New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 09:01 PM

Urdu Section ( 24 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

Another Way of Understanding Creation موجودات کو سمجھنے کا ایک اور طریقہ

 

آصف مرچنٹ، نیو ایج اسلام

20 ستمبر ۔ 2013

ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں میری نظر سے ایک قابل ذکر کتاب گزری جو اسی وقت شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب کا نام " THE BOOK – On the Taboo against Knowing who You are " تھا۔ اس کے مصنف ایلن واٹس نامی ایک فلسفی تھے ۔ شاید یہ ان کی پہلی کتاب تھی ۔ جو واقعی بہت زیادہ مشہور ہوئی ۔ کئی سالوں تک اس کا جوش و جذبہ برقرار رہا ۔ میرے لئے یہ زین بدھ مت سے میرا تعارف تھا۔

اس میں واٹ نے ایک انتہائی دلچسپ انداز میں تخلیق کی کہانی پیش کی ہے۔ کائنات میں صرف ایک ہی وجود ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اسے خدا کہیں ۔ اور کھلاڑی وہی صرف ایک ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا کھلاڑی نہیں ہے لیکن وہ کھیل ' آنکھ مچولی ' کی طرح ایک کھیل ہے۔ چھپنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے لہٰذا ایک کائنات پیدا کی گئی ۔ کوئی دوسرا کھلاڑی نہیں ہے لہٰذا وہی ‘ یکتا ’ خود کے ساتھ کھیل رہا ہے ۔ وہ چھپ رہا ہے جبکہ وہی تلاش بھی کر رہا ہے ۔ چھپنے کے لامحدود طریقے ہیں۔ چھپنا تمام وجودات کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پودے، امیبا ، جانور اور انسان ۔ تمام کے تمام درحقیقت وہی 'ایک ​​' ہیں۔ جو کہ'ایک’ سے چھپ رہے ہیں ۔

کبھی کبھی یہ ایک علامت ہے۔ شاید یہی کچھ ایسا ہے جس نے منصور کو " انا الحق " کا اعلان کرنے کے لئے امادہ کیا تھا ۔ اسے پڑھنے والے لوگ اس بات کی ایک دانشورانہ تفہیم حاصل کر سکتے ہیں کہ اس سے منصور کا مطلب کیا تھا  لیکن ایک حقیقی علامت کے بغیر اس طرح کا بیان توہین ہو گا ۔

صوفی حضرات اس کے لئے جہد مسلسل جاری رکھتے ہیں اور اس مرتبہ کو پانے کی اپنی تمام امیدیں زندہ رکھتے ہیں جہاں پہنچ کر ایسی بصیرت حاصل ہو جاتی ہے ۔

حال ہی میں کسی نے نیو ایج اسلام پر یہ ذکر کیا کہ اوشو کا کام پڑھنے کے قابل ہے ۔ یقینی طور پر اوشو کے خیالات نے خاص طور پر ان کے ابتدائی دنوں میں اکثر ذہن و دماغ کو تحریک دی ہے ۔ ساٹھ کی دہائی میں اوشو فلسفہ کے پروفیسر تھے اور آچاریہ رجنیش کے طور پر جانے جاتے تھے ۔ لہٰذا انہوں نے اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیا ہوگا ۔ دراصل عملی طور پر ہر سالک نے ان دنوں اس کتاب کا ضرور مطالعہ کیا ہوگا ۔ یہ اب بھی انتہائی متاثر کن اور پڑھنے کے قابل ہے۔

ایلن واٹس کے کچھ اقتباسات پیش ہیں:

آپ نے دیکھا کہ کائنات طلسماتی فریب اور ایک شاندار کھیل کا منبع ہے اور اس سے کچھ حاصل کرنے کے لئے اس میں علیحدہ ‘تم ’ جیسی کوئی چیز نہیں ہے گوکہ زندگی ایک بینک کی طرح ہے جسے لوٹا جا سکے ۔ صرف ایک ہی حقیقی " تم" ہے  جو آتا ہے اور چلا جاتا ہے خود ظاہر اور خود روپوش ہوتا ہے اور ازلی  اور ابدی ہے اور باشعور مخلوق کی طرح ہے ۔ اس لئے کہ  "تم" کائنات ہے اور اربوں کھربوں نقطہ نظر سے خود کی طرف دیکھ رہا ہے اور وہ ایسے نقطہ نظر ہیں جو آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں بصیرت ہمیشہ نئی رہتی ہے ۔

" وہ مسائل جو مسلسل لاینحل رہتے ہیں انہیں ہمیشہ غلط طریقے سے پوچھا گیا سوال سمجھا جانا چاہیے۔ "

"ہم " اس دنیا میں نہیں ‘‘ آتے " ہیں بلکہ اس دنیا سے آتے ہیں جیسا کہ پتے ایک درخت سے گرتے ہیں۔ "

" کسی بھی مذہب میں بالکل اٹل عزم نہ صرف یہ کہ دانشورانہ خود کشی ہے بلکہ یہ مثبت بےایمانی بھی ہے کیونکہ یہ دنیا کے تئیں کسی بھی نئی بصیرت کے لئے دماغ کے دریچے بند کر دیتا ہے ۔ عقیدہ نامعلوم اشیاء پر ایمان تمام کشادگی سے برترو بالا ہے " ۔

‘‘اس لئے کہ ہر فرد اپنے تمام کی ایک منفرد مثال ہے جیسا کہ درخت کی ہر شاخ درخت سے تجاوز کرنے والی ہے " ۔

انفرادیت ظاہر کرنے کے لئے ہر شاخ کا درخت کے ساتھ ایک حساس تعلق کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ آزادانہ طور پر حرکت کرنے والی مختلف انگلیوں کا پورے جسم کے ساتھ ایک حساس تعلق کا ہونا ضروری ہے ۔

‘‘وہ نقطہ جس کا بمشکل ہی بار بار اعادہ کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ فرق علیحدگی نہیں ہے۔ ’’

زمین پر رہنے والی مخلوق کے ڈی این اے کا موازنہ کرتے ہوئے ہم نے یہ دریافت کیا ہے کہ ایک امیبا میں انسان کے مقابلے میں 200 گنا زیادہ ڈی این اے پایا جاتا ہے ۔ انسانوں کا اکثر ڈی این اے امیبا میں موجود ہے۔ اگر مزید ثبوت کی ضرورت ہو تو وہ یہ ہے کہ تمام جاندار ایک دوسرے سے مربوط ہیں ۔

زمین اور سیارے پر زندگی کے درمیان تعلقات کو بھی آہستہ آہستہ سرایا جارہا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ ایک ایسا وقت آئے کہ کائنات کی ہر چیز کے درمیان تعلقات ہماری عام معلومات کا حصہ بن جائے ۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

URL for English article:

http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/asif-merchant,-new-age-islam/another-way-of-understanding-creation/d/13584

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/asif-merchant,-new-age-islam/another-way-of-understanding-creation-موجودات-کو-سمجھنے-کا-ایک-اور-طریقہ/d/14141

 

Loading..

Loading..