New Age Islam
Thu Mar 05 2026, 06:35 AM

Urdu Section ( 3 Sept 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Murderous Attack on Salman Rushdie: Why are Muslims Not Condemning It? سلمان رشدی پر قاتلانہ حملہ: مسلمان اس کی مذمت کیوں نہیں کر رہے؟

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

 20 اگست 2022

فاسد اسلامی نظریہ مسئلے کی جڑ ہے

 اہم نکات:

 1.  سلمان رشدی پر بدنام زمانہ ایرانی فتویٰ کے 33 سال بعد بے دردی سے وار کیا گیا

 2.  یہ حملہ صرف رشدی پر نہیں ہے، بلکہ جو کوئی بھی اسلامی تاریخ کے حوالے سے ذرا مختلف نظریہ رکھتا ہے اس کے سر پر بھی خوف کی یہی تلوار لٹک رہی ہے

 3. یہ خوفناک ہے لیکن سچ ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد اس حملے کی حمایت کرتی ہے

 4. مسئلے کی جڑ اس فاسد اسلامی فقہ میں ہے جو اس طرح کے تشدد کی حمایت کرتا ہے

 -----

Author Salman Rushdie/Photo: The Economic Times

----

 ایرانی نژاد امریکی 24 سالہ ہادی ماتر کی پیدائش بھی نہیں ہوئی تھی جب آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے لیے موت کا فرمان جاری کیا تھا۔ قتل کا ہتھیار کاغذ کا ایک ٹکڑا تھا جسے فتویٰ کے نام سے جانا جاتا ہے، جس نے ناول نگار کو گستاخ بنا دیا جس کا اسلامی قانون کے مطابق قتل کیا جا سکتا ہے۔ ایک لمحے میں خمینی نے دنیا کے کسی بھی مسلمان کو اسلام کی عزت بچانے کے نام پر قتل کرنے کا اختیار دے دیا تھا۔ برسوں کے بعد ایرانی حکومت نے اس بدنام زمانہ فتوے کی دفعات کو نظر انداز کر دیا اور سلمان رشدی نے عوام کے سامنے آنا، لیکچر دینا اور کتابوں پر دستخط کرنا شروع کر دیا۔ انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں تھا کہ تقریباً 33 سال قبل شائع ہونے والی ایک کتاب کے لیے میرے اوپر 15 بار خنجر سے وار کیے جائیں گے۔ یہ دنیا بھی اس بات سے بالکل بے خبر تھی کہ خمینی کے بعد کی ایرانی حکومت نے دراصل فتویٰ کبھی واپس ہی نہیں لیا اور رشدی کے لیے ہمیشہ حملے یا قتل کا خطرہ موجود تھا۔

 کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حملے کو ایرانی حکومت کو عراق اور شام میں حاصل ہونے والی نئی توسیع اور اعتماد کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے لیکن یہ بہت دور کی بات ہے۔ اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن ایران کی مخدوش معاشی صورتحال کے پیش نظر اس کا امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی کرنا ایران کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس طرح، یہ حملہ کسی ایک فرد کا کارنامہ معلوم ہوتا ہے جو آن لائن مواد کا شکار ہو کر بنیاد پرستی کا نشانہ بن گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مذکورہ شخص، ہادی ماتر کسی ایسی دہشت گرد تنظیم سے رابطے میں ہو جو اس طرح کے ہائی پروفائل اہداف میں دلچسپی رکھتی ہو۔

ہم صرف یہ خواہش ہی کر سکتے ہیں کہ رشدی جلد ہی اپنے کام کی طرف واپس آجائیں: پڑھنا لکھنا اور سامعین کو اپنی ذہانت، مزاح اور اسلامی دنیا کے بارے میں گہرے علم سے محظوظ کرنا۔ شیطانی آیات آخرکار ایک ناول ہے جو ہجر و فراق کی حالت میں درد اور محبت کے بارے میں ہے۔ دنیا کے اس حصے میں رہنے والے مسلمان آسانی سے ناول کے کچھ کرداروں کے ساتھ خود کو جوڑ سکتے ہیں کیونکہ ان کے بھی غیر ملکی سرزمین میں بسنے کے ایسے ہی راستے تھے۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ مسلمانوں نے ہی کتاب کے شائع ہونے پر تشدد کا راستہ اختیار کیا اور رشدی کے قلم سے نکلنے والے ہمدردانہ رویوں کو دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ اکثر مسلمانوں نے کبھی اس کتاب کا مطالعہ بھی نہیں کیا جسے وہ جلا رہے تھے۔

سلمان رشدی

------

یہ حملہ صرف رشدی پر نہیں ہے۔  اسے کسی ایسے شخص پر ایک بڑا حملہ ماننا چاہیے جو اسلام کی معمولی تنقید کرتا ہے یا اسلام کے متعلق اس کی سمجھ مرکزی دھارے سے مختلف ہے۔ اس سنسر شپ کا سب سے زیادہ شکار مسلمان دانشور ہوئے ہیں جسے قوم مسلم نے خود پر مسلط کر رکھا ہے، یہ سوچتے ہوئے کہ ایسا کرنا خدا کا حکم ہے۔ یہ بے عقلی ہے کہ ایک خدا، جسے مسلمان مہربان اور معاف کرنے والا کہتے ہیں، اپنے ہی دانشوروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیسے کر سکتا ہے۔  لیکن مسلمانوں کی یہ منافقت رہی ہے کہ وہ شاعروں اور ادیبوں کو بے دردی سے قتل کرنے کے لیے آگے بڑھے ہیں اور روزانہ اپنے خدا کی معاف کرنے والی فطرت کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔

