New Age Islam
Sat Mar 07 2026, 10:00 AM

Urdu Section ( 22 Dec 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Taliban Bans Women from Universities: Why it’s not Surprising طالبان نے یونیورسٹیوں میں خواتین پر پابندی لگادی: یہ حیران کن کیوں نہیں؟

 ارشد عالم، نیو ایج اسلام

 21 دسمبر 2022

 مسلمانوں کو اس شریعت پر سوال کرنے کی ضرورت ہے جس سے اس طرح کے خیالات جنم لیتے ہیں۔

 اہم نکات:

1.      کل، طالبان نے افغانستان میں خواتین کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی سے روک دیا۔

2.      اب یہ بات تیزی سے واضح ہو رہی ہے کہ اچھے طالبان کا تصور محض ایک تصور ہی تھا۔

3.      اس طرح کے رجعت پسندانہ خیالات اسلامی فقہ سے نکلتے ہیں

4.      ہندوستان میں دیوبند، جہاں سے طالبان نے تحریک حاصل کی ہے، بھی خواتین کے بارے میں اسی طرح کے خیالات رکھتا ہے

5.      مروجہ اسلامی شریعت پر سوال اٹھائے بغیر، ایسے فرسودہ نظریات کے خلاف مزاحمت نہیں کی جا سکتی

 -----

Female students in front of the Kabul Education University

----------

 جب افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا وقت قریب آیا تو ہم نے ’اچھے طالبان‘ کے بارے میں سننا شروع کیا، حالانکہ یہ پہلی بار نہیں تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ طالبان 2.0 پرانے طالبان سے مختلف ہے، کہ 'نئے طالبان' میں اصلاحات کی گئی ہیں اور یہ خواتین کے وقار بحال کرنے اور انہیں بااختیار بنانے کے حوالے سے حساس ہے۔ افغانستان میں صنف کا سوال اس لیے اہمیت اختیار کر گیا کہ سابقہ طالبان کے دور حکومت میں خواتین کو گھروں تک محدود کر دیا گیا تھا، اور ان کی تعلیم اور ملازمت کو شیطانی عمل تصور کیا جاتا تھا۔ دریں اثناء، جب امریکی افواج نے طالبان کا تختہ الٹ دیا، تو خواتین نے کچھ ایسی زمینں حاصل کی جو انہوں نے اسلام پرستوں کے دور حکومت کے دوران کھو دے تھے۔ انہیں اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں واپس جانے کی اجازت دی گئی اور بہت سے لوگوں نے روزگار اور عوامی زندگی شمولیت حاصل کی۔ اس نئے طالبان نے، جو 2021 میں برسراقتدار آئے، یہ وعدہ کیا کہ ہم خواتین اس ان حصولیابیوں کو برقرار رکھیں گے اور اپنے فرسودہ طریقوں پر واپس نہیں جائیں گے۔ مغربی دنیا نے یہ مان لیا۔ اس لیے نہیں کہ وہ طالبان پر یقین رکھتے تھے بلکہ اس لیے کہ دستبرداری کا دباؤ اتنا تھا کہ نئی حکومت جو کچھ بھی پیش کش کر رہی تھی وہ آسانی سے قبول کر لیا گیا۔

 کچھ مہینوں تک طالبان اپنے وعدے پر قائم رہے لیکن آخر کار ان کے اندر موجود اسلام پسندوں نے خواتین پر پابندیاں لگانا شروع کر دیں۔ آخر کار، خواتین کا سوال کسی بھی اسلام پسند سیاست کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلامی فقہ کا ادارہ معاشرے میں خواتین کے مقام کا تعین کرتا ہے اور یہ صرف وقت کی بات تھی جب طالبان اپنے وعدے سے مکر گئے۔ اب ہم سمجھتے ہیں کہ خواتین کی آزادی کے تحفظ کا ان کا وعدہ محض ایک دھوکہ تھا۔ ’’اچھے طالبان‘‘ کی تخلیق ایک افسانہ تھی جس پر کسی کو یقین نہیں تھا۔ آخر کار، اس نام نہاد اسلامی انقلاب کا خمیازہ افغانستان کی خواتین ہی بھگت رہی ہیں۔

