New Age Islam
Fri Apr 10 2026, 05:27 PM

Urdu Section ( 2 Jan 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Anti-Islamic Movements in Europe یوروپ میں اسلام مخالف تحریکات

اسد مرزا

30دسمبر،2023

 اٹلی کی وزیر اعظم جارحیا میلونی اکثر اپنے جرأت مندانہ بیانات دینے کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں، لیکن انہوں نے حال ہی میں اپنی ایک تقریر میں اسلامی ثفاقت کامذاق اڑایا اور کہا کہ یورپ میں اس کیلئے اور مسلمانوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ان کے تبصرے اس وقت آئے جب انہو ں نے روم میں اپنی انتہائی دائیں بازو کی جماعت برادرز آف اٹلی کے زیر اہتمام ایک سیاسی کانفرنس کی میزبانی کی جس میں برطانوی وزیر اعظم رشی سنک او ر ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے بھی شرکت کی۔محترمہمیلونی نے یہ بھی کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اسلامی ثقافت او رہماری تہذیب کی اقدار او رحقوق کے درمیان مطابقت کا مسئلہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اٹلی میں اسلامی ثقافتی مراکز کو سعودی عرب کی طرف سے مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے جہاں شریعت نافذ ہے۔ یورپ میں جو کہ ہماری تہذیب کی اقدار سے بہت دور ہے اور دراصل اسلامائزیشن کے عمل کا ایک حصہ ہے دریں اثنا اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی ایک پرانی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ یہ کہتی نظرآرہی ہیں کہ اسلامی ثقافت یورپی تہذیب سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کامزید کہنا تھاکہ وہ اٹلی میں شریعت کا نفاد نہیں ہونے دیں گی۔ انہو ں نے ویڈیو میں مزید کہا کہ یہ بات میرے ذہن سے نہیں نکلتی کہ اٹلی میں زیادہ تر اسلامی ثقافتی مراکز کو سعودی عرب کی جانب سے مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے۔ اس ویڈیو میں میلو نی نے سعودی عرب کے سخت شرعی قوانین پر بھی تنقید کی۔ ان کاکہنا تھاکہ سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جو شرعی قانون اور شریعت کو نافذ کرتا ہے اور جہاں زنا کے لئے پھانسی اور ارتداد اورہم جنس پرستی کیلئے سزائے موت دی جاتی ہے۔

اس کانفرنس میں اپنی تقریر کے دوران رشی سنک نے کہا کہ وہ پناہ گزینوں کے نظام میں عالمی اصلاحات پر زور دیں گے کہ اور انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا خطرہ یورپ کے کچھ حصوں پر ’حاوی‘ ہوسکتاہے۔انہوں نے دیگر ممالک کو خبر دار کیا کہ کچھ دشمن جان بوجھ کر لوگوں کو ہمارے سا حلوں تک لارہے ہیں تاکہ ہمارے معاشروں کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جاسکے۔

رشی سنک نے مزید کہا اگر ہم اس مسئلے سے نہیں نمٹتے ہیں تو ان لوگوں کی تعداد ضرور بڑھے گی۔ یہ ہمارا ملک او ران لوگوں کی مدد کرنے کی ہماری صلاحیت کو مغلوب کردے گا جنہیں درحقیقت ہماری مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اگر اس کیلئے ہمیں اپنے قوانین کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پڑے تو ہمیں کرنا چاہئے۔

دریں اثنا ٹیسلا کے بانی ایلون مسک بھی اس عوامی تقریب میں شامل ہوئے جب کہ ایسی تقریبات میں موجود رہنے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں وضاحت کرتے ہوئے کہا آبادی کے سکڑنے سے نمٹنے کے لئے صرف امیگریشن کا مقابلہ کرنا کافی نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ثقافتوں میں مختلف اقدار موجود ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ اٹلی ایک ثقافت کے طور پر ختم ہوجائے، ہم ان ممالک کی معقول ثقافتی شناخت کو برقرار رکھناچاہتے ہیں جہاں یہ پناہ گزین اتنی بڑی تعداد میں آرہے ہیں اٹلی اور دیگر ممالک میں بھی۔

اگر ہم میلونی کی سیاسی کانفرنس کا تجزیہ کریں تو انہوں نے اور دیگر شرکاء نے جن خیالات کااظہار کیاہے ان سے بہت حد تک اسلاموفوبیا کی بو اور اس سے متعلق خوف میں اضافہ بالکل واضح طور پر نظر آتا ہے۔ جس انداز میں حال ہی میں میلونی نے جی 20 کے سربراہی اجلاس میں جس گرم جوشی سے وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی تھی وہ بھی سب کے سامنے ہے او ریہاں پر ان دونوں کو باندھنے والا دھاگا ایک ہی ہے یعنی کہ دونوں کے اسلام مخالف جذبات۔

