New Age Islam
Thu May 28 2026, 06:03 PM

Urdu Section ( 21 Nov 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

A special issue of the Urdu magazine 'Ithbaat', 'New Hindustan, Old Muslims': an important document on Indian Muslims اثبات’ ، بمبئی کا‘ نیا ہندوستان پر انا مسلمان’ نمبر:ہندوستانی مسلمانوں پر اہم دستاویز‘

اطہر فاروقی

17 نومبر،2024

معاصر ہندوستان میں مسلمان ایک اکائی ہیں! میری رائے میں یہ تجزیہ انتہائی سطحی بلکہ نہایت بے ہودہ اور اگر کہنے کی اجازت ہوتو گمراہ کن ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں پر مقامی اثرات کے فیصلہ کن انداز میں غالب ہونے کی وجہ سے اوّل تووہ اس منطقے ہی نہیں بلکہ اس قصبے یا گاؤں کے بھی جس حصے میں وہ رہتے ہیں ، ان کی زندگی مکمل طور پر اسی حصے اور محلے کے اثرات کے رسم ورواج کے تابع ہوتی ہے۔کسی بھی گاؤں میں مسلمان جس علاقے میں رہتے ہیں وہاں آس پاس جس ذات کے لوگوں کی اکثریت ہوگی، اسی ذات کے سماجی رویے مسلمانوں کی زندگی میں بھی جلوہ گر ہوں گے نہ کہ گاؤں کے دوسرحصے میں رہنے والے کسی دوسری ذات کے مسلمانوں یا اس حصے کے ہندوؤں کا اثر ان پر ہوگا۔ یہ اثرات کسی بھی قوم یا معاشرتی گروہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کرسکتے ہیں جیسے رسم و رواج، معاشرتی ڈھانچہ ، طرز زندگی اور اخلاق اقدار وغیرہ ۔ صرف ایک مثال: مغربی یوپی میں راجپوتوں کے گاؤں کی مسلم آبادی سماجی طور پر کسی بھی طرح ہندو راجپوتوں سے مختلف نہیں ہے۔ ان کے رواج ورسم زندگی مثلاً شادی بیاہ، ولادت اور موت کے وقت ایسی متعدد رسومات ہیں جو مشترک ہیں، جن میں بس عقیدے کی حد تک ضمناً تبدیلی آتی ہے۔ شادی بیاہ کی ان گنت رسمیں ہیں جن میں مسلم اور ہندو راجپوتوں میں کوئی فرق ہی نہیں۔‘ اغلاط العوام’ مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب انہی افکار کے پیش نظر لکھی گئی تھی مگر عملاً اس کاکوئی اثر تقریباً ایک صدی کے بعد بھی اس خطے کے راجپوت مسلمانوں کی زندگی پرذرا نہیں ہوا۔ یہی حال تیاگیوں کا ہے۔ شدھی تحریک کے زمانے میں ہی مغربی یوپی کے مسلم تیاگی ہندو ہونے کواس لئے تیارہوگئے تھے کیونکہ وہ تہذیبی طور پر ہندو تیاگیوں سے بالکل بھی مختلف نہیں تھے، اور اب بھی نہیں ہیں۔بات اس پر بگڑی کہ ہندو تیاگیوں نے یہ ضد پکڑ لی کہ وہ مسلمان گھرانوں میں شادی تو کریں گے مگر صرف ان کی بیٹیوں کو اپنی بہو بنائیں گے اور اپنی بیٹیاں بہو کے طور پر دوبارہ ہندو بننے والے راجپوت گھرانوں میں نہیں دیں گے۔ ہند و اور مسلمان دونوں میں ذات پات کی سماجیات الگ ہے مگر و ہ طبقاتی تقسیم پر ذرا بھی اثر انداز نہیں ہوسکی۔ ہمارے پاس کوئی اعداد وشمار اس کے نہیں ہیں کہ شدھی تحریک کے ذریعے کتنے مسلمان ہندو ہوئے ۔اغلب ہے کہ چند سے زیادہ نہیں مگر اس کا فائدہ اٹھاکر تبلیغی جماعت آسمان ہوگئی۔

