New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 12:47 PM

Urdu Section ( 30 Nov 2011, NewAgeIslam.Com)

Should Indian Muslims Make Their Own Political Party? کیا ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی سیاسی پارٹی بنا لینی چاہیے؟


اصغر علی انجینئر  (انگریز سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن ،  نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

ان دنوں کچھ مسلمان لیڈر ایک علیحدہ سیاسی جماعت بنانے کی بات کر رہے ہیں۔حال ہی میں مہاراشٹر کے کچھ لیڈران یکجا ہوئے اور کہا کہ مسلمانوں کو نہ تو کانگریس۔این سی پی اتحاد اور نہ ہی شیو سینا بی جے پی کو ووٹ دینا چاہیے اور چونکہ کوئی تیسرا متبادل نہیں تھا اس لئے جلد بازی میں یہ نتیجہ اخز کیا گیا کہ مسلمانوں کو اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بنانی چاہیے۔کیا ایک علیحدہ جماعت بنانا ایک دانش مندانہ قدم ہوگا؟

شروعا ت میں میں دو باتیں کہنا چاہوں گا۔پہلی ،یہ کسی کا بھی جمہوری حق ہے کہ وہ اس طرح کی پارٹی بنا لے اور پہلے سے موجود جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرے اور دوسری یہ کہ آج حالات آزادی سے قبل سے بالکل مختلف ہیں اور اس طرح کی سیاسی جماعت بنا لینے سے علیحدگی پیدا نہیں ہو سکتی ہے۔یہ خوف بالکل غلط ہے اور اب شاید ہی کوئی اس خدشے کی جانب توجہہ دلاتا ہے۔ایک مسلم سیاسی جماعت کے متعلق بھی ایسا ہی ہے۔

جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ کسی کو بھی اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ کیا اس طرح کی جماعت کا قیام مسلمانوں کے لئے سود مند ہوگا؟بد قسمتی سے جواب بہت ساز گار نہیں لگتا ہے۔اکثر ایسے مواقع پر مسلم لیڈران آسام کی مثال دیتے ہیں جہاں ایک علیحدہ جماعت بنائی گئی اور اس نے 10سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔اتر پردیش کے گزشتہ اسمبلی انتخابات کے وقت بھی کچھ مسلمانوں نے آسام کی مثال دیتے ہوئے ایسی ہی تجویز پیش کی تھی لیکن اتفاق سے نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا اور اس طرح کی کسی جماعت کا قیام عمل میں نہیں آیا۔

آسام میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ یہاں 28فیصد مسلم آبادی ہے اور کئی علاقوں میں تو مسلمان اکثریت میں ہے اور یہاں سے کسی مسلمان کا کامیاب ہونا ممکن ہے۔پورا ہندوستان یا یہاں تک کہ مہاراشٹر، آسام کے جیسا نہیں ہے۔کیرلہ دوسری ریاست ہے جہاں ایک علیحدہ سیاسی جماعت کا وجود ہے۔کیرلہ بھی مختلف صوبہ ہے جہاں 20فیصد مسلمان ہیں اور ساتھ ہی20فیصد عیسائی بھی ہیں اور اس طرح آبادی بہت ہی متوازن ہے اور اس لئے ایک علیحدہ جماعت موئثر ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ یہ علیحدہ جماعت یہاں شروع سے ہی موجود رہی ہے۔

آسام میں ایسی کوئی تاریخ نہیں رہی ہے اور جمعیتہ علماء کانگریس کی اتحادی رہی ہے لیکن بعد میںآسام میں جمعیتہ کی کچھ ناراضگی کانگریس سے ہو گئی، جمعیتہ کا کہنا ہے کہ کانگریس نہ تو مسلمانوں کو ٹکٹ دیتی ہے اور نہ ہی ان کی شکایتوں پر کوئی توجہہ دیتی ہے۔کانگریس نے اس ناراضگی کو نظر انداز کیا اور کانگریس سے مایوس ہونے کے بعد ایک امیر تاجربدر الدین اجمل کے ذریعہ ایک علیحدہ سیاسی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ اجمل جمعیتہ کے حامیوں میں سے رہے ہیں۔پارٹی، کانگریس کے خلاف آسام میں مسلمانوں کے غصہ کے نتیجے میں کچھ کامیابی حاصل کر پائی۔

تاہم، علیحدہ جماعت کے قیام کی ابتدا سے ہی آسام کے مسلمانوں میں یہ بحث کا موضوع رہا کہ کیا یہ قدم

دانشمندانہ ہے کہ ایک الگ پارٹی بنائی جائے۔کئی مسلمانوں نے مجھے آسام میں بتایا کہ یہ قدم غلط تھا اور اس قدم سے کچھ خاص حاصل نہیں ہوا۔دانشمندانہ قدم کے مقابلے یہ انا کا سوال زیادہ رہا ہے۔گو ہاٹی یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر منیر الحسین کے مطابق الگ سیاسی پارٹی کے قیام سے معاشرے میں  (Polarisation)کو فروغ ملے گا اور اس طرح یہ مسلمان طبقے کے لئے نقصان دہ ہوگا۔نششت کے تعلق سے کامیابی محدود تھی کیونکہ بدرالدین اجمل امیر تاجر ہیں اور وہ دو دراز کے دیہی علاقوں میں مدارس اور مساجدکو چندہ دیتے ہیں اور اس لئے یہ مسلمان انکی حمایت کرتے ہیں۔شہری علاقوں اور پڑھے لکھے طبقوں میں بمشکل ہی انہیں حمایت حاصل ہے۔وہ دوبارہ کانگریس میں شامل ہو جائیں گے جب ا ن کی شکایت کو دور کر دیا جائے گا۔

جب مہاراشٹر کے مسلمان ایک علیحدہ سیاسی جماعت کے قیام کے سوال پر غور کر رہے تھے تو اس وقت بدر الدین اجمل موجود تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ مسلمانوں کو اس جال میں نہیں پھنسنا چاہیے اس کے بجائے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے تاکہ ان کی شکایتوں کا ازالہ ہو سکے۔ آخر میں بجائے برے تاثرات کے حکمت غالب آنی چاہیے۔

مسلمانوں کوسمجھ داری سے سسٹم کا استعمال کرنا چاہیے اور اگر یہ زیادہ وقت لے تب بھی۔اس طرح کا قدم کئی لوگوں کو ظاہری طور پر نقصان دہ لگے گا اور کئی اسے نقصان دہ ثابت کریں گے۔اس میں شک نہیں کہ اس سے (Polarisation) کو فروغ ملے گا اور فرقہ پرست طاقتیں اس سے فائدہ حاصل کریں گی۔مہاراشٹر میں تو یہ اور بھی خطرناک ہوگا جہاں شیو سینا اور بی جے پی اتحاد اس موقع کا فائدہ اٹھانے کے لئے انتظار کر رہی ہیں۔آج وہ دباؤ میں ہیں اس طرح کا کوئی بھی قدم انہیں ایک موقع فراہم کر دے گا جو جذباتی ہوگا اور وہ اس کا استعمال آنے والے انتخابات میں کریں گے۔

سب سے پہلے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہندوستان متعدد ثقافتوں والا ملک ہے اور جو کچھ بھی ایک صوبے میں ہوا اس کی نقل نہ تو دوسرے ریاست میں ہونی چاہیے اور نہ کی جا سکتی ہے۔یہاں تک کہ اگر ایک ماڈل ایک ریاست میں کامیاب ہوتا ہے تو دوسرے میں ناکام ہو سکتا ہے۔ریپبلیکن پارٹی سے بھی سبق لیا جا سکتا ہے۔آج یہ مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو چکی اور سبھی تقسیم ہوئے حصے الگ الگ جماعتوں سے اتحاد کر رہے ہیں اور ان میں سے کئی شیو سینا سے میل جول کر رہی ہیں۔

