New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 05:06 PM

Urdu Section ( 7 May 2018, NewAgeIslam.Com)

Some Questions for the Proposed World Council of Muslim Minorities مجوزہ ورلڈ کونسل آف مسلم مائینارٹیز سے چند معرضات

 

 

 

 

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

28 اپریل 2018

نصف بلین سے زائد یعنی تقریبا مسلمانوں کی کل آبادی کی ایک تہائی بحیثیت اقلیت کے اس روئے زمین پر بستی ہے۔ ان کی اقلیت ہونے کی شکلیں مقامات کے اعتبا ر سے مختلف ہیں۔ یورپین علاقوں میں یہ عرب ممالک کے اندر جنگوں کی وجہ سے ان کی نقل مکانی کا نتیجہ ہے۔ وہاں یہ برادریاں نئی ہیں ، اور انہیں اس نئے سیاسی ماحول میں خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے ، جو ان کے آبائی وطن یعنی مسلم اکثریتی ممالک کے ماحول سے شدید مختلف ہے۔

اس کے بعد بعض مسلم اقلیتیں تاریخی طور پر آباد ہونے والی برادریوں کی صورت میں موجود ہیں جو صدیوں سے دوسری مذہبی برادریوں کے ساتھ مل کر رہ رہی ہیں۔ ہندوستان اس کی ایک واضح مثال ہے۔ اس کے باوجود کئی برسوں سے متعدد وجوہات کی بنا پر مسلم اقلیتی برادریاں تیزی کے ساتھ حاشیہ پر جا رہی ہیں ۔ اس کی کچھ داخلی وجوہات ہیں: مذہبی نصوص کی ایسی تعبیر و تشریح پران کا انحصار بڑھا ہے جس نے مسلمانوں کو ان کی مشترکہ ثقافتی اقدار سے دور کر دیا ہے۔ اور اس کے وجوہات خارجی بھی ہیں: اسلامفوبیا میں اضافہ کا اثر یہ ہوا کہ مسلمانوں کو ناقابل اعتماد اور ان کے مذہب کو پسماندگی کی علامت سمجھا جانے لگا۔

بعض مقامات پر اسلام اور مسلمانوں کے متعلق اس طرح کے دقیانوسی تصور کی وجہ سے لوگوں کے اندر مسلمانوں کے خلاف محض نفرت کی جڑیں مضبوط ہوئی ہیں ۔ مسلم اقلیتیں بڑے پیمانے پر ریاستی سازش سمیت بھید بھاؤ پر مبنی پالیسیوں کا ہدف بنتی رہی ہیں ۔

مثال کے طور پر روہنگیا مسلمانوں کو ان کی زبان، شناخت اور شہریت کے حقوق سے محروم کرنے کے مقصد سے تیار کی گئی ریاستی سطح کی مسلسل پالیسیوں کے ذریعے منظم طریقے سے لاقومیت کی چکی میں پیسا گیا ہے۔ حالانکہ ان اقلیتیوں نے اپنی ریاستوں کے سیاسی حدود کے اندر اپنے لائحہ عمل کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے ، لیکن انہیں ایک ساتھ لانے کے لئے ہمیشہ ایک پلیٹ فارم کی ضرور ت رہی ہے ، جس کا کام ان کے مخصوص مسائل پر توجہ دینا اور ایک حکمت عملی تشکیل دینا ہو تاکہ وہ پالیسی سازی کو اثر انداز کرنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر ایک مؤثر جماعت کے طور پر کام کرسکیں۔

اور صرف اسی بنیاد مجوزہ ورلڈ کونسل آف مسلم مائینارٹیز کے قیام کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ مجوزہ کونسل کے بیان کردہ مقاصد یہ ہیں ‘‘مسلم اقلیتی اداروں کی مساعی میں تعاون کرنا ، اور مسلم اقلیتوں کو اپنی ریاستوں کے احیائے نو میں حصہ لینے ، اسلام اور مسلم اقلیتوں کی دقیانوس تصویر کو درست کرنے اور انسانی معاشرے کے متعدد عناصر کے درمیان دانشورانہ اور ثقافتی کھائیوں کو پُر کرنے کی حوصلہ افزائی کر کے ان کے کردار کو وسیع کرنا’’۔ کونسل کا مقصد "ثقافتی تکثیریت کو فروغ دینا ، دنیا کے اندر مسلم اقلیتوں کی ثقافتی اور دانشورانہ خصوصیات کا احترام کرنا اور اعتدال پسندی ، مکالمہ ، رواداری اور قومی تعلق کے اقدار کو فروغ دینا ، مذہبی منافرت اور دوسروں سے عداوت کو ختم کرنا اور بین الاقوامی اور قومی کنونشن کے مطابق اقلیتوں کے شہری اور سیاسی حقوق کو ایک پیدائشی انسانی حق کے طور پر فروغ دینا" بھی ہے۔

