New Age Islam
Sun Sep 19 2021, 06:33 AM

Urdu Section ( 18 Jan 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Hazrat Ali: A Man of Knowledge and Insight حضرت علیؓ : علم اور بصیرت والے انسان


اصغر علی انجینئر  (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن ،   نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

اسلام نےعرب میں علم کے میدان میں ایک عظیم انقلاب  پیدا کیا،جہاں خواندگی تقریبا نہ کے برابر تھی  اور عرب کے لوگ ثقافت اور تہذیب  کے بجائے اپنےنسب پر فخر کیا کرتے تھے۔عظیم مؤرخ اور قرآن کے مبصر طبری کے مطابق ، اسلام سے قبل مکہ میں  17 سے زائد لوگ  نہیں  تھے جو پڑھ لکھ سکتے تھے۔ قبل از اسلام کی اس مدت  کے بارے میں کوئی  تعجب نہیں کیونکہ یہ دور جہالت کے نام سے جانا گجاتا ہے۔اس پس منظر میں قرآن کے علم پر زور دینے کو سمجھا جانا چاہیے۔قرآن کی پہلی آیت  لفظ اقراء (پڑھ)  کے ساتھ شروع ہوتی ہےاور لفظ علم قرآن میں800 سے زائد بارآیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں لفظ جہاد صرف 41بار ہی آیا ہے۔ قران نےعلم کو روشنی اور جہالت کوتاریکی کہا ہے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ عرب میں علم کے تین بنیادی ذرائع تھے اور یہ قرآن،  پیغمبر محمدﷺ اور حضرت علیؓ تھے۔اس میں شک نہیں کہ قرآن وہ بنیادی  منبع تھا جو پیغمبر ﷺ پر وحی کے طور پر نازل ہوا،  نبی کریم ﷺ نے حدیث  (جو انہوں نے مختلف موضوعات پر فرمایا) اور سنت  (یعنی آپ ﷺ نے جو عمل کیا) کے زریعہ اس میں شراکت کی ، اور لوگوں  نے جس کامشاہدہ کیا اور بیان  کیا۔حضرت علیؓ کا  تعاون ہم لوگوں تک ان کے خطبات کے ذریعہ پہنچا، کیونکہ حضرت علی ؓ  عظیم مقرّر تھےاور ان کی تقاریر کو بعد میں  ‘نھج البلاغۃ’  کے عنوان سے جمع کیا گیا،اور کچھ خطوط جو  انہوں نے اپنے گورنروں کو لکھا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مشہور حدیث ہے جس میں آپ ﷺ نے متفقہ طور قبول کیا ہے کہ‘میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں’  اور کوئی بھی  شہر میں دروازے سے داخل ہوتا ہے۔ علم کے معاملے میں حضرت علیؓ کی یہ اہمیت تھی۔حضرت علی ؓ نے مسلمانوں کی علمی ترقی کو عروج دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

قرآن  الہامی علم کا زریعہ ہے یعنی  اللہ  سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل علم  فطری تھا،  اور حضرت علیؓ  کا علم وہ تھا جو انہیں پیغمبر ﷺسے حاصل ہوا تھا اور اسی لئے ان کا علم  ‘علم اللدنی’  کہا جاتا ہےاورحضرت علی کا  علم معاشرے کے بارے میں  ان کی  بصارت سے بھی تھا۔حضور ﷺ انسان کامل تھے اور حضرت علیؓ کمال میں آپﷺ کے بعد تھے۔ لہذا صوفی حضرات  کے نزدیک پیغمبر محمدﷺ اور حضرت علیؓ  ترغیب کے دو منبع تھے۔پیغمبر محمدﷺ نے اس دنیا میں قیام کیا لیکن اس سے کبھی انہیں الفت نہیں رہی۔ حضرت علیؓ  جنہوں نے ہمیشہ  پیغمبر ﷺ کی سنتوں پر عمل  کرنے کی کوشش کی،  وہ بھی کبھی اس دنیا کی چمک دمک  کی جانب متوجہ نہیں ہوئے۔حضرت علیؓ  کے بارے میں  یہ روایت ہے کہ انہوں نے فرمایاکہ،  ‘ میں نے دنیا کو تین مرتبہ  طلاق  دیا یعنی کبھی اس کی جانب راغب نہیں ہوا۔’

 حضرت علیؓ  ،  نبی کریم ﷺ کی طرح ،  بنیادی طور پر دل کی گہرائیوں سے روحانی شخص تھے اور ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کی طرح اس حقائق سے واقف تھے کہ لاکھوں لوگ اس دنیا میں رہتے ہیں اور یہ دنیا ایسی ہونی چاہیے جو انسانی زندگی کو با معنی   اور ہدایت فراہم کرنے والا  اور انسانی مصائب کو کم سے کم کرنے والا بنائے۔دنیا کو ترک کرنا کوئی حل نہیں ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب  انسان اپنی جسمانی ضروریات کو پورا کرے لیکن اپنے جسم کا غلام نہ بنے۔

