ارشد عالم، نیو ایج اسلام
21 ستمبر 2022
شاید وہ ان اداروں کی
مالیاتی ہیرا پھیری کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
اہم نکات:
1. اتر پردیش حکومت نے خود مختار مدارس کا سروے شروع کیا ہے۔
2. شروع میں علمائے کرام نے اس کی مخالفت کی لیکن اب دیوبندیوں نے
کہا ہے کہ انہیں اس طرح کے سروے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
3. خود مختار مدارس میں ایک پرانا نصاب رائج ہے جس سے لاکھوں بچوں
کا تعلیمی مستقبل خطرے میں ہے۔
4. یہ بات مسلمانوں کے ہی مفاد میں ہے کہ وہ ان مدارس کی اصلاح
کریں اور اسے عصری معاشرے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔
-----
جب سے اتر پردیش حکومت نے
ریاست میں مدارس کے سروے کا حکم جاری کیا ہے، مسلم لیڈران، مذہبی اور سیاسی دونوں
طرح کے بیانات دے رہے ہیں، جس سے ان اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کو کوئی فائدہ
نہیں ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم سے لے کر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ تک، حکومت کے
اس اقدام کی مخالفت ریاستی اداروں پر ان کے گہرے عدم اعتماد پر مبنی ہے۔ گویا وہ
اپنی بنائی ہوئی خودمختاری میں جی رہے ہیں، یہ مسلم ادارے سمجھتے ہیں کہ ریاست ان
سے جو بھی کروانا چاہتی ہے وہ ان کے 'نجی دائرے' میں دخل اندازی ہے۔ یہ خیال شاہ
ولی اللہ کے مشہور اختلاف سے متعلق ہے جسے وہ ظاہری خلافت اور باطنی خلافت کا نام
دیا تھا۔ مؤخر الذکر یعنی باطنی خلافت مذہبیت کے دائرے میں آتی ہے، جو اسلامی
ریاست کی عدم موجودگی میں علمائے کرام کی رہنمائی میں چلے گی۔ موجودہ علماء کی
حکومت کے مجوزہ اقدام کی مخالفت کی بنیاد ان کے اس یقین پر ہے کہ یہ داخلی خلافت
کا دائرہ ہے جہاں صرف ان کی ہی چلنی چاہیے۔
ہمیں اس دھوکے میں نہیں رہنا
چاہیے کہ یہ مخالفت بی جے پی حکومت کی ’’مسلم دشمنی‘‘ کی وجہ سے ہے۔ تاریخ ہمیں
بتاتی ہے کہ جب بھی ایسا کوئی اقدام تجویز کیا گیا ہے، علمائے کرام نے اس کی
مخالفت کی ہے۔ یو پی اے کے دور حکومت میں حکومت ایک آل انڈیا مدرسہ بورڈ کا قیام
چاہتی تھی جس کے ذریعے اصلاحات کو نافذ کیا جا سکے۔ اور انہیں علماء کی مخالفت کی
وجہ سے اس تجویز کو رد کر دیا گیا۔ اس سے قبل بھی، جب مدرسہ جدید کاری کے پروگرام
کا اعلان کیا گیا تھا، علمائے کرام نے پوری پالیسی کو مدارس کی خود مختاری کو
نقصان پہنچانے والا قرار دیا تھا۔ آج بھی مدارس جدیدیت کی پالیسی کو بہت زیادہ شک
کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اکثرباہل مدارس اس سے دور ہی رہتے۔
یہ جان کر اچھا ہوا کہ اب
دیوبندیوں نے نرمی اختیار کر لی ہے اور کہا ہے کہ انہیں یوپی حکومت کے سروے سے
کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں اب عقل ہوئی ہے اور وہ سمجھ گئے ہیں کہ
جب بھی حکومت کچھ تجویز پیش کرتی ہے تو اس کی مخالفت کرنا عقلمندی نہیں ہے۔ یا اس
کی وجہ یہ احساس بھی ہو سکتا ہے کہ اس حکومت کا رویہ پچھلی حکومت سے کافی مختلف
ہے۔ یعنی ہم کانگریس کی قیادت والی حکومتوں پر اثر انداز سکتے ہیں، یہاں تک کہ تعلیم
کے حق کے قانون کی مخالفت میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں، اور آخر کار مدارس کو اس سے
مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔ لیکن بی جے پی کی قیادت والی حکومت مکمل طور پر الگ ہے۔
اسے مسلمانوں کے ووٹوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ بی جے
پی کو اس کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ لوگ اسے ایک مسلم نواز جماعت سمجھیں۔ اس