کسی بھی زمانے کے ہندوستان کے مسلمانوں کا تجزیہ کرتے وقت اس دور کے ہندوستانی معاشرے میں طبقاتی کردار کو نظر انداز کردیا جاتاہے جس سے تجزیے کا سطحی ہونا یقینی ہے۔ کیا کسی گاؤں یا شہر میں رہنے والے مسلمان طبقاتی تفریق سے آزاد ہیں؟ مسلمانوں میں جو برادری ملکی سطح پر اکثریت میں ہے یعنی انصاری برادری، کیا اس میں طبقاتی تفریق نہیں ہے؟ دونوں کا جواب واضح طور پر نفی میں ہے۔

میری رائے میں ان تمام سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ مسلمان کسی سطح پر بھی ایک اکائی نہیں ہیں۔ ایک خاندان کے اندر بھی طبقاتی تفریق اتنی ہی ہوتی ہے جتنی باہر کی دنیا میں۔ ہندوستان میں علم کی دنیا نے مسلمانوں کی اس سماجیات کو سمجھنے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی اور بالخصوص سماجی علوم کے ماہرین آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کی صورت حال لکھتے ہوئے ایک ہی طرح پر غزلیں کہہ رہے ہیں جن میں کوئی نئی بات نہیں: چھلکے بھرے ہو ں جیسے پھلوں کے دکان پر۔

ایک بات البتہ مشترک ہے کہ گذشتہ سو برس میں مختلف مذہبی تحریکوں میں آنے والی شدت اور مسلمانوں کے مختلف مسالک کے درمیان مسابقت کی وجہ سے خصوصاً شمالی ہندوستان کے مسلمان خواہ ان کی زبان کچھ بھی ہو، مگر وہ کلمہ اردو نام کی زبان کا ہی پڑھتے ہیں جو ایک بہت چھوٹی آبادی کے علاوہ مسلمانوں کی زبان بالکل نہیں ہے ۔ اردو کے نام پر شناخت کی اس پین انڈین مسلم جارحیت کی وجہ سے مسلمانوں اور علاقائی آبادی کے درمیان کچھ جگہوں پر تصادم بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہاہے۔

