New Age Islam
Sat Dec 04 2021, 03:45 AM

Urdu Section ( 27 Oct 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

So Who Is Politicizing Triple Talaq? تین طلاق پر سیاست کون کر رہا ہے؟

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

01 مئی 2017

وزیر اعظم کی اس بات سے اب مزید کوئی متفق نہیں ہوسکتا کہ تین طلاق کے مسئلہ پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ چونکہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اسی لئے اس پر انتہائی سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ گفتگو کی جانی چاہئے۔ اس کے علاوہ، ملک کی سب سے بڑی عدالت پہلے ہی اس معاملے کو زیر غور لا چکی ہے۔ اس موضوع پر اب کوئی بھی بے جا بیان بازی ماحول کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ جیسا کہ تین طلاق کا مسئلہ مسلمانوں کے ایک طبقے کے لئے اس قدر حساس ہو چکا ہے کہ وہ اسے قرآن کریم کی تحریف کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف ہندوؤں کے ایک طبقے کے لئے یہ مسئلہ مسلم کمیونٹی کی ایک خاص پہچان بن چکا ہے۔ تین طلاق کے معاملے کا سہارا لیکر وہ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اسلام دنیا کے سب سے پچھڑے اور قدامت پرست مذاہب میں سے ایک ہے۔

اس کے باوجود کہ مختلف مواقع پر وزیر اعظم نے خود اپنی انتخابی تقریروں کے دوران تین طلاق کا استعمال کیا ہے اور اس کے بعد یہ کہنا درست ہو گا کہ ان کا نقطہ نظر محدود ہو گیا ہے اور ایک مذہب کے طور پر اسلام کی پسماندگی کے بجائے جنسی نا انصافی کے معاملے میں انہوں نے مسائل پیدا کئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود صرف وہی ایک ایسے لیڈر نہیں ہیں جو تین طلاق پر موجودہ مباحثے کا استعمال کر رہے ہیں۔

ان کی اپنی پارٹی کے دیگر رہنما بھی صنفی ناانصافی کے تناظر میں اس مسئلہ کو نہیں دیکھ رہیں ہیں بلکہ وہ اس موقع کا استعمال پوری مسلم برادری کی ملامت کرنے اور انہیں داغدار کرنے کے لئے کررہے ہیں۔ حال ہی میں اتر پردیش میں ایک وزیر نے کہا کہ تین طلاق مسلم مردوں کی شہوت کا معاملہ ہے: جو کہ ایک ایسا نظریہ ہے جو ہندوؤں کے ساتھ شروع سے ہے۔ یہ ایک ایسی سوچ کی پیداوار ہے جس کے مطابق مسلمان مردوں کا وجود صرف اپنی نسلوں کو بڑھانا ہے اور کسی نہ کسی طرح اس کا تعلق ان کے مذہب سے ہے۔

لیکن اس سلسلے میں وزیراعظم نے جس قدر بھی مزاحمت کا اظہار کیا تھا اسے ان کے حامیوں نے ختم کر دیا ہے۔ تین طلاق پر نیوز چینل پر آپ کوئی بھی مباحثہ دیکھیں ان سب پر سب سے اہم چہرہ جو کسی کو دیکھنے کو ملے گا وہ نریندر مودی اور یوگی ادتیہ ناتھ کا ہے۔ شروع میں آپ کو تھوڑی حیرت ہو سکتی ہے اور حقیقی طور پر آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ یہ منظر کشی غلط ہو سکتی ہے اور وہ اسے چلا سکتے ہیں اس لئے کہ وہ دوسرے مناظر سے باہر نکل چکے ہیں۔ لیکن پھر آپ کو یہ محسوس ہوگا کہ یہ کوئی غلطی نہیں ہے۔ بلکہ تین طلاق پر ہر مباحثے میں مودی اور یوگی کی تصویر کا موازنہ کرنے کے لئے یہ ان کی ایک منظم مہم ہے۔ گویا کہ وہ تین طلاق پر مباحثے کے بانی ہیں۔ لیکن اگر آپ اس مباحثے کی تاریخ سے واقف ہیں تو یہ معلوم کرنا آسان ہے کہ ان دونوں افراد کا تین طلاق پر مباحثے میں کوئی تعاون نہیں ہے۔

اس مباحثے کا آغاز کرنے والی خود مسلم خواتین ہیں ، اور صرف انہیں کی کوششوں سے یہ کیس سپریم کورٹ میں گیا ہے۔ یقینی طور پر ان خواتین نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا ہے جو انہیں دور سے بھی وزیر اعظم یا اتر پردیش کے وزیر اعلی یا بی جے پی جوڑتا ہو۔ لہٰذا، ایسا کیوں ہے کہ جب بھی اس مسئلہ پر بحث کی جاتی ہے تو اسکرین پر مودی اور یوگی ہی چھائے رہتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ اگر وزیر اعظم اس پر سیاست پسند نہیں کرتے ہوں تب بھی پہلے ہی ٹیلی ویژن کے چینل اس پر سیاست کر چکے ہیں۔ وزیر اعظم اس مباحثہ میں اپنی تصویر کے ذریعہ ایک خاموش آواز شامل کر کے اس سیاست میں پہلے سے ہی ایک فریق بن چکے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے پوری بحث وزیر اعظم اور وزیر اعلی کی نگرانی کے تحت کی انجام دی جا رہی ہے۔

اگر اس کا مقصد یہ ہے کہ انہیں مسلمان عورتوں کے ایک مسیحا کے طور پر پیش کیا جانا چاہئے تو پھر یہ براہ راست وزیراعظم کے اس بیان کے خلاف ہے کہ اس مسئلہ کا حل مسلم معاشرے کے اندر سے ہی روشن خیال قیادت کے ذریعہ تلاش کیا جانا چاہئے۔ انہیں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مسلم معاشرہ کبھی بھی ایک روشن خیال قیادت سے خالی نہیں ہوا ہے۔ لیکن ایک کے بعد ایک حکومتوں نے اس حد تک ان کی تذلیل و توہین کی ہے کہ مسلم معاشرے کے معاملات میں ان کی تمام دلچسپیاں ختم ہو چکی ہیں۔

 نتیجۃً مختلف حکومتوں نے مسلم معاشرے کے اندر جہالت پسند قیادت پر ووٹ بینک کی نظر سے دیکھا ہے جس کی وجہ سے روشن خیال قیادت مزید حاشیہ پر چلی گئی۔ اور ایسی حکمت عملی آج بھی جاری ہے۔ ایسے تعلیم یافتہ مسلمانوں کی کوئی کمی نہیں ہے جنہوں نے کمیونٹی کے اندر خواتین کے مسائل پر تحقیق کی ہے اور بڑے پیمانے پر کام بھی کیا ہے۔ وہ ترقی پسند ہیں اور ان میں سے اکثر یہی چاہتے ہیں کہ تین طلاق کی روایت ختم کی جائے۔ تاہم، ہم انہیں ٹیلی ویژن اسکرینوں پر مسلم معاشرے کی نمائندگی کرتے ہوئے نہیں دیکھتے ہیں۔

اس کے بجائے ہمارے پاس پرانے خیالات کے حامل ایسے مولوی ہیں جو اپنے فرسودہ خیالات کے لئے جانے جاتے ہیں جو کسی بھی کمیونٹی کو شرمسار کر سکتے ہیں۔ میں یہ نہیں مانتا کہ انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کیونکہ مسلم معاشرے کے اندر پیش کاروں کو اعتدال پسند اور ترقی پسند مفکرین دستیاب نہیں ہیں۔ بلکہ میرا خیال یہ ہے کہ ایسے مولویوں کے ذریعہ مسلمانوں کی نمائندگی کروا کر یہ مسلم برادری کو پسماندہ قرار دینے کی ان کی ایک اچھی طرح سے سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ یہ مولوی اپنی باتیں پیش کر کے بہت خوش ہیں اور بعض اوقات آپ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ یہ کس کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ لہٰذا، اس مسئلہ پر سیاست کون کر رہا ہے؟ یقینا مسلمانوں کی اکثریت نہیں جو بمشکل ہی اس بحث کا حصہ ہے۔ جعلی مولوی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نمائندے اس مباحثے پر سیاست میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں: وہ جتنی زیادہ اپنی بے بنیاد باتیں کرتے رہیں گے ، مودی اور یوگی کے لئے خود کو مسلم خواتین کا مسیحا ثابت کرنا اتنا ہی آسان ہوتا جائے گا۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/arshad-alam,-new-age-islam/so-who-is-politicizing-triple-talaq?/d/110978

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/so-politicizing-triple-talaq-/d/113045


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..