New Age Islam
Mon Sep 27 2021, 09:35 PM

Urdu Section ( 19 Sept 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Quran and Higher Morals قرآن اور اعلیٰ اخلاقیات

By Asghar Ali Engineer

 

To persevere for truth requires tremendous patience and hence a true believer, according to the Qur’an is one who remains patient and steadfast and performs good deeds and true believers exhort each other for truth and for patience (103).Love and justice are obligatory for ones spouse also so that marriage lasts on higher values and does not become relationship of lust and selfishness.

Also, Qur’an and hadith advises believers repeatedly not to thirst for revenge as in tribal society qisas (retaliation, revenge) was the norm. Islam transcends all boundaries – tribal, ethnic and geographical. Reconciliation and pardoning are higher virtues and Allah’s names are Ghafoor al-Rahim i.e. Pardoner and Merciful. Worst sinner will be pardoned by Allah if sinner sincerely repents (taubat al-nusuh).

 

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/quran-and-higher-morals--قرآن-اور-اعلیٰ-اخلاقیات/d/5521

 

                                                                                              

قرآن اور اعلیٰ اخلاقیات

اصغر علی انجینئر

مغربی میڈیا نے منظم طریقے سے اسلام کی ایسی شبیہ پیش کی ہے جس  سے کہ اس کے ماننے والے غیر مسلمانوں سے لڑیں اور اپنی بات کو ثابت کرنے کےلئے قرآن کو کچھ آیتیں بغیر سیاق وسباق کے پیش کریں۔ ہندوستان میں بھی دائیں بازو کی ہندو تو اطاقتیں ایسا ہی کررہی ہیں۔ وہ اسلام کو اس طرح پیش کرتی ہیں گویا اسلام میں اخلاق اور اقدار پر کوئی زور نہیں ہے، اور اسلام خون کے پیاسے لوگو ں کا مذہب ہے۔ ایسا کرنے کےلئے وہ انسانیت کے اصولوں کی بات پیش کرتے ہیں اور اس کا موازنہ ان انتہا پسند مسلمانوں کے اعمال سے کرتے ہیں جن کا اپنےمفاد کے لئے خود مغرب نے غلط استعمال کیا ہے اور وہ اس پر پہنچتے ہیں کہ اسلام انسانیت سے بہت دور ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ بالکل غیر منصفانہ موازنہ ہے ۔ اصل میں کوئی کسی ایک مذہب کے اقدار کو لیکر اسے مذہب کی تاریخ سے موازنہ نہیں کرسکتا ہے۔ اقدار خداداد ،انسانیت پر مبنی اور تمام مذاہب میں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں جب کہ تاریخ مفادات ،اقتدار کے لئے ایک کئی عقائد کے ماننے والے طبقات کے پر تشدد واقعات سےبھری ہوتی ہے او رکئی بار تو یہ انسانی عمل کے سب سے برے پہلو کو پیش کرتا ہے۔ اس کے لئے مذہب کو مور د الزام ٹھہرانا چاہئے۔

مغرب میں مغرب نے کتنا خوب بہایا ہے؟ یوروپ اور امریکہ کی کیا تاریخ رہی ہے؟ چرچ کے ساتھ جدوجہد ،اپنے فائدے کے لئے آگ لگانا ،ہزاروں معصوموں کو آگ کے حوالے کردینا اور بھی بہت کچھ جب کہ عیسائیت کے اقدار کافی متاثر کرنے والے ہیں۔ یوروپی نوآباد یاتی دور کی کیا تاریخ رہی ہے؟ ان نوآبادیوں میں رہنے والے ہزاروں معصوم لوگوں کو بے رحمی سے ہلاک کرنا اور ان کا استحصال کرنا۔ نوآباد یاتی دور کے بعد بھی یوروپ نے نام نہاد تیسری دنیا میں بہت زیادہ خون بہایا ۔کتنے الجزائر کے شہریوں کو فرانس نے ہلاک کیا؟ ان سب کو کیوں چھپاتے ہیں جب اسلام کو ایک جہادی مذہب بتاتے ہوئے حملہ کرتےہیں؟

