New Age Islam
Thu Sep 16 2021, 12:44 PM

Urdu Section ( 16 Feb 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why Sheikh Hasina Is the Reason for the Rise of Islamists in Bangladesh بنگلہ دیش میں کیوں شیخ حسینہ انتہاپسندوں کی ترقی کا سبب ہے


ارشد عالم، نیو ایج اسلام

10 دسمبر 2020

بنگلہ دیش کی پیدائش ایک مذہب ، ایک قوم کے اصول کے مخالف تھی۔  پاکستان کی ارد مذہبی کے بر خلاف ، بنگلہ دیش نے خود کو ایک سیکولر کثیر الثقافتی جمہوریہ کے طور پر پیش کیا۔ مذہب سے قطع نظر ریاست  کا مقصد  سیکولر اور لبرل اصولوں کی حفاظت اور اسے بڑھاوا دینا تھا ، اور اختلاف رائے اور جمہوریت کے حق کا احترام کرنا تھا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس کو عالمی برادری نے سراہا تھا۔ بدقسمتی سے  آج ہم جس چیز کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ شاید اس تجربے کی رموز نہ ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ بنگلہ دیش آہستہ آہستہ بلکہ یقینا ایک ایسی ریاست کی طرف گامزن ہے جو  اسلام پسندی کی حیثیت سے جانی  جائے گی۔

حفاظت اسلام، ایک ایسی تنظیم ہے  جو مذہبی مفادات  کے لیے کام کرتی ہے اس نے  حکومت مخالف مظاہروں میں جو حالیہ شور وغل پیدا کیا ہے اس سے یہ نقطہ سمجھ میں آتا ہے کہ اگر اسے سختی سے کنٹرول نہیں کیا گیا تو  بنگلہ دیش پاکستان کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے جس کا اثر پورے جنوبی ایشیاء پر پڑ سکتا ہے۔ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن کا مجسمہ لگانے  سے شیخ حسینہ حکومت کے فیصلے سے موجودہ بحران کا جنم  ہوا ہے۔ یہ استدلال کرتے ہوئے کہ مجسمہ سازی اسلام کے منافی ہے ، حفاظت گروپ  نے اس طرح کے کسی بھی مجسمے کو  تباہ کرنے  کا عزم کیا ہے اور اس طرح انہوں نے  حکومت کے ساتھ ایک اور محاذ آرائی کا مرحلہ طے کیا ہے۔ اسلام پسندانہ استدلال ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ کوئی ایسا طرز عمل یا پیشکش  جو ‘‘مشرکانہ عمل یا بت پرستی ’’کا باعث  ہوسکتا ہے اسے  ایک اسلامی قوم میں ممنوع قرار دیا جانا چاہئے۔ یہ استدلال محض مضحکہ خیز ہے کیونکہ  بتوں اور مجسموں کے مابین کافی  فرق ہے۔

در حقیقت مجسموں کے بجائے  بت پرستی  کے متعلق دھمکی ایک ایسے فرقے سے  آتی ہے  جس سے بہت سی مسلم اقوام کے خودمختار  لطف اندوز ہوتے ہیں۔لیکن تب تو کسی ایک خاندان کے مسلسل حکومت کرنے کے ‘‘مقدس حق’’ پر سوال اٹھانا بغاوت کا سبب بن جائے اور یہی وجہ ہے کہ نہ صرف عرب دنیا کے لوگ بلکہ بنگلہ دیشی ملا بھی کبھی ایسے معاملات نہیں اٹھائیں گے۔ اس بات  پر یقین کرنا  انتہائی مشکل ہے کہ یہ ملا خود مجیب کا مجسمہ لگانے کے خلاف اپنی دلیل کی صداقت پر مطمئن ہیں۔ اس وقت سمجھنے میں جو دقت آتی ہے وہ ان دعووں کی حماقت  کی وجہ سے نہیں آتی ہے بلکہ ان عوامل کی وجہ سے جو ان کے پیچھے کار فرما ہے۔  اور یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ اسلام پسند اس ملک میں  ریاست کو اپنے خود کی تصویر میں تصور کرنا  چاہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو  یہ بنگلہ دیش کو دوبارہ اسلامی جمہوریہ بنانے کی  ایک طاقتور جدوجہد ہے۔

