New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 02:14 AM

Urdu Section ( 8 March 2013, NewAgeIslam.Com)

Halal Industry And European Muslims حلال انڈسٹری کے مفادات اور یورپی مسلمان

 

حروف کو چھوٹا یا بڑا کرنے کیلئے او پر  A A A پر کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آصف ڈار

2 مارچ، 2013

بارس  میٹ سکینڈل نے جہاں  یورپی منڈیوں میں  اربوں یوروز کاروبار خطرے میں ڈال دیا ہے وہاں اس بحران  نے 7 سو بلین ڈالر کی حلال میٹ انڈسٹری کے  لئے بھی بے شمار سوالات کھڑے کر دیئے  ہیں۔ مغرب اور یورپی ممالک کے عوام کو اپنے کار وبار ی اداروں پر اس قدر اندھا اعتماد تھا کہ کوئی یہ تصور نہیں کرسکتا تھا کہ جو چیز وہ لے رہاہے اور جس کے وہ پیسے  دے رہا ہے اسے وہ چیز نہیں مل رہی ۔ بلکہ اس سے کم تر چیز مل رہی ہے۔ ہارس میٹ سکینڈل نے صارفین ، بزنس کمیونٹی اور حکومتوں کے درمیان قائم اعتماد کو بری طری ٹھیس پہنچائی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ برس ہا برس سے قائم یہ اعتماد اب دوبارہ  بحال ہونے میں بہت وقت لگے گا۔ چونکہ  اس صنعت کے اندر اربوں پونڈ کا سرمایہ لگا ہوا ہے اور اس سے کروڑوں لوگوں کا کاروبار وابستہ ہے۔ اس لئے اس صنعت کے بیٹھ جانے کے ڈر سے بھی مغربی حکومتیں  اس معاملے کو زیادہ اچھال نہیں  رہیں۔ یہی  مفادات حلال فوڈ کی صنعت والوں کے بھی ہیں۔ اسی لئے یورپ میں موجود ہ مسلم  کمیونٹی لیڈروں اور اسلامی تنظیمو  ں نےبھی معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔ گھوڑے کے گوشت کو فروخت کرنے کے حوالے سے جو انکشافات اب تک سامنے آئے ہیں ان کے مطابق اس  گو شت کو نہ صرف غیر حلال  بیف کے طور پر فروخت کیا جاتا رہا ہے بلکہ ایسے  حلال بیف میں بھی شامل کر کے یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ  عرب اور اسلامی ممالک کوبھی فروخت کیا جاتا رہا ہے ۔ ابھی  حال ہی میں  یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ حلال بیف میں ہارس میٹ کے ساتھ ساتھ  سور کا گوشت بھی ملا ہوا پایا گیا ہے اور اس بیف  کی مصنوعات کو مسلمان ممالک میں بھی  بھیجا جاتا ہے ۔

 اس  سلسلے کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ مسلمان ممالک میٹ کی بعض مصنوعات یورپی ممالک سے درآمد کرتے ہیں۔ یورپی مسلمانوں کی تو یہ مجبوری  ہے کےوہ یورپی کمپنیوں پر اعتماد کریں اور جن مصنوعات پر حلال لکھ دیا گیا ہو ان پر اعتماد کریں۔ مگر اسلامی اور عرب ممالک کے مسلمانوں  کو یورپی  مصنوعات درآمد کر کے کھلانا کہا ں کا انصاف  ہے؟ کیا ان  ممالک میں فوڈ کی  صنعت پر توجہ ہی نہیں دے رہے بلکہ بعض ممالک میں تو شاید بھاری کمیشن کی وجہ سے یورپی منڈیوں سے دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ  میٹ کی مصنوعات بھی خریدی  جاتی ہیں۔ اب جبکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بعض یورپی کمپنیاں  گھوڑے کا سستا گوشت بیف کے طور پر فروخت کر کے بھاری مال کمار ہی  تھیں اور یہی غیر حلال گوشت مسلمانوں کو بھی بھیجا جاتا رہا ہے ۔  اس لئے مسلمان اور عرب ممالک کو چاہئے کہ وہ کسی مصلحت  کا سہارا لئے بغیر یورپ کی کمپنیوں  سے جانے والی  میٹ پروڈکشن پر پابندی  لگائیں اور اس بات کی مکمل تحقیقات  کرائیں کہ مسلمانوں کے ساتھ یہ دھوکہ دہی کیوں ہوتی رہی ہے ۔ مزید برآں حلال کے نام پر مسلمانوں کو گھوڑے اور سور کا گوشت سے ملی ہوئی میٹ پروڈکشن کب سے کھلائی جارہی ہے؟ حالانکہ یورپی کمپنیوں کو حلا ل اور غیر حلال کے بارے میں ساری معلومات حاصل ہیں۔ یورپی یونین کی مجبوری  یہ ہے کہ وہ اس کا روبار کو ختم نہیں کر سکتی، ایسا کرنے سے اقتصادی بحران کے اس دور میں ایک نیا بحران سامنے  آجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین نے اس سکینڈل کو زیادہ نہیں اچھالا اور اپنے  حساب سے سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس صنعت کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ یورپی یونین اس کو غلط لیبل لگائے جانے کا معاملہ ظاہر کررہی ہے۔

