New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 01:23 PM

Urdu Section ( 11 Nov 2011, NewAgeIslam.Com)

Who Is A Progressive Muslim? ترقی پسند مسلمان کون ہیں

 

اصغر علی انجینئر   (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن ،  نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

ایشین مسلم ایکشن نیٹورک (امن) کے اس سال فروری میں پٹّایا، تھائی لینڈ میں ہوئے جلسے میں اس موضوع پر بھی غور و فکر ہوا کہ آخر ایک ترقی پسند مسلمان ہونے کے لئے کیا لازمی شرط ہونی چاہیے۔ مجھے اس موضوع پر بولنے کوکہا گیا اور جو کچھ میں نے کہا وہ درج ذیل ہے۔

ایک ترقی پسند مسلمان وہ ہے جس کے اعمال حق، انصاف ، رحم اور حکمت کے قرآنی اقدار پر مبنی ہوں اور دوسروں سے اپنی خدمت کرانے کے بجائے جوخود دوسروں کی خدمت کرتا ہو۔ ایک ترقی پسند مسلمان طبقاتی اسلام  (سنی،شیعہ یا اسمٰعیلی، دیو بندی یا بریلوی، اہل حدیث یا سلفی) میں یقین نہیں رکھتا ہے بلکہ تمام فرقوں سے اوپر اٹھ کر سب چیزوں سے اوپر قرآن کو اہمیت دیتا ہو۔

ترقی پسند مسلمان فرقہ وارانہ نقطہء نظر نہیں رکھتا ہے ،بلکہ قرآن کے مطابق پوری انسانیت اور انسانی عظمت کا احترام کرتا ہے: ’اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی‘ (17:70)

اس طرح کسی کے بھی ساتھ نظریاتی اور مذہبی اختلافات کے فیصلے کو اللہ کے لئے چھوڑ دیتا ہے اور کسی کو کافر مان کر مذمت نہیں کرتا ہے، جیسا کہ فرقہ وارانہ ذہنیت کے مسلمان اکثر کرتے ہیں۔اس طرح کا نقطہ نظر اختلافات کو بڑھاتا ہے اور تنازعات میں مذید کشیدگی پیدا کرتا ہے۔ایک ترقی پسند مسلمان قرآن کے مطابق بات چیت میں حکمت اور اچھے الفاظ کا استعمال کرتا ہے ۔وہ منصف بننے کی کوشش نہیں کرتا ہے۔

ایک ترقی پسند مسلمان ذاتی تعصبات سے متاثر نہیں ہوتا ہے اور ہمیشہ اپنی رائے کے مقابلے میں علم کو اہمیت دیتا ہے۔قرآن متعصبانہ رائے کی مذمت کرتا ہے اور علم کو فروغ دیتا ہے۔اس کے علاوہ ذہن کی کشادگی ایک بنیادی معیار ہے جو تکبّر سے بچنے میں مدد کرتا ہے جو علم کے بجائے لاعلمی کے سبب زیادہ پیدا ہوتاہے۔وہ جو بہت کم علم رکھتے ہیں، زیادہ مغرور ہوتے ہیں اور جو علم کے عظیم تر درجے کو حاصل کر چکے ہیں اپنی حدود کو جانتے ہیں اور اسی وجہ سے شائستہ ہوتے ہیں۔

ایک ترقی پسند مسلمان سب سے پہلے اپنے مذہب کا عمیق مطالعہ کرتا/کرتی ہے اور دوسرے مذہب کے پورے احترام کا لحاظ رکھتے ہوئے مختلف مذاہب کے درمیان اختلافات کی وجوہات کو جہاں تک ممکن ہو حقیقی طور پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے لوگ جنہیں اپنے مذہب کا پتہ نہیں ہوتا اور دوسروں کے مذہب کے بارے میں بھی بہت کم جانتے ہیں، وہی دوسروں کے مذہب کی مذمت کرتے ہیں۔قرآن کہتا ہے: ’اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بے ادبی سے بے سمجھے برا(نہ)کہہ بیٹھیں۔‘(6:108)

اسی آیت میں اللہ فرماتا ہے: ’اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال(ان کی نظروں میں )اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے۔‘اس طرح وہ اللہ ہی ہے جو آخیر میں فیصلہ کرے گا۔ہم انسان جب فیصلہ کریں گے تو ہم علم اور بے غرضی سے انصاف کی بجائے لاعلمی اور اپنی انا کے تکبّر میں فیصلہ کرتے ہیں۔

