New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 06:53 PM

Urdu Section ( 22 Sept 2016, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Zakir Naik’s Open Letter: Democrat or an Islamo-Fascist Demagogue? ڈاکر نائیک کا ایک کھلا خط : جمہوریت پسند یا ایک اسلام پرست فاشسٹ خطیب؟

 

 

 

 

 

 ارشد عالم، نیو ایج اسلام

12 ستمبر، 2016

ہندوستانی حکام کے ہاتھوں ظلم و ستم کے اپنے موہومہ احساس کے بارے میں حکومت کو ذاکر نائیک نے ایک کھلا خط لکھا ہے۔جیسا کہ میں اس سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ذاکر نائیک سمیت ہر شخص کو مناسب قانون تحقیقات کے عمل سے گزارا جانا چاہئے۔مضبوط شواہد و دلائل کے بناایسے حالات پیدا کرنا جن میں وہ ہندوستان کے باہر رہنے پر مجبورہو جائیں ناقابل معافی ہے۔انہوں نے اس خط میں لکھا ہے کہ ہزاروں ایسےمسلمان ان کی پیروی کرتے ہیں جو دہشت گرد نہیں ہیں جو کہ اس بات کے لیے کافی ثبوت ہے کہ دہشت گردی کے واقعہ کے پیچھے دیگر متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ دہشت گردی جیسےپیچیدہ واقعات کوآسانی کے ساتھ محض کسی فرد کی تعلیمات اور خطابات کا نتیجہ نہیں قرار دیا جاناچاہئے۔

تاہم،ذاکر نائیک نے اپنے خط میں موجودہ حکومت پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ ذاکر نائیک نے خود کو ہندوستان کے 170 ملین مسلمانوں میں سے ایک بتا کر خود کو مظلوم ثابت کیا ہے۔

مسئلہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔یہاں مسلمانوں کی اکثریت غریب اور ناخواندہ ہے اور اکثر ان کا کوئی ایسا ترجمان بھی نہیں ہوتا جو ان کی آواز بن سکے۔اس کے مقابلےمیں ذاکر نائیک ایک ملین ڈالر انٹرپرائز کے مالک ہیں اور ان کے دفاع کے لئے ایک طاقتور لابی مسلسل جد و جہد کر رہی ہے۔ تو پھر وہ کس طرح ایک عام ہندوستانی مسلمان کے ساتھ اپنا موازنہ کر سکتے ہیں؟

اس کے علاوہ، ذاکر نائیک ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت کے مذہبی رسومات کے خلاف کھل کر بولتے ہیں۔ وہ ان پر شرک اور اسلام کے صحیح اصولوں کی پیروی نہ کرنے کاالزام عائد کرتے ہیں۔لہٰذا، وہ انہیں میں سے ایک کس طرح بن سکتے ہیں؟ واضح طور پر اسلام کے بارے میں ان کے خیالات ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت سے مختلف ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کر سکتے ہیں۔اس لیے کہ ان کے مطابق سلفی، وہابی، اہل حدیثی اورذاکر نائیک کو چھوڑ ہندوستان کے تقریبا تمام بڑے بڑے مکاتب فکر اور مسالک اسلام کے علاوہ کسی اور چیز کی نمائندگی کرتے ہیں؛ سچ تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت انہیں ایک عالم دین ماننے سے بھی انکار کرتی ہے۔

ذاکر نائیک جب 'بنیادی حقوق کی خلاف ورزی' اور 'جمہوریت کا قتل' کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ان کی باتیں واضح طور پر منافقانہ معلوم ہوتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہےکہ یہ سارا ہنگامہ 'انصاف' کے نام پر کھڑا کیا گیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ ان کے معاملہ میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا ہے۔ جمہوریت اور حقوق کی زبان میں گفتگو کرناذاکر نائیک کو ان سیکولر خیالات میں تقریبا ایک مومن بنا دے گا۔ تاہم، ان کی اپنے تمام تقاریر اور برتاؤ نے اسے جھٹلا دیا ہے۔

وہ انسان جو سعودی عرب کے گن گاتا ہےاس کی مہمان نوازی اور اس کے انعام کو قبول کرتا ہے اب جمہوریت اور انسانی حقوق کے بارے میں بات کر رہا ہے۔انہوں نےان عام ہندوستانیوں کو اس وقت کیوں یاد نہیں کیاجب سعودیوں نے انہیں ان کے وہابی نظریات کو فروغ دینے کے لیے لاکھوں ڈالر دیئے تھے؟ جمہوریت کے علمبردار کی حیثیت سے انہوں نےسعودی کے فنڈ کو کیوں قبول کیاجبکہ اس بات کے مضبوط دستاویز موجود ہیں کہ مملکت سعودیہ عربیہ میں ہر قسم کے حقوق کی صریح خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ وہ کس قسم کی جمہوریت کی بات کرتے ہیں جبکہ ان کے سرپرست چھوٹے موٹے جرائم کے لیے عوام کی نظروں کے سامنےمجرموں کو سولی پر لٹکادیتے ہیں اور انہیں سنگسار کرتے ہیں؟

