New Age Islam
Sun Apr 18 2021, 08:18 PM

Urdu Section ( 25 Nov 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Movement against Hazare and Corruption ، ہزارے اور کرپشن کے خلاف تحریک

 

اصغر علی انجینئر  (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن ،  نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

انا ہزارے دوسرے گاندھی کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ یو پی اے حکومت کو لوک پال بل کا مسودہ تیار کرنے اور مسودہ تیار کرنے والے پینل میں سول سوسائٹی کے آٹھ اراکین کو شامل کرنے کے مطالبے کو منظور کروانے کے سبب وہ نہ صرف تمام اخباروں میں نظر آرہے ہیں بلکہ اخباروں کے تمام صفحات پر بھی دکھائی دے رہے ہیں۔بد عنوانی کے کئی معاملات سامنے آجانے کے بعد یوپی اے حکومت کے پاس انا ہزارے کے مطالبے کو ماننے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔

چونکہ یوپی اے حکومت کے کچھ وزراء اور بعض افسر2۔جی اورکامن ویلتھ گیمس گھپلے میں شامل ہیں، ایسے میں حکومت کی حالت خراب تھی اور ساتھ ہی سول سوسائٹی کی جانب سے انا ہزارے کے زبر دست حمایت کے سبب آسانی سے ہزارے کے مطالبے کو منظور کر لیا۔اگر ایسا نہیں ہوا ہوتا تو انا ہزارے کے لئے یہ آسان نہیں ہوتا۔

انا ہزارے کی تعریف آج پوری قوم کر رہی ہے اور ہزاروں کارکنان کے لئے وہ رول ماڈل بن گئے ہیں اور سول سوسائٹی ان پر فخر محسوس کرتی ہے۔کرپشن کے خلاف ان کی تحریک کو کچھ لوگون کے ذریعہ آزادی کی دوسری لڑائی بتایا جا رہا ہے۔ یہ مختصر وقت اور جذباتی لمحوں میں دئے گئے ردّ عمل ہیں۔تاہم کسی کو اس طرح جذباتی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔کسی کو بھی نہ صرف اس کے طویل مدتی اثرات کی بلکہ کیا یہ واقعی ایک شاندار اخلاقی کامیابی ہے جیسا کہ بتایا جا رہا ہے، اس کی بھی جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔

مجھے لگتا ہے کہ ہزارے کو گاندھین اور ان کے طرز تحریک کو بھی گاندھین کہا جا رہا ہے اس لئے سب سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ گاندھین اقدار کیا ہیں اور گاندھین طرز تحریک ہونے کے لئے کیا ہونا چاہیے۔ شروعات کرنے کے لئے گاندھیائی جدوجہد کے تین ضروری عناصر ہیں جن پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا ہے: سچائی، عدم تشدد اور با لکل سادہ طرز زندگی۔ان تین میں سے ہزارے کی تحریک میں جو یقینی طور پر موجود تھا وہ عدم تشدد تھا۔

یہ بحث کا موضوع ہے کہ باقی کے دو عناصر موجود تھے یا نہیں۔طویل مدت میں عدم تشدد ممکن ہے اگر جدوجہد صرف سچائی اور صرف سچائی پر مبنی ہو۔اس کے علاوہ سچائی اور عدم تشدد برقرار رکھنے کے لئے اس کی طرز زندگی سادگی سے بھری ہونی چاہیے اور اس کے بغیر سچائی کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا ہے اور اسی لئے دوسرے گاندھی کو پیدا کرنامشکل رہا ہے۔

اب انا کے کرپشن کے خلاف انشن پر آتے ہیں۔قدرتی طور پر کرپشن اعلیٰ طرز زندگی،بے ایمانی، لالچ اور جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے۔کس نے انا کی تحریک کو تقویت پہنچائی؟ بنیادی طور پر اس کے تین عناصر ہیں۔ متوسط طبقہ، جس کی طرز زندگی سادگی سے بہت دور ہے اور یہ گاندھی جی کی سادہ طرز زندگی سے الگ زندگی گزارتے ہیں۔ساتھ ہی خاص طور سے یہ متوسط طبقہ ہی ہے جو بڑے کاروبار سے الگ اپنے کام کو کرانے کے لئے آسانی سے کرپشن کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ٹرین میں ایک برتھ حاصل کرنے کے لئے باآسانی روپیہ دیتے ہیں اپنے گھر کے کچھ حصوں کو بڑھانے کے لئے اورغیر قانونی تعمیر کے لئے بلدیاتی دفتر کو رشوت دیتے ہیں اور سرکاری ملازم کے طور پر غیر قانونی کام اور دوسری چیزوں کے لئے رشوت قبول کرتے ہیں۔

یہی متوسط طبقہ اپنے بچوں کے اچھے اسکول اور پیشہ وارانہ کالج میں داخلہ کے لئے رشوت دیتے ہیں۔اصل میں شاید ہی کرپشن کی کوئی ایسی شکل ہو جس کاا ستعمال متوسط طبقے نے نہ کیا ہو۔اس طبقے کو کرپشن کے خلاف جدوجہدکرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔

انا ہزارے کی تحریک کو دوسرے عناصر جنہوں نے حمایت کی وہ سیاسی طبقہ (حالانکہ کچھ وجوہات کی بناء پر یہ طبقہ پوشیدہ ہی رہا) سوشل سوسائٹی کے اپنے کیڈر کے ذریعہ پوشیدہ طور پر یوپی اے حکومت کو کمزور کرنے کے لئے متحرک کیا تھا جو کہ خالص مقصد نہیں ہے۔اور تیسرا طبقہ وہ تھا جو واقعی اصولوں کی بنیاد پر کرپشن کے خلاف جدوجہد کرنا چاہتا تھا اور اس طبقے کو کہا جا سکتا ہے کہ یہ گاندھین فلسفے اور اقدار کے بہت قریب تھا۔یہ طبقہ تینوں میں سب سے چھوٹا تھا۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انا ہزارے اور گاندھی میں کیا فرق ہے۔انا گاندھین ہیں لیکن گاندھی نہیں۔ انہوں نے گاندھین طرز کو اپنایا نہ اس سے کچھ زیادہ اور نہ ہی اس سے کچھ کم۔گاندھی اصل مفکر تھے اور انکی تفہیم عمیق تھی اور اس سے بھی بڑھ کر وہ اپنی محرکات میں پاک تھے اور ہمیشہ اپنے ضمیر کی آواز سنی۔ وہی لوگ جو اپنی محرکات میں پاک ہوتے ہیں اپنے ضمیر کی آواز سن سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں انا ہزارے کا موازنہ گاندھی سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔وہ عمیق تفہیم اور زبردست عقل بھی نہیں رکھتے ہیں اور اس سے بھی کم متحرکات میں پاکی نہیں رکھتے ہیں۔

انا نے کبھی فرقہ وارانہ تشدد کے مذمت نہیں کی۔ وہ گجرات فسادات کے دوران خاموش رہے ہیں۔ گجرات کی نسل کشی پورے ہندوستان کے لئے شرم کی بات تھی۔اگر گاندھی زندہ ہوتے تو انہوں نے فوراً تا مرگ بھوک ہڑتال کی ہوتی، اس پر سول سوسائٹی کی جانب سے حمایت ہوتی یا نہیں ہوتی۔ گاندھی کے لئے عدم تشدد اصول کا معاملہ تھا نہ کہ صرف حکمت عملی کا۔

یہی نہیں ہزارے نے مودی کے ترقیاتی ماڈل کی تعریف کی۔ کیا ترقیاتی ماڈل کو تشدد سے الگ کیا جا سکتا ہے جو وہ معاشرے میں پیدا کرتا ہو؟کیا ترقی ہی سب کچھ ہے؟ اگر یہ سماج کے کمزور طبقات کی مدد نہیں کرتا ہے تو اس ماڈل کی ضرورت کیا ہے۔ گاندھی چاہتے تھے کہ ترقیات سے سب سے کمزور بھی فائدہ حاصل کرے اور مودی کا ترقیاتی ماڈل صرف طاقتور اور اعلیٰ طبقے ریلائنس، ٹاٹا اور دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔اسی لئے بڑے صنعت کار مودی میں وزیر اعظم کی خوبی پاتے ہیں۔

اس سے بھی بد تر اور کیا ہوگا جب ان سے گجرات فسادات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کچھ بھی کہنے سے منع کر دیا اور اپنے ساتھی کے اشارے پر کہا کہ وہ مذہبی ہم آہنگی کے لئے کام کرتے ہیں اور ان کی تحریک میں سبھی کے ساتھ مسلمان بھی اس کا حصہ ہیں۔یہ سب کچھ سوچنے کے بعد اور اپنے ساتھی کے مشورے پر کیا جو انا ہزارے کے مقابلے زیادہ سیکولر ہیں۔

اس کے علاوہ سول سوسائٹی کی جانب سے زبردست حمایت آرایس ایس، بی جے پی اور دائیں بازو کی مذہبی قیادت جیسے بابا رام دیو کی سازش کا حصہ ہے جو اس بات پرناراض تھے کہ انہیں مسودہ کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔دائیں بازو کے سیاسی نظریہ والی یہ حمایت ملک کی سیکولر صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔یہ بہت ہی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ جے پرکاش نرائن کی تحریک کا کیا ہوا جس کی پیداوار نریندر مودی ہیں حالانکہ جے پرکاش نارائن انا ہزارے سے بہت بلندمقام پر تھے۔

جے پرکاش نارائن کے کرپشن مخالف مہم اور اس کے بعد وی پی سنگھ کی کرپشن مخالف تحریک کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا، ہم سے اس طرح کی تحریک کا ایک بار پھر سامنا نہیں کیا جائے گا۔یہ دونوں عظیم لیڈر انا ہزارے سے بڑے تھے۔ اس لئے ہزارے کی کامیابی کو دوسری جنگ آزادی کی تحریک مان کر خوشی منانے کی ضرورت نہیں ہے۔ہزارے اور ان کی تحریک کو کامیاب بنانے میں میڈیا کا اپنا مقصد ہے۔