اگر ہم ایلون مسک کی تقریر کا جائزہ لیں تو یہ صاف ہوجائے گا کہ ان کی کمپنی ٹویٹر جسے اب X کہاجاتاہے وہ بھی اسلاموفوبیا کو بڑھانے میں کافی بڑا کردار ادا کررہی ہے۔حال ہی میں ٹویٹر پر شائع ہونے والے مواد کی تحقیق سے یہ سامنے آیاہے کہ ٹویٹر بھی اسلاموفوبیا کے فروغ میں کافی خطرناک کردار ادا کررہاہے۔ ٹوٹیر پر شائع ہونے والے مواد کی کی جب تحقیق کی گئی تو پایا گیا کہ ٹویٹر پر مذہب، دہشت گردی، جرائم اور ہندوستانی تاریخ جیسے متنازعہ موضوعات پر بحث کرنے والے ٹویٹر صارفین کے ٹویٹس میں املاکی بہت سی غلطیاں ہوتی ہیں۔ یہ اس وقت کے غصے میں کی گئی غلطیاں نہیں ہوتی ہیں بلکہ محتاط تحریف کامقصد انگیز مواد کے لئے ٹویٹ کو آگے بڑھانا او ر اسے حذف کیے جانے سے روکنا ہے۔ مثال کے طور پر،نومبر 2022 ء میں پوسٹ کی گئی ایک ٹویٹ جس میں بے ترتیب جرائم کی خبروں کی ایک سیریز سے مسلم ناموں والے لوگوں کو الگ کیا گیا تھا اس میں مجرموں کو ’مسلمان‘ نہیں کہا گیا تھا بلکہ اس کے بجائے ’اولا کے بندے‘ (اولا کا گروپ، اولا کا گینگ) کا جملہ استعمال کیا گیا تھا۔ لفظ Ola جو ہندستانی ٹیکسی کی خدمت کا حوالہ دیتاہے، ’اللہ‘ کی جگہ استعمال کیا گیاتھا۔ یہ ٹویٹ سی ای او ایلون مسک کے ٹویٹر پر 44/بلین ڈالر کے قبضے کے بعد پوسٹ کیا گیا تھا۔ٹویٹ کے مصنف کے فی الحال 000,00,7 کے قریب فالوورز ہیں۔ لوگوں کے ایک گروپ کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانے کے لئے اس ٹویٹ کی رپورٹ کرنا اب نفرت انگیز ٹویٹ کی رپورٹ کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے جس میں محض ’مسلمانوں‘ کا حوالہ دیا گیا ہے، کیونکہ شکایت کو دیکھنے والے ٹویٹر کے ماڈریٹر کو نہ صرف استعمال کیے جانے والے ہندی جملے سے واقف ہوناپڑے گا، بلکہ ”Ola“ کادوہرا معنی بھی۔ مزید برآں،اگر اعتدال کا عمل خود کار ہے،تو مشین غالباً کسی صارف کو ٹیکسی سروس کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے دیکھے گی، جو کہ نفرت انگیز طرزعمل نہیں ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ سارے بیانات کسی نئے بیانئے کے تحت ہی آرہے ہیں، بلکہ یہ اس بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کی نشان دہی کررہے ہیں جو کہ یو رپ کی مختلف ممالک نے دائیں بازو کے مختلف رہنماؤں او ران کی سیاسی جماعتوں کو حاصل ہورہی ہے۔اٹلی کے علاوہ فرانس میں حال کے عرصے میں فرانس کی محترمہ لی پین،ہالینڈ میں گیرٹ وائلڈرز کی مقبولیت او ران کی سیاسی جماعتوں کو پارلیمان میں حاصل ہونے والی بڑھتی ہوئی نشستوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتاہے کہ اس وقت یورپ بڑی سطح پر اسلاموفوبس کے نظریات کا حامی ہوتا جارہاہے۔ان ممالک میں آسٹریلیا، ہنگری اورجرمنی کوبھی شامل کیا جاسکتاہے۔

ساتھ ہی سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ یورپ میں جودائیں بازو کی سیاست کو فروغ مل رہاہے اس کے اصل عوامل وہاں بڑھتی ہوئی بے روزگاری،قیمتوں میں اضافہ اور ضروری اشیاء کی یعنی گیس او ربجلی کی دروں میں اضافہ ہیں جو کہ متوسط او رکم متوسط طبقات پر بہت سخت اثر چھوڑرہے ہیں،کیونکہ ان میں سے زیادہ تر افراد ان بڑھتی ہوئے قیمتوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں اور اس وجہ سے وہ دائیں بازو کے سیاسی فلسفے کی زد میں آکر دائیں بازو کے رہنماؤں کی حمایت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جو کہ صاف طور پربرسراقتدار جماعتو ں کی مخالفت کرتے ہیں اس بنا پر کہ وہ عوام کو ایک بہتر زندگی جینے کے لئے سہولیات مہیا کرانے میں ناکام ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دائیں بازو کی جماعتیں حکومت مخالف جذبات کو اسلام مخالف جذبات میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں او راس کا سیاسی فائدہ حاصل کرتے ہیں جیسا کہ مختلف پوروپی ممالک میں دیکھنے میں آرہا ہے۔

30دسمبر،2023، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

----------------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/anti-islamic-movements-europe/d/131438

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..