New Age Islam
Thu Feb 12 2026, 04:49 PM

Urdu Section ( 14 Nov 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Indian Muslims Are Against Zionism Not Judaism ہندوستانی مسلمان یہودیت کے نہیں صیہونی عزائم کے خلاف ہیں

 اسد مرزا، نیو ایج اسلام

 5 نومبر 2023

 اسرائیل میں جاری تنازعہ کو دائیں بازو ہندو قوم پرستوں کی شکل میں ایک نیا حامی مل گیا ہے۔ اگرچہ ان میں سے اکثر کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں کہ اسرائیل میں جنگ کی اصل وجہ کیا ہے، لیکن پھر بھی ہندوستانی مسلمانوں کا فلسطینیوں کی حمایت کرنا، انہیں ناگوار گزرتا ہے۔ اسد مرزا نے زیر نظر مضمون میں تنازع کی اصل وجہ کا پتہ لگانے کی کوشش کی ہے۔

 ------

حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والے مسلم مخالف جذبات، جن کا اظہار زیادہ تر دائیں بازو کے اندھ بھکت عالمی سطح پر مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے ذریعے کرتے ہیں، اور بعض صورتوں میں اس کا اظہار بھارت کے اندر دائیں بازو کے ہندو پجاری بھی عوامی طور پر کرتے ہیں، اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس مسئلے کی حقیقت سے پوری طرح لاعلم ہیں؛ اور ان کا سب سے آسان کام صرف ہندو اور مسلمان کرنا ہے، اور یہ کہ ہندوستانی مسلمان جس کی بھی حمایت کریں، دائیں بازو کے ہندو کو اس کی مخالفت کرنی چاہیے۔

 بڑی حد تک یہ بات ہندوستان کے الیکٹرانک میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ان کے نمائندے اسرائیلی دفاعی میڈیا کی رہنمائی کے مطابق ہی رپورٹنگ کرتے ہیں، اور افسوس کی بات ہے کہ جہاں جنگ ہو رہی ہے اس علاقے سے کوئی زمینی رپورٹنگ نہیں کی جا رہی۔

 واضح رہے کہ مسلمان خواہ ہندوستان کے ہوں یا کسی اور ملک کے، یہودیت کے نہیں بلکہ صیہونی عزائم کے خلاف ہیں اور ان دونوں باتوں میں فرق بعد المشرقین کا ہے۔ مسلمان یہودیت کے خلاف نہیں ہو سکتے، کیونکہ اسلام کی طرح، یہودیت بھی ایک کتابی اور الہامی دین ہے، اور اس کے بانی بھی اسلام کے ہی داعی ہیں۔

 تاہم، ان غلط بیانیوں اور تاویلات کو رد کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ واضح کیا جائے کہ صیہونیت کا یہ تصور کیسے فروغ پایا اور پوری دنیا میں صیہونی تحریک کے پھیلنے سے قبل عرب مسلمانوں اور عرب یہودیوں کے تعلقات کیا تھےاور کس طرح یہود دشمنی کی پوری عمارت کھڑی کی گئی، جس کا تمغہ ہر اس شخص کو دے دیا جاتا ہے جو صیہونیت کی مخالفت کرتا ہے۔

 اس سے قبل اسرائیل کی موجودہ آبادی کی صورتحال کو سمجھنا بہتر ہوگا۔ واشنگٹن کے پیو ریسرچ سینٹر کے 2015 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہودی اسرائیل کی آبادی کا 81 فیصد، مسلمان 14 فیصد، عیسائی اور دروز دونوں 2 فیصد ہیں اور 1 فیصد خود کو ملحد قرار دیتے ہیں۔

لیکن عرب مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی کے باوجود، عرب سیاسی جماعتیں برسوں سے اسرائیلی حکومت میں نمائندگی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہیں، جنہیں سیاسی حقوق سے مکمل طور پر محروم رکھا گیا ہے، باوجود اس کے کہ بہت سے عرب دائیں بازو کی یہودی قیادت پر اور خاص طور پر موجودہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

 مانچسٹر یونیورسٹی کے ایک یہودی ماہر تعلیم موشے بیہر نے 2021 میں نوٹری ڈیم یونیورسٹی میں پیش کیے گئے اپنے مقالے Were There — and Can There Be — Arab Jews؟ میں اس سوال کا جواب دیا ہے: کیا عرب یہودی ہو سکتے ہیں؟ وہ اس کا جواب ہاں میں دیتے ہیں اور بیسویں صدی کے اوائل سے لے کر اب تک کی عرب شناخت کا معنی تاریخی طور پر ثابت کرتے ہوئے اپنے موقف کی تائید کرتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس سے پہلے عرب شناخت کے تاریخی حوالوں میں سیاسی مضمرات کی قدر نہیں کی جاتی رہی اور اپنے مضمون میں، اس عرب شناخت کو اجاگر کرنے کی جو قیمت چکانی پڑی اس کا بھی ذکر کیا ہے۔

 وہ ان سوالات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ عرب شناخت بذات خود کس چیز پر مشتمل ہے اور اپنے اور غیر کا تعین کس طرح کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس مضمون کے اختتام پر فلسطینی اور عرب دانشوروں، ماہرین تعلیم اور صحافیوں کے ذریعے بین الاقوامی ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن کی یہود دشمنی کی تعریف کی مخالفت کے بیان کی حدود پر روشنی ڈالی ہے۔ بیہر کا کہنا ہے کہ اس بیان میں عرب یہودیوں کو شامل نہ کرنے سے یہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھا گیا، جس پر اسرائیل فلسطین تنازعہ کی بنیاد ہے۔

 عرب یہودیوں کے سوال کو مزید سمجھنے کے لیے، ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صیہونیت کی ابتداء کیسے ہوئی جس کی وضاحت لیورا ہالپرین نے اپنے مضمون اوریجنز اینڈ ایوولوشن آف زایونیزم میں کی ہے، جو ستمبر 2015 میں امریکہ کی فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فلاڈیلفیا- میں شائع ہوا تھا۔

 لیورا کا خیال ہے کہ صیہونیت یہودی قوم پرستی کی ایک قسم ہے۔ بلکہ ان کا دعویٰ ہے کہ یہودی ایک ایسی قوم ہے جس کی بقا، جسمانی اور ثقافتی دونوں طور پر، اسرائیل کی سرزمین پر ان کی واپسی کے ساتھ مشروط ہے، جو کہ یہودیوں کی آبائی سرزمین ہے۔ 1948 سے پہلے کی صیہونیت صرف ایک قوم پرست تحریک ہی نہیں بلکہ یہودیوں کو آباد کرنے کا ایک انقلابی منصوبہ تھا۔

 لیورا مزید کہتی ہیں کہ صیہونیت یہودی قوم پرستی کی ایک شکل ہے جو یہودیوں کو ایک قوم قرار دیتی ہے اور اس شناخت کی بنیاد پر یہودیوں کو قومی حقوق ملنے چاہئیں۔ جو چیز صیہونیت کو یہودی قوم پرستی کی دوسری شکلوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ صہیونیوں نے ایک مختصر عرصے کی غیر یقینی صورتحال اور متبادل تجاویز کے بعد یہ نظریہ قائم کیا کہ ان حقوق یا خودمختاری کی جگہ اسرائیل کی سرزمین ہونا چاہیے، جسے مذہبی یہودی روایت میں یہودیوں کا قدیم اور حتمی وطن تصور کیا گیا ہے۔ 

 درحقیقت، عالمی سطح پر صہیونی تحریک کی بنیاد رکھنے والا شخص آسٹریائی ہنگری کا یہودی صحافی اور سیاسی کارکن تھیوڈور ہرزل (1860-1904) تھا۔ ہرزل کی صیہونیت نظریاتی اور عملی طور پر خالصتاً سیاسی تھی: یہودیوں کو بحیثیت قوم کے مسیحی دور کی کسی نئی ثقافت نئی زبان یا کسی نئے نظریہ کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ انہیں صرف اپنی ایک قومی سیاست کی ضرورت ہے، جس کی تشکیل سے یہود دشمنی کا مسئلہ حل ہو جائے گا، نہ صرف خود یہودیوں کے لیے بلکہ پورے یورپ کے لیے، جیسا کہ اس کی کتاب Der Judenstaat (The Jewish State) میں بیان کیا گیا ہے۔

