New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 01:24 PM

Urdu Section ( 28 Sept 2016, NewAgeIslam.Com)

The Islamist War on History تاریخی اثاثوں کےخلاف اسلام پسندوں کااعلان جنگ

 

 

 

 

 

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

28 مئی، 2015

جیسا کہ اب داعش کی لعنت شام کے ایک قدیم اور تاریخی شہر تدمر تک پہنچ چکی ہے، ایسے میں یہ سوال پھر پوری دنیا میں گردش کر رہا ہے کہ ان تاریخی مقامات اور تاریخی شہروں کے ساتھ اسلام کو کیا پریشانی ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تدمر اور بامیان بدھا جیسے تاریخی مقامات صدیوں سے مسلمانوں کی تحویل میں تھے اور کسی نے کبھی بھی یہ نہیں سوچھا تھا کہ ان مقامات کے اندر اتنی طاقت یا قابلیت ہے کہ وہ اسلام کے لیے خطرہ ثابت ہوں گے۔ بلکہ صدیوں پر پھیلے ہوئےتاریخی شعور کی بنیاد پر یہ مقامات مقامی مسلم تاریخ کا حصہ بن چکے تھے۔اس کے باوجود کئی سالوں سے ان مقامات پر بحث و مباحثہ کا بازار گرم ہو رہا جس کا مقصد ان مقامات کو اسلام کے دامن پر ایک ایسا دھبہ اور ایک ایسی لعنت ثابت کرنا ہےجسے اسلامی منظر نامے سے مٹا دیا جانا چاہیے۔

اصل مسئلہ اسلام کا وہ سی اسی نظریہ ہے جس نے پوری دنیا کو جاہلیت اور اسلام جیسے دو طبقات میں تقسیم کر دیا ہے۔لفظ جاہلیت سے صرف اسلام سے پہلے کی زندگی مراد نہیں لی جاتی بلکہ اس کا استعمال غیریت ثابت کرنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔لہٰذا، جو نظریہ دور سے بھی سیاسی اسلام کے لیے پریشان کن ہو اسے جاہلیت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ مودودی اور دوسرے سیاسی اسلام پسندوں کے لیے جدید تعلیم اور جدید ریاست اس دور کی جہالت کی سب سےبہترین مثال ہے۔ لہذا جاہلیت کا استعمال نہ صرف یہ کہ ماقبل اسلام کی چیزوں،مقامات اور وقعات کے لیے کیا جا سکتا ہے بلکہ سیاسی اسلام کی روشنی میں جاہلیت معاصر طرز زندگی کی ساخت میں ہر جگہ موجود ہے۔

لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ کس چیز کو جہالت قرار دیا جائے اور کس چیز کو نہیں اس کا فیصلہ کرنا ایک سیاسی معاملہ ہے۔لہٰذا،بامیان میں اور نمرود اور عراق، شام اور لیبیا میں دوسری جگہوں پر موجود پتھروں کے بے مثال مجسمےاس وجہ سے دور جاہلیت کا حصہ ہیں کیوں کہ یہ عظیم الشان علامتی اقدارکے حامل ہیں۔ دنیا بھر میں ایسے مقامات اور ایسی علامات کی تباہی سےان ثقافتی لٹیروں کو بے مثال میڈیا کوریج حاصل ہوتا ہے جو کہ ان کے طریقہ کار کا ایک اہم حصہ ہے۔ان مجسموں کو تباہ کرنا اورقدیم محلات کے دروازوں کو بم دھماکوں سے اڑانا ان کی نظروں میں ان چیزوں کو تباہ و برباد کرنا ہے جسے ’’مغربی دنیا‘‘احترام اور عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ جاہلیت کے خلاف ان جنگجوؤں کی بربریت کو جتنا زیادہ اجاگرکیا جاتا ہےاتنا زیادہ ہم ان کے پروپیگنڈے میں شریک ہوتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ وہ ایجنڈا طے کرتے ہیں اور باقی دنیااس پر عمل کرتی ہے۔جبکہ دوسری طرف اس ثقافتی تباہی و بربادی پر کچھ نہ بولنا ایک پراشوب خاموشی کے مترادف ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے۔لہٰذا، ہم ایسے ناگوار اور پریشان کن صورت حال سے دوچار ہیں کہ ہم کچھ بولیں تب بھی ہماری مذمت کی جاتی ہے اور نہ بولیں تو بھی ہماری مذمت کی جاتی ہے۔

