New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 09:23 AM

Urdu Section ( 31 Oct 2017, NewAgeIslam.Com)

Quran is Not the Source of All Problems قرآن تمام مسائل کی جڑ نہیں ہے لیکن اسے تاریخ کے دائرے میں لانا ضروری ہے

 

 

 

 

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

31 جولائی 2017

قرآن مجید کی تاریخی صداقت پر www.NewAgeIslam.com پر جاری صحت مند بحث کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ حسن رضوان جیسے لاادریہ مسلمان یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن مجید کو بھی کسی بھی دوسری کتاب کی ہی طرح سمجھا جانا چاہئے: یعنی تاریخ کے ایک مخصوص سیاق و سباق کے اندر انسانوں کے لئے انسانوں کے ذریعہ تیار کی گئی ایک کتاب ، جبکہ نصیر احمد جیسے مؤمن قرآن کے الہامی ماخذ کا قول کرتے ہیں۔ پہلے موقف کی رو سے قرآن پر تنقیدی نظر ، اس پر نظرثانی اور جزوی طور پر قرآنی پیغام کو رد کرنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے ، جبکہ مؤخر الذکر موقف کی بنیاد پر عقیدے کے تقدس کی وجہ سے قرآن مجید کے اندر ایک زیر و زبر کی تبدیلی کی بھی گنجائش نہیں ہے۔

تاہم، حسن رضوان نے قرآن کو تاریخ کے دائرے میں لانے کے لئے جو دلیل پیش کی ہے وہ سادہ اور پریشان کن ہے۔ اول، یہ سچ نہیں ہے کہ کوئی بھی اعتدال پسند اور لبرل نظریہ کی حمایت میں قرآن سے منتخب اقتباسات پیش کرنے کے کھیل میں روایت پسندوں کو نہیں شکست دے سکتا۔ امینہ ودود کی طرح جدت پسند اور فضل الرحمن کی طرح روایت پسند دونوں طرح کے علماء یہ ثابت کر چکے ہیں کہ کس طرح تعبیر اور تشریح کے اعتبار سے قرآن کا ایک یکسر مختلف مطالعہ کیا جا سکتا ہے: جو کہ ایک جدید اور لبرل نقطہ نظر سے ہم آہنگ ہے۔ یہ سچ ہے کہ زیادہ تر مسلم ممالک میں اس طرح کی تعبیرات و تشریحات یا تو حاشئے پر ڈال دی گئی ہیں یا مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ لیکن یہ حقیقت کہ انہیں چھوٹے مقامات پر کامیابی حاصل ہوئی ہے ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ایک منصوبے کے لحاظ سے اس میں مزید امکانات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ، قرآن کریم تک براہ راست رسائی مسلم دنیا میں بھی محدود ہے اور زیادہ تر مسلمان اس کی مختلف تشریحات کے ذریعے ہی اس تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اگر ہم ایک لبرل اور جدت پسند تعبیر و تشریح پیش کرنے کے کام کو مکمل طور پر ترک کر دیں تو اس سے صرف روایت پرستوں اور انتہاپسندوں کو ہی فائدہ ہوگا۔

دوم، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جن تشریحات کو غلبہ حاصل ہو تا ہے وہ لازمی طور پر حکومت کا کام ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مسلم دنیا میں اقتدار کا توازن بنیاد پرستوں کے ہاتھوں میں ہے اور وہاں بہت سے ایسے سرکاری عناصر ہیں جو اس قسم کی قرآنی تعبیرات کی حمایت کرتے ہیں۔ تشریحات کو کنٹرول کرنے کی وجہ صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ قرآن مجید کی ایک لبرل اور ترقی پسند تعبیر مسلم دنیا میں اقتدار کی تقسیم کی موجودہ صورت حال کے لئے خطرہ پیدا کرتی ہے، جو اس وقت چند طاقتور لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ قرآن کریم کی ایک مختلف تشریح ایک انتہائی ضروری سیاسی منصوبہ ہے جس پر مسلمانوں کو سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔

حسن رضوان کے تجزیہ میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ اسلامی دہشت گردی کو قرآن کے ایک مخصوص مطالعہ سے جوڑتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ رجحان کی آسان تفہیم ہے۔ ایسے کثیر شواہد موجود ہیں کہ جن کی بنیاد پر مسلم دنیا میں دہشت گردی کے عوامل کو محض قرآن کے ساتھ محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے پیچھے بہت ساری پیچیدگیاں موجود ہیں دہشت گردی کا ہر واقعہ متعدد غیر مذہبی عوامل کا نتیجہ ہے مثلاً محرومیت، اور ذلت و رسوائی کا احساس۔ مسلمان تشدد کے خیال سے اس لئے بھی متاثر ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی زمین پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور اس قبضے کے خلاف ان کی مزاحمتوں کو کئی نسلوں سے بری طرح کچلا جا رہا ہے۔ قرآن کا استعمال وہ اس کا جواز حاصل کرنے کے لئے کرسکتے ہیں لیکن اسلامی دہشت گردی کے لئے صرف یہی سبب کافی نہیں ہے۔

لیکن کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ قرآن خطاؤں سے محفوظ خدا کا کلام ہے اور مسئلہ اس کو سمجھنے میں انسان کے محدود علم میں مضمر ہے جیسا کہ نصیر احمد جیسے لوگوں نے یہ دلیل پیش کی ہے؟ محمد یونس جیسے دوسرے لوگوں نے اس معاملے کو مزید بدتر بنا دیا ہے کیوں کہ انہیں حسن رضوان کی تحریروں میں اسلام کو بدنام کرنے کی سازش کے علاوہ اور کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ لہٰذا ، اگر ہم اس بات کو قبول کر لیتے ہیں کہ قرآن خطاؤں سے محفوظ خدا کا کلام ہے تو اس میں مسئلہ ہی کیا ہے؟ سب سے پہلا اور واضح مسئلہ یہ ہے کہ یہ نقطہ نظر قرآن کو کسی بھی تنقید کی گنجائش کے دائرے سے باہر کر دیتا ہے۔ کسی بھی قسم کی ترقی میں تنقید کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ سوالات اور ان کے جوابات کی پے در پے تلاش کی کوشش کے بغیر انسانی منصوبے ان دیگر مخلوقات سے مختلف نہیں ہیں جو ہمارے زمین پر بستے ہیں۔

بے شک تمام مذہبی منصوبے موجودہ معاملات کی تنقیدکی ہی پیداوار ہیں۔ اس معنی میں اسلام خود انسانوں کے مذہبی اور سماجی امور میں پیدا ہونے والے نام نہاد فسادات کی تنقید کی ایک پیداوار ہے۔ لیکن اسلام کے قیام کے بعد ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اب اس میں تنقید کی کوئی ضرورت یا گنجائش نہیں رہی۔ یہیں سے مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ جو شئی خود تنقید کی ایک پیداوار ہے اب ہمیں یہ کہہ رہی ہے کہ یہ بالکل مکمل ہے اور اس وجہ سے یہ کسی بھی طرح کی تنقید سے باہر ہے! اسے ہی قدامت پرستی کہا جاتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ قدامت پرست صرف لوگوں کو خاموش کرنے اور آخر کار لوگوں کو قتل کرنے میں ہی کامیاب ہوئے ہیں۔ دنیا کے اندر تنقید کو کسی بھی غور و فکر کا ایک اہم جز سمجھا جاتا ہے۔ اس عمل کے بغیر یہ دنیا خیالات اور نظریات کے لحاظ سے انتہائی غریب تر ہو گی۔ مسلم دنیا پر ایک نظر ڈالنے سے اس کے نظریات اور معمولات کی پسماندگی ہمیں یہ بتائے گی کہ تنقید کا خیال ان کے درمیان سے پوری طرح رخصت ہو چکا ہے۔ جن چند لوگوں نے موجودہ نظریات اور معمولات پر تنقید کرنے کی کوشش کی ہے انہیں ظالمانہ طور پر خاموش کر دیا گیا ہے۔

