New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 06:18 AM

Urdu Section ( 26 Oct 2016, NewAgeIslam.Com)

Uniform Civil Code or Islamic Reform? یکساں سول کوڈ یا اسلامی اصلاح؟

 

 

 

 

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

17 اکتوبر 2016

یکساں سول کوڈ کی موزنئیت پر درعمل طلب کرنے والے لاء کمیشن کے سوالنامہ پر تازہ ترین تنازعات نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ لیکن سب سے پہلے یہ امر واضح ہونا چاہیے کہ کمیشن کے ایک ایسے مسئلے کے بارے میں عام لوگوں سے رائے طلب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جو نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ ہندوستان کے دوسرے تمام فرقوں کے لیے اہم ہے۔ اس سوالنامے کے پیچھے جن لوگوں کو کوئی سازش نظر آ رہی ہے وہ بالکل غلط ہیں۔ اس سوالنامہ میں صرف مسلم برادری ہی نہیں بلکہ دیگر کمیونٹیز میں بھی اصلاحات کے بارے میں رائے طلب کی گئی ہے۔ جو لوگ اسے صرف ایک مسلم مسئلہ مان رہے ہیں انہیں ایک سنگین مسئلے کو فرقہ وارانہ مسئلہ بنانے اور اسے بے وقعت سمجھنے کے الزامات کا جواب دینا ہوگا۔

اس پر مختلف سیاسی جماعتوں کے ردعمل توقعات کے مطابق ہیں۔ سماجی انصاف کی نام نہاد جماعتوں نے واضح انداز میں لاء کمیشن کی مذمت کی ہے اور اسے اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

لاء کمیشن نے اپنے سوالنامہ میں یوپی کے آئندہ انتخابات سے ٹھیک پہلے جن مسائل کا احاطہ کیا ہے وہ قابل توجہ ہیں۔ آسان لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بی جے پی حکومت کا یکساں سول کوڈ پر بحث و مباحثہ کو فروغ دینا مجوزہ قانون سازی کی اہلیت وخصوصیات پر بات چیت کو بڑھاوا دینے کی کسی حقیقی کوشش پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد مسلمانوں کو بھی ان برادریوں جیسا ظاہر کرنا ہے جو اپنی صفوں کے اندر اصلاحات کا دروازہ بند رکھنا چاہتے ہیں اور سماجی طور پر قدامت پسند اور رجعت پسندانہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ تاہم، سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ان تمام بحث و مباحثہ کے درمیان بی جے پی حکومت خود کو صنفی انصاف کا حامی اور علمبردار ظاہر کر رہی ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا کردار اس معاملے میں یہ ہے کہ یہ صرف بی جے پی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے ۔ اگر بی جے پی کا مقصد مسلمانوں کو رجعت پسند اقلیت کے طور پر پیش کرنا ہے تو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈایک رجعت پسند اقلیت کے طور پر اپنا کردا ر پیش کر رہا ہے۔ لاء کمیشن کی سوالنامے پر توجہ نہ دیکر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس حقیقت کو نظر انداز کر رہا ہے کہ اس سے دوسرے فرقوں کے درمیان یہ غلط پیغام جا رہا ہے کہ مسلمان گزرے دور کے اصول و قوانین پر ہی عمل پیرا رہنا چاہتے ہیں اور اس سے باہر نکلنا نہیں چاہتے۔ یہ درست ہے کہ بی جے پی انتخابی مقاصد کیلئے معاشرے کو استعمال کرنا چاہتی ہے اور یہ بھی درست ہے کہ اس کا ایک خفیہ ایجنڈا ہے؛ لیکن یہ حقیقت اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ کیا برسر اقتدار پارٹی کو اور مسلمانوں کو حکومت کے ساتھ مشغول ہونے کی ضرورت ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا لاء کمیشن کے سوالنامہ کو یکسر مسترد کرنا اس کے لیے بدنامی کا باعث ہے۔

جہاں تک مسلم برادری کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں نظریاتی طور پر لوگوں کو افراد اور کمیونٹی کے درمیان تعلقات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم آج جس پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ نہ صرف مخصوص افراد بلکہ وسیع ترین ہندوستانی مسلم برادری کے اندر اقلیتی جماعتوں کی اختلاف رائے کو کمیونٹی کے متعینہ مذہبی حقوق کا سامنا ہے۔ جمہوریت اور انصاف کا مطالبہ یہ ہے کہ ان کی آوازوں کو سننا اور ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جانا ضروری ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کے نام پر چھوٹی جماعت اور افراد ا کو ختلاف رائے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ مسلم مذہبی تنظیموں کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے صورت حال میں تبدیلی پیدا ہونا مشکل نظر آتا ہے: مسلم کمیونٹی کے اندر اختیارات کا عدم تناسب موجودہ مذہبی قیادت کے ناقدین خاموش کر دے گا۔

لہذا، اس صورت حال میں ریاست کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ ریاست کی حمایت کے بغیر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے پدرانہ اسلام کو مسلم خواتین کی ایک جماعت کے ذریعہ پیش کیے گئے چیلنج کی کامیابی کے بارے میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ ان خواتین کی تنظیم کے مقصد پر سوال اٹھانے والوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ تاریخی طور پر اصلاحات کے حوالے سے تمام تحریکوں کو کامیابی صرف اسی لیے ملی ہے کیوں کہ اس طرح کے مطالبات کو ریاست کی زبردست حمایت حاصل ہوتی ہے۔ اگر آج مسلم خواتین کی جماعتیں ریاستی حمایت طلب کر رہی ہیں تو اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، ان کی مہم کو پہلے مسلم مذہبی اداروں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہندوستان میں اسلام کے محافظوں نے جب ان کے اس مہم کی مخالفت کی تب جا کر حقوق خواتین کے ان کارکنوں نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ ایسا کرنے میں بالکل حق بجانب ہیں۔

یہ ایک انتہائی اذیت ناک حقیقت ہے کہ مسلم مذہبی ادارے موجودہ پرسنل قانون کے اندر بالکل بنیادی تبدیلی کی بھی گنجائش دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مسلم خواتین جماعتوں کا مطالبہ صرف تین طلاق کے قانون کو ختم کرنا ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک انتہایہ قدامت پسند مطالبہ ہے۔ یہ مطالبہ کسی بھی طرح اسلام کے ذریعہ مسلمان مردوں کو عطا کردہ طلاق کے یکطرفہ حق پر سوال نہیں اٹھاتا ہے۔

ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ایک نشست میں تین طلاق کے بجائے قرآن کے حکم کے مطابق تین نشستوں میں طلاق دی جائے۔ یہ مطالبہ کسی بھی پیمانے سے اسلام میں مردوں اور عورتوں کے درمیان اختیار کے بنیادی عدم تناسب پر سوال نہیں اٹھاتا۔ اور اس کے باجود آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ لئے یہ مطالبہ اسلام کی مبادیات پر انگشت نمائی کے مترادف ہے۔ لیکن شاید مسئلہ کچھ اور ہے۔ اور اس کا تعلق ہندوستانی عدالتوں کی غیر اسلامی نوعیت ہے۔ اور اس کے باوجود انہیں اپنے قدامت پسند مفادات کے تحفظ کے لئے انہی عدالتوں سے رجوع کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ اب کچھ دہائیوں سے اس طرح کی منافقت ہندوستانی مسلم قیادت کی فطرت بن چکی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان اصلاحات اور خواتین کی جماعتوں کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کے بارے میں بات نہ کرنا انہیں راس آتا ہے اور وہ یکساں سول کوڈ کے بارے میں بات کرتے ہیں تاکہ اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ کو ہٹا دیا جائے۔ خواتین جماعتوں اور اس مہم سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کے لئے یہی مشورہ ہے کہ وہ تین طلاق کے اپنے مطالبہ پر توجہ مرکوز رکھیں اور وہ یکساں سول کوڈ پر نام نہاد بحث و مباحثہ کا شکار نہ بنیں۔

URL for this article: http://www.newageislam.com/islamic-society/arshad-alam,-new-age-islam/uniform-civil-code-or-islamic-reform?/d/108878

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/uniform-civil-code-or-islamic-reform?--یکساں-سول-کوڈ-یا-اسلامی-اصلاح؟/d/108928

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..