امریکہ نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی اور اس کے بعد ویتنام میں کیاکیا؟ کیوں ہزاروں کی تعداد میں ویتنامی شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جب وہ اپنے کھیتوں میں کام کررہے تھے۔ ان پر بموں کی بارش کیوں کی گئی؟ عراق عوام بالخصوص ان پانچ لاکھ بچوں کا کیا جرم تھا، جو اس لئے مارے گئے کیو نکہ عراق کو ضروری ادویات درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کئی بچے مرد اور عورتیں ماری گئیں کیو نکہ امریکہ نے جوہری بموں کا استعمال کیا۔

اسی طرح اسلامی تاریخ بھی بہترنہیں ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کےلئے ایک طبقے کے اندر اور دیگر طبقوں کے بیچ لڑائی میں ہزاروں کی تعداد میں معصوم لوگوں کی جانیں گئیں اور سب سے زیادہ بدقسمتی یہ رہی کہ ان بادشاہوں ،حکمرانوں اور ان کے خداموں نے اس جنگ کو جہاد کہا۔ وسطی ایشیا کے کئی ترکوں نے علاقوں پر قبضہ کرنے کی ہوس میں ہندوستان پر حملے کئے ۔ ہندوستان پر حکمراں ایک مسلم خاندان پر دوسرے مسلم خاندان نے حملے کئے جس میں سیکڑوں لوگ مارے گئے۔ خلیفہ عباس کے لوگوں نے خلیفہ امیہ کے لوگوں کو ہلاک کیا اور خلیفہ امیہ کے لوگوں نے اپنے خلاف بغاوت کو کچلنے کے لئے بڑی تعداد میں مسلمانوں کو ہلاک کیا۔ عراق کے امیہ گورنر حجاج نے ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو ہلاک کیا اور پندرہ ہزار سے زائد خواتین کو گرفتار کیا۔ وہ عراقی عوام کے لئے ایک دہشت تھا ۔ اورنگ زیب نے اقتدار حاصل کرنے کےلئے اپنے تین بھائیوں کو قتل کیا اور اپنے والد کو قید کیا تھا۔

اس لیے تاریخ میں جو کچھ بھی ہوا ہے اسے مذہبی اقدار یا مذہبی معیار کی مثال کے طور پر نہیں لیا جاسکتا ہے۔ قتل وغارت کسی اور چیز کی نمائندگی نہیں کرتا ہے بلکہ یہ اس مذہب کے کچھ لوگوں کی اقتدار اور دولت کی ہوس کے سوا کچھ نہیں ۔ تمام مذاہب ہمیں کچھ اقدار اور معیار کی تعلیم دیتے ہیں جو ہمارے طرزعمل کو بہتر کرنے کےلئے ہوتا ہے اور یہ صرف ہمیں بہتر بلکہ کامل انسان بنانے کے لئے ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ مذہب کا غلط استعمال اکثر مفاد پرستوں کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اس کا غلط استعمال اس لئے ہوپاتا ہے کیو نکہ مذہب ہمارے جذبات کو شدت کے ساتھ اپیل کرتا اور با آسانی ‘ہم بنام وہ’ کا احساس پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے باوجود غلط استعمال کے لئے ہم مذہب کو ذمہ دار نہیں ٹھہراسکتے ہیں۔

میں یہ کہہ چکا ہوں تا ہم میں اس پر آنا چاہتا ہوں کہ مذہب کس لئے ہیں یعنی اعلیٰ اخلاقیات اور جن تعلیمات کی مذہب وکالت کرتا ہے ان سے اعلیٰ اخلاقیات کا اظہار ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر بودھ مذہب ہمدردی اور تمام اقسام کے مصائب کے خاتمے کے لئے آیا ،جین مذہب عدم تشدد کے خاتمے کے لئے آیا، ہندو مذہب بھی عدم تشدد کی بات کرتا ہے لیکن عدم تشدد کے معاملے میں یہ جین مذہب کا اندازہ اختیار نہیں کرتا ہے اور اسی طرح عیسائیت محبت اور امن کےلئے آیا ہے۔

