New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 01:22 PM

Urdu Section ( 8 Feb 2012, NewAgeIslam.Com)

Maulana Abul Kalam Azad: His Passion of Freedom and Sectarian Harmony مولانا ابوالکلام آزاد : آزادی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ان کاجوش و جذبہ

 

اصغر علی انجینئر  (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن،  نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

16-30 نومبر، 2011

مولانا ابوالکلام آزاد مذہب اسلام کےعظیم  عالم، حب الوطنی، فرقہ وارانہ ہم اہنگی کے لئے جذبہ رکھنے والے ایک منفرد شخصیت  کے مالک تھے۔ تاہم، یہ  بات انتہائی افسوسناک ہے کہ ملک نے ان کی خدمات کو تقریبا بھولا دیا ہے۔اسکول یا کالج جانے والی نئی نسل کے طالب علموں میں سے مجھے لگتا ہے کہ ایک فیصد بھی شاید ہی ان کے بارے میں اور ان کی حصولیابیوں کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانس اسٹڈیز، شملہ کے فی الحال چیئر مین پروفیسر منگیکر،  جو  راجیہ سبھا کے رکن بھی ہیں۔ میں ادارے کی جنرل باڈی کے ایک حالیہ اجلاس میں چیئر مین پروفیسر منگیکر کی اس تجویز کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ، جس میں انہوں نے امبیڈکر کی طرح مولانا ابو الکلام آزاد  پر بھی موسم گرما کے اسکول  کالج کے استازہ کے لئے چلانا چاہیے جس سے وہ بھی مولانا کی شخصیت اور ان کی حصولیابیوں سے واقف ہو سکیں۔ اصل میں اس طرح کے موسم گرما کے اسکول مولانا آزاد، خان عبدالغفار خان اور دیگر رہنماؤں کے لئے  قائم کئے جانے ابھی باقی ہیں اور خاص طور سے مولانا آزاد جن کی ملک اور اس کی آزادی کے لئے قربانیاں کسی سے کم نہیں ہیں۔

گیارہ نومبر،  2011 کو مولانا کی سالگرہ تھی اور اس سال حکومت ہند نے بھی مولانا کو یاد کیا اور تمام اسکولوں کو مولانا کی سالگرہ کے جشن کو منانے کے لئے کہا گیا تھا کیونکہ یہ ایجوکیشن ڈے بھی ہوتا ہے۔ تاہم،  دیوالی کی چھٹیوں کی وجہ سے طالب علم اپنے آبائی علاقوں سے اسکول واپس نہیں آئے تھے اس لئے سالگرہ کا جشن کچھ خاص نہیں رہا۔

مولانا کلکتہ (اب کولکاتہ) کے مولاناخیر الدین کے صاحبزادے تھے  جو کلکتہ کے انتہائی قابل احترام عالم تھے اور جن کے ہزاروں شاگرد تھے۔ آپ کی شادی مکہ کی ایک خاتون کے ساتھ ہوئی تھی  اور مولانا خیر الدین کے مکہ میں قیام کے دوران ہی مولانا ابو الکلام آزاد کی پیدائش ہوئی۔ اس طرح عربی آپ کی مادری زبان تھی اور مولانا کو اس پر عبور حاصل تھا۔ مولانا کی پرورش قدامت پسند روایتی اسلامی  ماحول میں ہوئی تھی اور آپ کے والد چاہتے تھے کہ آپ بھی ان کے نقش قدم پر چلیں۔ اگر اس پیشکش کو مولانا نےقبول کیا ہوتا تو  ان کے بھی ہزاروں کی تعداد میں شاگرد ہوتے اور اپنے والد کی ہی طرح  انتہائی باثر ہوتے۔

لیکن مولانا سر سید احمد خان کے اثر میں آئے اور ان کی تحریروں کو  بہت دلچسپی کے ساتھ پڑھا۔ تاہم، وہ آزاد ذہن کے مالک تھے اور سلطنت برطانیہ سے وفاداری پر سر سید کے زور سے جلد ہی اپنے آپ کو دور  کر لیا، جبکہ  وہ جدیدیت اور جدید تعلیم کے متعلّق  ان کے خیالات کو تسلیم کرتے تھے۔ مولانا جذباتی  طور پر ہندوستان کی آزادی کے لئے پر عزم تھے اور بنگال میں زمین دوز (انڈر گرائونڈ) تحریک میں شامل ہونے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے زمین دوز رہنماؤں نے سوچا کہ ایک مسلمان اس تحریک میں شامل ہونے کے لائق نہیں ہے۔