اس آیت میں اہم الفاظ میں، ہر انسان کے لئے ہم نے اس کے اعمال کو اچھے کر دکھا ئے ہیں۔پھردوسروں کے عقائد اور اعمال کی مزمت کرنے والے ہم کون ہوتے ہیں؟ یہ خدا کو طے کرنے دیجئے کہ کون اپنے عقائد میں صحیح ہے اور کون غلط ہے۔

ایک ترقی پسند مسلمان مجموعیت کا جشن مناتا ہے کیونکہ تنوع اللہ کی تخلیق کردہ ہے۔ اگر خدا چاہتا تو سب کا ایک ہی طبقہ بناتا(5:48) قرآن یہ بھی کہتا ہے: جنت، دنیا اورکثرت زبان اور رنگ کی تخلیق میں خدا کے اشارے ہیں اور یقیناًان میں علم والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔اس طرح ایک ترقی پسند مسلمان کسی زبان کے بولنے والے، یا کسی رنگ و نسل کے انسان کے تئیں متعصب نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے نزدیک سبھی اللہ کی مخلوق ہیں۔

اسی طرح مرد اور عورتیں دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور دونوں کے ساتھ وقار کے برابر کے درجے کے ساتھ برتاؤ کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ نے سبھی صنف کو جوڑے میں پیدا کیا ہے اور یہ سبھی اصناف کی بقاء کے لئے ضروری ہے۔ کوئی بھی صنف تب تک باقی نہیں رہے گی جب تک کہ وہ جوڑے میں نہ ہو۔اس طرح جوڑے میں زنانہ اور مردانہ ایکائی دونوں اہم ہیں اور انسانوں میں بھی مرد اورعورتوں کے ساتھ برابر کا سلوک کیا جائے۔ جنسی تعلقات سماجی اور ثقافتی بنیادوں کی عکاسی کرتا ہے جبکہ مساوات اور انصاف اسلامی اقدار ہیں۔

ایک ترقی پسند مسلمان اسے جانتا ہے اور مرد و عورتوں کے ساتھ برابر کا سلوک کرتا ہے اور دونوں کے برابری کے حق کو یقینی بناتا ہے۔ آج کے تناظر میں صنفی مساوات ایک ترقی پسند مسلمان کے لئے کسوٹی ہے۔ عورتوں کی غلامی جاگیردارانہ ثقافت کی پیداوار ہے،اسلام اس کی مخالفت کرتا ہے اور صنفی مساوات کے اصول کا اعلان واضح طور پر کرتا ہے (2:228)۔ایک ترقی پسند مسلمان جانتا ہے کہ شریعت نے پدارانہ سماج کی ثقافتی ضرورتوں کے مد نظر بعض شقوں میں مردوں کو فوقیت دی ہے اور یہ قرآن اور سنّت پر مبنی نہیں ہے۔

اس طرح ایک ترقی پسند مسلمان صنفی معاملات میں قرآنی اعلانات کو اہمیت دیتا ہے اور جاگیردارانہ نظام کے تحت خواتین کی غلامی کو نظر انداز نہیں کرتا ہے اور شریعت کی ان شقوں کو ابدی اور اٹل نہیں مانتا ہے۔لہٰذایک ترقی پسند مسلمان موجودہ وقت میں شرعی قانون کی تعمیر نو کی کوشش کرے گا تاکہ خواتین کو ان کے حقوق مل سکیں جو انہیں قرآن دیتا ہے۔ایک مومن دوسرے سے برتر نہیں ہو سکتا ہے۔ مردوں کی فوقیت انسان کی تخلیق کردہ ہے اور ایک انسان کی تخلیق کردہ چیز کیسے الٰہی حکم کی جگہ لے سکتی ہے۔اس کے علاوہ کون بہتر ہے اورکون کم تر اس کا فیصلہ کرنے کے لئے ظاہری اختلافات یعنی بچوں کا جننا وغیرہ کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔

ایک ترقی پسند مسلمان علم حاصل کرنے کو ترجیح دے گا کیونکہ علم کو روشنی اور جہالت کو (ظلمت) اندھیرے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اللہ مومنوں کو ظلمت سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔پیغمبرﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک پل کا غور و فکر پوری رات کے عبادت سے افضل ہے۔اس طرح علم کو عبادت پر بھی فضیلت دے گئی ہے۔

ایک ترقی پسند مسلمان کی یہ کچھ خصوصیات ہیں۔جو بھی ان خصوصیات کو اپنے اندر پیدا کرے گا وہ وقت کے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکے گا اور بدلتی حقیقت کے ساتھ چلنے میں اسے کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔

بشکریہ۔ ڈان، پاکستان

URL for English article:

http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/who-is-a-progressive-muslim-/d/4418

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/who-is-a-progressive-muslim?--ترقی-پسند-مسلمان-کون-ہیں/d/5900

 

Loading..

Loading..