عمل  کا  مظاہرہ  کرتا ہے وہ اپنے پیچھے  رد عمل سے بہتر ثابت ہوتا چلا جاتا ہے، سیکھتے سیکھتے آج وہ جور یسپانس دیتا ہے وہی  ریسپانس کل زیادہ  ترقی یافتہ  بن جاتاہے ۔ یعنی مستقبل کے رد عمل ماضی کے رد عمل ماضی کے رد عمل سے بہتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہی انسانی ترقیات کا اصل راز ہے۔ حقیقت  یہ ہے کہ پیدائش سے پہلے  ہی و ہ سیکھنے  کے عمل  میں مصروف  ہوتا ہے۔ مثلاً اس کا ذہن والدہ  کے دماغ  سے براہ راست  متعلق  ہوتاہے، والدہ  کے خیالات  و جذبات  کو اخذ  کرکے وہ خود اپنی  فائلیں بنانے لگتا ہے او رمعلومات کی اپنی فائلیں بنانے لگتاہے  او رمعلومات  کی اپنی فائلیں  بغل  میں دبائے وہ دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ بہ ظاہر روتاہوا آتاہے، چیختا چلا تا نظر آتا ہے لیکن حقیقتاً ترسیل  کے یہ اُس  کے اپنے طریقے  ہوتے ہیں  جو اس کی والدہ  تک پہنچ  جاتے ہیں۔ پھر پیدائش  کے بعد بھی سیکھنے کاعمل جاری  رکھتا ہے۔

مسلسل معلومات  کا ذخیرہ  جمع کرنے میں مصروف ہوجاتاہے۔ ظاہر ہے ماں کی کوکھ کی محدود دنیا سےنکل کر ایک کائنات میں قدم رکھنا  اس کے دماغ کی صلاحیتوں  میں یک بہ یک اضافے کا باعث  بنتاہے۔ وہ عمل  جو شکم مادر میں  شروع ہوا تھا وہ اس کی آخری سانس تک جاری  رہتاہے۔ بچپن میں کھیلتا  ہے تو اُسے رویوں  ، ٹیم ورک ، سماجی تعاون ، تنازعات کے حل جیسے امور کے کئی اسباق سیکھنے کو ملتے ہیں۔ اپنی خاندانی زندگی، رشتوں کی پہچان ، ان  کی قدر و قیمت او رتعلقات  کے عظمت جیسی خصوصیات سے واقفیت  کا ایک پروسس ہوتا ہے جس  سے وہ گزرتارہتا ہے۔ وقت گزر نے کے  ساتھ ساتھ  نہ جانے جذبات و احساسات ، تجربات اور اکتسابات  کے کیسے کیسے اور کتنے کچھ نقوش ہوتے ہوں گے جو اس کے دماغ پر مرتسم ہوتے ہیں۔ یہی ذخیرہ ٔ معلومات ہے جو اُسے خود اعتمادی  کے ساتھ  زندگی کی اگلی منزلوں  کی ذمہ داریا ں لینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے ۔ سماجی ذمہ داریاں ، لین دین سے جڑے  امور کی کمی  کے سلسلے  میں فکر مندی  اور توجہ  ،دوسروں کی مدد اور ضرورت کے وقت کام  آنا، تنازعات کے حل، اسکول، گھر، ماحول غرض  کہ زندگی  کی کسی بھی منزل پر کار آمد فیصلے کرنے لگتا ہے ۔نوعمری کے کمزور فیصلے ادھیڑ عمری  میں مضبوط  او رپختہ تر ہوتے  چلے جاتے ہیں۔ عمر کےآخری مراحل میں گوکہ جسمانی اعضاء  جواب دینے لگتے ہیں  لیکن سیکھنے کاعمل کبھی  رُکتا نہیں ۔

کتنا بڑا احسان ہے رب تعالیٰ  کا کہ اس نے انسان کو اس کے متذ کرہ ذخیرہ  معلومات کی اچھائی یا برائی کی تمیز  جیسی نعمت ِ عظیم عطا کی۔ وہ مفید چیزیں اسٹور  کرسکتا ہے اور ضرر رساں چیزوں کو ہٹا سکتا ہے۔ قرآن کیے  ( 3۔76) آیت  میں ہے : ‘‘ بے شک ہم نے ہدایت  دی اسے ( ایک ایسی ) سبیل کی ( جو اسے اپنی زندگی میں شکر او رکفر  کے دو مختلف  رویوں کی پہچان  کراتی ہے) چاہے تو (فرمانبرداری  کے حوالے سے ) شاکر بن کررہے یا (نافرمان بندہ بن کر) ناشکری  کی راہ اختیار کرلے’’۔

بھلے برے کی اس تمیز کے شعور کے ساتھ بھلائی اُس کی زندگی کامقصد بن جائے اور اس کے ذخیرہ معلومات سے اس کا انفارمیشن  تمیز  و تفریق کی چھلنی  سے چھن کر قلم سےربط  جوڑلے تو شے و جود میں آئے گی وہ ‘‘علم’’ ‘‘تعلیم’’ کہلائے گی ، ایسا علم اور ایسی تعلیم جو اعلیٰ قدروں کی حامل  ہوگی اور انسان  کو ایک تربیت یافتہ،مہذب ، با اخلاق وبا کر دار پیکر میں ڈھال کردم لے گی۔ علم  کی نعمت  سے انسان  کو نوازنے والے خالق ِ  علم نے الکتاب کی پہلی وحی کو علم  وتعلیم کے لئے وقف کرتے ہوئے انسانوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ حقیقی علم وہ ہے جو انسانوں کو اپنے رب  کی معرفت  بخشے اور یہ اسی وقت ممکن  ہے جب علم  تابع فرمانِ الہٰی بن جائے  اور  اس کی علامت یہ ہے کہ یہ علم دنیا کے لیے نفع بخش  ثابت ہو او رساری انسانیت  اس کی فیض  رسانیوں  سے یکساں  طور پر متمتع ہوسکے۔ اگر علم انسان کو  نفع پہنچانے میں ناکام ہے اور انسانیت  کی فلاح سے محروم ہوگیا ہے بلکہ انسانوں کی زندگیوں  کے لیے خطرہ بن  گیا ہے ، تو سمجھ  لیجئے کہ یہ علم تابعِ فرمانِ الہٰی  نہیں ہے بلکہ  تابعِ شیطان  الرجیم ہے جس میں اپنے رب کو پہچاننے  کی صلاحیت نہیں ہے۔ یہ صورتحال  اُسی  وقت پیدا ہوتی ہے جب علم اخلاقی اقدار  سے تہی  دامن  ہوجاتا ہے اور تعلیم  کے مقصد  کو مار دیتا ہے ۔ کتاب اللہ کی آیت (6/1۔96) میں فرمایا: ‘‘  آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھیے !( او رپڑھنا  جاری رکھیے) اپنے رب  کے نام سے جس  نے (ہر شےکی ) تخلیق  کی (ابتداء کی) ۔ انسان کی تخلیق  ( اس نے ) علق  Germ cell سے کی، آپ بس پڑھتے  جائیں ( او رپڑھنا  جاری رکھیں ) اور آپ کا رب (وہی پروقاررب) جس نے (انسانوں کو) قلم کے ذریعہ علم کی دولت سےسرفراز کیا۔ ایسے  علم سے انسان  کو نوازا جس کی اسے خبر تک  نہیں تھی۔ ‘‘علم اور تعلیم کو قلم سےجوڑنے کاایک اور قرینہ  ہمیں ( 1۔68) میں بھی ملتا  ہےجہاں قلم کے ذریعہ انسانی  علوم کی ترقی کی ترغیب  ملتی ہے۔ اس کو سمجھنے  کے لیے اس آیت کے بلیغ  مفہوم  کو اس کی ترجمانی میں پھیلانے کی کوشش کی گئی ۔ حرفِ ‘‘ن’’ پر اور اسکی خوبصورت گولائی  پر غور کیا جائے اور قسم ہے القلم  کی (یا عصر حاضر کے Key Boardکی) اور(مختلف  علوم  سے متعلق  ان تحریروں کی ) جو وہ (قلم تھامے ہوئے یا کی بورڈ کواپنی انگلیوں  کی مدد سے) سطر در سطر وجود میں لارہے ہیں اور صفحۂ قر طاس  پر خوبصورت اور حکیمانہ ترتیب کے ساتھ منتقل  کرتے چلے  جارہےہیں  ، تاکہ  مستقبل کی نسلوں  کے لیے خیالات و تجربات اور تحقیقی  و علمی سرمایہ  پوری حفاظت  کے ساتھ منتقل  ہوسکے۔

افسوس کہ انسان خدا پرستانہ علم  کو بھلا کر اپنے اِن ہی سائنسی  اور غیر سائنسی علوم کا انسانیت  کی تعمیرکے بجائے تخریب کے لئے بیجا استعمال  کررہاہے۔ پھر اپنی اس تخریب کو تعمیر  کے لباد  ے میں لپیٹنے میں مصروف  ہے۔ غلط بیانی و غلط کاری  میں اس کی  عقل اس کا ساتھ دیتی ہے ، وہ اپنی قوت  بیان و اظہار کے ذریعہ جھوٹ کو سچ او ر سچ کو جھوٹ ثابت کرنے  میں  بہ ظاہر کامیاب  ہے۔ لیکن  انسان  کے ذہن  میں یہ حقیقت مستحضر رہنی چاہئے  کہ وہ انسانوں  کو دھوکہ دے سکتا ہے، یہاں  تک کہ  خود اپنے  ضمیر  کوبھی دھوکا دے سکتا ہے مگر اپنے رب کو وہ ہر گز دھوکہ نہیں دے سکتا ۔ جیسا کہ عرض کیا گیا  ، اس کا رب  اس کی پیشانی  کےاُسی  حصے  سے اس کی ان چالاکیوں  اور مکاریوں  کا ڈیٹا بر آمد کر لے گا اور مواخذہ  کرے گا۔ سفید کوسیاہ  اور سیاہ کو سفید  بنانے  کی اس  کی تدبیروں کا سارا ریکارڈ یہاں موجود  ہوگا (10/9۔ 86) آیات میں رب تعالیٰ  نے واضح الفاظ  میں یاد دہانی  کرائی ہے کہ : ‘‘ اس دن جب اس کے اسرار  پر سے پردے اٹھ جائیں گے( اور اس کے سارے راز ، تمام بھید  ظاہر کیے  جائیں گے) ، تو اس کے پاس کوئی قوتِ  مدافعت  نہیں ہوگی اور نہ کوئی  اس کی نصرت  ہی کو موجود  ہوگا۔کیونکہ  اسکی پیشانی اور اس سے متصل دماغ کا یہ حصہ کام کرنا بند کردے گا ۔ ظاہر ہے اس کے وہ اعضا ئے رئیسہ جنہیں  اس کے رب  نے ایک بہترین  او ر مضبوط خول Cover  عطا کررکھا تھا، اس کے مواخذہ کے لیے  اسی خول سے یہ سب  اعضاء باہر نکل آئیں گے تو کہا ں سے وہ اپنی  مدافعت  کی قوت مجتمع کرسکے گا او رکیوں کر کوئی اس کا مدد گار بننے کی جرأت کرسکے گا۔ (10۔10) آیت میں بھی  ارشاد فرمایا: ‘‘ اور (قیامت کے دن) جو کچھ راز ہائے پوشیدہ  وہ اپنے صدور  میں چھپائے  رکھتا تھا اُسے  حاصل کرکے ان رازوں کو Expose  کیا جائے گا۔ ان بے پناہ وار ننگز کو ملاحظہ  کرنے کے بعد ہمارے جسم پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں او رمضبوط پسلیوں  کے درمیان جو دل ہے اور کاسۂ سر کی مضبوط ہڈی  میں بند بظاہر محفوظ دماغ ان حقائق سے دہل نہیں جائے تو پھر او رکیا ہو؟ ہماری لیاقتیں  ،ہماری صلاحیتیں  ، ہماری دانشوریاں ، ہماری  ڈپلو میسیاں جو خدا کی خوشنودی  کے لیے استعمال میں لانے کے لیے دنیا  میں عطا کی گئی تھیں وہ وہاں کسی کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ حدیث شریف  میں موجود اس جامع دعا میں  آپ سب شریک ہوجائیں ۔ ‘‘ اے اللہ! حق ہمیں حق  دکھائیے اور  ہمیں اس کے اتباع کی توفیق عنایت کیجئے او رباطل ہمیں باطل  ہی دکھائی  دے اور ہمیں  اس سے اجتناب کی توفیق  عطا کیجئے ۔ اے اللہ ہمیں اشیاء  (اور معاملات) ویسے ہی ہی دکھائی دیں جیسے کہ وہ فی الواقع ہیں ۔’’ کوئی ہے بندہِ خدا جو اپنے دماغ کی بار بار صفائی کا ارادہ رکھتا  ہو ، جسے اپنے اہداف کو صحیح رُخ دینے کی فکر ہو، جسے  طہارتِ فکر و نظر کاخیال ہو ، جسے اپنے کردار  سے منافقت  کو دور کرنے  کاخیال ستا تاہو، جس کو گفتار  کے فساد  سےبچنے  کی آرزو  ہو، جسے سچ کی قدر اور راس پرعمل  پیر ہو نے کی آس  ستاتی ہو، جسے  اپنے دامن  کو اپنے اشکِ ندامت  سے دھونے  کی تمنا  بے قرار  کرتی ہو؟ ہمارا رب  ہم سے لا پرواہ  لوگوں  کی مدد فرمائے جن پر اپنی  مختصر  سی بے ثبات زندگی  کی حقیقت نہ جانے کیوں  آشکار  انہیں  ہوتی ، کہ جنہیں  آخرت کے ہولناک مواخذے سے بچنے کا کبھی خیال چھو کر بھی نہیں گزرتا۔

فروری 2013  ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

https://www.newageislam.com/urdu-section/aziz-bilgami--عزیز-بلگامی/god-has-bestowed-man-with-brain-to-judge-between-good-and-evil--انصاف-کا-خوگر-ہے-تو-محشر-کو-پرکھ-مت/d/10678

 

Loading..

Loading..