مولانا کے لئے حب الوطنی اسلامی فریضہ تھا کیونکہ پیغمبر ﷺ کے بارے میں روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ کسی کا  اپنے ملک سے محبت کرنا اس کے ایمان کا حصہ ہے۔ اور ملک کی اسی محبت نے غیر ملکی غلامی سے آزادی کا مطالبہ کیا اور اس طرح اپنے ملک کو برطانوی غلامی سے آزاد کرانے کو اپنا فرض سمجھا۔ اس طرح وہ بہت چھوٹی عمر سے ہی آزادی کی تحریک میں شامل ہو گئے۔ مولانا بہت کم عمر میں کانگریس کے صدر بن گئے، شاید وہ کانگریس پارٹی کے سب سے کم عمر کے صدر تھے۔

گاندھی جی کی ہی طرح مولانا کا ماننا تھا کہ  ملک کی آزادی کے لئے ہندو مسلم اتحاد بہت ضروری ہے ۔ اس طرح جب وہ رام گڑھ اجلاس میں کانگریس پارٹی کے صدر بن گئے، تب انہوں نے اپنے صدارتی خطاب کو ان الفاظ کے ساتھ ختم کیا،  اگر  ایک جنتی فرشتہ بھی   اللہ کی طرف سے ہندوستان کی آزادی کا تحفہ لے کر آئے، تو بھی میں اسے اس وقت  تک قبول نہیں کروں گا، جب تک کہ ہندو مسلم اتحاد قائم نہ ہو جائے، کیونکہ ہندوستان کی آزادی کا نقصان ہندوستان کا نقصان ہے جبکہ  ہندو مسلم اتحاد کو نقصان پوری انسانیت کا نقصان ہوگا ۔’

یہ بہت با معنی الفاظ ہیں اور مولانا کے لئے یہ صرف بیان بازی نہیں تھی بلکہ  قرآن کی تفہیم کی بنیاد پر ہندوستان سے ان کی  گہری وابستگی کا اظہار تھا ۔ بیسویں صدی کی ابتداء میں مولانا نے رانچی میں قید کے دوران قرآن کی جو  تفسیر لکھی  اسے ہندوستانی بر صغیر  کی جانب سے تفسیر لٹریچر میں عظیم تعاون تصور کیا جاتا ہے۔

مولانا نے اپنی تفسیر کی پہلی جلد کو (مولانا اپنی انتہائی سیا سی مصروفیت کے سبب اسے مکمل نہیں کر سکے انہیں اسے دوبارہ لکھنا پڑا کیونکہ برطانوی پولس نے ان کے پہلے کے مسودوں کو تباہ کر دیا تھا) وحدت دین کیلۓ وقف کر دیا  تھا۔ مولانا کواس بات کا پختہ یقین تھا، جیسا کہ ہم اتحاد بین المذاہب کی انکی تفسیر میں پاتے ہیں اور اپنی تفسیر میں اس تصور کو وسعت دینے میں اپنی علمی کامیابیوں کا مظاہرہ کیا ہے اور اس وجہ سے ہندو مسلم اتحاد کے بارے میں ان کے اعلانات محض سیاسی بیان بازی نہیں تھے، اور موقع پرستی تو بالکل بھی نہیں، لیکن ایک گہرا مذہبی یقین ضرور تھا۔

مولانا ایک عظیم سیاستداں تھے اور اس کے باوجود ووہ خلافت تحریک کے حامی تھی۔ مولانا اسے مسترد کرنے والوں میں سب سے پہلے تھے، جب کمال پاشا نے ترکی میں بغاوت کی اور خلافت کو اقتدار سے بے دخل کر دیا اور خلافت کے ادارے کو فرسودہ قرار دیا  تھا۔مولانا نے عطاء ترک کے جدید اصلاحات کا استقبال کیا تھا اور  مسلمانوں کو خلافت کے ادارے کی حفاظت کی کوششوں کو ترک کر دینے کا  مشورہ دیا تھا جس سے ترک لیڈران خود دست بردار ہو گئے تھے۔  

