New Age Islam
Mon Nov 29 2021, 04:18 AM

Urdu Section ( 9 Nov 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Lynching of Pehlu Khan and the New Normal پہلو خان کا قتل اور نیا رجحان

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

26 اپریل 2017

یہ تو ہونا ہی تھا۔ آواز میں مکمل فاصلہ اور بیزاری ابھی بھی میرے لئے تکلیف کا باعث ہے۔ میرا ایک دوست 2002 میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کا جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ (وہ کہ رہا تھا) مسلمان ایسے ہی ہیں: وہ ایک دوسرے کے ساتھ گھلتے ملتے نہیں اور وہ جہاں رہتے ہیں وہاں پاکستان کا پرچم لہراتے ہیں۔ رواداری کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اکثریتی فرقہ کو ایک نہ ایک دن ردعمل کا اظہار کرنا ہی تھا۔ اب وہ ٹھیک ہو جائیں گے کیونکہ انہیں ان کی اوقات دکھا دی گئی ہے۔ جس دوست کو میں تقریبا دس برسوں سے جانتا ہوں اس سے ایسی باتیں سن کر مجھے زبردست صدمہ لگا۔ اکثریتی طبقے کے لوگ جس طرح مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے بنیادی طور پر اس میں کچھ غلطی تھی۔ اگرچہ اس نفرت کے پیچھے ایک منطقی وجہ تھی۔ ایسی منافرت کو مضبوط بنانے کے لئے مسلمانوں کے بارے میں منفی ذہنیت پیدا کرنا ضروری تھا۔

تقریبا دو دہائیوں کے بعد مسلمانوں کے خلاف خفیہ نفرت مختلف شکلوں میں ظاہر ہو رہی ہے۔ آج یہ ہدف بنا کر سر راہ قتل کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ شاید اس طرح کی نفرت کے لئے کوئی داخلی منطق ضروری نہیں ہے: صرف مسلم ہونا ہی کافی ہے۔ سر راہ قتل کے بارے میں خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک عوامی تماشا ہے۔ لہٰذا ، پہلو خان اور دیگر افراد کا قتل عوام کی کھلی نظروں کے سامنے ہوا۔ یہ محض متعلقہ مظلوم فرد کے لئے ایک سبق نہیں ہے؛ بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لئے ایک پیغام بھی ہے کہ اگر وہ ‘عملی اقدام’ نہیں کرتے ہیں تو یہی انجام ان کے بھی انتظار میں ہے۔ اگرچہ یہ متوقع ‘عملی اقدام’ واضح نہیں ہے۔ واضح طور پر پہلو خان کے معاملے میں کوئی غیر قانونی پہلو شامل نہیں تھا۔ وہ دودھ کی تجارت کرنے والا ایک لائسنس یافتہ تھا ڈیری فارمر تھا اور قانونی طور پر گائے لے جا رہا تھا۔ پھر بھی اسے نشانہ بنایا گیا۔ لہذا سوال یہ نہیں ہے کہ آیا وہ قانون کے دائرے میں تھا یا نہیں۔ بلکہ جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ اس سے بھی زیادہ برا ہے؛ کہ سرراہ تمہارے قتل کے لئے یہی کافی ہے کہ تم ایک مسلمان ہو۔ سرراہ قتل کی عوامی نوعیت کی وجہ سے مزید توجہ طلب امر یہ ہے کہ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں جنہیں صورت حال سے کوئی خاص آگہی نہیں ہوتی ہے۔ لہٰذا اس واقعہ کا مشاہدہ کرنے والوں کے لئے جو بالآخر اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیتے ہیں ، اسے مجرم بنانے کے لئے صرف پہلو خان نام ہی کافی تھا۔ مختصر یہ ہے کہ آپ کو اپنا غصہ نکالنے سے قبل پیش نظر مسئلہ کی حقیقت جاننے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ مسلمانوں کا سرراہ قتل ایک کھیل کی شکل اختیار کر رہا ہے اور ہر ایک شخص اس میں شامل ہوسکتا ہے۔