لیے علمائے کرام کے پاس حکومت کے مطالبات ماننے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔
جیسا کہ حکومت نے کہا ہے کہ یہ
سروے مدارس کو ان کے نصاب اور اس کے بنیادی ڈھانچے میں جدت پیدا کرنے میں مدد کرنے
کے ارادے سے کیا جا رہا ہے۔ ہاں، اس کی محنت سے کمائی گئی مسلم مخالف جذبات کو
بھڑکانے والی شبیہ کے پیش نظر ہم کسی بھی حکومت کی نیت کے بارے میں کچھ بھی یقین
سے نہیں کہہ سکتے۔ لیکن ہمیں مدارس کے اندر تعلیم کی حالت زار کے بارے میں غیر
جانبدارانہ گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا یہ واقعی آج کے مسلمانوں کے کسی بھی کام
کا ہے؟
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ
مدارس کی مختلف اقسام ہیں۔ لیکن کنٹرول اور اختیار کے نقطہ نظر سے، انہیں دو قسموں
میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ایک جسے حکومت چلاتی ہے اور دوسرا جس کا قیام اور انتظام
و انصرام سب مسلم برادری کے لوگ ہی کرتے ہیں۔ ہمارے پاس یہ سمجھنے کے لیے کافی
اعداد و شمار موجود ہیں کہ حکومت کے زیر کنٹرول مدارس میں تعلیمی نظام کے اندر کیا
خرابی ہے اور یہ وجوہات عام طور پر سرکاری اسکولوں میں ہونے والی خرابیوں سے بہت
زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ لیکن اصل معمہ وہ مدارس ہیں جو مسلم برادری یا علماء کے زیر
کنٹرول اور زیر انتظام ہیں۔ مختلف ریاستوں یا پورے ہندوستان میں ان کی اصل تعداد
کسی کو نہیں معلوم۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان میں سے کتنے دیوبندی دھڑے سے تعلق رکھتے
ہیں، اور کتنے بریلوی فرقے سے اور کتنے اہلحدیث گروہ سے۔ ہمیں ان مدارس میں اساتذہ
کی تعداد یا ان کی اہلیت کا بھی علم نہیں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ان اداروں میں کتنے
بچے پڑھتے ہیں۔ سچر کمیٹی نے ہمیں 4 فیصد کا غلط ڈیٹا دیا لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ
یہ تعداد بہت زیادہ ہے لیکن ہمارے پاس حقیقی اعداد و شمار نہیں ہیں۔
ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ ان
مدارس میں کیا پڑھایا جا رہا ہے۔ زیادہ تر مدارس بنیادی طور پر فرقہ پرست ہوتے
ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دیوبندیت، بریلویت یا اہلحدیثیت پر مبنی کی اسلامی
تعلیم فراہم کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ ان فرقہ پرست برادریوں کے درمیان سنگین
اختلافات ہیں لیکن بالآخر کسی بھی بیرونی خطرے کی صورت میں وہ سب ایک ہو جاتے ہیں۔
خطرے کا ادراک کسی بھی طبقے سے ہوسکتا ہے: مسلم برادری کے اندر سے یا ریاست کی طرف
سے اصلاح پسندوں کی جانب سے۔ اپنے نصاب کو جدیدیت سے ہم آہنگ کرنے کے مطالبے کو یہ
مدارس ایک خطرہ سمجھتے ہیں اور یہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ ان کے 'اسلامی' کردار کو
کمزور کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ چونکہ وہ زیادہ تر حکومتی کنٹرول کے دائرے سے
باہر ہیں، اس لیے وہ جو چاہیں تعلیم دینے کے لیے آزاد ہیں۔ زیادہ تر مدارس مختلف
قسم کے درس نظامی کا نصاب پڑھاتے ہیں، جو کہ ایک نصاب ہے جسے اورنگ زیب کے وقت ملا
نظام الدین نامیں ایک عالم دین نے عالم نے مرتب کیا
تھا۔ اس زمانے میں یہ بنیادی طور پر ایک ایسا نصاب تھا جس کا مقصد ریاستی
عہدیداروں کو پیدا کرنا تھا۔ اس وقت دینی علوم اور نام نہاد عقلی علوم میں کوئی
فرق نہیں تھا۔ اس نصاب میں فلسفہ اور علم کلام ساتھ ساتھ پڑھائے جاتے تھے۔ تاہم،
