New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 09:52 AM

Urdu Section ( 20 March 2013, NewAgeIslam.Com)

A Harmonious Marriage کامیاب ازدواجی زندگی قر آن کی روشنی میں

 

حروف کو چھوٹا یا بڑا کرنے کیلئے او پر  A A A پر کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اصغر علی انجینئر

8 مارچ2013

کل تک، ایک عورت، شادی کے بعد، ایک مرد کی ملکیت سمجھی جاتی تھی، اور اس کے ساتھ فرحت اور تسکین کے حصول  کو مرد  کا مکمل حق سمجھا جاتا تھا ۔

وہ اپنے شوہر کے اس حق سے انکار نہیں کر سکتی تھی، خواہ  وہ چاہے یا نہ چاہے ۔ 1980کی  ابتداء میں اس مسئلے کے بارے میں مجھے ایک سوال بھیجا گیا تھا۔ میں نے دستیاب تمام روایتی اسلامی ادب کا مطالعہ کیا ،لیکن اس مسئلہ کے تعلق سے مجھے کچھ نہیں ملا ۔

میں نے مختلف ممالک میں، عورتوں کی تحریک  پر ادب کا بھی مطالعہ کیا ،اور پتہ چلا کہ ایسا کوئی تصور مغربی قوانین میں بھی موجودنہیں ہے۔لیکن جب مجھے ایک برطانوی عدالت کے فیصلے کے بارےمیں پتہ چلا،جس کا مخاطب ایک ایسا شوہر تھا، جو غیر رضامند بیوی پر جبر کر رہا تھا۔

اس نے مجھے  اس نقطہ نظر سے سوچھنے اور  قرآن کا مطالعہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اکثر قرآن  کی آیتیں 23 سال کی مدت میں نازل کی گئی تھیں، اور رد عمل میں تھیں ،  یا ایسے کسی دوسرے مسئلے کے جواب میں تھیں، جو  نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایسا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا تھا ، ان دنوں میں، خاموشی کےساتھ، اپنے شوہر  کے مطالبات کو تسلیم کر لینا عورتوں کا فرض سمجھا جاتا تھا  ۔ اسی وجہ سے ادب حدیث بھی اس سوال پر خاموش ہے۔

لیکن صرف خاموشی کا مطلب منظوری نہیں ہے۔ قرآن شراب نوشی پر بھی سزا کے بارے میں خاموش ہے ۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ شراب نوشی  کی اجازت ہے؟ بالکل نہیں۔ شراب نوشی کی سزا قیاسی استدلال کے ذریعے مقرر کی گئی تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سختی کے ساتھ، اجتہاد پر مبنی قرآنی اقدار اور سنت کی اہمیت  کے حق میں تھے۔ یہ بھی نوٹ کرنا ضروری ہے کہ ، قرآن  کی آیات کو مخصوص معانی کے ساتھ خاص کرنا قرآن کی بنیادی روح کو بہت بڑا نقصان پہونچانا ہو گا  ۔

اگر قرآن ابدی رہنمائی کی ایک کتاب ہے، خاص طور پر وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے نئےحالات کے بارے  میں، نئے نئے حالات میں، اس کی آیات کے معانی پرنظر ثانی کرنے کی آزادی، انسان کو  ہونا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ، جو چیزقابل ذکر ہے، وہ  یہ ہے کہ قرآن عربوں کے ایک یا دو نسلوں کی رہنمائی کے لئے نہیں تھا، بلکہ  آنے والے تمام اوقات میں  پوری انسانیت کی رہنمائی کے لئے تھا ۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ قرآن فوری طور پر اس وقت کے عربوں سے سے متعلق  کچھ مخصوص مسائل سے مخاطب ہے، مقدس کتاب اس کے علاوہ بھی اور کچھ ہے۔ قرآن  اس وقت سے بہت زیادہ اوپر اٹھ کر  جس میں وہ نازل کیا گیا تھا ،یقینی ابدی اخلاقی اقدار اور لا محدود بصیر ت عطا کرتا ہے ،صرف عظیم بصیرت کے حامل  افراد ہی قرآن کی اس روح کو حاصل کر سکتے ہیں  ۔

ایک بار پھر یہی وجہ تھی  کہ ہمیشہ متحرک اور معنی خیز  قرآن کی آیات کی مختلف طرح سے تشریح کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ، اگر ہم قرآن کو عربی ثقافت، رسوم و رواج اور روایات تک  محدود رکھتے  ہیں، تو اس کے بہت سارے ایسے حصوں سے محروم ہو جائیں گے، جن کا تعلق آنے والے زمانے سے ہے ۔