ایسی شرمناک موت پانے والے مسلمانوں میں اکثریت نچلی ذات کے مسلمانوں کی ہے۔ آج مسلم شناخت پیش کرنے کے لئے مذہب اور ذات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ملک میں عوام کا نچلی ذات کے لوگوں کو زد و کوب کرنا صدیوں سے معمول رہا ہے۔ قانون کے اندر سخت دفعات کے باوجود اس نوعیت کے مظالم اب بھی تقریبا روزانہ درج کئے جاتے ہیں۔ گجرات میں دلتوں کو عوام میں کوڑے مارنے کا معاملہ ہی صرف ایک واقعہ نہیں ہے۔ اسے ذات پات پر مبنی تشدد قرار دینے کے بجائے ریاستی حکام بھی اسے صرف امن و امان کا مسئلہ مانتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ اتنا بھی آسان نہیں ہے: بنیادی طور پر ہندوستان میں اب بھی ذات پات پر مبنی معاشرے موجود ہیں اسی لئے سرراہ قتل کو بھی ذات پات کے ہی زاویہ نظر سے دیکھا جانا چاہئے۔ مسلمان اور نچلی ذات کے لوگ باہمی کوئی مخصوص طبقہ نہیں ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت نچلی ذات پر مشتمل ہے اور تمام پالیسی دستاویز اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ مزید برآں یہ کہ تقسیم کے برہمنی نظریہ کی بنیاد پر انہیں ملچھ کہا جاتا ہے۔ اس طرح وہ دوہری آلودگی کے حامل ہیں: ایک تو نچلی ذات اور دوسرا مسلمان۔ ایک لمحے کے لئے بھی میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والے پہلو خان جیسے لوگوں سے پہلے ان کی ذات کے بارے میں پوچھا گیا اور پھر اس کے بعد انہیں قتل کیا گیا۔ لیکن میں یقینی طور پر یہ ضرور کہہ رہا ہوں کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت صرف ان کے مذہب کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ اس کی ایک وجہ نچلی ذات سے ان کا تعلق ہونا بھی ہے۔ پہلو خان کی لاش نہ صرف یہ کہ مذہب کی بنیاد پر شدید نفرت کی علامت بن چکی ہے بلکہ یہ اس ملک کی ذات برادری پر مبنی سفاکانہ تاریخ کی بھی پہچان بن چکی ہے۔ ایک کو دوسرے پر فوقیت دینے سے صرف شناخت کی پیچیدگی کی تفہیم میں خلا ہی پیدا ہوگا جس کا بوجھ ایک ہندوستانی مسلمان آج اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہے۔

یہ توقع کرنا حماقت ہوگی کہ حکمران طبقہ کو اس طرح کے قتل کی مذمت کرنی چاہئے۔ میں اسے حماقت اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ اس طرح کا ماحول پیدا کرنے والے یہی لوگ ہیں۔ اس طرح کے ہر قتل کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف تشدد کا معمول مزید فروغ پاتا جائے گا۔ یہ نام نہاد طبقہ شاید کوئی طبقہ ہی نہیں ہے؛ در اصل یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس ملک میں اکثریتی طبقہ مسلمانوں کے بارے میں کیسی ذہنیت رکھتا ہے۔

جب کانگریس جیسی نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے ایجنڈے میں گائے کے تحفظ کو ہی فوقیت حاصل ہے تو اس کا ذمہ دار صرف حکومتی حکام کو ہی کیوں مانا جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس طاقت کے ساتھ کبھی اس مسئلہ کا سامنا نہیں کیا ہے جس کی ضرورت ہے۔ جب میں پہلو خان کے قتل کے ردعمل پر نظر ڈالتا ہوں تو اس معاملے پر سیکولر جماعتوں کی خاموشی مجھے خوف زدہ کرتی ہے۔ اس طرح کے سفاکانہ قتل کے خلاف نہ کسی نے موم بتی جلا کر احتجاج درج کرایا اور نہ ہی کسی نے خاموش علامتی احتجاج کا بھی مظاہرہ کیا۔ مجھے حیرت ہے کہ سیکولر ردعمل نے بھی ایک نیا معمول اختیار کر لیا ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-politics/arshad-alam,-new-age-islam/the-lynching-of-pehlu-khan-and-the-new-normal/d/110916

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/the-lynching-pehlu-khan-new/d/113169


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..