اردو کے خلاف عام ہندو کے ذہن میں تو ملک بھر میں نفرت عام ہے ہی مگر مغربی بنگال میں یہ اپنی انتہا پر ہے۔ زبانوں کے نام پر شناخت کی سیاست کے اس کھیل میں ہندی بھی بنگلہ کے خلاف برسرجنگ ہے۔ مغربی بنگال میں شمالی ہند کے ہندو اپنی زبانوں کو چھوڑ کر مارواڑی ہنیوں کی مالی پشت پناہی کی بدولت ہندو شناخت کے نام پر وہاں جس طرح ہندی کی سیاست کررہے ہیں ، وہی سیاست شمالی ہند خصوصاً بہار کے مسلمان اردو کے نام پر آج وہاں بالکل اسی احمقانہ طریقے سے کررہے ہیں جس طرح انہوں نے یہ کام سابق مشرقی پاکستان میں کیا تھا، اور یہ لسانی جہاد ان کے لیے اجتماعی خود کشی ثابت ہوا تھا۔آج 53 برس بعد بھی بنگلہ دیش میں بہار کے ان لوگوں کی نئی نسلیں نہ صرف کیمپوں میں کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار نے پر مجبور ہیں بلکہ بنگالی مسلمان بھی انہیں نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، اور بنگلہ دیش بننے کے بعد پاکستان کو ان سے قطعی کوئی دلچسپی نہیں رہی۔سابق مشرقی پاکستان او رموجودہ مغربی بنگال میں بہار کے جو لوگ اردو کو اپنی مادری زبان کہتے ہیں، ان کی زبانیں ہیں، اردو ان کی زبان قطعی نہیں ہے۔ چھوٹی زبانوں کی بات اگر چھوڑ بھی دیں تو بھی بہار کی بڑی زبانوں میں میتھلی، مگھئی، بھوجپوری، انگیکا اور وجیکا بہار کی اہم اور دقیع زبانیں ہیں۔ میتھلی کے دو رسم خط کیتھی او رمتھیلا کشرتھے مگر ہند بمعنی ہندو راشٹر کی تحریک ۔۔ جس کی اساس ہی ناگری رسم خط پر تھی۔کے نتیجے میں اب یہ بھی ناگری میں لکھی جاتی ہے۔شانتی نکیتن میں میتھلی کا الگ شعبہ تھا ، اور سولہویں صدی کے میتھلی زبان کے شاعر ودیاپتی کی بنگالی ادب سے دلچسپی رکھنے والے بہت قدر کرتے ہیں۔ خود رویندر ناتھ ٹیگور بھی ودیانتی کے بے حد قائل تھے۔ بھوجپوری بھی بڑ ی زبان ہے اور اس کی قواعد نہایت دقیع تصور کی جاتی ہے۔ پٹنہ او را س کے آس پاس کا علاقہ بھوجپوری کا علاقہ ہے اور اسی علاقے میں مگھئی بھی بولی جاتی ہے ۔سلطان گنج سے ہوتے ہوئے کٹیہار کی طرف نکل جائیں توپورنیہ تک بولی جانے والی زبانیں انگیکا او روجیکا ہیں۔ بعض ماہر لسانیات کا خیال ہے کہ وہ میتھلی او ربھوجپوری کے درمیان کی زبانیں ہیں مگر یہاں لسانی بحث اس لیے بھی مقصود نہیں کہ میں نے اس موضوع پر کوئی علمی کام نہیں کیا ہے۔نیپال سے ملحق اکثر علاقے میتھلی کے لسانی خطے ہیں ۔ وہاں بڑی تعداد میں مسلمان بھی میتھلی ہی بولتے ہیں ۔دربھنگہ کی آبادی بولتی ہے، اس پر کچھ اثر کھڑی بولی کی لسانی ساخت کا ہے مگر وہ اردو قطعی نہیں ہے۔ اصل میں یہ سب ایسی زبانیں ہیں جو سب سمجھتے ہیں۔ بہار میں یعنی کہ بھوجپوری بولنے والامگھئی، وجّیکا ، انگیکا او رمیتھلی سمجھ لے گا۔بول بھلے ہی نہ پائے ۔ اسی طرح میتھلی بولنے والا باقی سبھی زبانوں کو سمجھے گا مگربول نہیں پائے گا۔ جیسے بنگلہ بولنے والا ایک حد تک اڑیہ سمجھ جائے گا مگر وہ اس زبان کو بولنے سے خود کو قاصر پائے گا۔ یہ وہ زبانیں ہیں جو بہار کے اردو اور ہندی والوں کی مادری زبانیں ہیں مگر ان کی جگہ مسلمان اردو کو اور ہندو ہندی کو اپنی زبان کہتے ہیں۔

