New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 04:02 PM

Urdu Section ( 12 Dec 2017, NewAgeIslam.Com)

The Lynching of Mashal Khan Proves Pakistan is Dystopic مشال خان کا قتل پاکستان کی حالت زار پر شاہد ہے



ارشاد عالم، نیو ایج اسلام

20 اپريل 2017

23 سالہ صحافی طالب علم مشال خان

-----

ایک یونیورسٹی میں تنقیدی نظریات کو فروغ دینے کی فضا کا ہموار ہونا ضروری ہے، اور وہاں ایسے نظریات کا فروغ پانا ضروری ہے جس میں معاشرے کی موجودہ روایات معمولات کو چیلنج کرنے کی صلاحیت ہو اور بعض اوقات معاشرے کو نئے طریقے سے سوچنے پر مجبور کریں۔ بڑی تیزی کے ساتھ ایسے مقامات کا دائرہ ہمارے درمیان تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ خواہ بھارت ہو یا پاکستان ہر جگہ انتہاپسند جماعتوں نے اپنے دل کی بات رکھنے کی جرات کرنے والوں کی زبان بند کرنے یا انہیں سزا دینے کے لئے جذبات کی مجروحیت جیسی تباہ کن منطق کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے۔ بالآخر، جس معاشرے کے اندر سے قوت فکر فنا ہو جائے وہ مر جاتا ہے اور آج پاکستان میں یہی ہو رہا ہے۔ مشال خان کو اس کے کمرے سے نکال کر گھنسیٹا جاتا ہے اور اس کے بعد اسے قتل کر دیا جاتا ہے صرف اس لئے کہ وہ احمدی برادری سے تعلق رکھتا تھا اور مبینہ طور پر اس کے افکار و نظریات مرکزی دھارے کے مسلم معاشرے سے مختلف تھے، جو کہ اسلام کے اندر پیدا ہونے والی مہلک تبدیلی کا ایک تازہ ترین شکار ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ توہین کے نام پر قتل پاکستان کا ایک پسندیدہ کھیل بنتا جا رہا ہے۔ خواہ وہ ذاتی رقابت کا معاملہ ہو یا زمین یا کاروبار کی لالچ کا معاملہ ہو ، متعلقہ شخص کے ساتھ حساب برابر کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اس پر توہین کا الزام لگا دیا جائے۔ اگر وہ شخص اقلیتی طبقے کا ہو یا احمدی ہو تو معاملہ اور بھی آسان ہو جائے گا اس لئے کہ قانون اور معاشرے ان کے خلاف تعصب و تنگ نظری کے حامل ہیں۔

مسئلہ اس وقت پیچیدہ ہو جاتا ہے جب حکومت خود جانبدارانہ رویہ اختیار کر لیتی ہے۔ آخر کار پاکستانی حکومت ہی اس طرح کا تفریق پسند قانون کی حامل ہے۔ لیکن کسی کے اندر بھی کھلے طور پر یہ کہنے کی جرأت نہیں ہے کہ یہ قانون ہی خود پریشانیوں کی جڑ ہے اور اب وہ وقت آ چکا ہے کہ اس قانون کو ختم کر دیا جائے۔ لیکن سلمان تاثیر کا انجام دیکھنے کے بعد کون اس خطرے میں پڑنا چاہتا ہے جسے اس لئے مار دیا گیا کیونکہ اس نے اس قانون کے خلاف اپنی زبان کھولی تھی۔ ایسے متعدد شاندار وکلاء جیسا انجام کون چاہے گا جنہوں نے توہین کے الزام میں پھنسے ہوئے مسلمانوں اور دیگر لوگوں کے دفاع میں اپنی جانیں گنواں دیں۔ لہٰذا، ہم صرف قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے والے قاتلوں کے معمولات کی مذمت کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتے۔ یہ ایک واضح دھوکہ ہے کیونکہ یہ عمداً اس مسئلے کی بنیاد کو واضح نہیں کرتا جو کہ خود قانون ہی ہے۔ ایسی بات بھی نہیں ہے کہ توہین کے الزام میں جنہیں قتل نہیں کیا گیا ہے ان کی زندگیاں بہتر ہیں۔ اس میں گرفتاری لازمی ہے اور قانون کو اپنا کام انجام دینے میں سالہا سال لگ جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص بری الذمہ ہوجائے تب بھی ان کی زندگی تباہ ہو جاتی جس کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔

لیکن ان سب کے باوجود کسی حکومت کے لئے لوگوں کے مروجہ جذبات کے خلاف جانا شاید ایک انتہائی مشکل ترین امر ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستانی حکومت کو ایسی حکمرانی حاصل نہیں ہے جیسی بھارت جیسی دیگر حکومتوں کو جمہوری نظام حکومت کی بدولت حاصل ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستانی حکومت اس ملک کے مروجہ جذبات کے خلاف کچھ بھی نہیں کر سکتی۔ اور وہ مروجہ جذبات میں ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ایک مرتد یا توہین کے مرتکب کی سزا صرف موت ہے۔ پاکستان میں اس امر پر تقریباً اتفاق رائے ہے کہ احمدی غیر مسلم ہیں کیونکہ وہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاتمیت نبوت پر ایمان نہیں رکھتے لہٰذا، وہ سزائے موت کے مستحق ہیں۔ اور یہی جذبہ مراکش سے لیکر انڈونیشیا تک کے تمام مسلم معاشروں میں موجود ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرنے والا کوئی بھی شخص زندہ نہیں رہنا چاہئے۔

جب کہ نبی ﷺ نے خود ہمیں اس کے برعکس پیغام دیا۔ آپ ﷺ کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب آپ ﷺاسلام کے پیغام کی تبلیغ کرتے تھے تو ایک عورت آپ کو ہمیشہ گالیاں دیا کرتی تھی۔ پیغمبر ﷺ نے کبھی بھی اس کی سرزنش نہیں کی بلکہ جب وہ بیمار پڑی تو آپ ﷺ اس کی مزاج پرسی کے لئے اس کے گھر تشریف لے گئے۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ ﷺ کا یہ پیغام آپ ﷺ کے پیروکاروں کے اندر ختم ہو چکا ہے۔ بلکہ وہ ایسے اقدامات کرنا چاہتے ہیں جن کی تعلیم پیغمبر ﷺنے کبھی نہیں دی ہے۔ شاید مسلمانوں کی یہ نسل اسلام کو خود پیغمبر اسلا م ﷺ سے زیادہ بہتر سمجھتی ہے۔ اللہ تعالی پیغمبر اسلام کی توہین کرنے والوں کو خبردار ضرور کرتا ہے لیکن پھر وہ کہتا ہے کہ ان کا فیصلہ کرنے والا صرف اللہ ہی ہے۔ لیکن آج توہین کے معاملے میں مسلمان خود ہی جج ، خودہی عدلیہ اور خود ہی حکام بھی بن چکے ہیں۔

جب میں یہ مضمون تحریر کر رہا ہوں پاکستان سے ایک اور قتل کی خبر آ رہی ہے۔ اور اس مرتبہ قتل یونیورسٹی کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر کا ہوا ہے۔ وہ بھی ایک احمدی تھی۔ اگر کوئی یہ توقع رکھتا ہے کہ پاکستان اس قانون پر کوئی غور و فکر کر رہا ہے تو یہ غلط ہے۔ بلکہ اگر وہ کچھ کر رہے ہیں تو صرف سوشل میڈیا پر سخت نگرانی بڑھا کر اس قانون کو مزید مضبوط کر رہے ہیں اور عملی طور پر اس امر کی نگرانی کر رہے ہیں کہ اس پر کوئی مواد توہین آمیز تو نہیں ہے۔ لوگ صرف اپنے عقیدے کی بنیاد پر مرتے رہیں گے، اور صرف اس وجہ سے اپنی جانیں گنواتے رہیں گے کہ وہ نیلے آسمان کے نیچے آزادی کے ساتھ سانس لینا چاہتے ہیں یا اس وجہ سے کہ ان کے کمرے میں کارل مارکس کے پوسٹر لگے ہوئے ہیں۔ ایک نیا ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں یہ دکھایا جا رہا ہے کہ مشال خان کے قتل میں شامل طالب علم اللہ اکبر کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ وہ نعرہ اس قدر دہشت آمیز ہے کہ یونیورسٹی حکام نے مشال خان کی لاش کے خلاف ایک انکوائری قائم کی ہے۔ پاکستان زندہ بار!

----

URL: http://www.newageislam.com/the-war-within-islam/arshad-alam,-new-age-islam/the-lynching-of-mashal-khan-proves-pakistan-is-dystopic/d/110839

URL: http://newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/agethe-lynching-of-mashal-khan-proves-pakistan-is-dystopic--مشال-خان-کا-قتل-پاکستان-کی-حالت-زار-پر-شاہد-ہے/d/113544

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..