New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 10:24 PM

Urdu Section ( 2 Dec 2011, NewAgeIslam.Com)

A Fatwa that Created Anxiety in Muslims ایک فتوی جس نے مسلمانوں میں اضطراب پیدا کر دیا


 اصغر علی انجینئر  (انگریزی سے ترجمہ۔ سمیع الرحمٰن ،  نیو ایج اسلام ڈاٹ کام)

حال ہی میں دارالعلوم دیو بند نے ایک فتوٰی جاری کیا جو کہتا ہے اگر کوئی خاتون کسی سرکاری یا نجی دفترمیں مردوں کے ساتھ کام کرتی ہے تو اس کے خاندان کے لئے اس کی آمدنی حرام ہوگی۔یہ فتوٰی ہندوستان کے ایک مشہور روزنامہ ٹائمس آف انڈیا میں شائع ہوا۔اس نے مدھو مکھی کے چھتّے میں ہاتھ ڈالنے کا کام کیا اور بڑی تعداد میں مسلمان مرد ، خواتین سمیت کچھ علماء نے فتوٰی پر احتجاج کیا اور دارالعلوم کو کہنا پڑا کہ اس نے کبھی ایسا فتوٰی جاری ہی نہیں کیا اس نے صرف عوامی دفتر میں خواتین کے کام کرنے کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیا تھا۔

پورے معاملے میں دو باتیں کافی اہم ہیں۔ایک یہ کہ اس طرح کے معاملات ، خصوصی طور پر خواتین اور ان کے حقوق کے بارے میں جو کچھ بھی علماء کہتے ہیں انہیں مسلمان یوں ہی قبول نہیں کریں گے۔ یہاں تک کہ کئی علماء نے اس فتوٰی کی شرعی حیثیت کے بارے میں بھی سوال کئے۔ دوسرا یہ کہ ہمارے علماء صرف کتابوں کے الفاظ پر غور کرتے ہیں نہ کہ مسئلے کو سمجھتے ہیں اور یہ پریشان کن پہلو ہے۔جو کچھ بھی ہمارے پیش رو لوگوں نے الگ حالات میں لکھا وہ ان لوگوں کے لئے مقدس ہوگیا اور معاشرے میں کتنی بھی زبر دست تبدیلی ہوئی ہو انہیں اسی پر عمل کرنا ہے۔

جن علماء نے اس فتوٰی کا دفاع کیا ان میں سے زیادہ تر کی دلیل ہے کہ خواتین شرعی حدود میں رہ کر کام کر سکتی ہیں۔پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ شرعی حدود صرف خواتین پر ہی کیوں لاگو ہوتی ہیں؟اور دوسرے کون طے کرے گا کی اس کی حدود کیا ہوں گی؟ان علماء کے مطابق مرد اور عورتوں کا آپس میں نزدیک آنافتنہ کے مترادف ہے۔ان کے نزدیک خواتین کے کردار اور ایمانداری کا کوئی مطلب یا اہمیت نہیں ہے۔اگر وہ ایک مخلوط اجتماع میں اپنے چہرے سے پردہ ہٹاتی ہیں تو ایک فتنہ میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

نبی کریمﷺ کی زندگی میں ایسے کئی مواقع آئے جب مر اور خواتین ایک ساتھ تھے اور حضرت عائشہؓ نے جنگ جمال کی قیادت کی اور اس وقت ان کے ارد گرد سیکڑوں صحابہ تھے لیکن اس وقت ان کو کسی نے نہیں بتایا کہ وہ گھر سے باہر نہ نکلیں اور جنگ میں حصہ نہ لیں۔ایک معروف خاتون شفا بنت عبد اللہ کو حضرت عمرؓ نے مارکیٹ کا انسپکٹر تقرر کیا تھا اور کسی نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔وہ بطور مارکیٹ انسپکٹر کیا کرتی تھیں؟ کیاصرف خواتین کے معاملات کو ہی دیکھتی تھیں؟