ہمیں ایک بات واضح ہونی چاہئے کہ کوئی بھی مذہب صرف اس لئے لوگوں کو قابل قبول نہ ہوگا کہ وہ مارنے یا تبدیلی مذہب کی اجازت دیتا ہے۔ ایک مذہب تبھی قابل قبول ہوسکتا ہے جب وہ ماننے والوں کی اخلاقیات کو بہتر کرے، جنسی خواہشات پرکنٹرول سکھائے اور بہتری کےلئے روحانی اور اخلاقی تبدیلی لے آئے۔ یہ ماننا عقل سے عاری ہوگا کہ کوئی مذہب تلوار کے زور پر پھیلا ۔ میں نے اپنے گزشتہ مضامین میں اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ کیوں اسلام اپنے ظہور کی پہلی صدی میں بہت تیزی سے پھیلا ۔ یہ یقین کرنا کہ اسلام ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں قرآن کے ساتھ پھیلا ،یہ دشمنی سے بھرا پروپیگنڈہ کا حصہ ہوسکتا ہے سنجیدہ مطالعہ کا حصہ نہیں ہوسکتا ہے۔

اسلام کا ظہور ایسے معاشرے میں ہوا جہاں اعلیٰ اخلاقیات کی شدید ضرورت تھی۔ اسلام کے ظہور کا مقام ، مکہ میں، کئی مادی اور روحانی مسائل تھے۔ بنیادی طور پر یہ ایک قبائلی معاشرہ تھا جو تجارتی سماج میں تبدیل ہورہا تھا اور تبدیلی کے اس ایام نے مادی مسائل کے علاوہ اخلاقی اور روحانی مسائل پیدا کردئے تھے ۔ یہ ایک ایسا معاشرہ تھا جو شدت کے ساتھ اعلیٰ اخلاقیات کی ضرورت محسوس کررہا تھا ،کیو نکہ قدیم قبائلی اخلاقیات عوام کو مطمئن نہیں کرپارہے تھے۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے ان لوگوں کو اعلیٰ اخلاقیات کا تصور عطا کیا۔

عام طور پر ایک قبائلی معاشرہ بغیر کسی تحریر ی قوانین کے قدیم رسموں اور روایتوں کے مطابق چلتا ہے۔ یہ رسمیں اور روایتیں سختی سے عمل کرائی جاتی ہیں اور عام طور پر ایک قدیم سماجی ادارے کی ضرورتوں کو یہ رسمیں اور روایتیں پوری کرتی ہیں، لیکن جب یہ سماجی ادارے تبدیلی ہونا شروع ہوتے ہیں تب یہ نئے جنم لے رہے سماج کے پیچیدہ مسائل کا حل پیش کرنے میں قاصر رہتی ہیں۔

مکہ مکرمہ میں جو سماجی ڈھانچے تشکیل پارہے تھے اور بین  قبائل تجارتی کار پوریشن قیام میں آرہے تھے اور قبائلی اقدار نئے مسائل کا حل پیش نہیں کر پارہے تھے ۔ اسی طرح ہندوستان میں زرعی معاشرہ کا قیام ہورہا تھا اور ویدک سماج کےلئے جانوروں کی قربانی کا نسخہ ایک بوجھ بن گیا تو اعلیٰ اخلاقی اور روحانی اقدار کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی اور اس طرح بودھ مذہب کا ظہور ہوا ، جو اپنے اعلیٰ اخلاقیات اور روحانی اقدار کے سبب وسیع پیمانے پر لوگوں کو قبول ہونے لگا اور یہ حکمران طبقے کا مذہب بن گیا اور یہ تب تک رہا جب تک کہ اس نے اپنی طاقت کھونہ دی اور اس کی وجوہات کا یہاں پر تجزیہ کرنا ضروری نہیں ۔

مکہ میں بھی ایسے ہی حالات تھے ۔ اسلام سے قبل کے قبائلی اقدار نئے بنتے سماج کے لوگوں کی اخلاقی اور روحانی ضروریات کو پورا کرنے کےلئے ناکافی تھے۔ اس کے علاوہ مکہ کے عربوں کو رومن سوسائٹی کے ساتھ تجارت کرنی تھی ، اور رومن سماج ساخت میں اور بھی پیچیدہ تھا، اور جس کے اخلاقی وروحانی تصورات واضح تھے ۔ اس نے ان کو ان کی ضروریات سے آگاہ کردیا۔