حالانکہ ایسا بالکل  نہیں ہے۔ بلکہ یہ دھوکہ دہی کا کیس ہے جس میں اس گھناؤ نے کاروبار کے ذریعے گوشت کی سپلائی کرنے والے اداروں نے محض زیادہ منافع کمانے کے لئے اپنے گاہکوں کے اعتماد کو دھوکہ دیا ہے۔ برطانیہ  میں ہونے والے ڈی این اے کے نتائج نے ان اداروں کو بے نقاب کردیا ہے اور اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ نہ  صرف غیر  حلال بیف میں ہارس میٹ کی ملاوٹ  پائی گئی ہے بلکہ حلال مصنوعات میں بھی ہارس میٹ اور یورک کے اجزاء پائے گئے ہیں ۔ یورک والا حلال فوڈ برطانوی جیلوں  میں سپلائی کیا جاتا رہا ہے ۔ جہاں  اسے مسلمان قیدی  کھاتے بھی رہے ہیں اور افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ حلال مصنوعات بنانے والی اس کمپنی کو حلال فوڈ اتھارٹی  نے سرٹیفکیٹ دے رکھا تھا۔ چونکہ ڈی این اے سے اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ حلال فوڈ میں سور کے گوشت کی ملاوٹ پائی گئی ہے۔ اس لئے بیف کی مصنوعات فراہم کرنے والی کمپنی راہ فرار بھی اختیار نہ کرسکی اور اُس نے یہ اعتراف کر لیا کہ ملاوٹ شدہ مصنوعات صرف جیلوں  میں قیدیوں  کو کھلائی  گئی ہیں۔ انہیں عام صارفین کے پاس نہیں بھیجا گیا ۔

یورپی ممالک کے عام شہریوں کو حلال اور حرام سے غرض نہیں ہے بلکہ ان کا یہ کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ وہ جس چیز کے پیسے  دیتے رہے ہیں وہ انہیں کیوں نہیں ملی ۔ اگر انہوں نے قیمتی  بیف خرید نا چاہا ہے تو اس کے بدلے میں انہیں سستا گھوڑے کا گوشت کیوں فراہم کیا گیا ہے؟ ان کے ساتھ چونکہ دھوکہ ہوا ہے۔ اس لئے ان کے اعتماد کو بحال  کرنے کے اقدامات کئے جائیں ۔ جب کہ مسلمانوں  کے ساتھ سب سے بڑا دھوکہ یہ ہوا ہے کہ انہیں سور کے اجزاء والا گوشت کھلا یا گیا ہے جس کے کھانے کا وہ تصور بھی نہیں  کرسکتے۔ مگر اس معاملے پرمسلمانوں  کے اپنے لیڈروں نے چپ سادھ  لی ہے۔ جب کہ مسلمان ممالک نے بھی اس طرح مصنوعات کی فراہمی پرکوئی احتجاج نہیں کیا۔ مسلمانوں  کے اس روئیے  اور یورپی  یونین کے رد عمل  سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آج کے دور میں  اعتماد سے زیادہ  بزنس کو اہمیت  دی جاتی ہے۔ یورپی حکومتیں کسی نہ کسی  طرح اسے صارفین کو یہ سمجھا ہی لیں گی کہ درحقیقت  ان کو دھوکہ نہیں دیا گیا بلکہ غلط لیبل  کی وجہ سے سارا مسئلہ پیدا ہوا ہے ۔ اس لئے آئندہ اس بات کو یقینی  بنا دیا جائے گا کہ لیبل درست ہوں اور سارے جانوروں کو الگ الگ جگہوں پر ذبح  کیا جائے ۔ تاہم سوال یہ ہے کہ خاص طور پر برطانیہ اور یورپ میں رہنے والے مسلمانوں  کے اعتماد کو کون بحال کرے اور انہیں اس بات کا یقین کون دلائے گا کہ آئندہ انہیں حلال کے نام پر سور یا گھوڑے کا گوشت نہیں کھلایا جائے گا؟

2 مارچ ،  2013  بشکریہ : صحافت ، ممبئی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/asif-dar---آصف-ڈار/halal-industry-and-european-muslims--حلال-انڈسٹری-کے-مفادات-اور-یورپی-مسلمان/d/10707

 

Loading..

Loading..