 بنیادی طور پر، صیہونیت کی ابتدا کئی عوامل کے سنگم سے ہوئی: مشرقی یورپی یہودیوں کی جسمانی ایذا رسانی، مغرب میں یہودیوں کا الحاق، اور ایک عبرانی ثقافتی احیاء جس نے روایتی یہودی مذہبیت کو مسترد یا تبدیل کر دیا۔ 1800 کی دہائی کے اوآخر میں، صیہونیت کے اولین پیروکار، روسی پیلے آف سیٹلمنٹ اور رومانیہ میں مرتکز تھے، لیکن تھیوڈور ہرزل کی متحرک قیادت میں، صیہونیت نے خود کو ایک عالمی سیاسی تحریک کے طور پر مضبوط کیا۔

لیورا مزید کہتی ہیں کہ اگرچہ صیہونیت کے پاس ایک خاص منطق ہے جو اس کے ارد گرد کے واقعات سے ابھرتی ہے، لیکن تمام یہودی اس منطق کو قبول نہیں کرتے اور یہودیوں کی اکثریت نے ابتدا میں اس منطق کو تسلیم نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے اس کی مخالفت کئی سمتوں سے شروع کر دی۔ آزاد خیال یہودی، جو یہودی انضمام کے خیال پر کاربند تھے، کا ماننا تھا کہ صیہونیت، یہود دشمنی کو جاری رکھ کر، مزید یہود دشمنی ہو ہی ہوا دے گی۔

 آرتھوڈوکس یہودیوں کا خیال تھا کہ یہودیوں کو قدیم زمانے میں ان کے گناہوں کی وجہ سے جلاوطن کیا گیا تھا اور وہ تبھی اپنی زمین میں واپس جائیں گے جب اللہ کی مرضی ہوگی یا جب مسیحا کا دور آئے گا۔ ان کا ماننا تھا کہ فلسطین میں اجتماعی طور پر واپسی کے لیے اقدام کرنا کفر اور بد دینی سے کم نہیں۔ جب صیہونیت کی سیاسی و مذہبی شاخ پھیلے گی تو یہ مذہبی مخالفت بھی ختم ہو جائے گی، لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ آرتھوڈوکس ابتدا میں صیہونیت کے شدید مخالف تھے۔

 اگر ہم 1917 کے بعد کے واقعات اور خاص طور پر 1948 کے بعد کے واقعات کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں تو ایک بات سمجھ میں آئے گی کہ یہودیوں اور مسلمانوں کے تعلقات سیاسی طور پر کبھی بھی تلخ نہیں رہے تھے، لیکن 1948 کے بعد سابقہ نوآبادیاتی طاقتوں یعنی یو کے اور سپر پاور یعنی یو ایس اے کی مدد سے صہیونی تحریک اپنے پاؤں پسارنے میں کامیاب رہی۔

 ایک منصوبہ بند توسیع پسندانہ عزائم کے تحت، ناخواندہ عربوں کو ان کے وطن سے نکالنے کی ایک شاندار حکمت عملی کے تحت، صیہونی کیبوتس کی (بستیاں) مرحلہ وار طریقے کئی برسوں میں پورے فلسطین میں پھیلا دی گئیں - جو اب ایک آزاد ملک تھا، جس کی وجہ سے ہم اس موجودہ بحران کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

 مختلف خبر رساں اداروں کے ذریعے بہت سے لوگوں کو جو کچھ دکھایا اور بتایا جا رہا ہے وہ 1948 کے بعد کی اسرائیلی تاریخ ہے، اور اس جھوٹے پروپیگنڈے کے جال میں پھنسنے والے یہ نہیں سمجھتے کہ سابقہ استعماری طاقتیں اب بھی اسرائیل میں اپنی نوآبادیاتی میراث کو جاری رکھے ہوئے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف ہیں۔

 عالمی امن کے وسیع تر مفاد میں اس جھوٹے ثنائی کو تبدیل کرنا اور عالمی طاقتوں کے ایک نئی اسرائیلی ریاست کے قیام کے حقیقی ارادے کو دیکھنا اور سمجھنا زیادہ مفید ہو گا، اور اس تناظر سے دیکھا جائے تو یہ عالمی سطح پر فلسطینیوں کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف جنگ ہے۔

 حالیہ تنازعہ میں ہمیں حماس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ فلسطینیوں کی بے دخلی اور ان کے خلاف جبر و تشدد اور نسلی عصبیت پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، اور خاص بات یہ ہے کہ یہ تنازعہ اس سال سات اکتوبر کو شروع نہیں ہوا بلکہ کئی دہائیاں قبل اس کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔

English Article: Indian Muslims Are Against Zionism Not Judaism

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/indian-muslims-zionism-judaism/d/131106

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..