خواتین کے حقوق کے تعلق سے  قرآن نے جو احکام بیان کئے وہ کافی انقلابی تھے۔ اس نے خواتین کو وہ دیا جو اس وقت کسی عورت نے سوچا بھی  نہیں ہو گا ۔ اس کے با وجود اس وقت خود خواتین کے درمیان ،شدید رکاوٹیں اور شعور کی بہت کمی تھی ۔ اب وقت تیزی سے بدل رہا ہے اور خواتین کا شعور اب وہ  نہیں ہے، جو اس وقت تھے جب علماء شرعی قوانین کی تشکیل کر رہے تھے۔ پورے الہی متن کا مقصد ، ہمارے اپنے وقت کے اعلیٰ بصیرت کے ساتھ، تبدیلی پیدا  کرناہے۔ یہ نہ صرف قرآن کا مطالعہ بہت گہرائی کے ساتھ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، بلکہ اس سے زیادہ قرآن  کی حقیقی بصیرت  پر توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ماضی میں علماء نے، ان کے اپنے وقت کی روح کو برقراررکھنے میں ، عورتوں کو  کسی بھی چیز سے اوپر سمجھا، ایک تولیدی اور تناسلی نمائندہ ، اور مردوں کی خواہشات کی تسکین کا ایک ذریعہ سمجھا ۔ افسوس کی بات ہے کہ، تعدد ازدواج اور غلام لڑکیوں کی ملکیت کے بارے میں بھی  آیات کی اسی روشنی میں تشریح کی گئی ،یہاں تک کہ معاصر علماء نے  تعدد ازدوج کی وکالت  ضرورت کے طور پر کی ہے ، کیونکہ عورتیں حیض اور حمل کے دور سے گذرتی ہیں۔ اس سے زیادہ نا معقول ، کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے۔

قرآن کے ایک سرسری مطالعہ سے بھی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ، ایک عورت ایک آدمی کی ہی طرح، اپنے وقار کے ساتھ ایک روحانی ہستی ہے ۔ مقدس قرآن  بار بار مردوں کو، خواتین کے ساتھ تمام معاملات ، شادی، طلاق اور یہاں تک کہ بچوں کے دودھ چھڑانےمیں  انتہائی حساسیت، ہمدردی، اور رحم کے ساتھ پیش آنے کا مشورہ دیتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو ماں اور بیوی دونوں کے کردار میں سب سے عظیم احترام دیا ہے۔

یہ اس وجہ سے ہے کہ جب خواتین نے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی حیثیت کے بارے میں پوچھا، تو آیت 33:35 نازل کی گئی، جس میں خواتین کو سب سے بلند روحانی حیثیت دی گئی ہے ۔ تو کس طرح ان کے ساتھ ،صرف جنسی خواہش کی چیز کی طرح سلوک  کیا جا سکتا ہے جیساکہ  اکثر ہمارے علماء نے انہیں یہیں تک محدود کر دیا ہے ؟

شہوت ہی  مقصد نہیں ہے، بلکہ بنی نوع انسانی کو باقی رکھنے کا ذریعہ ہے ، اور اس لحاظ  سے عورتوں کو  زیادہ بلند حیثیت عطاء کی گئی ہے، کیونکہ وہ تولیدی فریضہ انجام دیتی ہے ۔ لیکن ان کے لئے نوع انسانی ختم ہو جائے گی۔ اسی لئے مردخواتین کے ساتھ، جنسی خواہش کی چیز کی طرح  سلوک نہیں کر سکتے، بلکہ ان کے ساتھ انسانی ذات کی بقاء  اور دوام  کے ایک انتہائی عظیم اسباب کے طور پر کر سکتے ہیں ۔

اسی لئے خواتین کو صرف مردوں کی خواہش نفسانی پوری کرنے پر مجبور کرنے کی کوئی بھی کوشش قرآنی روح اور اس کے وقار کے خلاف ہو گی۔ محبت اور نرمی ہی  سب سے بڑی  بنیادی ہے، جس سے شوہر اور بیوی کے درمیان تعلقات کا تعلق ہے۔ یہی وہ جذبات ہیں جو قرآن کے مطابق ایک مضبوط ازدواجی تعلق قائم کرتے ہیں ۔ جس شادی میں کوئی محبت اور نرمی نہیں  ہے، وہ شادی کامیاب نہیں ہو سکتی۔

اصغر علی انجینئر ایک اسلامی سکالر ہیں جو سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرزم ، ممبئی کےسربراہ ہیں۔

ماخذ: http://dawn.com/2013/03/08/a-harmonious-marriage

URL for English article:

 http://newageislam.com/islamic-society/asghar-ali-engineer/a-harmonious-marriage/d/10706

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/asghar-ali-engineer,tr-new-age-islam--اصغر-علی/a-harmonious-marriage--کامیاب-ازدواجی-زندگی-قر-آن-کی-روشنی-میں/d/10838

 

Loading..

Loading..