New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 04:10 AM

Urdu Section ( 8 Jan 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Prophet Muhammad (SAW): A Kindness for the Humanity محمدؐ: محسنِ انسانیت

 

اصغر علی انجینئر   (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

پیغمبر محمدﷺ کا یوم ولادت عقیدت واحترامکے ساتھ مسلمان ہر جگہ مناتےہیں۔لیکن اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ عقیدت مند جنکا  اس قدر احترام کرتے ہیں انکی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے   ۔عید میلا النبی  غور و فکر کے ایک موقع کے مقابلے صرف ایک روایت بن گیا ہے۔

مسلمان پیغمبر محمدﷺ کو محسن انسانیت کہتے ہیں لیکن کیا ہم اس بات کی فکر کرتے ہیں کہ وہ کس طرح ایک  محسن انسانیت بن گئے؟  اس مضمون میں پیغمبر محمد ﷺ کی انقلابی تعلیمات کے پہلو اور مسلمان کس طرح اس سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں،اس پر روشنی ڈالی جائے گی۔پیغمبر اسلام امّی تھے وہ لکھنا اور پڑھنا نہیں جانتے تھے اس کے باوجوآپ ﷺ نےاس  عظیم سماجی اور اقتصادی انقلاب سے دنیا کو  تعارف کرایا  جو صدیوں پہلے بھی کار آمد تھا  اور  آج بھی ہے۔

ہم آپ ﷺ کو پوری انسانیت کو نجات دلانے والا پکار سکتے ہیں اگر ہم  الجھانے والی احادیث کی تعلیمات پر عمل کرنےکے بجاۓآپ ﷺ  جو قرآن لے کر آئے اس پر  عمل کریں۔حقیقت میں قرآن آپ ﷺ کا معجزہ تھا۔سب سے پہلے آپﷺ نے علم کی اہمیت پر زور دیا۔یہ لفظ قرآن میں  اپنی متعدد شکل میں 800 مرتبع آیا ہے  (جبکہ آج متنازعہ لفظ جہاد 41مرتبع آیا ہے)۔

آپ ﷺ کے نزدیک علم  اس قدر اہم تھا کہ   اگر علم حاصل کرنے کے لئے  مسلمان کوچین بھی جانا پڑے، تو جانا چاہیے۔چین ان دنوں عرب سے بہت دور  مانا جاتا تھا۔اس تعلیم کے سبب، عرب جو علم کےبہت مخالف تھے،خاص طور سے تحریری معاملے میں (پیغمبر ﷺ کی حیات میں مکہ میں صرف 17لوگ تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے)، یہ لوگ متعد سائنس کے عظیم پیش رو بنے اور یہاں تک کہ مغربی ممالک  عرب کے لوگوں کے انکشافات سے مستفیذ ہوئے۔مغربی ممالک نے یونانی علم کے خزانے کو  عربوں کے ذریعہ دریافت کیا۔

دوسرے،  پیغمبر ﷺ نے خواتین  کو پابندیوں سے آزادی دلائی اور انہیں حقوق دئے اور انکی انفرادیت اور حقوق کو تسلیم کیا۔خواتین کوشادی  کے معاملےمیں مساوی حقوق دئے گئے اور  شادی کو دو برابر لوگوں کی درمیان معاہدہ قرار دیا گیا۔آپ ﷺ نے خواتین کے لئے بھی علم کا سیکھنا فرض کیا۔آپﷺ نے فرمایا، ‘مسلمان مرد اور مسلمان عورت پر علم کا سیکھنا فرض ہے۔’خواتین کی مردوں کی غلامی کی خاص وجہ خواتین کی جہالت تھی اور جب علم حاصل کرنا  خواتین کا حق اور ان پر اسے حاصل کرنافرض ہوگیا ،توخواتین بھی با اختیار ہو گئیں۔یہ علم ہی ہے جو حقیقی آزادی دلانے والا ہے۔

تیسرے،  محمدﷺ انصاف کو لے کر بہت فکر مند تھے۔اسلام کے لئے انصاف اس قدر بنیادی ہے کہ اللہ کے تمام ناموں میں سے ایک نام اللہ کا عادل بھی ہے۔پیغمبر ﷺ کے نزدیک سماج کےپسمنادہ طبقے کے لئے انصاف سب سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔قرآن کے مطابق اللہ کمزوروں کے ساتھ ہے۔محمد ﷺ کے ذریعہ لائے گئے پیغامات میں یہ وعدہ ہے کہ ، وہ کمزور لوگ (مصتضعیفین) ہوں گے جو اس دنیا کے وارث ہوں گے اور جو اس کے قائد بھی ہوں گے۔طاقتور اور تکبر (مستکبرون) کرنے والے برباد ہو جائیں گے۔