اسلامسٹ کے اتنے بے باک ہونے کے متعدد اسباب ہیں۔ ایک اہم سبب یہ ہے کہ حسینہ حکومت ان پر نرم گوشہ رکھتی رہی ہے۔ ۲۰۱۷ میں حفاظت اسلام نے فتحیابی کا مزہ اس وقت چکھا جب  انہوں   نے‘لیڈی جسٹس ’ کے  مجمسہ کو ہٹانے کے سلسلے میں ، جو کہ عدالت عظمی کے سامنے نصب کیا گیا تھا، حکومت  پر دباو ڈالنے کے لیے ایک کامیاب ریلی نکالی ۔  در حقیقت شیخ حسینہ نے عوامی طور پر مجسمہ کی تنصیب پر تنقید کر کے  اسلام پسندوں کی حمایت کی تھی۔اگر  خیال یہ  تھا کہ وہ ان اسلام پسندوں کی حمایت  حاصل  کر لے  گی،تب تو یقینا اس نے حمایت حاصل کر لی  لیکن کس قیمت پر؟اگر ایک سرکاری طور پر  سیکولر ریاست اس طرح کے مضحکہ خیز مطالبات کے سامنے ہار مان لے ،تو شاید یہی وقت ہے اس بات کو دیکھنے کا  کہ کس طرح  حکومت بذات خود اس سیکولر نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے جس کو بلند کرنے کی  وہ دعویدار ہے۔

ٹھیک اسی طرح حکومت اس وقت بھی خاموش تھی جب حکومت میں سیکولر بلاگرز کے قتل کا سلسلہ شروع ہوا تھا حالانکہ اس وقت اسلام پسندو کی حامی  بھی تھی ۔سینئر وزرا نے خود اس طرح کی دہشت گردی کے اقدامات کا الزام  بھی  بلاگرز پر ہی لگا دیا،یہ دلیل دیتے ہوئے کہ وہ بلاگرز عام مسلمانوں کو مشتعل کر رہے تھے حالانکہ انہیں ان کی مذہبی جذبات کے تعلق سے حساس ہونا چاہئے تھا۔ ایک بار پھر حکومت سخت گیروں کو تسکین دینے کے لئے پیچھے  پلٹ  رہی تھی ۔ بعض اوقات  حکومت کو دیکھا گیا کہ وہ  ایسے مقدمات کی سماعت میں انتہائی سستی برتی کر اسلام پسند قاتلوں کی حمایت میں سر گرم  ہے ۔حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایسے سخت گیروں کے ساتھ نرم  طبعی کا مظاہرہ کر کے وہ اپنی قبر کھود رہی ہے۔  اس بات سےقطع نظر  کہ شیخ حسینہ اسلام پسندوں کو لیکر کتنی ہی مشہور ہو جائے، مگر موخر الذکر اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک کہ  وہ اس ملک کے آئین میں بنیادی تبدیلیاں نہ لے آئیں۔حسینہ کو یہ اعتراف کر لینا چاہئے کہ وہ اس طرح کے بے جا حمایت  کے ذریعے اسلامسٹ علماکو ‘کنٹرول’ نہیں کر سکیں گی ، بلکہ وہ  سخت گیر مطالبات  کرنے میں مزید بے باک ہو جائیں گے ۔ محض اسلام پسندوں کے نظریہ کی اصولی مخالفت ہی اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ یہ  اسلام پسند اپنے حدود میں ہی قائم رہیں گے۔

بنگلہ دیش میں اسلام پسند نیٹ ورک آزاد ؍ برادری ( قومی ) میں قائم  ہے ۔ بہت سارے مدارس ایسے ہیں جہاں ہزاروں طلباء رہا ش پذیر رہتے ہوئے اپنے سربراہوں کے اجنڈے کو نافذ کرنے کے لئے اسیران فوجیوں کی طرح عمل پیرا ہیں ۔ ایک تخمینہ کے  مطابق ،ان قومی مدارس میں ایک ساتھ چالیس لاکھ طلباء موجود ہیں ۔ شیخ حسینہ حکومت نےایک بار پھر اس سیکشن کو مطمئن کرنے کے لئے، ان مدارس کے سرٹیفکیٹ کو سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی طرف سے دیئے گئے سرٹیفکیٹ کے برابر کر دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش میں مدارس کی تعلیم کو ‘‘مرکزی شمولیت’’ حاصل  ہوئی  لیکن اسی  کے ساتھ ان اوقات میں مدرسے کے فارغ التحصیل افراد کی خواہشات میں بھی اضافہ ہوا۔

اگرچہ ان کی سرٹیفک پہچانی جا چکی ہے  اور وہ سرکاری اور دوسری ملازمتوں کے لئے درخواست بھی دے سکتے ہیں ، لیکن ان کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سےانہیں پیشہ ورانہ ملازمت کی منڈی میں داخلے کے لئے  بمشکل مسلح کیا ہے۔ اب جب کہ خواہشات بڑھ گئی ہیں ،اور باہر کی سخت حقیقت  نے ان مدارس کے طلباء میں مایوسی کی سطح کو بڑھا دیا ہے ۔لہٰذا یہ تعجب کی بات نہیں ہےکہ اسلامی علمائے کرام کی جانب سے جب بھی کال کی جاتی ہے  تو  اس وقت سڑکوں پر آنے والے یہی پہلے فریق ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ اب یہ طبقہ اس بات پر قائل ہے کہ ان کے مفادات صرف اور صرف اسلامی حکومت ہی پوری کرسکتی ہے لہذا موجودہ سیکولر نظام کے خاتمے کے لئے مہم چلانا ان کے مفاد میں ہے۔

آخر کار لامحدود اقتدار کی جستجو میں ، شیخ حسینہ حکومت نے حزب اختلاف کو ختم کر دیا۔ اپوزیشن کے سرکردہ ممبران کو گھٹیا حرکات کے الزامات کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ بنگلہ دیش کے سول سوسائٹی کو بھی  ان حدت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ان سب نے یہ یقین کیا ہےکہ حسینہ  حکومت کا مستقبل میں کسی حریف کے نہیں ہونے کا امکان ہے۔ مخالف پارٹی کی یہ خالی جگہ اب اسلام پسندوں نے بھر دی ہے۔چونکہ یہاں کوئی دوسری مخالف پارٹی نہیں ہے۔یہاں تک کہ ایسے لوگ بھی جو اسلام پسند نہیں ہیں لیکن ان کے پاس اس طرح کے اسلام پسند جماعتوں کی حمایت کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں  ہے۔حسینہ حکومت کا ایک مذموم قدم سیکولر اپوزیشن کو زندہ رکھنا تھا لیکن اپنے مطلق اقتدار کی جستجو میں ، اس نے یہ یقین دلایا کہ بنگلہ دیش کی  مکمل نظام حکومت  حتمی طور پر منتقل ہو گئی ہے۔

شیخ حسینہ اب تک اپنے لئے اچھے پریس کا انتظام کر چکی ہیں۔ اس  کو کسی ایسے شخص کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو اسلام پسندوں کے خلاف برسرپیکار ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس نے بہت سے طریقوں سے اس طرح کے اسلام پسند لعنتوں کو سب سے پہلے ابھرنے  کی راہ ہموار کردی ہے۔

----

URL for English article:  https://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/arshad-alam-new-age-islam/why-sheikh-hasina-is-the-reason-for-the-rise-of-islamists-in-bangladesh/d/123717

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam-new-age-islam/why-sheikh-hasina-is-the-reason-for-the-rise-of-islamists-in-bangladesh-بنگلہ-دیش-میں-کیوں-شیخ-حسینہ-انتہاپسندوں-کی-ترقی-کا-سبب-ہے/d/124322


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..