کونسل کے بیان کردہ اہداف قابل تعریف ہیں۔ تاہم، اس کے علاوہ بھی بعض ایسی اہم چیزیں ہیں جن پر مئی میں مجوزہ کونسل کی دبئی میں ہونی والی میٹنگ میں کونسل کو غور کرنا چاہئے۔ سب سے پہلی چیز اس پہل کی سیاسی حیثیت ہے۔ اس طرح کے پلیٹ فارم کے لئے پہل ان مسلمانوں کی جانب سے کی جانی چاہئے جو اقلیت ہیں۔ جبکہ ہمیں اس معاملے میں اس کا بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے ، اس لئے کہ اس کونسل کے قیام کا مطالبہ مسلم اکثریت نے کیا ہے۔ اور شاید کونسل کے بانیوں نے اس کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ زیادہ پریشان کن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقلیت میں رہنے والے مسلمانوں کی پریشانیوں کے بارے میں جاننے کے بعد وہ اس پلیٹ فارم کو قائم کرنے کے لئے 'مجبور' تھے۔

اب اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اقلیت میں رہنے والے مسلمانوں کے مشترکہ مسائل ہیں لیکن یہ ایسے مسائل ایسے ہیں کہ جنہیں خود اقلیتی مسلمانوں کی ہی جانب سے ہی حل کیا جانا چاہئے تھا۔ اس طرح کے سیاسی عمل کا آغاز انہیں ہی کرنا چاہئے تھا۔ بھید بھاؤ کا شکار ہونے والی مسلم اقلیتوں کو اختیار نہ دیکر عرب ممالک باقی پوری اسلامی دنیا پر دوبارہ اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لہذا اس بات کے حقیقی خطرات موجود ہیں کہ جن مسلمانوں کو حاشیہ پر ڈالا جا رہا ہے ان کی آوازیں اس طرح کے فورم میں نہیں اٹھائی جائیں گی۔

لہذا، مجوزہ کونسل کو سب سے پہلا اقدام یہ اٹھانا چاہئے کہ یہ اپنی مجلس عاملہ میں اقلیتی مسلمانوں کو مناسب نمائندگی عطا کرے۔ ایسا کرنے میں اگر وہ ناکام ہوتے ہیں تو اس سے یہی پیغام لوگوں تک جائے گا کہ کونسل مسلم اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے سنجیدہ نہیں ہے۔

ثانیاً، کونسل کے مقاصد میں تکثیریت پسندی کو فروغ دینے کی بات یقینی طور پر قابل تعریف ہے۔ تاہم، تکثیریت کو صرف بین برادری سطح پر ہی نہیں بلکہ برادری کے اندر بھی فروغ دیا جانا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم معاشرے کے اندر داخلی محرکات سے صرف نظر کر کے مسلمانوں اور دیگر برادریوں کے درمیان تکثیریت پسندی اور بین المذاہب مکالمہ کو فروغ دینا ممکن نہیں ہوگا۔ کونسل غیر مسلموں کے درمیان اسلام کی شبیہ درست کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس کے لئے یہ دوسری مذہبی برادریوں کے سامنے اسلام کا حقیقی چہرہ پیش کرنا چاہتی ہے ۔

تاہم، اس میں بڑی الجھنیں ہیں ، اس لئے کہ اسلام کی تعین کا کوئی صحیح طریقہ ہے ہی نہیں ، لہٰذا اسلام کے حقیقی چہرے کی تلاش ہمیشہ ایک وہم ہی رہے گی۔ سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ اسلام کے اندر انتہا پسندوں سے لیکر اعتدال پسندوں تک تمام جماعتیں حق پر ہونے کا دعوی کرتی ہیں۔ اسلامی روایت کی تکثیریت پسندی کو تسلیم کرنا ہی خود ایک فرحت بخش خیال ہے جس پر مجوزہ کونسل خاموش ہے۔

اور جہاں تک رہا مسلم معاشرے کے اندر داخلی تکثیریت پسندی کا سوال تو اسے ترجیحی بنیاد پر فروغ دیا جانا چاہئے۔ مجوزہ کونسل کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کونسل کے تمام فیصلہ ساز عملوں کے اندر مسلمانوں کے داخلی ثقافتی اور مذہبی تنوعات ضرور موجود ہوں۔ جیسا کہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ سنی مسلمانوں کے اند ر شیعہ مسلمانوں کے تئیں اور شیعہ مسلمانوں کے اندر سنی مسلمانوں کے تئیں گہری بے اعتمادی پائی جاتی ہے۔ اور یہ بات بھی اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ یہ دونوں برادریاں احمدیوں کو کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج مانتی ہیں۔ لہٰذا ، اس کونسل سے ہمارا سوال یہ ہے کہ آیا یہ برادریاں اور تاریخی طور پر اسلام کی یہ درست تعبیرات کونسل کی قیادت کا حصہ ہوں گی یا نہیں۔ مکالمہ ، اعتدال پسندی اور تکثیریت پسندی کی بات کرنا بہتر ہے ، لیکن اس طرح کے نیک ارادوں کا مطلب مزید تب سمجھ میں آئے گا جب ہم خود سے یہ مشکل ترین سوال کریں گے کہ کیوں ہمارے معاشرے میں ان چیزوں کا فقدان ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam-and-politics/arshad-alam,-new-age-islam/some-questions-for-the-proposed-world-council-of-muslim-minorities/d/115081

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/some-questions-for-the-proposed-world-council-of-muslim-minorities--مجوزہ-ورلڈ-کونسل-آف-مسلم-مائینارٹیز-سے-چند-معرضات/d/115170

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..