New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 09:47 PM

Urdu Section ( 11 Apr 2012, NewAgeIslam.Com)

Islam and the Concept of Justice اسلام اور تصور انصاف


اصغر علی انجینئر

(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

گزشتہ ماہ ویانا میں کثیر ثقافت اور مذہبی کثرتیت پر ایک سیمینار تھا۔ دیگر مسائل کے علاوہ ایک بحث انصاف کے تصور پر منعقد کی گئی تھی۔ انصاف کیا ہے، اس پر سوالات کئے گئے، اور شرکاء نے اپنی رائے دی تھی۔

شرکاء میں فلسفہ، سماجیات، سیاسیات کے  پروفیسروں کے ساتھ ساتھ مذہبی اور حقوق کے لئے کام کرنے والے سرگرم کارکنان شامل تھے۔ یہ ایک دلچسپ بحث تھی لیکن انصاف کیا  ہے، عام طور سے  اس پر  وہاں کوئی اتفاق رائے نہیں تھی۔ میں نے بھی اپنی رائے پیش کی اور کہا کہ افلاطون نے ہمارے لئےاس بحث کو درج کیا ہے جو سکرات اور ان کے نوجوان شاگردوں کے درمیان انصاف پر  ہوئی تھی اور جب کوئی بھی اطمینان بخش تعریف نہیں دے سکا،  تو انہوں  (سکرات) نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انصاف وہ ہے جو طاقتور کو لگتا ہے کہ انصاف ہے اور مشہور کہاوت ہے کہ' جس کی لاٹھی اس کی بھینس'۔

سکرات کی طرف سے پیش کردہ انصاف کی اس تعریف میں آج تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، کیونکہ  انصاف کا دنیا میں بو بالا ہے۔ یہاں تک کہ 21ویں صدی میں بھی طاقتور ہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ انصاف کیا ہے۔ امریکہ آج دنیا میں سب سے طاقتور ملک ہے اور اگر امریکہ فیصلہ کرتا ہے کہ انصاف عراق یا افغانستان پر حملہ کرنے میں مضمر ہے، تو پوری دنیا اس کو منصافانہ کارروائی کے طور پر توثیق کرتی ہے۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تقریبا متفقہ طور پر اس کی توثیق کرتا ہے۔

احتجاج کی کچھ آوازوں کو  قدرتی طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔  ہماری جدید اور مہذب دنیا انصاف کی قدیمی تعریف سے ایک سینٹی میٹر  بھی آگے نہیں بڑھی ہے اس کے باوجود دنیا میں آج  انصاف کو سب سے زیادہ اہم اقدار کے طور پر  مانا جا رہا ہے۔ لیکن کیا  ہمیں آج بھی 'سکرات کی تعریف کے ساتھ رہنا چاہئے جبکہ ہم اس کا دعوی کرتے ہیں کہ ہم نے بہت ترقی کر لی ہے؟ صرف کمزور طبقات ہی انصاف حاصل کرنے کا خواب دیکھ سکتے ہیں، یا وہ کبھی انصاف بھی حاصل کر سکیں گے؟

اسلام میں انصاف سب سے زیادہ بنیادی قدر ہے، یہ اللہ کے ناموں میں سے ایک کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے۔ اللہ کا ایک نام عادل ہے۔ قرآن بار بار انصاف پر زور دیتا ہے اور یہاں تک کہتا ہے کہ انصاف تقوی کے سب سے قریب ہے اور اسی طرح "انصاف کرنے" کا حکم دیتا ہے، کیونکہ یہ تقوی کے  سب سے قریب ترین  ہے۔ لیکن ہمارے بہت سے فقہہ کا خیال ہے کہ  تقوی صرف نماز ادا کرنے اور  روزہ رکھنے میں ہے چاہے اس کے نتیجے میں تقوی کا اظہار طرز عمل میں ہوتا ہو  یا نہیں۔ ان لوگوں  کا کہنا ہے کہ تمام اسلامی قوانین سب سے زیادہ  انصاف پر مبنی ہیں لیکن پھر دوسروں کی طرح انصاف کی تعریف پر اختلاف رکھتے ہیں۔

مثال کے طور پر انصاف اور ایک سے زیادہ بیویوں کے سوال کو لے لیں۔ قرآن ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت دیتا ہے لیکن آیت 4:3 زور دیکر کہتی ہے کہ، " پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو)"۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ ہمارے فقہہ کے لئے تعداد (چار بیویاں) انصاف سی زیادہ اہم ہیں جس پر قرآن اصل میں زور دیتا ہے۔ عام طور پر جب ایک آدمی ایک سے زیادہ نکاح کی بات کرتا ہے تو صرف اس صورت میں یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کیا اس کی چار سے زائد بیویوں سے کم ہیں اور  یہ سوال نہیں ہوتا کہ وہ  ان کے درمیان انصاف کرنے کے قابل ہوگا کہ نہیں۔