اسلام سے قبل عرب کے معاشرے میں سب سے اعلیٰ اقدار جسے عرب مروت (انسانوں کے جیسا برتاؤ) کہتے تھے ،یعنی انسان کی بہترین خصوصیات میں اس کا بہادر ،رحم دل اور برتاؤ میں اچھا ہونا شامل تھا۔ یہ خصوصیات اخلاقی اور روحانی کے بجائے زیادہ سماجی تھیں اور یہ مکہ کے جیسے تبدیل ہورہے معاشرے کی ضروریات کو مشکل سے ہی پورا کرسکتی تھیں۔ اسلام کے ظہور کے وقت مکہ تجارت اور مالیاتی اعتبار سے بین الاقوامی مرکز بن گیا تھا ۔ اس اخلاقی اور روحانی خلا کو اسلام نے پر کیا۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے عربوں کو سماج عطا کیا اور ان کے ذریعہ پوری دنیا کواعلیٰ اخلاقی اور روحانی اقدار عطا کیا۔

پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم فطرتاً غور وفکر کرنے والے تھے۔ ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا جس کا نام بنو ہاشم تھا۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یتیم تھے اس لئے وہ غریبوں کے استحصال اور ان کے مسائل سے واقف تھے اور مظلوموں کے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے ۔ وہ اکثر مکہ شہر کے باہر ایک غار جیسے حرا کے نام سے جانا جاتا ہے ، میں جایا کرتے تھے۔یہ وہی غار تھی جس میں پہلی بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی۔

ابتدائی دور میں مکہ کے معاشرے میں غریبوں اورمظلوموں کے استحصال اور مادی لالچ جیسی سماجی برائیاں تھیں۔ سورہ 104اور 107میں یہ واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، جس میں ایک ہی ہاتھ میں دولت کے جمع ہونے کی برائی اور  دوسری جانب غریبوں او رمظلوموں کی قسمت کے بارے میں ذکر ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے حالات کا تجربہ تھا اور انہیں ایسی سماجی برائیوں کا علم تھا۔

جہاں تک روحانی برائی کا سوال ہے تو قرآن کی ابتدائی باب میں سورہ فاتحہ کے اندر اس کا ذکر ہے۔ اسلام سے قبل کے عرب میں اور یہاں تک کہ اعلیٰ فلسفیوں کے نزدیک ایک خدا کا تصور نہیں تھا۔ وہ صرف بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے اور اپنے مسائل کے حل کے لئے ان سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔دیگر قبائلی معاشرے کی طرح ان کے پاس بھی بچت نہیں تھی اور صدیوں سے انہوں نے کوئی فلسفی یا عظیم مفکر نہیں پیدا کیا تھا ، جو کہ ایک زرعی معاشرے میں ممکن تھا کیو نکہ وہاں اچھی مقدار میں بچت موجود رہتی ہے جو دانشور طبقے کی ضروریات کو پورا کرسکتا ہے۔

تجارتی انقلاب کے بعد محمد صلی  اللہ علیہ وسلم پہلے مفکر، دانشور ،فلسفی اور روحانی گائیڈ تھے، جو اس سماج نے پیدا کیا تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یتیم تھے اور ان کو زندگی میں کئی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا، وہ ہی ان لوگوں کی روحانی اور اخلاقی ضروریات کے لئے غور کرسکتے تھے کیو نکہ وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی جانب سے کئے جانے والے کاروبار کے منافع پر گزارا کرسکتے تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ ایک امیر تاجر خاتون تھیں جن سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی جب وہ 40برس کی تھیں اور پیغمبر اسلام 25برس کے تھے۔

حالانکہ یہ قرآن کا ابتدائی بات نہیں جس سے وحی کی شروعات ہوئی لیکن یہ انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہے ، کیو نکہ یہ ایک طرح سے قرآن کے اخلاقی اور روحانی نقطہ نظر کا خلاصہ بیان کرتی ہے۔ اس کا نزول مکہ کے ابتدائی دور میں ہوا تھا او رکسی بھی مسلمان کے ذریعہ کی جانے والی عبادت کی شروعات میں پرھی جاتی ہے۔اس کی شروعات بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ہوتی ہے، یعنی شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ ایسا یقین کیا جاتا ہے کہ ابتدائی باب قرآن کا سب سے بہترین حصہ ہے اور بسم اللہ سورہ فاتحہ کا بہترین حصہ ہے۔