لیکن فقہی نقطہ نظر سے ان کی ان سرگرمیوں کےجواز کے بارے میں کیا رائے ہے۔کیا واقعی ان تاریخی مقامات کو بت پرستی کے لیےایک دعوت مانا جا سکتا ہے؟ کیا ان علاقوں میں رہنے والے مسلمان خود کو مقدس مانتے ہیں یعنی کیا وہ خود کو اس تقدیس اوراحترام کے قابل سمجھتے ہیں جو صرف خدائے وحدہ لاشریک لہ کے لیے مخصوص ہے؟ اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو یہ ایک ایسی دلیل ہوگی جس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے، اس لیے کہ ان مقامات کی موجودگی کے باوجود صدیوں سے اسلام کی جڑیں کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوتی رہی ہیں۔لہٰذا،یہ کہنا مضحکہ خیزہوگا کہ ان مقامات کے اندر تخریبی ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ (معاذ اللہ) یہ دلیل تو خدا کی بارگاہ میں بھی مضحکہ خیز ہی ثابت ہوگی۔اس لیے کہ خدا کے بھی علم میں یہ بات ہے کہ ان خوبصورت اور غیر مضرت رساں مجسموں کی موجودگی سے اس کی الوہیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ لیکن اللہ کے ان (نام نہاد) جنگجوؤں کے پاس شایدخود اللہ سے زیادہ بہتر علم ہے۔

لیکن(معاذ اللہ) اللہ کی کمزوری کی بات کرنے والوں اور اس کی جانب سے کام کرنے کا دعویٰ کرنے والوں میں داعش تن تنہا نہیں ہے۔صرف داعش ہی مسلمانوں کی ثقافتی یادگاروں کو تباہ نہیں کر رہا ہے۔سعودی عرب حرمین شریفین کے ساتھ جو کر رہا ہے وہ پوری دنیا میں داعش کی سرگرمیوں سے مختلف نہیں ہے۔سعودی عرب نے ابتدائی اسلامی تاریخ کی اہم شخصیات سےمنسوب تاریخی مقامات پر عوامی بیت الخلاء اور پرتعیش ہوٹل تعمیر کر دیا ہے۔ مکہ آج صارفین کی جنت بننے کے لئے تیار ہے؛ صارفین کے اس شہر میں مسلمان اتنی ہی آسانی کے ساتھ حج ادا کریں گے جتنی آسانی کے ساتھ لوگ برگر (burger) کھاتے ہیں۔مختصر یہ کہ اب حج کے موقع پر غور و فکر اور محاسبہ نفس کی کوئی گنجائش نہیں بچی ہے جو کہ حج کا ایک واحد مقصد تھا،بلکہ اس کی جگہ ایک ایسا پرتعیش حج لے چکا ہے کہ آپ جب چاہیں اپنے ایسے بلند و بالا ہوٹل سے جھانک کر کعبہ کو دیکھ سکتے ہیں جن کی چھتوں نے اللہ کے گھر کعبہ کو ڈھانپ لیا ہوگا۔ اور جہالت کو دور کرنے اور جاہلیت کے خلاف جنگ کے نام پران تمام باتوں سےآل سعود کے گھر میں دولت کا انبار جمع ہو جائےگا، جس طرح تاریخی اور ثقافتی نوادرات کی اسمگلنگ کر کے داعش نے اربوں ڈالر کی کمائی کی ہے۔میری ان تمام باتوں کا مقصدثقافتی یادگاروں کے خلاف جنگ میں داعش اور سعودیوں کے درمیان مماثلت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب دنیا بھر میں مسلمانوں کی اجتماعی یادگاروں کے ساتھ جو حشر کر رہا ہے ہم نے شاید ہی اس کے خلاف کسی احتجاج کیا مشاہدہ کیا ہو۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-culture/arshad-alam,-new-age-islam/the-islamist-war-on-history/d/103211

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/the-islamist-war-on-history--تاریخی-اثاثوں-کےخلاف-اسلام-پسندوں-کااعلان-جنگ/d/108702

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..