New Age Islam
Mon Nov 29 2021, 03:56 AM

Urdu Section ( 20 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Do The Hebrew Religions Explain How The Universe Was Created? کیا کسی عبرانی مذہب میں کائنات کی تشکیل کی وضاحت ہے؟

 

آصف مرچنٹ، نیو ایج اسلام

17 اگست 2012

(انگریزی سے ترجمہ۔ نیو ایج اسلام)

بائبل میں تخلیق کے متعلق  ایک کہانی ہے۔ قرآن میں  بھی اسی طرح کی ایک کہانی ہے۔ مسئلہ  صرف یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی  دور حاضرکے علم کی روشنی میں معتبر نہیں ہے ۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی لائبریری میوزیم میں  خطاب کرتے ہوئے بشپ سیموئیل ولبر فورس  نے یہ اعلان کیا کہ دنیا تقریباً 6000 سال پرانی ہے ، جسے  23  اکتوبر 4004 قبل مسیح خدا کے ذریعہ  پیدا کیا گیا ہے، انہوں نے بائبل میں بیان کردہ علم الانساب  کے ذریعہ پچھلے زمانے کی  گنتی کے ذریعہ  یہ تاریخ معلوم  کیا تھا۔

اگر کوئی  اسی طرح کی کوشش کرتا  اور قرآن کریم کا استعمال کرتے ہوئے اس  مسئلہ کو حل  کرنے کی کوشش کرتا تو، تو اس بات کا قوی  امکان ہے کہ وہ بھی اسی طرح کا نتیجہ حاصل کرتا ۔ صرف یہی نہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں ان چیزوں کے ایسے غیر واضح اشارے ہوں جن کی نشاندہی اہم سائنسی دریافت کے بعد کی گئی ہے، لیکن کسی بھی صورت   میں کوئی بھی،  قرآن یا بائبل کا استعمال کرتے ہوئے دریافت کی پہلے سے پیش بندی کرنے کے قابل  نہیں ہو  پا یا ہے۔

مسئلہ کیا ہے؟ کیا مقدس کتابیں غلط ہیں؟

اگر کتابیں  غلط نہیں ہیں، تو ممکنہ وضاحت صرف یہی ہے کہ کتب پڑھنے کے ہمارے طریقے غلط ہیں۔

زمین نظام شمسی میں صرف ایک  چھوٹا سا نقطہ ہے ، جو کہ کہکشاں میں  ایک نقطے سے بھی کم ہے، جو کہ خود کائنات میں ایک نقطے  کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔ ۔ ۔ کائنات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔اس میں ریاضی کے لا تعداد  حیرت انگیز اصول  سرگرم ہیں جنہیں بیش تر ماہر ریاضی داں بھی سمجھنے سے؛ قاصر ہیں۔

قرآن مجید تقریباً 1400 سال پہلے نازل کیا گیا۔ بائبل اس سے بھی پرانا ہے۔ عمر کو بالائے طاق رکھیں۔ اگر کوئی  مقدس کتاب آج نازل کی گئی  ہوتی  تو بھی، ان میں بھی  کائنات اور تخلیق کا کوئی بھی  حوالہ کسی حد تک ایسا ہی ہوتا۔ اس سے پرے کچھ بھی قارئین کے لئے بعیدالفہم ہوتا۔ اس کے باوجود ایک لغوی تشریح کئی غلطیوں کا باعث بنتی جیسا کہ بائبل اور قرآن مجید کی موجودہ لغوی تشریح ۔ ان کتابوں کا حقیقی مقصدآپکی  جستجو کو  مہمیز  کرنا ہے ۔ آپ کو انگلی پکڑ کر چلانا نہیں ہے۔

ایک لغوی تشریح خالق کےبارے میں ایک ملکوتی  نقطہ نظر کا باعث ہوتی ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کتنے لوگ اس کا انکار کر سکتے ہیں، لیکن وہ ان کے نقطہ نظر کو باقی رکھتا ہے۔ہم خالق کی وضاحت کرتے ہوئے  ' اللہ کے دربار ' جیسے  بیانات سنتے ہیں، ہم رمضان کے دوران یہ سنتے ہیں کہ ، ‘ جنت  کے دروازے آپ کے لئے کھلے رکھے جاتے ہیں، اورجہنم کے دروازے مستقل طور پر بند کر دئے جاتے ہیں ۔ اس طرح کے بیانات 'شرک' کی ایک قسم ہیں، اور انہیں ترک کیا جانا چاہئے۔ ان احکام میں سے ایک ، جو موسی (علیہ السلام )کے ذریعے یہودیوں کو دیا گیا ، یہ ہے، "تم بے فائدہ  خدا کا نام نہیں لوگے"۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ اس طرح کے 'شرک' کے ارتکاب سے بچنے کے لئے ہے، جسے میں نے بیان کیا ہے ۔ اس کے برعکس، ہمارے مسلمان، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ،  اللہ یہ ۔ ۔ ۔ اور اللہ وہ  کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔

آج بھی ہم میں سے اکثر  زمین کو مسطح سمجھتے ہیں ۔ یہ اس وقت دیکھا جا سکتا ہے، جب لوگ خدا کی بات کرتے ہوئے،  صرف ایک خاص سمت میں دیکھتے ہیں  ۔ ہاتھ ایک خاص سمت میں نماز کی امامت  کرنے کے لئے اٹھائے جاتے ہیں ۔ ہم کہتے ہیں ‘اللہ  اوپر ہے’، جب  ہم جنت کی بات کرتے ہیں تو  اسی سمت میں اشارہ کرتے ہیں ۔ ۔ ‘جنت اوپر ہے’۔ یا جہنم کی طرف اشارہ کرنے کے لئے نیچے اشارہ کرتے ہیں۔ جنت اوپر ہے، جہنم نیچے ہے۔ درمیان میں کیازمین مسطح  ہے۔ در  اصل ، آپ جس بھی سمت کی طرف اشارہ کریں گے ، وہ خدا کی طرف ہی ہو گا، اس لئے کہ زمین گول ہے ۔

چونکہ تخلیق کو سمجھنا بہت مشکل ہے، یہ اس شعور کی طرف اشارہ ہے کہ خالق عام تصورات کے ذریعہ  بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ در اصل، کوئی کسی بھی حد  تک یہ کہہ سکتا ہے کہ   ‘ آپ خدا کے بارے میں جو کچھ بھی کہیں گے ، وہ  غلط ہی ہوگا ’ ۔ براہ راست کوئی حوالہ  پیش کرنے سے بہتر ، اس سے احتراز کرنا ہے۔ زیادہ سے زیادہ، کوئی ان موضوع پر بات کر سکتا ہے۔ شاید اسی لئے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا  کہ،سائنس کے مطالعہ میں ایک گھنٹہ صرف کرنا ، ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے ۔ سائنس کے مطالعہ میں، کوئی  تخلیق کے بارے میں کچھ ادراک حاصل کر سکتا ہے۔ یہاں پھر، میں اس بات کی تصدیق کروں گا کہ  اگر آپ سائنس کا مطالعہ انتہائی لغوی طور پر نہ کریں، بلکہ  اس سے آگے جانے کی کوشش کریں، تو تخلیق کی ایک جھلک حاصل کرنا ممکن ہے ۔

دراصل، مجھے یہ لگتا ہے کہ  مقدس کتاب کی لغوی تشریح نے ہی اتنی بری طرح سے ہمیں گمراہ کیا ہے ۔ اگر  ہم یہ مان لیں کہ  قرآن مجید کا بنیادی مقصد ایک منصفانہ اور پرامن تہذیب کی طرف رہنمائی  کرنا ہے، اور الفاظ میں الجھے  بغیر پڑھیں ، تو اس سے ایک بہت بڑا فرق پیدا ہو گا ۔ قرآن کے تمام قوانین میں  اس طرح کے قابل انطباق نکات پائے جا تے ہیں کہ، ‘‘ اگر تم یہ بھول جاؤ تب بھی کہ تمہارا رب، رحم کرنے والا، حاضرو ناظر ہے ۔’’ اس سے اس با ت کا اشارہ ملتا ہے کہ  جو قوانین قرآن میں بیان کئے گئے ہیں ، وہ صرف ہدایات ہیں ۔ ہمیں  قانون کی حکمرانی پر مبنی اور انصاف کے لئے وقف، ایک سوسائٹی بنانے کے لئے ہمارے اپنے قوانین نافذ کرنے ہوں گے ۔

 کسی بھی صورت میں، یہ کبھی نہ بھولیں کہ  جینے  اور سوچنے کے لئے یہ ہمارا ایک ہی موقع ہے ۔ ہمیں ہمارے ذریعہ معاش کے علاوہ ، کچھ وقت ' الہی تجسس ' میں بھی  بتانا چاہئے۔ اس کے ایک لامتناہی تعداد میں راستے ہیں ، اور ہر ایک یکساں طور پر درست ہے، اگر چہ آپ کا  پیشہ یا کاروبار کچھ بھی ہو ۔ ہو سکتا ہے کہ کسی مرحلے پر اخلاص کے ساتھ کوئی یہ کہ سکے ؛

" تلاش وطلب میں وہ لذت ملی ہے

دعا کر رہا ہوں کہ  منزل نہ آئے۔ "

http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/do-the-hebrew-religions-explain-how-the-universe-was-created?/d/8319

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/asif-merchant,-new-age-islam-آصف-مرچنٹ/do-the-hebrew-religions-explain-how-the-universe-was-created?--کیا-کسی-عبرانی-مذہب-میں--کائنات-کی-تشکیل-کی-وضاحت-ہے؟/d/11666

 

Loading..

Loading..