ان دنوں سبھی باراک اوبامہ کی بات کر رہے ہیں۔ مسلمان لیڈر بھی اس سے ایک یا دو سبق سیکھ سکتے ہیں۔اوبامہ سے قبل80کی دہائی کے اخیر میں ایک افریقہ نژاد امریکی لیڈرجے سی جیکسن نے ایک علیحدہ رین بو اتحاد کا قیام کیا اور صدارتی انتخاب میں حصہ لیا لیکن بری طرح ناکام رہے۔آج اوبامہ نے قومی دھارے کی جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں شرکت کی اور شاندار کامیابی درج کی۔حالانکہ وہ بھی افریقہ نژاد امریکی ہیں لیکن امریکہ کی گوری عوام نے بھی ایک گورے امیدوار کے مقابلے میں ان کی حمایت کی کیونکہ وہ صرف افریقہ نژاد امریکی عوام کی فکر کے بجائے پورے ملک کے مسائل کے تئیں متوازن نظریہ رکھتے ہیں۔

بیان بازی جو اکثریت کو بیگانہ بنا دیتی ہے اس کے بجائے اوبامہ نے سمجھداری سے کام لیا اور اس کے برخلاف جے سی جیکسن نے کیا اور ناکام رہے۔60کی دہائی میں افریقہ نژاد امریکیوں کو امتیازی سلوک کا شکار بننا پڑتا تھا اور مارٹن کنگ جونیئر نے ان کے انسانی حقوق کے لئے جدو جہد کی اور ’میرا ایک خواب ہے‘مشہور خطاب دیا۔اوبامہ اپنا خواب اس لئے پورا کر سکے کیونکہ انہوں نے اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے جزباتی بیان بازی کے بجائے اکثریت کی شکایتوں کو خطاب کیا۔

ہندوستانی مسلمان براک اوبامہ اور ان کی حکمت سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔مولانا آزاد نے آزادی سے قبل اسی طرح کی حکمت کا مظاہرہ کیا تھا لیکن پڑھے لکھے مسلمان مسلم لیگ کی بیان بازی کے اثر میں تھے اوراسی لئے نقصان اٹھایا۔آزادی کے بعد کی قتل و غارت گری کے بعد جب مسلمان سنگین مسائل سے دوچار تھے اس وقت مولانا آزاد کی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر دیا گیا خطاب حکمت سے لبریز تھا اور اس نے مسلمانوں میں اعتماد بحال کیا تھا۔

بیان بازی اپنی جانب متوجہہ کرتی ہے اسی لئے فرقہ پرست طاقتیں زوردار بیان بازی کر وقتی طور پر کامیاب ہوتے ہیں لیکن جوبا لآخر انتہائی تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔اکثریتی طبقے نے بھی ایودھیا تنازعہ کے وقت اسے جان لیا اور تباہی کا تجربہ کیا۔اقلیت اور حاشیہ پر پہنچ چکے لوگوں میں بیان بازی کے ذریعہ متوجہہ کرنے کا زیادہ لالچ ہوتا ہے۔یہ بیان بازی مضبوط کارروائی کے لئے ایک متبادل بن جاتا ہے۔

جمہوریت میں مختلف طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں اور باشعور قیادت کو متعدد رجحانات کو سمجھنا اور اس میں ان کاانتخاب کرنا ہوتا ہے جو نہ صرف اقلیت یا کسی دوسرے طبقے کے لئے ہی نہیں بلکہ سبھی کے لئے فائدہ مند ہو گی۔خاص طور پر اوبامہ نے یہی کیا اور پورے ملک کو مطمئن کیا۔ کوئی بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا ہے کہ ایک دن کوئی مسلمان ،جو اس بلندی تک پہنچے گا، وہ بھی وزیر اعظم بن سکتا ہے ۔

ایسا ہو سکتا ہے کہ ملک ایک بڑے سیاسی بحران سے گزر رہا ہو اور یہ کسی کے گمان میں بھی نہ ہو کہ کسی دن ایک مسلمان یا دلت اس ملک کے سب سے اعلیٰ عہدے پر فائض ہو سکتاہے۔لیکن یہ کس کے گمان میں تھا کہ ایک سکھ ملک کا وزیر اعظم بن سکتا ہے۔پہلے ان کے بارے میں یہ تصور تھا کہ وہ محض کٹھ پتلی ہیں لیکن انہوں نے اپنے عمل اور حکمت (اگرچہ ان سے کئی چیزوں پر اختلاف ہو سکتا ہے)  کے ذریعہ ثابت کیا کہ وہ ایک قائد ہیں۔