یہ چار الفاظ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیو نکہ یہ ضروری روحانیت اور اخلاقیات کی بہترین اقدار کا تصور دیتے ہیں ،یعنی خدا جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ مہر بانی بودھ مذہب کی بھی ضروری قدر ہے کیو نکہ مہربانی کے بغیر کوئی مادی یا روحانی تکلیف کو دور نہیں کرسکتا ہے۔ اس طرح ا س سورہ کے نزول کے بعد مہربانی اور رحم مرکزی اقدار بن گئے اور ان کی انتہائی ضرورت تھی کیونکہ مکہ کے تبدیل ہورہے معاشرہ میں کمزور طبقے میں غریب ،غلام ،خواتین ،یتیم اور بیوائیں شامل تھیں۔

بین الاقوامی تجارتی کارپوریشن اپنے منافع کے حصول میں ہی لگی ہوئی تھیں اور ان پریشان حال کمزور طبقوں کے لئے کوئی ہمدردی اور رحم نہیں تھا۔ ان کے نزدیک دولت ہی واحد مقصد تھا۔ اسے سورہ 102میں واضح طور پربیان کیا گیا ہے:

لوگوں تم کو مال کی بہت سی طلب نے غافل کردیا ہے۔ یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں ۔دیکھو تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا۔ پھر دیکھو تم کوعنقریب معلوم ہوجائے گا۔ دیکھو اگر تم جانتے یعنی علم الیقین رکھتے تو غفلت نہ کرتے ۔ تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے’ (6۔1: 102)

جیسا کہ بتایا گیا کہ مکہ کے تاجروں نے منافع کمانے میں اپنے ساتھی قبائلیوں کی دیکھ بھال کے روایتی عمل کو بھی انداز کردیا اور اس طرح مکہ مکرمہ میں کمزور طبقہ مسائل سے دوچار رہا۔ قرآن ان کو بچانے کےلئے آیا ، جیسا کہ مندرجہ بالا آیات میں سخت انتباہ قرآن نے کاروباری رہنماؤں کو دیا ہے اور ان کو ان کے فرض کی یاددلائی ہے۔ تاہم وہ منافع کمانے میں اس قدر غافل تھے کہ ان لوگوں نے اس انتباہ کو نظر انداز کردیا اور ساتھ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہوگئے اور ان کو ستانا شروع کردیا۔

سورہ فاتحہ جس کا ذکر بالائی سطروں میں آیا ہے ۔ سورہ فاتحہ اللہ کو نہ صرف مہربان اور رحم والا بتاتی ہے بلکہ رب العالمین یعنی جو تمام کائنات کا پروردگار اور پوری کائنات اس کی مخلوق ہے۔ وہ بلا تفریق سب کا پالن ہار ہے،چاہے جو اس کی اطاعت کرتا ہو یا وہ لوگ جو اس کے یا دوسرے عقیدے پر عمل کرتے ہوں۔ اللہ کسی پر ایمان کی کوئی پابندی نہیں ڈالتا ہے۔ دین ایک ہے اور الگ الگ طریقے سےمختلف ممالک میں اتار ا گیا او رکوئی بھی عقیدہ کسی دوسرے سے برتر نہیں ہے۔ یہ ایک عالمی نقطہ ٔ نظر ہے اور جو تمام مذاہب کو قبول ہے کیو نکہ تمام مذاہب اللہ کہ ہی طرف سے  ہیں۔