مغربی بنگال کی ہندی۔اردو وسیاست میں بس یہ فرق ہے کہ مغربی بنگال کی اردو تحریک کو فنڈ کرنے کے لیے مسلم سرمایہ دار اب موجو د نہیں ہیں جب کہ مارواڑی ہندودل کھول کر ہندی کی سیاست کرنے والوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ بنگالی ہندو اور بنگالی مسلمان اپنی مشترکہ اورمستحکم ثقافتی اساس کی وجہ سے ان دونوں سے ہی یعنی شمالی ہند کے ہندی داں ہندوؤں او رنام نہاد اردو داں مسلمانوں سے یکساں نفرت کرتے ہیں ۔ ایک طرف اسلامی شناخت او رمذہبی تنظیموں او رمسلم سیاست کے زیر اثر مسلمان اردو کو اپنی مادری زبان کہتے ہیں تو دوسری طرف ہندوراشٹر واد کے مبلغین نے عام ہند و کا یہ ذہن بنادیا ہے کہ مقامی زبانوں کو ہندی میں ضم کردیا جائے۔ یہی معاملہ کشمیر کا ہے جہاں اسلام اور سیاسی وجوہ کے اثر سے کشمیری عوام کشمیر سے باہر تو اردو کانعرہ پوری قوت سے لگاتے ہیں مگر انہوں نے کشمیر کی، جموں او رلداخ وغیرہ خطے کی کسی علاقائی زبان کو چھوڑنے کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں۔ کشمیری پنڈت اٹھتے بیٹھتے کشمیری مسلمانوں کو گالیاں دیتے ہیں مگر کشمیر سے آنے والے مسلمان دلّی اور دوسرے شہروں میں قیام اپنے ‘کشمیری بھائیوں’ کے گھر میں ہی کرتے ہیں۔ کشمیری ہندو اور مسلمان دلّی اور دوسری جگہوں پر جب بھی ملتے ہیں تو صرف کشمیری زبان میں بات کرتے ہیں۔ کشمیری کھانوں کے ان ہوٹلو ں میں جائیے جنہیں کشمیری مسلمان چلاتے ہیں ، تو دلّی میں آبادی او رطبقاتی فرق کے ساتھ وہاں کشمیری ہندو آپ کو بہ آسانی مل جائیں گے ۔دلّی میں امیر ترین کشمیری ہندو خواہ وہ کاروباری ہو یا پھر کسی اعلا عہدے پر فائز ، اس کے گھر میں ہونے والی شادی میں کشمیری کھانوں میں سب سے زیادہ تزک و احتشام کا مظاہرہ کیا جاتاہے اور وہاں کشمیری مسلمان بھی آپ کو بہ کثرت مل جائیں گے۔

ہندوستانی مسلمانوں میں اردو واحد سیاسی قدر مشترک ہے مگر یونیورسیٹوں کے اردو ڈیپارٹمنٹ زبان کی حیثیت اور اس سیاسی سماجیات پر علمی کام کرنے کے بجائے چھچھوندر پھپوندوی شخصیت اور شاعری جیسے قطعی فضول موضوعات پر اس لیے کام کراتے ہیں کہ وہ اس کے علاوہ او رکسی قسم کا سنجیدہ کام اردو کے حوالے سے کرانے کے اہل ہی نہیں ہیں۔ اردو کے رسائل و جرائد بھی ایسے ہی فضول بحثوں سے اپنے صفحات سیاہ کرتے ہیں ۔ ظفر اقبال غالب سے بڑا شاعر ہے، او ر احمد مشتاق کے سامنے دوز انوں تہہ کرکے فراق صاحب کو غزل کہنی سیکھنی چاہئے تھی، جیسی بحثوں کی بھرمار آج بھی اردو کے رسائل اور جرائد میں ہوتی ہے اوریہی ان کی زوا کی اصل وجہ ہے۔ جس کی اس بکواس میں دلچسپی نہیں وہ اردو کے نام نہاد اردو جرائد کیوں پڑھے گا؟