جب  نہرو کمیٹی کی رپورٹ 1928 کے کانگریس کے اجلاس میں زیر بحث آئی تب جناح  نے مسلمانوں کے لئے ایک تہائی نمائندگی  کا مطالبہ کیا تو  مولانا  نے پارلیمنٹ میں اس   کی مخالفت کی تھی۔ مولانا کی دلیل تھی کہ جمہوریت  میں کسی فرقے کو بہت زیادہ نمائندگی نہیں دی جا سکتی ہے اور جہاں تک اقلیتوں کے حقوق کا تعلق ہے تو  آئین مخصوص قوانین کے ذریعہ ان کا خیال رکھ سکتا ہے اور جیسا ہندوستانی آئین نے آرٹیکل 25سے 30 کے ذریعہ کیا ہے۔ مولانا ہمیشہ طویل مدتی نقطہ نظرکے ساتھ رہے اور کبھی بھی سستی مقبولیت کی  کوشش نہیں کی۔  

مولانا آزاد1937 میں جواہر لال نہرو کے اس فیصلے سے متفق نہیں تھےجس میں انہونے اتر پردیش میں مسلم لیگ کو دو کابینہ نششتیں دینے سے انکار کیا تھا ۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ کو زبردست ناکامی ہاتھ لگی تھی۔ مولانا آزاد نے نہرو کو مشورہ دیاتھا کہ وہ مسلم لیگ کی طرف سے نامزد دو وزراء کو اپنی حکومت میں شامل کر لیں کیونکہ اس سے انکار پر ایک طویل مدت تک منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اس معاملے میں مولانا صحیح ثابت ہوئے۔ جناح اس پر بر ہم ہو گئے اور  کانگریس کی حکومت کو ‘ہندو’ حکومت کہہ کر مذمت کرنا شروع کر دیا، جس میں مسلمانوں کو کبھی انصاف نہیں ملے گا۔

اگر نہرو نے مولانا  کےمشورے کو قبول کر لیا ہوتا تو  شاید ملک کو تقسیم ہونے سے بچایاجا سکتا تھا، تاہم مسلم لیگ کو کابینہ میں دو نششتیں دینے سے انکار کرنے کےنہرو کے اپنے ہی وجوہات تھے کیونکہ وہ خود چاہتے تھے کہ کانگریس مسلمانوں کو زیادہ نمائندگی دے۔ لیکن مولانا نے عملی سیاست کی بنیاد پر اس پر دوسری طرح سے غور کیا۔ مولانا ہمیشہ مستقبل کے مضمرات کے بارے میں سوچاکرتے تھے صرف فوری نتائج کے بارے میں نہیں  ۔

نہرو اور مولانا آزاد محض اچھے دوست ہی نہیں تھے  بلکہ ایک دوسرے کا بہت احترام کرتے تھے۔ نہرو نے کئی زبانوں پر مولانا کے عبور حاصل کرنے اور ان کی علمی صلاحیت پر شاندار خراج تحسین پیش کی ہے۔ دوسرے مذاہب کے بارے میں بھی مولانا کا علم بہت عمیق تھا۔ خواتین کے حقوق کے بارے میں مولانا کے عزم آج کے ہی جیسے تھے۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ  فقہاء صنفی مساوات کی حمایت نہیں کرتے ہیں اور  خواتین کو عام طور پر گھر کی چہار دیواری تک ہی محدود رکھنا چاہتے ہیں لیکن مولانا اس خیال سے مستثنیٰ تھے۔

مولانا نے مصر میں عربی زبان میں شائع کتاب المرأت المسلمہ کا ترجمہ کیا  جس کے معنی ایسی مسلمان خواتین سے ہے جو صنفی مساوات کے لئے جدو جہد کرے۔ مولانا نے مصر میں خواتین کے حقوق پر جاری بحث کا لب لباب پیش کیا اور مولانا نے اس کتاب کا ترجمہ اس لئے کیا کیونکہ وہ صنفی مساوات کے حق میں تھے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ مولانا نے آیت  2:228  پر تبصرہ کیا کہ، ‘ یہ صنفی مساوات پر  1300 سال قبل سے بھی زیادہ انقلابی اعلان ہے۔’ (مولانا 1920 میں لکھ رہے تھے)

مولانا کے علاوہ ہندوستانی  براعظم کی دیگر دو ممتاز مذہبی شخصیات جنہوں نے صنفی مساوات کی حمایت کی ان میں مولوی ممتاز علی خان جو سر سید احمد خان کے ساتھی تھے اور مولانا عمر احمد عثمانی تھے جن کا حال ہی میں کراچی میں انتقال ہو گیا۔ دونوں ممتاز مذہبی شخصیت تھےاور صنفی مساوات کو برقرار رکھنے کے معاملے میں غیر مصالحانہ رویہ رکھتے تھے۔ مولوی ممتاز علی خان نے حقوق نسواں پر ایک کتاب لکھی ہے  اور مولانا عمر احمد عثمانی فقہ القرآن کو  8 جلدوں میں لکھا ہے جس میں قرآن میں صنفی مساوات پر دلائل کو واضح کیا ہے۔

آج پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے مولانا نے واضح طور پر اس کی بھی پیشن گوئی کی تھی۔ سب سے پہلےقابل توجّہ یہ ہیکہ  ہے کہ ہندو مسلم اتحاد کے بارے میں ان کے یقین کی طرح، مولانا کا یہ بھی ماننا  تھا کہ مذہبی بنیاد پر  ہندوستان کی تقسیم  غلط ہو گی۔ جو اپنے ملک سے محبت کرتا ہے وہ کبھی اسے تقسیم نہیں کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جب جمہوریت فعال ہوناشروع ہوتی ہے  تو اسے اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے اور مسلمان کسی طرح اقلیت نہیں رہے تھے۔ تقسیم ملک سے قبل ان کی تعداد  25فیصد سے زائد تھی اور آج اگر ملک تقسیم نہ ہوا ہوتا تو ان کی آبادی 33فیصد سے بھی زائد ہوتی۔

 مولانا نے پیشن گوئی کی تھی کہ آج اگر مسلمانوں کو لگتا ہے کہ ہندو ان کے دشمن ہیں تو  کل جب پاکستان وجود میں آئے گا، اور وہاں کوئی ہندو نہیں ہوگا تو وہ آپس میں علاقائی،  نسلی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑیں گے۔ انہوں نےاس بات کو  واضح طور پر مسلم لیگ کےان چند ارکان کو  بتا دیا تھا جو پاکستان کے لئے روانہ ہونے سے پہلے مولانا سے ملنے آئے تھے۔ آج پاکستان میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔

 اس سے نہ صرف  یہ کہ فرقہ واریت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مذہبی انتہا پسندی بھی اپنے شباب پر ہے۔ قتل،  عام بات اور روزمرہ کا معاملہ بن گیا ہے۔ تمام مذاہب کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب مذہب سیاست کے ساتھ منسلک ہو جاتا ہے تب اقتدار مذہب اور مذہبی اقدار کے مقابلے میں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اقتدار مقصد بن جاتا ہے اور مذہب اسے حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔ مولانا اسے بخوبی سمجھتے تھے اسی لئے  وہ مذہبی  سیا ست کے مقابلے سیکولر اور جمہوری سیاست کی طرف بہت زیادہ مائل تھے۔

تاہم، مولانا  کامیاب نہیں ہوئے اور ملک کو تقسیم ہونے سے نہیں بچا سکے کیونکہ، ایک جانب  اتر پردیش اور بہار کے جاگیر دار اور مسلمانوں کےمتوسط طبقے(جن لوگوں کو خدشہ تھا کہ  انہیں نوکری یا جلد ترقی نہیں مل پائے گی) جیسے طاقتور ذاتی مفادات والے لوگ تھے تو دوسری جانب برطانوی سامراجی مفادات  سے وابستہ  افراد تھے جو ملک کو تقسیم کرنے پر امادہ تھے۔

بشکریہ: سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرزم

URL for English article:

https://www.newageislam.com/islamic-personalities/maulana-abul-kalam-azad---his-passion-for-freedom-and-communal-harmony/d/5930

URL for this article:

https://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-abul-kalam-azad--his-passion-of-freedom-and-sectarian-harmony--مولانا-ابوالکلام-آزاد---آزادی-اور-فرقہ-وارانہ-ہم-آہنگی-کا-ان-کاجوش-و-جذبہ/d/6592

 

 

Loading..

Loading..