 ان کا یہ طریقہ سب کو دیکھنے کے لائق تھا۔ طالبان جب سے اقتدار میں آئے ہیں وہ خواتین کی آزادی پر قدغن لگا رہے ہیں۔ اس سال مارچ میں، انہوں نے چھٹی جماعت سے اوپر کی لڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا۔ اسکول بالآخر کھل گئے لیکن طالبان کی جانب سے الگ الگ درسگاہوں جیسی 'مناسب تبدیلیاں' کرنے کے بعد ہی۔ پھر مئی 2022 میں، انہوں نے لڑکیوں اور خواتین کو چادوری (سر سے پاؤں تک برقعہ) پہننے کا حکم دیا جو ان کے خیال میں 'روایتی اور قابل احترام' تھا۔ خواتین عوام میں اپنا چہرہ نہیں دکھا سکتی تھیں اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں حکومت نے خواتین کے قریبی مرد رشتہ دار کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ اگر ’ان کی عورتیں‘ چادوری کے بغیر باہر نکلتیں تو سزا کے طور پر ان پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا تھا یا سرکاری ملازمت سے بھی برطرف کیا سکتا تھا۔ یہ اب تک واضح ہو جانا چاہیے تھا کہ طالبان کے لیے عورتیں مردوں (باپ اور شوہروں) کی ملکیت ہیں اور اسی لیے وہ اپنی عورتوں کو قابو میں نہ رکھنے پر مردوں کو سزا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ خواتین نے احتجاج کیا، جو کہ اس ملک میں ایک نایاب چیز ہے، لیکن حکومت نے اس سال اگست میں احتجاج کو بے دردی سے کچل دیا۔ وہ تعلیم اور روزگار کا حق مانگ رہی تھیں جو کہ بطور شہری ان کے پاس از خود ہونا چاہیے تھا۔ لیکن افغانستان میں یہ روا نہیں، کیونکہ حکومت نے انہیں کبھی بھی شہری سمجھا ہی نہیں بلکہ صرف مردوں کی ملکیت مانا۔ اس دوران، طالبان نے خواتین کو عوامی مقامات سے دور رکھنا جاری رکھا۔

Female students at the American University of Afghanistan

---------

گزشتہ روز اعلان کردہ پابندیوں کے سلسلے میں تازہ ترین خبر یہ ہے کہ خواتین کو یونیورسٹیوں تک رسائی کی اجازت نہیں دی جائے گی، جس سے ان کے لیے اعلیٰ تعلیم اور مستقبل میں ملازمت کی راہیں بند ہو جاتی ہیں۔ یہ کوئی عارضی اقدام نہیں ہے کیونکہ حکومت نے اس کے لیے کوئی میعاد مقرر نہیں کی ہے کہ جس کے بعد خواتین کو دوبارہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیدی جائے گی۔ انہوں نے کوئی وجہ نہیں بتائی سوائے اس کے کہ یہ ’قومی مفاد‘ اور ’خواتین کی عزت‘ کے لیے کیا جا رہا ہے۔ گویا کہ پہلی بار ہمارے ہاں خواتین کے مفاد کے بغیر قومی مفاد کی بات کی گئی ہے اور خواتین کو یونیورسٹیوں سے نکال کر عزت دی جا رہی ہے۔

 یہ واضح ہے کہ 'اچھے طالبان' کے وعدے پر صرف بیوقوف ہی یقین رکھتے ہیں۔ صرف سادہ ذہن کے لوگوں کو ہی لگا کہ حکومت کے اندر اپنی اصلاح کی صلاحیت ہے۔ طالبان چاہتے ہیں کہ ہم اس بات پر یقین کر لیں کہ ملک کو درپیش دیگر اہم مسائل بھی ہیں جیسے کہ قلت تغذیہ اور گرتی ہوئی معیشت جس پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ مسائل تو اپنی جگہ برقرار ہیں، لیکن کئی بار ان مسائل کا حوالہ دیکر خواتین کے مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ اسے بھی معیشت کی بحالی سے کم اہمیت نہیں دی جانی چاہیے۔

 اس رجعت پسندانہ اقدام کا ردعمل بین الاقوامی حلقوں بالخصوص مغربی دنیا کی طرف سے مذمت کی صورت میں سامنے آئے گا۔ لیکن طالبان جانتے ہیں کہ اس قسم کی ریاکارانہ مذمتوں کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ جب تک حکومت پر کوئی حقیقی دباؤ نہ ڈالا جائے، اس وقت تک اس لحاظ سے کچھ بھی نہیں بدلنے والا کہ وہ اپنی خواتین کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔

 لیکن اصل سوال یہ ہے کہ طالبان اپنی خواتین کو تعلیم کے بنیادی حقوق سے کیوں محروم کر رہے ہیں؟ یہ عقیدہ کہاں سے آیا کہ عورت کا صحیح مقام گھر میں ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں اسلامی شریعت اور فقہ کا مطالعہ کرنا پڑے گا، جس میں عورتوں کو مردوں کی ملکیت سے زیادہ کچھ اہمیت حاصل نہیں ہے۔ طالبان دیوبند کے نظریے سے جنم لیتے ہیں۔ 2010 میں، دیوبند کے مشہور مدرسے نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں مسلم خواتین کو سرکاری یا نجی شعبوں میں کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ فتویٰ میں لکھا گیا: ’’مسلم خواتین کے لیے سرکاری یا پرائیویٹ اداروں میں ملازمت کرنا شریعت کے خلاف ہے جہاں مرد اور خواتین ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور خواتین کو مردوں کے ساتھ بے پردہ اور بے تکلفی سے گفتگو کرنا پڑتی ہے۔‘‘ اب کوئی یقینی طور پر یہ کہہ کر بات کو گھوما سکتا ہے کہ فتویٰ خواتین کو کام کرنے سے نہیں روکتا بلکہ صرف یہ چاہتا ہے کہ وہ مناسب طریقے سے (چہرے سمیت) نقاب پوش رہیں اور مردوں سے "بے تکلف" بات نہ کریں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ فتویٰ زیادہ تر ایسے حالات کو خواتین کے دائرے سے باہر کر دیتا ہے جن میں لوگ کام کرتے ہیں کیونکہ آج کل زیادہ تر جگہیں مخلوط ہیں۔ اگر کوئی اس فتویٰ پر من و عن عمل کرتا ہے، تو اس کے لیے کام کرنے کی جگہیں صرف خواتین کو تعلیم دینا یا اچار بنانے وغیرہ جیسے شعبوں میں صنفی علیحدگی کی تربیت دینا ہوگی۔ اور سارے مسئلے کی جڑ ہی یہی ہے: دیوبند اور اس کی شریعت خواتین کو کم تر انسان سمجھتی ہے جو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کے لیے نہ تو موزوں ہیں اور نہ ہی اس کے اہل ہیں۔

اس کی مزید وضاحت کے لیے، یہاں دیوبند سے 2008 میں جاری ہونے والا ایک اور فتوی پیش کیا جاتا ہے: "عورتوں کے لیے دفاتر میں نوکری کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ پردے میں ہونے کے باوجود انہیں اجنبی مردوں (غیر محرموں) کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین کو ایک دوسرے سے بات کرنی ہوگی اور معاملہ کرنا ہوگا جو کہ فتنے کا سبب ہے۔ ایک باپ اپنی بیٹی کی کفالت کرنے کا پابند ہے اور شوہر سے بھی یہی مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی کفالت کرے۔ اس لیے خواتین کو ایسی ملازمتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو ہمیشہ نقصان اور فساد کا باعث بنیں۔ فتویٰ اس فکری کو واضح کرتا ہے، اور یہ واضح کرتا ہے کہ اسلامی قانون میں خواتین کی کوئی آزادی نہیں ہے۔ اس فکر کے مطابق چونکہ مرد کفالت کرنے والے ہیں، اس لیے عورتوں کو ہمیشہ مردوں کی تحویل میں رہنا چاہیے۔

 کچھ حد تک، ایسا لگتا ہے کہ اسلامی قانون خواتین کو بھی بنیادی طور پر جنسی اشیاء کے طور پر دیکھتا ہے، جن کی موجودگی مردوں کو بدفعلی کی دعوت دے سکتی ہے۔ ورنہ عورتیں صرف اس لیے فتنے کا ذریعہ کیسے بن سکتی ہیں کہ وہ مردوں کے ساتھ میل جول رکھتی ہیں؟ طالبان وہی کر رہے ہیں جو انہیں ان کے دیوبندی مدارس میں پڑھایا جاتا ہے۔ وہ صرف اسی پر عمل کر رہے ہیں جو ان کے خیال میں خواتین کے ساتھ سلوک کے حوالے سے خدا کا حکم ہے۔

 اگر ہم واقعی افغانستان میں خواتین کی حالت زار کے بارے میں فکر مند ہیں تو آئیے اس شریعت پر سوال اٹھائیں جس سے وہ اپنی قانونی حیثیت ثابت کرتے ہیں۔ افغان خواتین کی حالت زار کو سمجھنے کی کوئی اور کوشش محض دھوکہ ہوگی۔

English Article: Taliban Bans Women from Universities: Why it’s not Surprising

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/afghanistan-taliban-bans-women-universities/d/128687

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..