نیا ہندوستان کیاہے؟ یہ سوال بھی اہم ہے۔ مغلوں کا ہندوستان بھی ایک اکائی بالکل نہیں تھا۔مغل صرف بادشاہ تھے مگر انتظامات ہندوستانیوں خصوصاً ہندوؤں کے ہاتھ میں تھے۔1857 کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ اور 1946 کے کانگریس بنام مسلم لیگ انتخاب کے بعد کا ملک بھی نیا ہندوستان تھا۔ 1947 کے بعد تو ایک بالکل ہی نیا ہندوستان وجود میں آیا جو 1965اور 1971 کی ہندوپاک جنگوں کی وجہ سے اور بھی بدل گیا ، اور 1971 کے بعد ہندی مسلمانوں نے پاکستان کی طرف دیکھنے کا ارادہ پورے طور پہ ترک کردیا۔1947 کی تقسیم میں خلافت تحریک کی کثافت نے نہایت اہم رول ادا کیا۔ خلافت تحریک میں گاندھی جی نے محمد علی جناح کا تو جھٹکا کرکے ہندومسلم تنازعے کا کبھی نہ ختم ہونے والا بیج بودیا مگر مولانا آزاد نے وقت رہتے گاندھی جی کی اس سیاسی چال کو سمجھ لیا او رخلافت تحریک کی منطقی بنیادوں پر کی جارہی محمد علی جناح کے طرز پر اپنی مخالفت کا راستہ چھوڑ کر گاندھی جی کے خیمے میں شامل ہونا ہی بہتر سمجھا۔ جناح کی دوبارہ سیاست میں واپسی تک مولانا آزاد ہندوستان کی سیاست میں اپنی امام الہند کی ناقابل تسخیر جگہ بنا چکے تھے۔ جب جناح نے خلافت تحریک کی مخالفت کی تو کانگریس میں ان کا قد گاندھی جی سے بڑا نہیں تو چھوٹا بھی نہیں تھا، اور جو مسلمان خلافت تحریک کی مخالفت کی وجہ سے اس وقت جناح کو شیطان تصور کرتے تھے، وہی قیام پاکستان کی تحریک میں ان کی سب سے بڑی طاقت بنے!

1956 میں لسانی بنیاد پر ریاستوں کی تشکیل جدید کے بعد کا ہندوستان بھی نیا ہندوستان ہے جس میں ریاست حیدر آباد کے کچھ حصے صوبۂ کرناٹک تو کچھ مہاراشٹر میں شامل ہوگئے، مسلمانوں کی ان نئے صوبوں میں شمولیت بھی آزادی کے بعد کے ہندوستان اور ہندوستانی مسلمانوں کے طرز زندگی کو سمجھنے کا ایک بالکل مختلف او رنہایت اہم زاویہ ہے۔ میں نے شمال اور جنوب کی کسی تفریق پر بات طوالت کے خوف سے نہیں کی ہے۔۔ حالانکہ وہ بہت ضروری تھی۔۔ مگر 1948 کے پولیس ایکشن کے بعد کا حیدر آباد ایک نئے مسلم ذہنی رویےّ کا نام ہے جس میں حیدرآباد کے مسلمانوں نے پاکستان کی طرف دیکھا ہی نہیں اور پہلے مغربی ممالک او رپھر خلیجی ریاستوں اور سعودی عرب کا رخ کیا۔ان ممالک میں حیدرآبادی مسلمانوں کی انجمنوں اور جلسوں میں وہ پاکستانی نظر نہیں آئیں گے جو تقسیم کے وقت پاکستان چلے گئے تھے۔ آپ دنیا کے کسی حصے میں کسی ایسے حیدرآبادی مسلمان سے بات کیجئے جس کی عمر ساٹھ برس سے زیادہ ہوتو زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ کی گفتگو میں وہ کسی نہ کسی حوالے سے پولیس ایکشن کاذکر کردے گا اوربیس برس کا حیدر آبادی مسلمان بھی اپنی گفتگو میں اس ذکر کو لانے میں زیادہ سے زیادہ آدھا گھنٹے کا وقت لے گا ۔ ہم نے اس نفسیات کو سمجھا ہی نہیں ، نہ ہی پنڈت سندرلال کمیٹی کی رپورٹ ہمیں دلچسپی ہے جو آپریشن پولو کے نام سے کی گئی اس فوجی کارروائی پر اہم ترین دستاویز ہے۔

ان علمی سوالات کو کبھی اردو تو کیا انگریزی میں بھی نہیں اٹھایا گیا جس کی وجہ سے ذہنی سطح پر لججا مسلم معاشرہ وجود میں آیا۔ مسلم معاشرے سے متعلق ان سنجیدہ سوالوں کو نہ اٹھانے کی وجہ سے ہندوستان کے اب اکثر اردو اخبارات کی قبروں کے نشانات تک مٹ گئے ہیں۔