آج اس نصاب سے معقولات کو بالکل ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا سراسر جھوٹ
ہے کہ مدارس میں عصری تعلیم درس نظامی پر مبنی ہے۔
ان مدارس کے طلباء کا علم
قرآن و حدیث کی باریک تفصیلات سے زیادہ نہیں ہوتا۔ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ اس ملک
میں حق تعلیم کا قانون بننے کے برسوں بعد بھی مدارس کے طلباء کو دنیا کے جغرافیہ
یا ہندوستان کی بنیادی تاریخ کا علم نہیں ہے۔ ایک بریلوی عالم کی ایک مشہور ویڈیو
کچھ سال پہلے وائرل ہوا تھا جو اپنے طالب علموں سے کہہ رہے تھے کہ سورج مسطح زمین
کے گرد چکر لگاتا ہے۔ یہ یقیناً کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے اور مدارس کے طلبہ کو
اس وقت سے اس قسم کی بکواسات پڑھائی رہی ہیں جب سے
وہ قائم ہوئے ہیں۔ ایک مشہور بریلوی عالم، احمد رضا خان نے اپنے ایک رسالے ’’فوز
مبین‘‘ میں یہ ثابت کیا ہے کہ سورج ہی زمین کے گرد گھومتا ہے! جبکہ دیگر فرقہ پرست
مدارس اس سے بہتر نہیں ہیں۔ میں ایک بار ایک دیوبندی مدرسے میں کسی سے ملا جس نے
مجھے بتایا کہ "بجلی پیدا کرنے کا فارمولا" ان منطق کی کتابوں میں موجود
ہے جو میں پڑھا رہا ہوں۔
کیا اس صورتحال کا ذمہ دار
طلبہ کو ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ یقینی طور پر نہیں. اس خوفناک صورت حال کی ذمہ داری
مدارس کے حکام اور علماء پر عائد ہوتی ہے جو اس طرح کے نظام کے تحت مدارس چلاتے
ہیں۔ ان مدارس میں زیادہ تر طلباء کی مالی حالت انتہائی خستہ ہوتی ہے۔ بسا اوقات
جو بچے ان مدرسوں میں داخلہ لیتے ہیں ان کا مقصد تعلیم حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے
گھروں میں بیٹھ کر بھوک سے بچنا ہوتا ہے۔ مدارس انہیں روٹی، کپڑا اور رہنے کے لیے
جگہ دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں ان کے اہل خانہ وہاں بھیجتے ہیں۔
لیکن علماء مقامی اور بین
الاقوامی مسلم برادری سے چندہ اور خیرات مانگ کر ان غریب مسلمانوں کا استعمال کرتے
ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ان میں سے اکثر مدارس کا کوئی آڈٹ نہیں ہوتا اور اس
لیے خیرات کے نام پر جمع ہونے والی رقوم کا کیا ہوتا ہے، کوئی اس کا بخوبی اندازہ
لگا سکتا ہے۔ بسا اوقات، ان مدارس کو چلانے والے مذہبی کاروباری افراد ذاتی اور
عوامی اخراجات میں فرق نہیں کرتے۔ ان میں سے ایک نے صاف صاف کہا: جو اللہ کا کام
کرے گا، کیا اللہ اسکا خیال نہیں رکھے گا؟ یعنی وہ اس حقیقت کا جواز پیش کر رہے
تھے کہ ہم مدارس کی رقوم سے گزارہ کر رہے ہیں لیکن ہم اسے غیر اخلاقی نہیں سمجھتے
ہیں۔ فنڈز اور عطیات کی یہی ہیرا پھیری ہے جو ہر بار حکومتی مداخلت پر علمائے کرام
کی مخالفت کو واضح کرتی ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو انہیں اپنے فنڈز کا آڈٹ
کرانا پڑے گا اور مدرسہ کے اندر کوئی بھی، سوائے چند کے، اس کے لیے تیار نہیں ہے۔
ہمیں امید ہے کہ اتر پردیش
حکومت کی طرف سے اٹھایا گیا یہ اقدام صرف مسلمانوں کو کچلنے کے لیئے نہیں ہے۔ سروے
میں ایسے اعداد و شمار جمع کیے جائیں گے جو مدرسہ کے نظام میں تبدیلی کو متاثر
کرنے کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں، خاص طور پر اس کی مالیاتی ہیرا پھیری اور
پرانے نصاب کے حوالے سے۔ اگر یوپی حکومت اس کام کو کامیابی کے ساتھ کر لیتی ہے تو
دوسری ریاستی حکومتوں کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔
English Article: Uttar Pradesh Madrasa Survey: What Riles the Ulama?
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism