New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 02:22 PM

Urdu Section ( 20 Dec 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Defence of Thought نظریے کا دفاع

 

عائشہ صدیقہ  (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)
حال ہی میں پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے فوج کو نہ صرف قومی علاقوں بلکہ نظریاتی سرحد کی بھی دفاع کرنے کا کام دیا۔وزیر اعظم کا یہ بیان ان گزشتہ 60برسوں کی تکلیف دہ دور کی یا ددہانی کراتا تھا جس دوران فوج ملک کی سرحدوں اوراور اس کے نظریے کی حفاظت کرتی رہی ہے۔
فوج کے ایک سبکدوش ایئر مارشل کی حیثیت سے اصغر خان نے بجا کہا کہ یہ سیاسی طبقے کے احساس کم تری کو ظاہر کرتی ہے جب وہ نظریے پرفوج کے ساتھ بحث کرتے ہیں۔اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ فوج کو نظریاتی سرحدوں کی دفاع کا کام دینا بے شک غلط ہے۔مسئلہ صرف فوج کو صرف یہ کام دینے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس میں بھی ہے کہ فوج سے کس چیز کے دفاع کی توقع کی جارہی ہے۔
ہم اب بھی اس سوال سے جوجھ رہے ہیں کہ آخر ملک کا نظریہ کیا ہے؟کیا یہ ہندوستانی بر صغیر کے مسلمانوں کے لئے قائم ایک ملک ہے اور انہیں رہنے کے لئے جگہ دینے کے مقصد سے بنا ہے؟یا اسلام کے ایسے قلعہ کی تعمیر ہے جو جنوبی ایشیائی خطے میں دوسری تمام قوتوں کو بیلینس کر سکے۔یہ دو مختلف قسم کے خیالات ہیں۔
پہلے خیال کے مطابق، بر صغیر کے مسلمانوں نے یہ سو چا کہ ان کے پاس وسائل کے موافق تقسیم کے نفاذکا ایک موقع نہیں تھا اس لئے ان لوگوں کو دوسرا ملک بنانا پڑا۔کیونکہ یہ مسئلہ سماجی و اقتصادی تھا اور اسے قدرتی طور پر ایک اس طرح کا ملک ہی انجام دے سکتا تھا جومختلف نسلی اور مذہبی فرقوں میں وسائل کی بہتر تقسیم کو انجام دے سکے۔تاہم، یہ نہیں ہوا۔60برسوں کے اپنے وجود کے بعد ہم پاتے ہیں کہ سماج نسلی، مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر بنٹا ہوا ہے۔
پاکستانی انتظامیہ اکثر اس بات پر حیران ہوتی ہے کہ پاکستانی اپنے مسائل پر ملک سے باہر بحث کر رہے ہیں۔ایسا اس لئے ہے کہ ملک کے نظریے میں اتنی وسعت نہیں ہے کہ لوگ اس میں رہتے ہوئے اپنے مسائل کو اٹھا سکیں۔اس لئے وہ مسلسل بیرونی غیر جانبدار ثالث کی تلاش کرتے رہتے ہیں۔
کیا یہ نظریہ بلوچوں، سندھیوں،مہاجروں،سرائیکی، پختون اور دیگر نسلی اقلیتوں کی خواہشات اور حسرتوں کو شامل رکھتا ہے جو اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں ؟ نہیں، بلکہ اس کے بجائے یہ لوگ محرومیت کا احساس کرتے ہیںیا کیایہ کہ اس نظریے کے دفاع میں ہمیشہ بندوق کی گولی کی طاقت ہی آزامائیں گے جیسا 1970کی دہائی میں مشرقی پاکستان اور بلو چستان میں ہوا یا1980اور1990کی دہائی میں سندھ اور حال ہی میں بلوچستان میں ہوا؟ 
ملک کی بیورو کریسی (نوکر شاہی)کو نظریے کی دفاع کی ذمہ داری دینے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ بیوروکریسی پھر اپنے انداز میں نظریے کی تعریف ایسے کرتی ہے جسے آسانی سے تصور کیا جا سکے اور اس پر عمل درآمد کیا جا سکے۔قوم مسلمانوں کے لئے ایک ملک سے وسیع مذہبی نظریے کا دفاع کرنے والے ملک میں تبدیل ہوا ہے۔اس طرح کا تصور قوم اور مسلح افواج دونوں کے لئے دوگنی پریشانی کا سبب ہو جاتے ہیں اور فوج کو سالوں سے آدم قد نظریات کی دفاع کے کام میں لگایا گیا ہے۔
ملک کے بانیوں نے اس کے نظریے کی تعریف کی وضاحت نہیں کہ اور ملک کی پریشان کن سیاست نے اس مسئلے کو مذید بڑھا دیا اور ملک خود کو اسلام کے ایک قلعے کے طور پر پیش کرنے کے راستے پر بڑھ گیا۔طاقت کے لئے جواز کے طور پر مذہب کا استعمال ہونے لگا۔یہاں تک کہ سیکولر لگنے والے لیڈران جیسے جنرل ایوب خان، یہیا خان اور ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اس حربے کا استعمال عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کیا۔
ایوب خان کے دور میں پاکستان کو آبادی کے تعلق سے دنیا کے سب سے بڑے مسلم ملک کے طور پر پیش کیا جاتا تھا جس نے مسلم ملکوں جیسے مصر کوناراض کر دیا۔بعد میں ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو مسلم دنیا کا لیڈر کہناشروع کر دیا۔ ہر ایک لیڈر نے اس معیار کو مزید اور بلندی عطا کی۔اور اس نے قدرتی طور پرفوج کی سوچ کو بھی متاثر کیا۔
مذہب کو جارحانہ طور پر فوجی حکمت عملی کے لئے بھی استعمال کیا گیا۔اس سلسلے میں صرف جنرل ضیاء الحق کے دور اقتدار ہی کو نہیں بلکہ ان سے قبل کی نسلوں کے کئی جنرلوں کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔اسلام کا پہلی بار استعمال1947-48میں ہندوستان کے ساتھ جنگ میں کیا گیا تاکہ شمالی قبائیلیوں کی حمایت حاصل کی جا سکے۔یہ حربہ 1965 کی جنگ میں دوبارہ استعمال کیا گیا۔
ایک بار پھر فوج اور مذہبی تنظیموں جیسے جماعت اسلامی کے بیچ حکمت عملی کے تحت تعلقات قائم ہوئے تاکہ الشمس اور البدر جیسے ذیلی تنظیمیں قائم کی جا سکیں جو مشرقی پاکستان میں مکتی واہنی سے جنگ کر سکیں۔حالانکہ یہ رشتہ پاکستان کی خاطر خواہ مدد نہیں کر سکالیکن مذہبی جماعتوں اور سیکولر مانی جانے والی فوج کے آپسی تعلقات جاری رہے۔اور یہ رشتے جنرل ضیاء الحق اوران کے بعد کے زمانے میں اور مضبوط ہوئے۔
فوج اور عسکریت پسندوں(ملی ٹینٹ) کے درمیان رشتہ بتاتا ہے کہ ملک کی نوکر شاہی نظریے کی تعریف کس طرح کرتی ہے۔اورعسکریت پسند ، روایتی اور جوہری جنگ کے درمیان خلا ء کو پر کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔بد قسمتی سے یہ مسئلہ اب خود کش بم دھماکوں اور دہشت گردی کی شکل میں ہمارے سامنے آ رہا ہے۔
فوج اور عسکریت پسندوں کے بیچ رشتہ، فوج کو نظریے کی تعریف کرنے اور پھر اس کے دفاع کی اجازت دینے کا نتیجہ ہے۔اور یہ رشتہ فوج کی بعد از نو آبادیاتی دور کی نوعیت کے سبب اور بھی گہرا ہو۔اعلیٰ افسروں نے مذہب کا استعمال بغیر اس خوف کے کیا کہ اس کا اثر فوج کے درجے(رینک) اور فائل پر کیا ہوگا، جس سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے سینئروں کا حکم مانے گی۔
چونکہ عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان بات چیت بعض طبقات تک محدودتھی لیکن فوج کا بڑا حصہ اس سے متاثر نہیں ہوا ۔ کسی بھی صورت میں ملک کے سماجی و اقتصادی حالات میں لوگوں کا بڑا حصہ اعلی منتظمین کے احکامات پر عمل کرتا ہے ،یہاں تک کہ اگر وہ ان کے احکامات کو نظریاتی طور پر قبول نہیں کرتے ہیں تب بھی۔ 
یہ مسئلہ کا صرف ایک حصہ ہے۔ دوسرے کا تعلق ریاست سے محبت کے سبب افسروں کے درمیان اس احساس سے ہے جس کے تحت یہ افسرلاکھوں لوگوں کی مخالفت اور ملک کے لئے خطرہ تصور کئے جانے کے باجود خود کے صحیح ہونے کااحساس رکھتے ہیں۔ شہریوں ( یقینی طور سیاستدانوں) کی اکثریت کو قومی مفاد سے ہمدردی نہ رکھنے والے کے طور پر دیکھاجاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ وردی پوش یہ لوگ عام شہریوں(یہاں تک کہ جو بد عنوان نہیں ہیں) کے بارے میں فیصلہ عام شہریوں کی زندگی کا بہت کم تجربہ اور ن کے ادارے نے ان کی کس نظریے کے تحت تربیت کی ہے ،کی بنیاد پر کرتے ہیں ۔
مثال کے طور پر تمام کاروباریوں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ یہ پایا جاتا ہے کہ وہ جب عوامی سیکٹر اور فوج کے کنٹرول والے دفاعی اشیاء بنانے والے اداروں کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں تب بھی وہ منافع کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر ایک کاروباری انسان کے منافع کمانے کی ضرورت کو نہیں سمجھا جاتا ہے۔
ملک کو فوجی اور عوامی اداروں کے درمیان آج عدم توازن کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ یہ دو صنف ہیں جن کا وجود برابری کے تعلقات کی جھلک کے باوجود پایا جاتا ہے۔ایسے حالات میں زیادہ طاقتور دھڑے کو نظریاتی سرحدوں کی تعریف کرنے اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری سونپنا درست نہیں ہے۔اس سے ایک پیچیدہ مسئلہ جو پیدا ہوگا وہ کبھی ختم نہ ہونے والی دشمنی ہے۔
60برسوں کے بعد اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے کہ نظریے پر بحث کی جائے اور متعدد مفاد رکھنے والے مختلف لوگوں کے ساتھ بات چیت کر اس پراتفاق قائم کیا جائے۔باقی پاکستان کو جس ایک چیزکی اشد ضرورت ہے وہ ہے ملک کا مالک ہونے کا احساس۔

مصنفہ آزاد سیاسی تجزیہ کار ہیں۔(ای میل۔ ayesha.ibd@gmail.com))

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-politics/defending-the-ideology/d/69

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/defence-of-thought--نظریے-کا-دفاع/d/6187

 

Loading..

Loading..