اس کے علاوہ، اگر اس تعلق سے کوئی جانچ ہوتی بھی ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ بیویوں کے درمیان منصفانہ رویہ کیا ہے؟ عام طور پر اسے یکساں نان نفقہ خیال کیا جاتا ہے اور تمام بیویوں کو برابر سے وقت دینا  'انصاف' تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اس تصور پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہے۔ معتذلۃ فقہہ  (جو استدلال پسند تصور کئے جاتے ہیں) کے مطابق  برابر نان نفقہ اور  وقت  دینے کا مطلب انصاف نہیں ہے اور آیت 4:129 کے مفہوم  کے مطابق برابر کی محبت بھی ضروری ہے  جو انسانی طور پر  ممکن نہیں ہے۔

انصاف کرنے میں سیاق و سباق بھی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ سماجی، سیاسی، اقتصادی اور کسی کے سماجی ڈھانچے پر بھی منحصر ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک قبائلی معاشرے میں برابر کی جوابی کارروائی کو انصاف ملنا تصور کیا جاتا ہے۔  قرآن  اسے قساس کہتا ہے اور چونکہ عرب کا معاشرہ ساخت میں قبائلی تھا یہ اعلان کرتا تھا کہ  زندگی جوابی کارروائی (برابر پیمائش میں) پر مشتمل ہے۔ بہت سے فقہہ سیاق و سباق کو نظر انداز کرتے ہیں اور اسے  انصاف کے ایک ابدی اصول کے طور پر  اعلان کرتے ہیں۔ اگر ہم سیاق و سباق کو نظر انداز کرتے ہیں تو انصاف ناانصافی بن سکتا ہے۔ آج کل جب انسانی حقوق اور وقار عظیم اہمیت کی حامل ہیں، اس طرح کی قبائلی جوابی کارروائی ناانصافی ہوگی۔

ہمارا تاثر یہ نہیں ہونا چاہئے کہ قرآن انصاف کے ایک ابدی اصول کے طور پر جوابی کارروائی کا اعلان کرتا ہے۔ بالکل بھی نہیں۔ بہت سے اسلامی علماء کرام اس پر زور دیتے ہیں کہ یہ قبائلی معاشرے کے تناظر میں تھا، اور ایک مسلمہ اصول کے طور پر  قرآن مجید اس کی منظوری دی ہے،  ورنہ اسلام معاف کرنے کو زیادہ بہتر اصول مانتا ہے اور  مومنوں کو قساس پر اصرار نہ کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔تب سے زیادہ تر اسلامی ممالک نے بدلہ لینے کے عمل کے قانون کو ختم کر دیا ہے اور انسانی عظمت کے آج کے اصولوں سے مطابقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے سزا کی دیگر اقسام کو اپنایا ہے۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ سیاق و سباق انصاف دینے میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جبکہ اصولوں اور اقدار میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی لیکن قانون مسلسل طور پر  اس طرح بتدریج مرتب کئے جاتے ہیں کہ  جہاں تک ممکن ہو وہ ان ابدی اصولوں اور اقدار کے قریب ہوں۔ زمانہ قدیم کے کئی قبائلی معاشرے  آج کے جدید جمہوری معاشروں میں تبدیل ہو گئے ہیں اور اس طرح قبائلی معاشروں کے لئے بنائے گئے قوانین جامد نہیں رہ سکتے ہیں  اور اگر کوئی اس پر اصرار کرتا ہے، جیسا کہ  بہت سے فقہہ اکثر کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وہ  ظلم میں تبدیل ہو جائیں گے اور  قرآن کے بہت ہی بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کریں گے۔ اور یہی  بہت سے مسلم معاشروں میں آج بڑے پیمانے پر جنس کی بنیاد پر نا انصافی کا باعث بن رہا ہے۔

ماضی میں بنائے گئے ان قوانین کے مقابلے میں بنیادی اصولوں اور اقدار  بہت زیادہ اہم ہیں جب انصاف کا تصور آج سے بہت مختلف تھا۔ ماضی میں معاشرے کے کمزور طبقوں کے ساتھ  انصاف کے حصول کے معاملے میں  بہت الگ انداز سے برتائو کیا جاتا تھا لیکن  آج یہ نا زیبا اور انسانی حقوق اور انسانی وقار کے اصول کے خلاف تصور کیا جائے گا۔ آج اگر ہم صنفی انصاف کرنا چاہتے ہیں تو بہت سے پرانے قوانین کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جانی ہوگی کیونکہ وہ آج کے انصاف معیار کے مطابق ظالمانہ بن گئے ہیں۔

اس طرح وقت کے ساتھ ساتھ انصاف کا تصور بھی ترقی پاتا ہے، اگرچہ آج بھی سب سے زیادہ طاقتور  کو یہ لگ سکتا ہے کہ جو کچھ وہ مانتا ہے کہ  انصاف ہے، اصل میں انصاف ہے۔

اصغر علی انجینئر اسلامی  اسکالر ہیں اور سینٹر فار  اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکو لرزم، ممبئی کے سربراہ ہیں۔

بشکریہ: ڈان، کراچی

URL for English article:

 http://newageislam.com/islamic-ideology/asghar-ali-engineer/islam-and-the-concept-of-justice/d/7010

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/islam-and-the-concept-of-justice--اسلام-اور-تصور-انصاف/d/7046

 

Loading..

Loading..