New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 07:08 AM

Urdu Section ( 2 Jul 2019, NewAgeIslam.Com)

Religious Statements of Ulema and Community Leaders اکابرین ملت اور علمائے کرام کے یہ مذہبی بیانات


عظیم اختر

30جون،2019

کہا جاتا ہے کہ آزاد ہندوستان کی پہلی پارلیمنٹ میں سیکولرزم، رواداری اور گنگا جمنی تہذیب کی علمبردار کانگریس پارٹی کے ممبروں کی اکثریت نے سیکولرزم کی کھلّی اڑاتے ہوئے اور عدم رواداری کا بدترین مظاہرہ کرتے ہوئے اردو کے فارسی رسم الحظ کے بدترین مخالفوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اردو والوں کو دیوناگری رسم الحظ اپنانے کی پرُزور وکالت کی تو اس وقت آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو او رمولانا آزاد مرحوم جیسے قد آور نیتا تو ”ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم“ کی تصویر بنے رہے لیکن اس وقت ہندو تو کے نظریے میں یقین رکھنے والوں کے مارگ درشک او ربھارت کے پہلے وزیر داخلہ آنجہانی سردار ولبھ بھائی پٹیل نے اردو کے فارسی رسم الحظ کے مخالفین کے یہ کہہ کر منہ بند کردیے تھے کہ ”اردو کی یہی لپی بھارت اور دنیاکے دوسرے مسلم ملکوں کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتی ہے، جس کو ان دیکھا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ عرب ممالک ہمارے اچھے دوست ہیں“۔

یہ آنجہانی سردار ولبھ بھائی پٹیل کی سیاسی فہم و بصیرت، تدبر اور دوراندیشی کا نتیجہ تھا جس نے اردو کے فارسی رسم الحظ کو بچا لیا اور مخالفین کے منصوبوں پر اوس پڑ گئی ورنہ اس پرُ آشوب دور میں لسانی تنگ نظر اور متعصب ممبران پارلیمنٹ نے تعصب اور بدترین تنگ نظری کی قربان گاہ پر اردو کے مخصوص رسم الحظ کی بھینٹ چڑھانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ اس وقت اگر آنجہانی پٹیل کی سیاسی فہم وبصیرت اور تدبر پر تعصب اور تنگ نظری کی ذرا سی پر چھائیاں بھی پڑ جاتیں تو آج ہم او رآپ اپنے بچوں کو رات کی خموشیوں میں اساطیر یری کہانیوں کی طرح اردو کی کہانی سناتے ہوئے نظر آتے کہ تمہارے اجداد کی ایک زبان تھی جسے اردو کہتے تھے، جس کے گلے میں قومی یکجہتی،باہمی اخوت، رواداری کی علمبردار ہوانے کے ہار پڑے ہوئے تھے، لیکن ملک کی تقسیم نے اس زبان کو سر حد  کے اس پار پہنچادیا، صرف اس لیے کہ وہ اسلامی اساس کی حامل تھی، وہ تمہاری ایسی مادری زبان ہے جس کی اب اس ملک میں بولی کے علاوہ کوئی اور حیثیت نہیں ہے۔ ہوسکے تو بولی کی حیثیت سے ہی اپنی مادری زبان کو زندہ رکھنا۔

اس دور پرُ آشوب میں اردو رسم الحظ کے تئیں سورگیہ پٹیل جی کا وہ بیان عالمی سیاست پر اس کی گہری اور داخلی امور میں غیر معمولی سیاسی فہم وبصیرت اور تدبر کا غماز تھا، جس کی پرچھائیں آدرنیہ مودی جی کے پہلے دور حکومت میں صرف عید کی 29ویں چاند کی طرح نظر آتی تھیں۔ لیکن دوسرے دور حکومت کی ابتداء ہی میں ان پر چھائیوں نے قوس قزح کی شکل اختیار کر لی ہے۔پرچھائیوں کا یوں اچانک قوس قزح کی شکل اختیار کرلینا ہمارے خیال میں مودی جی کا عرب ملکوں کے متعدد کامیاب دوروں اور ان ملکوں کے سربراہوں سے قائم ہونے والے خوشگوار تعلقات کی دین ہے او رمودی جی کو اس زمینی حقیقت کا ادراک ہوچلا ہے کہ اس ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نظر انداز کرکے یا ملک کی ترقی میں حاشیہ پر بٹھاکر عالمی سیاست میں عزت ووقار حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں مودی نے چونکادینے والے اندازمیں کہا کہ ”اب ملک میں کوئی بھی غیر نہیں ہے، بلکہ سب اپنے ہیں اور سب کا ہمیں دل جیتنا ہے۔ اقلیتوں میں جو خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے اس کو ختم کرنے کے ذمہ داری ہماری ہے۔ ترقی کی دوڑ میں کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے، اس کی فکر ہم سب کو کرنی ہے۔ سب کا ساتھ، سب کا وکاس او راب سب کا وشواش جیتنا ہے۔ اب تک اقلیتوں کو خوف میں رکھا گیا، ان کو برابری کا درجہ دینے کے بجائے ان میں خوف پیداکیا گیا۔ ان کے ساتھ ایک چھلاوہ کیا گیا۔ اقلیتوں کا استعمال صرف انتخاب کے وقت ووٹ کے طور پر کیا گیا اور پھر ان میں ڈر پیدا کر کے دور کیا گیا، چنانچہ اس چھل میں چھید کرنا ہے اور اقلیتوں کے یقین کو حاصل کرنا ہے، ان کے دلوں کو جیتنا ہے۔ سب کا ساتھ، سب کا وکاش اور سب کا وشواش حاصل کرنا ہے۔ ڈر کو دور کرنا ہے۔ زبان و بیان کو ٹھیک رکھنا ہے اور یہ پیغام دینا ہے کہ جنہوں نے ووٹ نہیں دیا اور مخالفت کی وہ بھی ہمارے ہیں۔ملک کے 130کروڑ لوگ اپنے ہیں اور آئین کی روشنی میں ہمیں ان کی خدمت انجام دینی ہے“۔

نریندر مودی کا یہ بیان نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ بھگوا بریگیڈ کے لیے مارگ درشک کی حیثیت رکھتا ہے۔ مودی جی اس سے پہلے بھی ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری، موب لنچنگ کے حوالے سے اشارے کنایوں میں اس قسم کے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ ان کے خیالات اور عوامی مفاد میں دیئے گئے اس قسم کے بیانات بریگیڈ کے ہندوتو سے متاثر اور شدت پسندعناصر کی سوچ فکر پر رتی برابر بھی اثر اندازنہیں ہوئے اور ان کی اقلیتوں بالخصوص مسلم اقلیت کے خلاف جارحانہ اور شدت پسندا نہ کارروائیاں اورعزائم بد ستور جاری ہے۔ بیف کے شبہ اورگائے کے تحفظ کے سلسلے میں شروع کیے جانے والے موب لنچنگ کاچکر ویو اب بھی جاری و ساری ہے جسے پولس کے فرض شناس عملے کی طرف سے چوری یا آپسی جھگڑے کا نام دے دیا جاتا ہے تاکہ انسانیت کو شرمسار کرنے والے شرپسندعناصر قانون کی گرفت میں نہ آسکیں۔

ہندوتو سے شدید متاثر جارح اور شر پسند عناصر کے ایماء پر ”جے شری رام“ کا نعرہ لگا نے پر موب لنچنگ کے آئے دن کے واقعات وزیر اعظم جیسی بھاری بھرکم شخصیت کے بیان کاتو منہ چڑاہی رہے تھے کہ مغربی دہلی کے ممبر پارلیمنٹ نے بھی عدم رواداری کامظاہرہ کرتے ہوئے دہلی بالخصوص مہرولی کے علاقے میں سرکاری زمین پر ناجائز طریقے سے مسجد وں کی تعمیر کا شوشہ چھوڑ دیا تاکہ اکثریتی طبقے کے معصوم ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو بیدار کیا جائے اور نفرت کا وہ ماحول قائم ہو سکے جسے چندماہ بعد ہونے والے دہلی اسمبلی الیکشن میں بھر پور انداز سے کیش کیا جاسکے۔ بظاہر یہ بیان مفاد عامہ میں دیا گیا ہے لیکن اس کے بین السطور عدم روادی اور مذہبی تنگ نظری بدرجہ اتم موجود ہے کیونکہ دہلی جیسے شہر کی سڑکوں اور چوراہوں پر پچھلے ساٹھ ستربرسوں میں سرکاری زمین پر ناجائز طریقے سے درجنوں مندرتعمیر کیے گئے ہیں جن کو انتظامیہ نے شیر مادر سمجھ کر پی لیا اور ان ناجائزمندر تعمیر کرنے والوں کے خلاف نہ ہی کسی سیاستداں نے مصلحتوں کے تحت آج تک آوازاٹھائی۔ جب کہ یہ حقیقت ہے کہ دہلی کے ایک علاقے میں سرکاری زمین پر آسمان کی بلندیوں کو چھونے والے اور ناجائز طور پر تعمیر کئے گئے مندر کے خلاف ایک عدالت نے از خود سخت ایکشن لیا ہے، ممبر پارلیمنٹ موصوف نے ایسے مندروں کے بارے میں اشارۃ بھی کچھ نہیں کہا،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی آنکھوں میں صرف مساجد ہی کھٹک رہی ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق مہرولی کے مسلمانوں نے کئی کئی سو سالہ پرانی اور ویران پڑی ہوئی مساجد کوہی ٹھیک ٹھاک کیا ہے ورنہ مہرولی میں آج بھی درجنوں ایسی مساجد ہیں جن میں غیر مسلم آباد ہیں۔