بدقسمتی سے قرآن کے اس آفاقی نقطۂ نظر کو بطور آفاقی قبول نہیں کیا جاتا ہے جیسا کہ کیا جانا چاہئے۔ اگر یہ قبول کرلیا گیا ہوتا تو دنیا میں کوئی اختلاف نہ ہوتا ۔مذہب روحانی نظریہ کے بجائے ایک تشخص بن گیا ہے اور تشخص مقابلہ پیدا کرتا ہے جس کے نتیجے میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں ۔ اس طرح قرآن نہ صرف دوسروں کو ساتھ لیکر چلنے بلکہ تمام مذاہب کو برابری کے ساتھ احترام کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔اس طرح قرآنی اخلاقیات رواداری سے بھی آگے جاکر احترام اور سب کو شامل کرنے کی بات سکھاتی ہے۔ سب کو ساتھ لےکر چلنے کا تصور اعلیٰ اخلاقیات کی جانب لے جاتی ہے۔ عملی طور پر نظر آنے والی غیر رواداری کا قرآن کی تعلیمات سےکوئی لینا دینا نہیں ہے۔

قرآن بار بار اس پر بھی زور دیتا ہے کہ ایمان بغیر عمل صالح (یعنی ایسے عمل جو معاشرے کو صحت مند اور بغیر تنازعہ کے رکھے) کے مکمل نہیں ہے اور مسلمانوں اور دوسرے عقائد میں یقین رکھنے والوں کو بہترین عمل کی  حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ برائی ، نا انصافی اور جبر سے پاک معاشرے کےلئے نیک عمل نہایت اہم ہیں۔ سچائی اخلاقی اقدار میں سب سے بلند ہے اور یہ اللہ کا نام ہے یعنی اس کا نام حق ہے۔ دوسروں کی مدد کرنا اور دوسروں کے ساتھ احسان کرنا اور اعلیٰ قدر ہے او ریقیناً اللہ سے بڑا انصاف کرنے والا ہے، انصاف پرقائم رہو اور خدا کے لئے سچی گواہی دوخواہ اس میں تمہارا یا تمہارے ماں باپ او ررشتہ داروں کا نقصان ہو۔ (135: 4) یہ ایک تجارتی معاشرے میں نہایت ضروری تھا جہاں ،دھوکہ دہی عام رہی ہو اور قبائلی سماج میں عام طور سے ہم قبائلیوں کو دوسروں پر ترجیح دی جاتی ہے حتیٰ کہ دوسروں کے ساتھ  ناانصافی بھی ہورہی ہو۔ اس لئے قرآن نے انصاف کے لئے سخت معیار وضع کیا۔

حق پر قائم رہنے کے لئے بہت صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے قرآن کے مطابق مومن وہ ہے ، جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے ۔(103) زوجین کے درمیان محبت اور انصاف واجب ہے تاکہ شادی اعلیٰ اقدار پر بنی رہے اور ہوس اور خود غرضی کا رشتہ نہ بننے پائے۔

اس کے علاوہ قرآن اور حدیث ایمان والوں کو بار بار مشورہ دیتا ہے کہ بدلے کے لئے پیاسے مت رہو جیسا کہ قبائلی معاشرے میں قصاص (بدلہ، انتقام) لینا ایک رواج رہا ہے۔ اسلام قبائلی ،نسلی اور جغرافیائی حدود سے بالا تر ہے۔ مصالحت اور معافی اعلیٰ اخلاق اور اللہ کا نام غفور الرحیم یعنی معاف کرنے والا او ر رحم کرنے والا ۔ بدترین گہنگار کو بھی اللہ معاف کردے گا اگر وہ سچی توبہ کرے۔

اس کےعلاوہ ایک مومن کو اپنا غصہ ضبط کرنا چاہئے اور جو کوئی اپناغصہ ضبط کرنے میں کامیاب ہوتا ہے وہ اختلافات کو ٹال سکتا ہے ۔قرآن تمام آفاق فضائل پر زور دیتا ہے اور پوری انسانیت کو ایک کنبہ تصور کرتا ہے۔ مشہور حدیث میں ہے کہ پوری انسانیت اللہ کے بندے ہیں۔ ایک اچھا مومن وہ ہے جو جبر ، استحصال اور فتنہ کی کسی شکل میں دوسرو ں کی مدد کے لئے آگے آتا ہے۔