ہزارے مودی کی طرح کے ترقیاتی ماڈل کے حمایتی ہیں اور میڈیا کا کنٹرول بڑے صنعت کاروں کے ہاتھوں میں ہے اور اسی لئے وہ ہزارے کو اپنا مددگار پاتے ہیں اور گاندھی کے نام کے جیسا کوئی کام نہیں کرتا ہے اس لئے وہ ہزارے کو دوسرے گاندھی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔گجرات کے معروف گاندھین جناب چنی بھائی ویدیہ نے مودی کے دیہی ترقی کے بارے میں انا ہزارے کے بیان پر تنقید کی ہے۔وہ پوچھتے ہیں ،کہاں دیہی ترقہی ہوئی ہے؟ اگر دیہی علاقوں میں ترقی ہوئی ہوتی تو 10فیصد آبادی شہروں میں منتقل نہیں ہوئی ہوتی۔جنابی ویدیہ کا بیان 2011کی مردم شماری پر مبنی ہے۔وہ پوچھتے ہیں کہ دیہی ترقی کے ایسے حالات میں مودی کی تعریف کرنے کے لئے کیا ہے؟

ملیکا سارا بھائی نے بھی مودی کی تعریف کے لئے انا ہزارے کی تنقید کی ہے۔ان کا کہنا ہے مودی کے دور اقتدار میں دیہی علاقے میں بہت کم ترقی ہوئی ہے۔ سارابھائی کا کہنا ہے کہ’اصل میں گاؤں میں جانوروں کے چرنے کی عام زمین اور کاشت کاری کے لائق زمین کو بھی مودی حکومت نے چوری سے صنعت کاروں کو کوڑیوں کے دام میں دے دیا‘۔ سارابھائی کے مطابق مودی کے دور اقتدار میں دیہی عوام کو بہت مشکلوں سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

سارابھائی کا کہنا ہے کہ مودی کے دور اقتدار میں ریاست میں سب سے زیادہ کرپشن ہوا ہے جیسے1700کروڑ روپئے کا سجلام سو پھلام پانی بچاؤ گھپلا،100کروڑ روپئے کا بوری بند چیک ڈیم گھپلا،اور600کروڑ روپئے کا ماہی گیری کا گھپلا۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست بھاری قرض میں ڈوب گیا ہے کیونکہ صنعت کو خاص طور پرمودی نے بخشش عطا کی ہے۔

گجرات کے دوسرے سرگرم کارکنان جو انسانی حقوق تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں جیسے جوزار بندوق والا، پرجا پتی اور دوسرے نے گجرات کے حقائق بیان کرنے والی سچائیوں کو واضح کیا ہے اور ہزارے کی مودی کی تعریف کا چیلنج کیا ہے۔گاندھی جی کا بنیادی زور دیہی ترقی پر تھا لیکن ہزارے نہ صرف اس کی تعریف کر رہے ہیں جس نے مذہبی اقلیت کی نسل کشی کی اجازت دی بلکہ دیہی علاقوں کی قیمت پر صنعت کاروں کی مدد کر رہا ہے۔اس کے علاوہ گاندھی جی معاشرے کے سب سے کمزور انسان کے وقار پر زور دیتے تھے جبکہ مودی کے گجرات میں دلت اور مظلوم لوگوں کی کوئی عزت نہیں ہے۔مودی کے گجرات میں دوپہر کے کھانے کے وقت دلت طالب علموں کو الگ سے بیٹھنا ہویا ہے یہاں تک کہ سرکاری اسکولوں میں بھی ایسا ہوتا ہے اور اگر کوئی استاد انہیں ساتھ بٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو فوراً اس کا ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔شاید انا ہزارے ان کڑوی سچائیوں سے واقف نہیں ہیں۔

کرپشن کے خلاف انا ہزارے کے جدوجہد خوش آئند ہے اور ساتھ ہی اس کی تعریف بھی ہونی چاہیے اور اگر وہ اپنی یہ جدو جہد آگے قائم رکھنا چاہتے ہیں تو وہ لوگ جو مختلف قسم کے کرپشن کے لئے زمہ دار ہیں ان لوگوں کا ساتھ برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ گاندھی جی زبر دست جدو جہد کے لئے پاکیزگی کو ایک لازمی عمل مانتے تھے۔

ممتاز اسلامی اسکالر اور سماجی کارکن اصغر علی انجینئر ممبئی میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اور سینٹر فار دی اسٹڈی آف سیکولرزم اینڈ سوسائٹی کے سربراہ ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/current-affairs/gandhi,-hazare-and-fight-against-corruption/d/4474

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/movement-against-hazare-and-corruption--،-ہزارے-اور-کرپشن-کے-خلاف-تحریک/d/6004

 

Loading..

Loading..