ممبرموصوف کا یہ بیان اخبار میں کیاچھپا کہ دہلی کے مسلمانوں کے اکابرین سیاست اور علمائے دین کو اخبارات میں مذمتی بیانات کے ساتھ اپنے فوٹو چھپوانے کا ایک خداداد موقع ہاتھ لگ گیا۔ وہ اس حقیقت کو بھول گئے کہ اردو اخبارات میں چھپے ہوئے ان مذمتی بیانات کواردو جاننے والے مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور نہیں پڑھتا۔ اس قسم کے مذمتی بیانات سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ممبر مذکور کے عدم رواداری کے مظہر اس بیان کی لایعنی مذمت کرنے کی بجائے پردھان منتری کی توجہ اس بیان کی طرف دلاتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا جاتا کہ آپ سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواش میں یقین رکھتے ہیں لیکن آپ کی پارٹی کے ذمہ داروں کا یہ رویہ ہے جو نہیں چاہتے کہ ملک کی اقلیت بالخصوص مسلمان حکمراں جماعت کے قریب آئے اور حکمران وقت میں وہ یقین رکھے جو اس ملک کا وزیر اعظم چاہتا ہے۔ اگر ممبرموصوف کو مودی جی کے بیان کی اہمیت کا ذراسا بھی احساس ہوتا اور وزیر اعظم کا احترام ہوتا تو وہ شاید حقائق کو اس طرح توڑ مروڑ کر پیش نہیں کرتے۔ ہمارے خیال میں ممبر موصوف کا یہ بیان قابل اعتراض ہے کیونکہ اس بیان میں حقائق کودیدہ و دانستہ چھپا کر اور سماج کے ایک مخصوص طبقے کی عبادت گاہوں کا حوالہ دے کر انتظامیہ کوگمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور بین السطور دہلی کے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی اعلیٰ سطح پر ایک کامیاب کوشش کی گئی ہے۔

ہم نے جب اکابرین سیاست اور علمائے ملت کے مذمتی بیانات اخبارات میں پڑھے تو ہم نے ان تمام حضرات کو ایس ایم ایس بھیجا کہ آئیے ممبر پارلیمنٹ کے اس بیان اور اس کے قبیح مضمرات کے بارے میں وزیر اعظم کی توجہ مبذول کرائیں یا پھر قانونی کارروائی کرتے ہوئے لیگل نوٹس بھیجا جائے تاکہ حکمراں جماعت کے دوسرے ذمہ دار حضرات اس قسم کی یکطرفہ بیان بازی سے پرہیز کریں جن کا مقصد مودی جی کا سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواش جیسے خوش آئند ار امید افزا بیان کو سبوثاژ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہم نے اس قسم کے یکطرفہ اور شر آمیز بیانات کے دور رس نتائج کی آہٹ محسوس کر کے ہی اپنے اکابرین سیاست او رعلمائے ملت کو نیک نیتی کے ساتھ ہی یہ مشورہ دیا تھا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے شرپسند عناصر کو صرف قانون کی زبان میں ہی جواب دینا چاہیے۔ مذمتی بیانات سے ہندوستانی مسلمانوں کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ قانون کی زبان سمجھنے والوں کو قانون کے دائروں میں ہی گھیر نا چاہیے۔ جمعیۃ العلما ئے ہند کے مولانا ارشد مدنی صاحب نے بھی تو پولیس انتظامیہ کو قانونی زبان میں سمجھانے کی تعمیر ی کوشش کی ہے اور اب تک درجنوں معصوم مسلمانوں کو جیل سے رہائی دلا چکے ہیں۔ کیا ہمارے مسلم وکلا او رمسلمانوں کی لیڈر شپ کا دم بھرنے والے حضرات اس قسم کے شر انگیز اور نفرت پھیلانے والے نام نہاد لیڈروں کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کرسکتے؟ یا صرف اردو اخبارات میں مذمتی بیان چھپوا کر اپنی دانست میں ملک وملت کی نام نہاد خدمت ہی کرتے رہیں گے۔

30جون،2019  بشکریہ: روز نامہ آگ، لکھنؤ

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/azeem-akhtar/religious-statements-of-ulema-and-community-leaders--اکابرین-ملت-اور-علمائے-کرام-کے-یہ-مذہبی-بیانات/d/119059

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..