 اسلام کے ناقدین کو خاموش کرنے کی یہ روایت اسلام کی پیدائش سے ہی چلی آ رہی ہے۔ جو کوئی بھی نبی اور ان کی اسلامی تعلیمات سے اختلاف کرتا تھا اسے دوسرے سے الگ کر دیا جاتا تھا اور بہت سے معاملات میں جلاوطن کر دیا جاتا یا قتل کر دیا جاتا۔ اسلامی سلطنت نے متقی مسلمانوں کی قائم کردہ نظیر کی پیروی کرتے ہوئے، الحلاج کو محض یہ کہنے کی پاداش میں ٹکڑے ٹکڑے کر دے کہ تمام انسانوں میں الہی جوہر موجود ہیں۔  10ویں صدی کے شامی فلسفی ابوالاعلیٰ الماری نے تمام مذاہب کو 'قدیم افسانے' کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں: وہ جن کے پاس دماغ ہے لیکن مذہب نہیں ہے اور وہ جن کے پاس دماغ نہیں لیکن مذہب ہے۔ جب داعش شام میں داخل ہوا تو اس کی پہلی کارروائی یہ تھی کہ اس نے ایک شاعر فلسفی کی پیدائش کے ایک ہزار سال بعد اس کے مجسمے کا سر قلم کیا۔  ایک ہزار سال کے اس عرصے میں مسلمانوں نے دنیائے عمل و فضل میں کافی شاندار کارنامہ انجام دیا ہے، لیکن اس کی بنیادی فقہ میں کچھ خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ قرآن واضح طور پر ہر اس شخص کی تضحیک کرتا ہے جو اس کے پیغام کو قبول نہیں کرتا۔ یہ ابو لہب کے ہاتھ صرف اس لیے توڑنا چاہتا ہے کہ اس نے اسلام قبول نہیں کیا۔ ابو لہب کی بیوی جہنمی بن جاتی ہے اور اس کی گردن میں جلتی ہوئی رسی بندھی ہوئی ہے، جبکہ اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اگرچہ قرآن گستاخ کو قتل کرنے کے لیے نہیں کہتا لیکن اس شخص کی مذمت ضرور کرتا ہے۔ خدا کا کام مسلمان کرتے ہیں جیسا کہ انہیں احادیث کی مختلف روایات میں کرنے کو کہا گیا ہے۔

خوف ایک ایسا آلہ کار ہے جس کے ذریعے حکومتیں لوگوں کے خیالات اور اقدامات کو کنٹرول کرتی ہیں۔ لیکن اسلام اس سے ایک قدم آگے ہے۔ یہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی  ایسا کرتا ہے جو اسلامی روایت پر عمل نہیں کرتے۔ کسی بھی ایسے شخص کو قتل کر دینا جو پیغمبر یا اسلام کے بارے میں کچھ بھی 'توہیں آمیز' کہتا ہے، اس میں نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ غیر مسلموں کو بھی ایک خاموش پیغام ہے۔ مؤخر الذکر اسلام کے بہت سے پہلوؤں پر تنقید کر سکتے ہیں لیکن ان کے بارے میں کھل کر بات نہیں کریں گے۔ اسی خوف کا اسلامی شدت پسند فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک آزاد معاشرہہر قسم کے خوف سے دور ہوتا ہے جس میں ہر مسئلے پر کھل کر گفتگو کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ایک ایسی سول سوسائٹی کی تعمیر کا کوئی تصور ہی نہیں ہے، جو صرف عقلیت پسندی اور عدم تشدد سے ہی ممکن ہے۔

 یہ سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں کہ اس واقعے سے امریکہ میں مسلمانوں کے تشخص پر کیا اثر پڑے گا۔ ایک اور موقع کی تلاش میں ٹرمپ، ایک قلمکار کا قتل کرنے کی کوشش کرنے والے مسلمانوں کے تشخص کو استعمال کرینگے، اور امریکیوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس میں قصور کس کا ہے؟ نیز اس قاتلانہ حملے کی مذمت میں امت مسلمہ کی جانب سے یہ خاموشی کیوں؟ کوئی بھی اسلامی تنظیم سامنے آ کر یہ کہنے کی ہمت نہیں کر پائی کہ جو کچھ ہوا ہے وہ قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ وہ بلا خوف خطر اسلامو فوبیا کا رونا روتے ہیں لیکن شاید اب وقت آگیا ہے کہ وہ مسلم تنظیمیں یہ دیکھیں کہ انھوں نے کس طرح اسے آہستہ آہستہ فعال کیا ہے۔

سلمان رشدی اس ظلم کا سامنا کرنے والے آخری نہیں ہوں گے۔ ان کے بعد اور لوگ ہوں گے جن کے ساتھ ایسا ہوگا۔ اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ اسلام کے پاس وہ جوابات نہیں ہیں جو کچھ لوگ اس سے چاہتے ہیں۔ نہ ہی مذہب میں کوئی ایسی تحریک ہے جو جدیدیت کے بطن سے جنم لینے والے چند سوالات کا جواب دے سکے۔ کسی بھی فکری تحقیق و تفتیش کی عدم موجودگی میں مسلمانوں کے لیے تشدد اور ظلم ہی ایک ہی واحد راستہ بچ جاتا ہے۔ اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا، یہاں تک کہ اسلامی فقہ سے آزادانہ فکری تحقیق و تفتیش کی تحقیر ختم نہ کی جائے۔

English Article: Murderous Attack on Salman Rushdie: Why are Muslims Not Condemning It?

URL: https://newageislam.com/urdu-section/murderous-attack-rushdie-muslims-condemning/d/127865

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..