اسلام کےابتدائی دور میں اقتدار کے لئے جدوجہد تھی لیکن حضرت  علیؓ نے خود کو تب تک اس سے دور رکھا،  جب تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنیؓ کے قتل کے بعد اقتدار کی ذمہ داری ان پر ڈال نہیں دی گئی۔حضرت علیؓ  جبکہ اقتدار کے لالچ سے  بہت دور تھے وہ اس حقیقیت سے  بھی واقف تھے کہ کوئی اقتدار دوسرے کو قابو میں کرنے کے لئے نہیں چاہتا بلکہ  قانون،  اخلاقیات اور انصاف کے کچھ اصول کو نافذ کرنے کے لئے چاہتا ہے۔قرآن بہترین رہنمائی کرتا ہے لیکن وہ تمام لوگ جو اسلام میں داخل ہوئے وہ کامل مسلمان  نہیں بن  سکے۔انہیں ہر طرح کی دنیا وی لالچ ہے اور یہاں تک کہ ان میں سے کئی نے دنیاوی فائدے حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کیا۔

لہذا حضرت علیؓ  کی ترجیح مسلمانوں کو حقیقی مومن  کے طور پر ڈھالنے کی تھی  اور انہیں  نیک مسلمان بنانے اور دنیا کو قرآنی تعلیمات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس دنیا کو  انصاف  پر مبنی مقام بنانے کی تھی۔ قرآن کریم نے روحانی و جسمانی ضروریات اور مادہ پرستی و روحانیت میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی اور نبی کریم ﷺ اس کی کامل مثال تھے۔ نھج البلاغۃ  حضرت علیؓ  کی نصیحتوں کا زبر دست منبع ہے۔ چونکہ حضرت علیؓ  دوسروں کو کنٹرول کرنے کے لئے  اقتدار کی خواہش کبھی نہیں رکھی  جب تک کہ ان پر اقتدار کی ذمہ داری ڈال نہیں دی گئی اور قانون اور انصاف کی حکمرانی کے نفاذ کے لیے جتنی سختی ہو سکتی تھی حضرت علی ؓ نے اتنی برتی۔ اس عمل میں بھی ان کے قریبی اتحادی  بھی ان سے دور ہو گئے لیکن انہوں نے پرواہ نہیں ہے۔ عبداللہ بن عباس ان کے قریبی اتحادی تھے اور اس کے باوجود بھی حضرت علیؓ  نےانہیں ایک سخت خط  تب لکھا تھا ، جب  انہوں نےبصرہ کے گورنر رہتے ہوئے بیت المال سے اپنے حصے سے زیادہ پیسہ لیا تھا۔ انہوں نے مایوسی میں بصرہ چھوڑ دیاتھا۔

حضرت علیؓ نے  بصراق  کے گورنر اوراپنےوفادار اتحادی ملک بن اشتر کو بھی لکھا تھا جسے حکمرانی کے اصولوں کا شاہکار مانا جاتا ہے۔اس خط میں حضرت علیؓ نے ملک بن اشتر کو مشورہ دیا تھا کہ ‘ یہ مت کہو کہ میں آپ کا فرماں روا  اور ڈکٹیٹرہوں اور اس لئے تمہیں میرے حکم  کی تعمیل کرنی چاہیے، کیونکہ یہ تمہارے دل کو بد زن کر دے گا۔’ انہوں نے مزید لکھا کہ، ‘خدا کے حقوق اور انسانوں کے حقوق  کا اپنے عمل کے ذریعہ  اپنے زہن کو احترام کرنے دو.......ورنہ تم خود کے ساتھ اور  انسانیت کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہو گے۔’

انہوں نے ملک اشتر کو مزید مشورہ دیا کہ، ‘عوام کا خیال اسی طرح رکھو جیسے کہ اپنے بچوں کا رکھتے ہو اور ان کے سامنے  بھلائی کے ان کاموں کا ذکر نہ کرو جو تم نے کئے ہیں، اور  اس کے بدلے میں وہ جو اظہار تشکر کریں تو اس کو نظر انداز نہ کرو۔

حضرت علیؓ نے لکھے ہے کہ ،جو لوگوں میں سب سے بہتر ہو  اور جسے خوفزدہ نہ کیا جا سکے، جو اکثر غلطی نہ کرتا ہو، جو راہ حق  سے نہ  ہٹتا ہو اور جو خودغرض اور لالچی نہ ہواس کو بطورچیف جسٹس انتخاب  کرنا  چاہیے۔

اس طرح ہم پاتے ہیں کہ حضرت علیؓ کا تصور اقتدار عوام کے لئے تھا۔عوام سے اوپر کبھی کچھ بھی نہیں لیکن بد قسمتی سے دنیا اس قدر کامل نہیں ہے  جو ان کے اس تصور کو قبول کر سکے اور حضرت علیؓ نے اپنی زندگی دے کر اس کی قیمت ادا کی، اور اس مقصد کے لئے رمضان المبارک کی21تاریخ کو آپ شہید ہو گئے۔

مصنف اسلامی اسکالر اور سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکو لرزم، ممبئی کے سربراہ ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-personalities/hazrat-ali-–man-of-knowledge-and-vision-/d/3373

URL for this article:

     http://www.newageislam.com/urdu-section/hazrat-ali---a-man-of-knowledge-and-insight--حضرت-علیؓ---علم-اور-بصیرت-والے-انسان/d/6413

 

 

Loading..

Loading..