New Age Islam
Fri Nov 26 2021, 06:16 PM

Urdu Section ( 25 Jul 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Has Running a Madrasa become a Business? کیا مدرسہ چلانا کاروبار بن گیا ہے

اسرار پٹھان

24جولائی،2017

اتر پردیش کے زیادہ تر مدرسوں کی حالت بے حد خراب ہے ۔وہی گھسا پٹا طور طریقہ ، وہی پرانی دقیانوسیت کے غبار سے ڈھکا ، سڑا گلا ، بابا آدم کے زمانے کا طریقہ کار ۔ مدرسوں کے منتظمین لوگ آئین کی دفعہ ۔30کوہتھیاربنا کر اسے دوہنے کا کام کررہے ہیں او ربچے مثبت علم سے محروم ہورہے ہیں ۔ ندوہ جیسے درجن بھر مدارس کو الگ کریں تو باقی کے سارے مدارس بد حال ہی ہیں ۔ لکھنؤ میں چلنے والے دارالعلوم ندوۃ العلما ء، اعظم گڑھ میں دینی و دنیوی تعلیم کی کمان سنبھالنے دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم اور جامعۃ الفلاح کے ساتھ ساتھ سہارنپور ، بنارس، بریلی ، سدھارتھ نگر او ربلرام پور میں لوگوں کو فیضیاب کررہے بالترتیب مدرسہ مظاہر العلوم ، دارالعلوم دیوبند ، جامعہ سلفیہ ریو ڑ ی تالاب ، جامعہ منظر اسلام ،دارالعلوم فیض الرسول ، دارالہدیٰ یوسف پور او رمدرسہ سراج العلوم مثبت کوششوں کا نتیجہ ہیں۔

ریاست میں ایسے مدرسوں کی تعداد بہت کم ہے ، جنہیں کاملیت کے زمرے میں رکھا جائے ۔ صحیح معنوں میں ایسے مدرسوں کو انگلیوں پر گن سکتے ہیں ۔ ریاست میں صرف درجن بھر مدرسوں پر اترانے کے بجائے انتظامیہ کو ان مدارس کی طرف توجہ دینی چاہیے جو قصبے اور دیہی سطح پر کھول دیے گئے ہیں لیکن ان کی افادیت رتی بھر بھی نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ زمین پر بھی ان کی موجودگی نہیں ہے۔ ریاست میں ایسے بے معنی مدارس کی تعداد پچاس نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے ۔ دستاویز بتاتی ہے کہ امبیڈکر نگر میں 269، اعظم گڑھ میں 233، الہٰ آباد میں 132،آگرہ میں 17، علی گڑھ میں 16 ایسی سوسائیٹز رجسٹرڈ ہیں جو مدرسوں کو چلانے کا دعویٰ کرتی ہے۔ یہ حالت کم و بیش ریاست کے ہر ضلع کی ہے۔ حیرانی ہوگی کہ بندیل کھنڈ ایسے کام چلاؤ مدرسوں کو بڑا گڑھ بن چکا ہے۔ یہاں کے ریکارڈ بتاتے ہیں کہ یہاں مشترکہ طور پر پانچ سو سوسائٹیاں رجسٹرڈ ہیں ۔ یہاں لوگ ذاتی مفاد کے لیے تیزی سے ایسے مدرسے کھول رہے ہیں، جنہیں محض کاغذ پر یا پھر ایک کمرے سے چلا کر سرکاری اسکیموں کو ہڑپ کیا جاسکے۔ یا پھر زکوۃ اور فطرے کے دم پر اپنی جیبیں بھری جاسکیں۔ کام چلاؤ اداروں کی آڑ میں سرکاری اسکیموں کو فلیتہ لگانے کیلئے یہاں اکیلے منتظمین ہی قصوروار نہیں ، بلکہ اقلیتی محکمے کے افسر اور ملازم بھی اتنے ہی قصوروار ہیں ۔ حکمراں پارٹی سے لے کر حزب اختلاف سمیت ریاست کی سیاست میں سرگرم زیارہ تر پارٹیوں کی جانکاری ہے لیکن کہیں نہ کہیں ان کی سیاسی لالچ نے ان کے منہ پر تالا ڈال رکھا ہے۔