اس میں کوئی شک نہیں ہو سکتا کہ ذاکر نائیک جمہوریت اور انسانی حقوق کی بات تو کرتے ہیں لیکن وہ خود ان تصورات اور ان اقدار پر ذرہ برابر بھی یقین نہیں رکھتے۔اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کیا ان کے اسلام پسند سلف اور آئیڈیل نے یہ نہیں کہا ہے کہ جمہوریت انسانوں کا بنایا ہوا ایک نظام ہے اور وہ خدا کے نظام کو نافظ کرنا چاہتےہیں؟ کیا ذاکر نائیک کا سامنا جب انسان ساختہ قوانین کے ساتھ ہوا تو وہ اچانک سیکولربن گئے؟

اسی خط میں ذاکر نائیک نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اسلام کی ایک درست تفہیم کو فروغ دے کر معاشرے میں امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شایدوہ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ معاملہ ایسانہیں ہے۔قرآن کی اپنی غلط تفہیم اور غلط سمجھ بوجھ کی بنیاد پر انہوں نے مسلم معاشرے کے اندر اس حد تک ایک نیا تفرقہ اور ایک نیا اختلاف جنم دیا ہے کہ ان کے خلاف ایک فتوی بھی جاری کر دیا گیا ہے۔اگر وہ صرف مسلم معاشرے کے اندر بھی ہم آہنگی پیدا نہیں کر سکتے ہیں تو پھر خدا ہی جانے وہ کس طرح پورےہندوستانی معاشرے کے اندر امن اور ہم آہنگی پیداکریں گے۔در اصل ان کی وعظ اور تقریروں کابرعکس اثر مرتب ہورہا ہے جس کے نتیجے میں معاشرے کے اندر مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی اور عداوتفروغ پا رہی ہے۔

اگر کوئی یہ ثابت کرنے پر بضد ہے کہ اسلام دنیا کا بہترین مذہب ہے اور ہندوؤں کامشرکانہ طریقہ ایک پسماندہ اور ناپسندیدہ مذہبی نظریہ ہے تو پھر کس طرح وہ امن اور رواداری کو فروغ دے سکتا ہے؟ اگر وہ اب بھی یہی ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں کہ صرف مذہب اسلام ہی دنیا کا واحد نجات دہندہ ہے تو اس سے کس طرح امن اور باہمی احترام کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے؟ ذاکر نائیک کی باہمی مکالمے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے: وہ ایک جذبات انگیز فاشست خطیب ہیں جو یہ چاہتا ہے کہ پوری دنیاان کے مذہبی نظریہ کے آگے سرنگوں ہو جائے۔

ڈیموکریسی کے بارے میں ان کا نفاق اسی لمحے ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہےجب وہ قرآن کا سہارا لیتے ہیں۔قرآن میں بہت سے ایسے اقتباسات موجود ہیں کہ جنہیں تکثیریت پسندی اور رواداری کے حق میں نقل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسی آیتوں کا حوالہ پیش کرناجن میں مسلمانوں کو صبر کرنے اور مشرکوں کے اوپر اپنی ممکنہ فتح تک انتظار کرنے کا حکم دیا گیا ہے-شایدبہت زیادہ ہے۔ذاکر نائک جمہوریت کی طرح سیکولر قوانین کی خوبیوں پر یقین رکھنے والے انسان ہی نہیں ہیں۔یہ ایک ایسے انسان ہیں جوہر جگہ اسلامی پرچم بلند کرنا چاہتے ہیں اور دیگر تمام مذہبی روایات کو بدنام کرنا اور انہیں شکست دینا چاہتے ہیں۔ جمہوریت کا سہارا لینے اور انسانی حقوق کی زبان بولنے کا مقصد صرف اسلام کی بالادستی قائم کرنا ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/arshad-alam,-new-age-islam/zakir-naik’s-open-letter--democrat-or-an-islamo-fascist-demagogue?/d/108534

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/zakir-naik’s-open-letter--democrat-or-an-islamo-fascist-demagogue?--ڈاکر-نائیک-کا-ایک-کھلا-خط---جمہوریت-پسند-یا-ایک-اسلام-پرست-فاشسٹ-خطیب؟/d/108640

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..