مندرجہ ذیل کو ایک صوفی نے بہت زور کے ساتھ اس طرح پیش کیا ہے: اگر کوئی انسان (مسلمان ہویا نہیں) ڈوب رہا ہو اورکوئی روزے دار مومن اپنی جیب میں حج اور مکہ کے ٹکٹ اور اپنی تمام بچت کے ساتھ وہاں گزررہا ہے اور یہ خدشہ ہے کہ ا س کا روزہ ٹوٹ سکتا ہے ،اس کے باوجود بھی اسےڈوب رہے شخص کی جان بچانے کےلئے پانی میں کود جانا چاہئے ،کیو نکہ قرآن کے مطابق کسی انسان کی زندگی بچانا پوری انسانیت کی زندگی بچانے کے برابر ہے۔

جو کچھ میں نے کہا اس کی روشنی میں کون کہہ سکتا ہے کہ مسلمان خون کا پیاسا ،غیر مسلمانوں کا قاتل ہوتا ہے اور اس کی صرف یہ ذمہ داری ہے کہ خوف کے دم پر تلوار کے دم پر مسلمانوں کو اسلام میں داخل کرایا جائے؟ یہ صرف ان لوگوں کےذہنوں میں ہے جو اسلام سے بے خبر ہیں یا تو اسلام کےدشمن ہیں۔ اگر کبھی کوئی ایسا کچھ کرتا ہے جو اللہ کی خاطر نہ ہو کر اپنی خواہشات کی تشفی کےلئے ہو، تو ایسی مثال کو نہیں لینا چاہئے لیکن اس کے بدلے میں اس کے اصل وجوہات جاننے کےلئے مطالعہ کرنا چاہئے۔

قرآن مومنوں کی جارحانہ طریقے سے بحث کرنے  سے منع فرماتا ہے ،بلکہ سمجھا نے کے بہترین طریقے اپنا نے کا مشورہ دیتا ہے ۔ اس طرح ہم قرآن میں اللہ کی جانب دوسروں کو بلانے اور بحث کرنے کا طریقہ پاتے ہیں۔

لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف بلاؤ او ربہت ہی اچھے طریقے سے ان سے مناظرہ کرو(125: 16)ا س طرح قرآن کی اخلاقیات کچھ انتہائی پسند یا ذاتی مفاد والے مسلمانوں کے اخلاق سے بالکل مختلف ہے۔ وہ ایسا اس لئے نہیں کرتے کہ وہ قرآن کے ماننے والے ہیں بلکہ اپنے ذاتی مفاد یا سیاسی ایجنڈہ کےلئے ایسا کرتے ہیں۔ ہمیں ان کے عمل کی وجوہات قرآن اور حدیث میں نہیں بلکہ ان کی اپنی خود غرضی یا سیاست میں تلاش کرنی چاہئے ۔ ایک بات یادرکھنی چاہئے کہ تمام مذاہب میں انتہا پسندی یکساں ہے۔ یہ صرف ایک خاص مذہب سی جڑی ہوئی نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو یا تو وہ اس مذہب سے بے خبر ہے یا پھر اس مذہب کے لئے دشمنی رکھتا ہے۔

اس طرح ایک اچھا مسلمان وہ ہے جو سچا ،شائستہ ،ہمدردی رکھنے والا اور ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لئے تیار رہتا ہے، پوری انسانیت کو ایک خاندان مانتا ہے، کبھی بدلہ نہیں لیتا ہے، انصاف پسند اور رحم دل ہو، رواداری رکھتا ہو اور تمام مذاہب کا احترام کرتا ہو، صبر سے کام لیتا ہو، کبھی دوسرو ں سے امتیازی سلوک نہ کرتا ہو اور نسلی ،قبائلی ،قومی ، لسانی اختلافات کو اللہ کی نشانی مانتا ہو اور اسے اللہ کی مرضی مان کر قبول کرتا ہو۔ یہ وہی ہے جس کا درس قرآن دیتا ہے اور جو بھی ان تعلیمات سے انحراف کرے گا/گی وہ اپنے اعمال کے لئے اللہ کے یہاں خود جواب دہ ہوگا۔

اصغر علی انجینئر معروف اسلامی اسکالر ہیں او رممبئی میں سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرزم کے سربراہ ہیں۔

(انگریزی سے اردو ترجمہ ۔ سمیع الرحمٰن ،نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/quran-and-higher-morals--قرآن-اور-اعلیٰ-اخلاقیات/d/5521

 

Loading..

Loading..