چوتھے،  پیغمبر ﷺ نے تمام عمل کے لئے فرد کو ذمہ دار ٹھہرایا نہ کہ  اجتماعی طور پر  کسی قبیلے یا قوم کو جیسا  کہ اسلام سے قبل عرب میں ہوتا تھا۔قرآن نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ  ہر فرد کو اپنی ذمہ داری اٹھانی چاہیے  اور کوئی کسی دوسرے کے عمل کے لئے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا  جانا چاہیے۔یہ اس وقت بہت انقلابی اعلان تھا جب پورا قبیلہ اور قوم ایک مانی جاتی تھی اور کسی کی کوئی انفرادی حیثیت نہیں ہوتی تھی۔قرآن نے سزا یا جزا کیلۓ مخصوص قبیلے کی جگہ  انفرادی  طور پر ذمہ داری عائد کرنے  کو ترجیح دی۔ اس نے مرد اور خواتین کو قبائلی رسومات اور توہم پرستی سے نجات دلائی۔قرآنی تعلیمات کہتی ہیں کہ اجتماعی کارراوائی اہم ہے لیکن ایک فرد کے انتخاب کرنے کے حق کی قیمت پر ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

پانچویں، محمدﷺ نے انفرادی حقوق اور وقار کے ساتھ ذمہ داری بھی دی۔انسانی وقار کو کسی مذہب، قبیلے یا نسل تک محدود نہیں رکھا تھا بلکہ اس میں آدمؑ کی تمام اولادیں شامل تھیں۔حقیقت میں یہ ایک انقلابی اعلان تھا جسے  1400سالوں کے بعد اقوام متحدہ نے انسانی حقوق چارٹر کا پیش رو بنا۔اس کے علاوہ پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ  تمام مخلوق اللہ کے کنبے سے تعلق رکھتے ہیں۔

چھٹویں، آپﷺ نے بیت المال کا تصور دیا جس میں تمام مسلمان حسب استطاعت تعاون کریں  گے۔جدید نقطہ نظر سے اسے فلاحی ریاست کے لئے اٹھایا گیا قدم کہہ سکتے ہیں۔حکمرانوں کی شاہانہ زندگی کے لئےزکوٰۃ لوگوں پر لگایا گیا ٹیکس نہیں رہ گیا جو لوگوں سے وصولہ جاتا تھا جیسا کہ اسلام سے قبل یہ قاعدہ تھا۔یہ سختی سے کمزور طبقات، یتیموں، بیوائوں، غریبوں، مسافروں کی فلاح اور قیدیوں اور غلاموں کے کو چھڑانے کے لئے تھا۔عوامی ٹیکس کی رقم کا اس طرح کا استعمال بے نظیر تھا۔

یہاں تک کہ پیغمبر ﷺ نے  یہ بھی اعلان کیا تھا کہ  زمین صرف اس پر کاشت کاری کرنے والوں کی ہے اور اس طرح ظالمانہ اور استحصال کرنے والے جاگیر دارانہ نظام  کا خاتمہ کیا۔بد قسمتی سے ا ٓپ ﷺ کے وصال  کےکچھ دہائیوں بعد ہی  مسلم حکمرانوں نے اسی استحصال کرنے والے نظام پر مبنی عظیم سلطنتوں کا قیام کیا۔کئی غیر مسلموں کو یہ ناقابل اعتماد لگ سکتا ہے۔کیوں؟اس لئے کہ اکثر مسلمان آپ ﷺکی  بتائی تعلیمات پر عمل کرنے کے بجائے زبانی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

ہم اپنے ارد گرد کا جائزہ لیں اور خود سے سوال کریں: مسلم ملکوں میں خواتین کے حالات کیا ہیں؟ کیا مسلم ملکوں کی حکومتیں فلاحی ہیں؟کیا ان ملکوں کے حکمراں پیغمبر محمدﷺ کی طرح سادگی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں؟کیا یہ انفرادی حقوق اور انسانی وقار کا احترام کرتے ہیں؟  کیا وہ انصاف پر عمل کرتے ہیں؟ کیا وہ انسانی زندگی کااللہ کی امانت کے طور پر احترام کرتے ہیں؟ جوابات مثبت نہیں ہو سکتے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنی ناکامیوں پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنا ہوگا اور پیغمبر محمد ﷺ کے ذریعہ ان تک لائے گئے قرآنی اقدار کے نظام پر  کے مطابق اپنی زندگی گزارنی  ہو گی ۔

اصغر علی انجینئر اسلامی اسکالر ہیں اور سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکو لرزم، ممبئی کے سربراہ ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/mohammad-the-liberator/d/2509

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/prophet-muhammad-(saw)--a-kindness-for-the--humanity--محمدؐ--محسنِ-انسانیت/d/6333

 

Loading..

Loading..