مسلمان اکثر خود اپنی بیان بازی کے ہی شکار رہے ہیں، اب انہیں پورے ملک کو اپنے ساتھ لیکر اور سبھی کی فلاح کا خیال دل میں لے کر چلنا سیکھنا ہوگا۔انہیں متعدد قوتوں کا سامنا کرنا ہوگا اور انہیں حکمت کے ساتھ اور سب کے فائدے کو مد نظر رکھتے ہوئے کامیابی کے ساتھ جمہوریت کا استعمال کرنا سیکھنا ہوگا۔آج مسلمانوں میں کوئی بھی ایسا سیاسی لیڈر نہیں ہے جسے مسلمانوں کے سبھی فرقوں کی حمایت حاصل ہو۔

سب سے اعلیٰ درجے پر پہنچنے کے لئے نہ صرف مسلمانوں کی بلکہ پورے ملک کی حمایت حاصل کرنی ہوگی۔کیا اوبامہ صرف افریقی نژاد امریکیوں کی حمایت حاصل کر کے عہدۂ صدارت تک پہنچ سکتے تھے؟امریکہ میں افریقی نژاد امریکی محض12فیصد ہیں جبکہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی صرف 15فیصد ہے۔ افریقی نژاد امریکیوں کی طرح ہندوستانی مسلمان بھی غریب ہیں۔ اس کے باوجود اوبامہ اعلیٰ قومی درجے کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ہندوستانی مسلمان ہمیشہ سیاسی بیان بازی کا شکار رہے ہیں چاہے وہ آزادی سے قبل مسلم لیگ کی رہی ہو یا آزادی کے بعد چھوٹی سیاسی جماعتیں رہی ہوں۔مولانا آزاد اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے لیڈر مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے زیادہ دن زندہ نہیں رہے۔دونوں عظیم المرتبت لیڈر تھے جن کے دلوں میں پورے ملک کی ترقی اور خوشحالی کا خیال ہمیشہ رہا۔دونوں بہت ہی نیک اور مخلص مسلمان لیڈر تھے لیکن انہوں نے اسلام کو محض ایک موضوع بحث بننے دینے سے گریز کیا اس کے بجائے اس کی تعلیمات اور اقدار پر عمل کرتے رہے۔

اچھامسلمان اور اچھاہندوستانی میں کوئی تضاد نہیں ہو سکتا ہے۔دراصل دونوں اک دوسرے کو مکمل کرنے والے ہیں۔تاہم کچھ ذاتی مفاد والے لیڈر اپنے فائدے کے لئے مسلمانوں کو یہ بتاتے ہیں کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ہمیں ایسی بکواس سے لوگوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔خصوصی طور پر مسلمان اور عمومی طور پر ملک ایک دوسرے کو مکمل کرنے والے تیار کر کے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔اور اس کے لئے دوراندیشی کی ضرورت ہوگی۔

فرقہ پرست قوتوں نے ہمارے ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں میں عدم تحفظ اوراحساس کمتری پیدا کرتے ہیں۔لیکن مسلم لیڈر اس کا مقابلہ اقلیتوں سے متعلق بیان بازی کر کے کرنا چاہتے ہیں جبکہ یہ اکثریت میں فرقہ پرستی کی آگ کو مزید بڑھاتا ہے۔مسلمانوں کو باقی ہندوستانیوں کی مدد سے اس جال سے باہر آنا ہوگا اور اور پورے ملک کے لئے مضبوط سیکولر حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔سیکولر جماعتوں کو بھی فرقہ پرست پارٹیوں کے تئیں اپنے خوف کو کم کرنا ہوگا اورفرقہ وارانہ بیان بازی سے مفلوج ہونے کے بجائے دلیری کے ساتھ فرقہ واریت سے مقابلہ کرنے کے لئے اقلیتوں اور حاشیے پر پہنچ چکے لوگوں کو اپنے ساتھ لینا ہوگا۔

بشکریہ۔ سیکولر پرسپیکٹیو

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-politics/should-indian-muslims-form-a-political-party-of-their-own?/d/999

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/should-indian-muslims-make-their-own-political-party?--کیا-ہندوستانی-مسلمانوں-کو-اپنی-سیاسی-پارٹی-بنا-لینی-چاہیے؟/d/6043

 

Loading..

Loading..