قرآن خطاؤں سے محفوظ خدا کا کلام ہے اس دلیل میں دوسری خرابی یہ ہے کہ یہ قرآن کو تاریخ کے دائرے باہر کر دیتی ہے۔ دوسرے مذاہب کے برعکس اسلام کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ اس کا ظہور تاریخ کی مکمل روشنی میں ہواہے۔ تو پھر ایسا کیوں ہے کہ اس دین کے ظہور اور اس کے ابتدائی اداوار پر بہت کم مواد موجود ہے؟ تاریخی ماخذ کے نام پر ہمارے پاس زیادہ تر مواد خود مسلمانوں کی ہی لکھی ہوئی سیرت و سوانح کی کتابوں کی شکل میں ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے پیش کئے گئے تاریخی مواد کی تائید و تصدیق غیر اسلامی ماخذ سے نہیں ہوسکتی ؟ مسلمانوں کے لئے یہ امر پریشانی کا سبب ہونا چاہئے اور اس تحقیق میں مسلمانوں کو سب سے آگے ہونا چاہئے۔ اور اس کے باوجود ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام اور قرآن کے اس گمراہ کن مطالعہ کے سبب جس میں ان کی اصل کو الہامی مانا گیا ہے مسلمانوں کی جانب سے اسلام کو تاریخی تناظر میں سمجھنے اور اس کی تحقیق کرنے کی کوشش بہت کم ہے۔

قرآن کو مبین (واضح اور بے عیب) سمجھنے کی کوشش میں بھی مسئلہ ہے اور ا س کی وجہ بڑی واضح ہے کہ مختلف آیات کی توضیح و تشریح میں بہت ساری تفسیریں لکھی گئی ہیں لیکن اگر قرآن اتنا ہی واضح اور مبین ہوتا تو ان کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ نصیر احمد جیسے اسکالر قرآن کے 'حقیقی' معنی کی وضاحت میں طویل مضامین لکھتے رہیں گے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دعویٰ کرتے رہیں گے کہ قرآن مبین ہے! اگر متنِ قرآن کا معنی اتنا ہی واضح تھا جیسا کہ دلیل دی جاتی ہے ، تو اس کی تعبیر و تشریح میں اس قدر طویل مضامین کی ضرورت کہاں ہے؟

اس تفہیم میں بھی ایک مسئلہ ہے کہ دیگر مذاہب میں مفاسد پیدا ہو گئے ہیں اسی لئے وہ تاریخ کے دائرے کے اندر ہیں جبکہ یہ یقین رکھنا کہ اسلام فساد سے محفوظ ہے۔ اس طرح کا استدلال تفوق پرست اسلام پسندوں کی منطق سے زیادہ مختلف نہیں ہے کہ صرف ہمارا مذہب سب سے بہتر ہے اور تمام مذاہب غلط ہیں۔ بہ الفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اسلام ہی ایک وحد الہی مذہب ہے اور دیگر مذاہب انسانی ساز باز کی وجہ سے اپنی اصل اور ماخذ کی مرہون منت ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس طرح کی فکر بہت سے قدامت پسند اسلامی گروہوں کا طرہ امتیاز رہی ہے لیکن اگر انہیں جذبات کا اظہار اس ویب سائٹ لکھنے والے کچھ ترقی پسند دانشوروں کی جانب سے کیا جاتا ہے تو یہ پریشانی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اسلام کی بہتر خدمت دلیل اور تنقید کی سمت میں مسلسل انسانی کوششوں کے ذریعہ کی جا سکتی ہے بجائے اس کے کہ یہ مان لیا جائے کہ یہ ایک مقررہ اور منجمد شئی ہے جو آنے والے تمام زمانوں میں ہمارے لئے خیر کا باعث ہوگی۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/arshad-alam,-new-age-islam/quran-is-not-the-source-of-all-problems-but-it-must-be-brought-within-the-ambit-of-history/d/112032

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/arshad-alam,-new-age-islam/quran-is-not-the-source-of-all-problems-قرآن-تمام-مسائل-کی-جڑ-نہیں-ہے-لیکن-اسے-تاریخ-کے-دائرے-میں-لانا-ضروری-ہے/d/113088

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..