شریعت کی بنیاد قرآن ہے لیکن قرآن کہیں بھی عام خواتین کے لئے پردے کا ذکر نہیں کرتا ہے۔لیکن دوسری جانب یہ خواتین کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنی زینت کو نہ دکھائیں(24:31) لیکن قرآن زینت اور زیورات کیا ہیں اس کی وضاحت نہیں کرتا ہے۔اسے متعدد مبصرین نے اپنے ثقافتی ماحول کے اعتبار سے بتانے کی کوشش کی۔قرآن تو یہ بھی نہیں کہتا ہے کہ انہیں سر ڈھنک کر رکھنا چاہیے یا صرف چہرے کو ہی۔ دوسری جانب قرآن کہتا ہے ’سوائے اس کے جو ظاہر ہے‘ اور باقی تشریح پرچھوڑ دیا۔مبصرین کے درمیان اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کو کھلا رکھ سکتے ہیں۔تاہم یہ خواتین کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنے سینوں کو ڈھنک کر رکھیں۔

اوپر ذکر کی گئی آیت میں بعد میں مردوں اور خواتین کویہ مشورہ دیا گیا ہے کہ، مومن مرد اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور مومن خواتین اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں(24:30)دراصل یہ ان دونوں آیات کا سب سے اہم حصہ ہے اور آیت30 کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے جس میں مردوں کو بھی اپنی نظریں نیچی رکھنے اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔

اس کے بجائے پوری زمہ داری خواتین پر ڈال دی گئی ہے کہ وہ اپنے پورے جسم کوچہرے سمیت ڈھنک کر رہیں ورنہ وہ فتنہ کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔قرآن نے اس کی زمہ داری مرد اور خواتین دونوں پر ڈالی ہے ۔ یہ بڑی بد قسمتی ہے کہ جب بات عورتوں کی آتی ہے تب ہم پوری طرح مقاصد شریعت کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں اور صرف خواتین کو اس کے برتاؤ کے لئے ذمہ دار ٹھرا دیتے ہیں۔

پورے قرآن میں مردوں اور خواتین کو ان کے اپنے اعمال کے لئے زمہ دار ٹھرایا گیا ہے اور ان کو اسی کے مطابق انعام یا سزا دی جائے گی۔اگر کسی کو اس میں اور وضاحت چاہیے تو اسے چاہیے کہ وہ قرآن کی تمام دوسری آیتوں کے علاوہ آیت33:35دیکھے۔اگر مرد اور خواتین اپنے اعمال کے لئے برابرزمہ دار ہیں تو پھر اپنے جنسی طرز عمل کے لئے بھی دونوں زمہ دار ہوں گے۔اور خواتین ہی اکیلے نہیں مرد بھی ذریعہ فتنہ ہوں گے۔ جیسا کہ آج ہماری فقہہ کہتی ہے۔

دراصل ہمارے علماء جسے شرعی حدود کہتے ہیں وہ مردوں نے طے کی ہے جو قرون وسطیٰ میں خواتین کے تئیں اپنے ثقافتی رویے کے سبب خواتین کو دوسرے درجے اور مردوں کے مقابلے غیر مساوی درجے کا تصور کرتے ہیں۔قرآن کی حقیقی روح کو مد نظر رکھتے ہوئے پوری فقہہ کی جامع طور پر نظر ثانی کی جانی چاہیے۔اور ساتھ ہی قرآن کے ارادوں کی بہتر فہم کے لئے جامع طور پرمناسب طریقہ کار اورفریم ورک تیار کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ ٹکڑوں میں جس طرح ہمارے مبصرین کرتے رہے ہیں۔

مذہبی تعریف کے بجائے قرون وسطیٰ یا ثقافتی طور پر شرعی حدود کی سمجھ پر ٹکے رہنے سے مستقبل میں اس طرح کے فتوٰی سے بچنے کا مقصد حل نہیں ہوگا۔

مصنف معروف اسلامی اسکالر اور سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکو لرزم ،ممبئی کے سربراہ ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-sharia-laws/a-fatwa-that-stirred-muslims/d/2892

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/a-fatwa-that-created-anxiety-in-muslims--ایک-فتوی-جس-نے-مسلمانوں-میں-اضطراب-پیدا-کر-دیا/d/6060

 

Loading..

Loading..