ان تمام سوالوں کے جواب ‘ اثبات’ کا ‘نیا ہندوستان پرانامسلمان’ نمبر کے تازہ شمارے میں فطری طور پر شامل نہیں ہوسکتے تھے مگر اس کے مدیر اشعر نجمی صاحب نے جتنے موضوعات کا احاطہ کیا وہ بھی اشتثنائی ہے۔ سامنے کی وجہ یہ ہے کہ اردو کے رسائل اور اخبارات میں کبھی مسلمانوں پر سنجیدہ تحریریں شائع کی نہیں گئیں۔800-800 صفحات کی دو ضخیم جلدوں اور تیرہ ابواب پر مشتمل شمارے کی یہ اشاعت ہندوستان کے مسلمانوں کی تاریخی اور سماجی صورت حال کو موثر انداز میں پیش کرنے کا ذریعہ ہے۔ گرچہ انگریزی میں اس موضوع پر سنجیدہ تحریر موجود ہیں لیکن اوّل تو وہ ناکافی ہیں، دوسرے ان کا اردو میں کبھی ترجمہ اس لیے نہیں ہوا کہ انہیں ناشر ملنا ممکن نہیں تھا۔ انگریزی سماجی علوم کے ماہر اور وہ مورخین جو اردو میں بھی لکھ سکتے تھے ان کو اردو اخبارات ورسائل کے رویےّ کی وجہ سے ابتدا ہی میں اتنے تلخ تجربے ہوئے کہ انہوں نے ایک دودفعہ کے بعد اردو میں لکھنے کے بارے میں سوچا ہی نہیں ۔امید کی جانی چاہئے کہ ‘اثبات’ کے مدیر اس سلسلے کی طویل فہرست ہے۔ ان کے جوابات اس سلسلے کے آئندہ شماروں میں ہمیں مل پائیں گے۔ اس شمارے کو ناگری کے ساتھ انگریزی ترجمے کی صورت میں بھی شائع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس شمارے میں شامل مضامین اردو میں لکھے گئے ہیں ، وہ انگریزی داں قارئین تک پہنچ جائیں۔ ہندی والوں نے تو طے کرلیا ہے کہ وہ کسی قیمت پر بھی اردو رسم خط نہیں سیکھیں گے ، اور اردو رسم خط کو ناگری میں تبدیل کیے بغیرانہیں چین ہی نہیں آئے گا۔ اس لیے ، اگر انہیں مسلمانوں کے بارے میں سنجیدہ بحث میں شامل کرنا ہے تو پھر خود ہی متعلقہ اردو تحریروں کو ناگری میں منتقل کرنے کاکڑوا گھونٹ پینا پڑے گا ۔ زبان سے وہ کچھ بھی کہیں مگر ہندی والوں کی اکثریت اردو کی نظریاتی دشمن ا س لیے ہے کیونکہ جدید ہندی کی نظریاتی اساس ہی اردو ددشمنی او رنئی ہندوشناخت کی تشکیل پر ہے۔

ہندی مسلمانوں پر اثبات کا یہ شمارہ ایک اہم اور ایسی دستاویز بھی ہے جس کا زاویۂ نظر رجعت پسند نہیں بلکہ ترقی پسندانہ ہے۔ یہ بھی مگر حقیقت ہے کہ ہندی مسلمانوں کے لیے ترقی پسندی او رجمہوریت آج بھی محض مجبوری کا نام ہے۔ ان کا جمہوری رویہ اور ترقی پسندانہ مزاج دیکھنا ہو تو کسی بہت پڑھے لکھے مسلمانوں کے محلے میں گھر لے لیجئے۔ آپ کے ساتوں طبق روشن ہوجائیں گے۔

17 نومبر،2024،بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

--------------------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/urdu-magazine-ithbaat-hindustan-old-muslims-indian/d/133778

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..