یہ منتظمین منمانے ڈھنگ سے مدرسوں کو چلا رہے ہیں ۔ کچھ لوگ منظوری لے کر سرکاری مدد کے دم پر عیش کررہے ہیں ۔کچھ مدرسے عوامی چندے سے چاندی کاٹ رہے ہیں ۔ مدرسوں میں تعلیم یافتہ طلبہ کامستقبل بحران میں ہے ۔ خالصتاً دینی تعلیم دینے والے اداروں سے پڑ ھ کر نکلے حافظ ، قاری اور عالم روزگار کو محتاج ہیں ۔ ان مدرسوں میں پڑھنے والے بچے زیادہ تردیہی علاقوں اور غریب خاندانوں سے آتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ فیس کے نام پر گھر سے لایا ہوا چاول اور ا ناج دے کر یہ بچے دینی تعلیم حاصل تو کرلیتے ہیں لیکن جب یہی لوگ مدرسوں میں بطور ٹیچر درخواست دیتے ہیں تو ان سے موٹی رشوت کی مانگ کی جاتی ہے۔ سرکار جدید تعلیم کے لیے تسلیم شدہ مدرسوں کو تین اساتذہ کا اعزازیہ دیتی ہے،جب کہ ان عہدوں کے لیے اساتذہ کے انتخاب کا اختیار انتظامیہ کے پاس ہوتا ہے اور اس کا فائدہ مدرسہ چلانے والے اٹھاتے ہیں ۔ درخواست گزاروں سے تقرری کے عوض موٹی رقم لی جاتی ہے ۔ اس رشوت کا دائرہ ان مدرسوں میں زیادہ بڑھ جاتاہے ،جو تسلیم شدہ ہوتے ہیں ۔ بندیل کھنڈ کے مہوبہ ضلع میں چلنے والامدرسہ دارالعلوم صمدیہ مکنیا پورہ اس کی بہتر نظیر ہے ، جہاں کچھ سال قبل اسی طرح کے ایک معاملے سے وبال مچ گیا تھا۔ منتظمین اساتذہ کے عہدوں پر اپنے ہی خاندان کے ممبروں کا تقرر کر لیتے ہیں او رسرکاری مدد ڈکار جاتے ہیں ۔ ایسی حالت میں اداروں سے پڑھ کر نکلے حافظ ،قاری اور عالم کی ڈگری والوں کے پاس صرف دو ہی متبادل رہ جاتے ہیں ۔ پہلا یہ کہ وہ اب اپنی روزی روٹی کے لیے محنت مزدوری کریں یا پھر وہ بھی ایک کمرے میں مدرسہ کھول کر اسی نظام کا حصہ بن جائیں ۔

مدرسوں میں چل رہی اس منمانی کے خلاف مسلم کمیونٹی میں بے حد غصہ ہے۔ موٹا پیسہ لے کر مدرسہ چلانے والوں کو لوٹ کی منظوری دینے میں ڈی آئی اوایس اور بی ایس اے آفس میں پیچھے چھوٹ گئے ہیں ۔ بدعنوانی میں گلے تک ڈوبے اقلیتی محکمہ کی صورت حال کااندازہ بندیل کھنڈ کے ضلعوں سے بخوبی لگائی جاسکتی ہے۔ بندیل کھنڈ کے زیادہ تر اضلاع میں اقلیتی افسر کو مامور کیا گیا ہے۔ مہوبہ ان ہی ضلعوں میں سے ایک ہے۔ یہاں کے اقلیتی افسر سنگھ پرتاپ دیو نے تو منمانی کے سارے ریکارڈتوڑدیے ہیں ۔ خود کوریاست کے ایک قد آور وزیر کا چہیتا بتانے والے اس افسر کے سامنے سینئر انتظامی افسر بھی بونے ثابت ہورہے ہیں ۔مدرسوں کی منظوری کے معاملے میں منمانی پر آمادہ اس افسر کو نہ تو ضابطوں سے کوئی مطلب ہے ، نہ ہی فائدے اور نقصان سے کوئی سروکار۔ ’ دام دو او رکام لو‘ کے اکلوتے فارمولے پر چلنے کی وجہ سے ہی یہ افسر دلالوں اور چاپلوسوں کا چہیتا بناہوا ہے۔ دفتر میں ہر وقت مدرسہ کی منظوری کے دھندے سے جڑے دلالوں کا جم گھٹ لگنا اس بات کی تائید کرتاہے۔ ابھی حال ہی میں اس بے لگام افسر نے ضلع افسر کیمپ دفتر میں ضلع افسر سے ہی بدسلوکی کردی۔ ضلع افسر نے کسی اسکیم کی جانکاری لینے کے لیے مذکورہ افسر کو بلایا تھا۔ صحیح جانکاری نہ دینے پر جب ضلع افسر نے اسے ڈانٹا تووہ بدسلوکی پر اتر آیا۔ بدعنوان افسروں کے حو صلے اتنے بلند ہیں ۔

مدرسوں کے دم پر کوٹھیوں کے مالک ہوگئے

مدرسو ں سے مسلم عوام کا بھلاہوا ہو یا نہیں ،لیکن اس کا فائدہ اٹھاکر مدرسہ چلانے والے کنگالی سے کوٹھیوں تک ضرور پہنچ گئے ۔کنگالی سے کوٹھی تک کا سفر سرکاری اسکیموں کی رقم کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ اور فطرے نے بھی پورا کر لیا۔ تعلیم کی اس پاک خدمت کو کاروبار کی شکل دینے والے لوگ آج کروڑوں کے وارے نیارے کررہے ہیں ۔ باندرہ ضلع میں چلنے والا ہتھورہ مدرسہ کے سرپرست ہوں یا مہوبہ ضلع کے پنواڑی قصبہ میں چل رہے رحمانیہ کالج کے منتظم یا پھر دارالعلوم غوثیہ رضویہ اور مدرسہ دارالعلوم صمدیہ کے کرتا دھرتا ، کل پہاڑ میں واقع جی بی اسلامیہ کے عزیز خان ہوں یا پھر ضلع ہیڈکواٹر کے صمد نگر میں نونہالوں کو فیضیاب کرنے کا دعویٰ کرنے والے مدرسہ الفلاح مجددیہ کے مبینہ پردھان، سب اس معاملے میں حمام میں ننگے ہیں ۔

24جولائی،2017بشکریہ : ہفت روزہ چوتھی دنیا

URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/running-madrasa-become-business-/d/111961

 

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism


Loading..

Loading..